اَش اَش یا عَش عَش - از شمس الرحمن فاروقی

اش اش یا عش عش - از شمس الرحمن فاروقی - ماخوذ از کتاب: لغات روز مرہ (چوتھا ایڈیشن) - سن اشاعت چہارم: 2012
ash-ash-karna-farhang-asifia

نامور لغت "فرہنگ آصفیہ" کے مرتب مولوی سید احمد دہلوی نے لفظ "اَش اَش" کے ذیل میں لکھا ہے کہ:

فرہنگ آصفیہ

اَش اَش کرنا
فعل متعدی۔ (1) نہایت خوش ہونا۔ واہ وا کرنا۔ خوشی کے مارے وجد کرنا۔ (2) تحسین و آفرین کرنا
(یہ لفظ عربی میں اَشاش تھا جس کے معنی شادی و انبساط یعنی خوشی منانے کے آئے ہیں۔ اردو والوں نے اسے بگاڑ کر اش اش کر لیا اور یہاں تک ہاتھ صاف کیا کہ عین سے عشعش لکھنے لگے اور اپنے ذہن میں خلافِ قاعدہ، "عیش" اس کا مآخذ بھی قرار دے لیا حالانکہ اس عشعش کے معنی گھونسلے کے آئے ہیں۔ انہیں چاہیے ذرا عربی کی بڑی بڑی فرہنگوں اور مطول کتبِ لغات کو ملاحظہ فرمائیں)۔

دوسری طرف عصر حاضر کے معروف ادیب، محقق و نقاد شمس الرحمٰن فاروقی اپنی کتاب "لغات روزمرہ" میں لکھتے ہیں:

لغات روزمرہ

(اردو زبان میں غیرمعیاری استعمالات کی فہرست و تنقید، کچھ مزید لسانی نکات کے ساتھ)
از: شمس الرحمٰن فاروقی۔
اشاعت اول: نئی دہلی، فروری 2003ء۔ اشاعت چہارم: کراچی، 2012ء
ماخوذ: صفحہ نمبر 68 اور 69

اش اش
اول سوم مفتوح۔ بہت سے علما کا خیال ہے کہ اس لفظ کا املا "عش عش" غلط ہے، کیونکہ یہ عربی نہیں ہے، اور حرف عین "ہندی" میں نہیں ہے۔ اور باتوں سے قطع نظر کہ ہماری گفتگو "اردو" زبان سے ہے، اس میں "ہندی" کی سند لانا درست نہیں ، اردو کے حروف تہجی میں عین شروع سے شامل ہے۔ وہ چاہے جہاں سے آیا ہو لیکن وہ ہے اردو کا حرف ، اور اردو کو اختیار ہے کہ وہ اسے استعمال کرتے ہوئے نئے لفظ بنائے یا کسی پرانے لفظ کا املا عین سے متعین کرے۔

جناب رشید حسن خاں اور ان کے تتبع میں جناب عبد الرشید نے "سحر البیان" اور"فسانہ عجائب" کے حوالے سے اس لفظ کو "اش اش" لکھا ہے، کیوں کہ ان کے مطابق ان دو کتابوں میں یوں ہی درج ہے : "اش اش"۔
لیکن یہ قیاس مع الفارق کی مثال ہے۔ وہ "سحر البیان" اور "فسانہ عجائب" کے مصنفین نہیں، بلکہ ان کے کاتبوں کی سند پر اس لفظ کو "اش اش" کہہ رہے ہیں ۔ دوسری بات یہ کہ وہ لغات ، مثلاً "آصفیہ" اور "نور" کا بھی حوالہ دیتے ہیں کہ وہاں بھی "اش اش" ہی لکھا ہے۔ لیکن صاحبان لغت تو "ہے" نہیں، بلکہ "چاہیے" پر عمل کرتے ہیں، لہذا یہ سب استدلال بے معنی ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہمارا معاملہ عربی یا ہندی سے نہیں، بلکہ اردو سے ہے۔ عربی میں کیا غلط ہے کیا صحیح ، یہ ہمارے لئے بے معنی ہے۔ اردو میں حرف عین استعمال ہوتا ہے۔ اب یہ محض اتفاق ہے کہ اردو کے جن لفظوں میں عین ہے ، وہ اکثر و بیشتر عربی سے آئے ہیں۔ لیکن یہ بات خیال میں رکھئے کہ وہ لفظ کبھی عربی سے لئے گئے ہوں گے لیکن اب اردو کے لفظ ہیں۔ بہت سے لفظوں کے معنی بدل گئے ہیں، ان کو استعمال کرنے کے نحوی قاعدے عربی سے مختلف ہیں، اور تلفظ تو تقریباً ہر لفظ کا بدل گیا ہے۔ لہٰذا یہ خیال غلط ہے کہ جو حروف اصلاً عربی کے ہیں ان سے کوئی اردو لفظ نہیں بن سکتا۔ آخر عربی کے حرف بھی تو عبرانی سے لئے گئے ہیں اور ان سے عربی لفظ بنائے گئے ہیں۔ یہ تو ہر زبان کا طریقہ ہے کہ غیر زبانوں سے لفظ ، یا حرف، یا دونوں ہی مستعار لئے جاتے ہیں اور پھر انھیں اپنا لیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ۔۔۔
انگریزی الفاظ اردو میں - از شمس الرحمن فاروقی

"عش عش" کو عربی نہ ہونے کی بنا پر "اش اش" کی موافقت میں مسترد کرنا اپنی زبان کے ساتھ بے انصافی کرنا ہے۔ آخر 'على حدہ' کو ہم لوگوں نے "علیحدہ / علٰیحدہ / علاحدہ" کی انوکھی شکلیں اور تلفظ دے دیئے اور معنی بالکل ہی بدل دیئے۔ تشنیع کو تشنا اور طعن و تشنیع کو تانا تشنہ بنا ڈالا۔ "طمانیت" جیسا فرضی لفظ گھڑ لیا، حالانکہ عربی میں طمانینت ہے۔ اور Anglo Arabic College کو "اینگلو عربک کالج" کہا۔ ہم لوگوں نے انگریزی Arabic کو اردو میں لیا اور اس میں عین بھی ڈال دیا حالانکہ انگریزی میں عین کا وجود نہیں۔ ہم نے فارسی "شان" سے عربی کے طرز پر "تشین" بنا لیا، صلواۃ جیسے مقدس اور پاکیزہ لفظ کو ہم نے "صلواتیں" کر کے "گالیاں، سخت ست باتیں" کے معنی دے دیئے، تو کیا ہم "عش عش" جیسا لفظ بنانے کا اختیار نہیں رکھتے؟

اگر استدلال یہ ہے کہ ہندی لفظ میں عربی حرف نہیں آ سکتے ، تو پھر "مفلوک الحال" اور "ماتحت" کو بھی چھوٹی ہ سے کیوں نہ لکھا جائے ، کہ وہ بھی تو آخر "ہندی" لفظ ہیں؟
تیسری اور آخری بات یہ کہ اگر چہ "عش عش" عام لغات میں نہیں ملتا لیکن جو لوگ ملک عرب میں مدتوں رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اہل عرب جب کسی بات پر تحسین یا استعجاب کا اظہار کرتے ہیں تو اکثر عش! عش! کہتے ہیں۔ اردو میں بھی یہی محاورہ ہے، عش عش کرنا ، عش عش کہہ اٹھنا۔

اس بحث کی روشنی میں یہی فیصلہ درست ہے کہ عش عش کو صحیح اور اش اش کو غلط قرار دیا جائے۔ جناب عبدالرشید کی یہ سفارش کچھ بہت زیادہ معنی نہیں رکھتی کہ دونوں کو درست مان لیا جائے۔ ہم اپنی اردو صرف اس لئے کیوں بگاڑیں کہ بعض لوگوں کو ضد ہے کہ ہم وہی لکھیں اور بولیں گے جو عربی کتابوں سے ثابت ہو؟ اش اش ابھی رائج نہیں ہوا ہے۔ اسے ٹکسال باہر کرنا چاہیے۔

***
ماخوذ از کتاب: لغات روز مرہ (چوتھا ایڈیشن)
تصنیف: شمس الرحمٰن فاروقی۔ سنہ اشاعت چہارم: 2012

Different spelling of word Ash-Ash. Essay: Shamsur Rahman Faruqi.