ہم کیوں لکھتے ہیں؟ - قیصر تمکین
زندگی میں قدم قدم پر نئے سوال سامنے آتے ہیں۔ اہلِ فکر و عمل ان پر غور و خوض بھی کرتے ہیں اور پھر سمجھتے عام طور پر سب لوگ یہی ہیں کہ یہ شاید کوئی بالکل ہی نرالی صورت حال ہے۔ امر واقعہ اس کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔ سوال کوئی بھی کیوں نہ ہو اور کسی بھی شکل میں کیوں نہ در پیش ہو، بنیادی طور پر اپنی اصلیت اور نوعیت میں کچھ گنے چنے ازلی استفہامیوں سے مختلف نہیں ہوتا ہے۔ بات فلسفیوں کی ہو یا مرشدان حق کی ، موضوعات نو بہ نو سے الجھنے والے خواہ ادیب ہوں یا فن کار کوشش سب کی یہی ہوتی ہے کہ ان از لی استفہامیوں کا اپنے طور پر جواب ڈھونڈھنے کو کوشش کریں۔ بہت سے مردانِ حق آگاہ اور اصحاب بصیرت بڑی حد تک مسائل کے حل کی طرف سرگرم سفر رہے ہیں لیکن اس راہ میں بہتیرے ایسے فروعی مسائل بھی دامن کشاں ہوئے ہیں کہ اچھے اچھے اصحاب خردان ہی میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
ذکر اسی سلسلے میں ایک بنیادی اور ازلی سوال کا بھی آتا ہے کہ ہم کیوں لکھتے ہیں؟
دیکھنے میں یہ سوال ادیبوں اور شاعروں سے متعلق لگتا ہے اور اس تاثر کی بنا پر تقریباً ہر دور کے فن کاروں نے اس کے نامکمل ، ادھورے یا صرف یک رخے جواب سوچے ہیں اور لکھے بھی ہیں ، مگر یہی سوال ذرا تبدیلئ ہئیت کے ساتھ جب کسی حقیقی فن کار کے سامنے پیش ہوتا ہے تو مسئلہ صرف شیریں کے تصور ہی کا نہیں بلکہ اس ابدی بدنصیبی کا رخ اختیار کر لیتا ہے جو خاراشگافیوں کے باوصف خود آذرنِ حسن و جمال کو نہ صرف یہ کہ مضطرب و محو ابتلا رکھتی ہے بلکہ بیشتر اوقات تیشہ مار کر خودکشی کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ ایک زیادہ دور رس اور ژرف نگاہ شاعر بات بڑی خوبی سے کہہ گیا ہے ؎
تمہیں سچ سچ بتا دو کون تھا شیریں کے پیکر میں
کہ مشت خاک کی حسرت میں کوئی کوہکن کیوں ہو
فکروفن کی وادئ جنوں میں قدم رکھنے والے دراصل متمنی شہرت و توصیف کے نہیں ہوتے ( یہ تو مشت خاک والی بات ہوئی ) بلکہ روبروان کے دیدۂ بینا کے ہوتا کوئی اور ہی جلوۂ مستور ہے۔ کلاسیکی دانشوروں نے اس کی تشریح کیے بغیر صرف یہ کہہ کر ٹال دیا ہے کہ "شرط اول قدم آنست کہ مجنوں باشی"
اب یہ جنوں بجائے خود کیا ہے؟ وہ نظریاتی وابستگیاں یا ملک و قوم کے لیے کوربیں محبت یا رنگ و نسل اور عقائد و شریعت عصری کے لیے بہرحال دامن کے چاک اور گریباں کے تار کے تمام فاصلے مٹا دینا جن سے لہولہان ہے بزعم خود اشرف المخلوقات کی تاریخ یا ان کہی۔
ضمیر آرائیاں جن کے سلسلے جام ہائے حشیش و حنظل سے شروع ہو کر سلاسل، تازیانوں، بیڑیوں اور تختہ ہائے دار سے ہوتے ہوئے وادئ فرات ہی نہیں بلکہ ہمارے آپ کے الجزائر ، ویت نام ، شارب ویل اور صبرہ و شتیلہ کے علاوہ نئی تاراجئ بغداد تک پہنچتے ہیں؟
عام مدرس مختلف امور و مسائل پیش کرنے کے بعد ان کے حسن و قبح کی نشان دہی بھی کرتے ہیں، نظریاتی مبلغ واقعات و حوادث کی اپنے طور پر وکالت یا تشریح کرتے ہیں ، طبیب و معالج اعضائے انسانی میں عناصر کے ضروری اعتدال یا ان کے عدم توازن کا جواب ڈھونڈھ کر نسخہ تجویز کرتے ہیں، مگر تخلیقی فن کاروں کا منصب ان سے بالکل ہی جدا ہوتا ہے، یا ہونا چاہیے، کیونکہ وہ کوئی جواب ڈھونڈھ نکالنے یا منطقی استدراک و فلسفے کی بھول بھلیوں میں الجھنے کے بجائے یا تو آئینہ دکھاتے ہیں یا پھر استفہامیے پیش کرتے ہیں ، ان کا اس فکر میں غلطاں ہونا کہ ادب و فن کا مقصد کیا ہے؟ یہ کہ وہ کیوں لکھتے ہیں ان کو جادۂ صواب سے ہٹانے کا محرک بھی ہو سکتا ہے۔
پیغامبران الہیات اور داعیانِ مذہب و اخلاق نے ہمارے سامنے کچھ جواب اور حل ضرور پیش کیے ہیں کہ مقصدِ ازلی جنت سے نکالے ہوئے انسان کے دکھوں کا مداوا تھا، مگر کیا یہ جواب اس بنا پر تھے کہ وہ اجنحۂ تورانیاں خود حریم قدس میں بار پا کر آشنائے راز ہو گئے تھے یا یہ کہ کسی قطعی اور فیصلہ کن ہستئ اقدس نے ان کو وہ بصیرت شافعی عطا فرمائی تھی جو مبنی تھی ام الکتاب کے ارشاد عالی: اني أَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُونَ پر؟
روایت ہے کہ یونان قدیم کی اکادیمی کے ایک بڑے اجتماع میں طالبان علم و فلسفہ اور معلمان اخلاق و مذہب کے روبرو ایک تخلیقی فن کار نے موجودہ مسلمات و معتقدات کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں اور جلسہ ایک ایسے نقطۂ ابہام پر پہنچ گیا جہاں وجود و عدم، گردِ راہ سفر بن کر رہ گئے۔ آخر میں اکادیمی کے نگراں نے اعتراض کیا کہ آپ نے ہر ایمان و یقیں کے سامنے اسفتکس استادہ کر دیے ہیں اور ہر نظم تخیل کے آگے درانیوں کی طرح استفہامیے چمکا دیے ہیں ، مگر خود آپ کا نسخۂ علاج کیا ہے (Ex Aequo et bono)؟ کون سا نظریہ، کون سی بصیرت اور کون سی قدر حیات درد و غم جہاں کی درماں ہو سکتی ہے۔
فن کار کا جواب تھا:
"ہرقل (Heraccles) کا کام اوجیا (Augeias) کے اصطبل کی صفائی کرنا تھا۔ اس کی بارہ مشقتوں میں یہ شرط شامل نہیں تھی کہ گوبر کی صفائی کے بعد خالی جگہ کا نیا استعمال بھی تجویز کرے۔"
کیا واقعی کام ادیبوں یا اہل فکر کا یہی رہ گیا ہے کہ وہ سوالوں کے جواب پیش کریں؟ شریعت فن کے تحت بنیادی منصب ایک فن کار کا یہی قرار پایا تھا کہ وہ نئے نئے استفہامیے پیش کرے۔ جواب ان کے ممکن ہے کہ خداوندا خدا یعنی Zeus کی مسند اعلیٰ سے پھوٹنے والے فنی و ادبی دھاروں میں ہی مضمر ہوں۔
سوال اہلِ ادب سے یہ کرنا کہ وہ کیوں لکھتے ہیں؟ اسی طرح غیر ضروری ہے جیسے پھولوں سے پوچھنا کہ وہ کیوں کھلتے ہیں؟ خدائے شعر حضرت میر نے ایک معمولی سوال گل کے ثبات کے بارے میں کیا تھا جس پر کلی نے تبسم کیا تھا۔ اس کے بعد کیا کسی مزید تشریح کی ضرورت رہ جاتی ہے؟
ماخوذ از کتاب: اے دانشِ حاضر
تصنیف: قیصر تمکین۔ ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی (سن اشاعت: 2008ء)

گفتگو میں شامل ہوں