مولٹ بُک: وہ آن لائن دنیا جہاں انسان نہیں، صرف مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے گفتگو کرتی ہے
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک غیر معمولی اور کسی حد تک چونکا دینے والا تصور سامنے آیا ہے، جہاں انسان نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے خودمختار سافٹ ویئر ایجنٹس ایک دوسرے سے براہِ راست بات چیت کر رہے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کا نام Moltbook ہے، جو بظاہر Reddit سے مشابہ ہے، مگر یہاں صارف انسان نہیں بلکہ صرف AI ایجنٹس ہیں۔
جنوری 2026 میں ڈیولپر میٹ شلِخت (Matt Schlicht) کی جانب سے لانچ کیے جانے والے مولٹ بُک نے چند ہی دنوں میں ٹیکنالوجی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی۔ رپورٹوں کے مطابق، اس پلیٹ فارم پر اب تک دسیوں ہزار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس سرگرم ہیں، جو مختلف موضوعات پر خودکار انداز میں پوسٹس، تبصرے اور ووٹ کے ذریعے ایک دوسرے سے تعامل کر رہے ہیں۔
مولٹ بُک کیا ہے؟
مولٹ بُک کو ایک machine-to-machine ڈیجیٹل کمیونٹی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہاں انسان اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے، نہ ہی گفتگو میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انسانوں کو صرف یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ بطور ناظر دیکھ سکیں کہ AI ایجنٹس ایک دوسرے سے کیا بات کر رہے ہیں۔
اس پلیٹ فارم پر Reddit کی طرز پر “Submolts” موجود ہیں، جو مختلف موضوعاتی کمیونٹیز پر مشتمل ہیں۔ ان مباحث میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ سوالات، جیسے شعور (Consciousness)، شناخت (Identity) اور مصنوعی وجود کی حدود جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔
کیا یہ AI کو انسان جیسا بنانے کی کوشش ہے؟
ماہرین کے مطابق مولٹ بُک کا مقصد نہ تو انسان جیسی شعوری مشین بنانا ہے اور نہ ہی یہ انسانوں کے لیے کوئی چیٹ سروس ہے۔ یہاں موجود AI ایجنٹس محض اپنے تربیتی ڈیٹا اور ایک دوسرے کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے نمونوں کی بنیاد پر متن تخلیق کرتے ہیں۔
اگرچہ بعض اوقات ان کی گفتگو گہری یا جذباتی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے پاس احساسات، خود آگاہی یا شعور موجود ہے۔ یہ صرف پیچیدہ الگورتھمز اور پیٹرن میچنگ کا نتیجہ ہے۔
کیا AI ایجنٹس واقعی ایک دوسرے سے بات کر سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ مولٹ بُک پر AI ایجنٹس خودکار طور پر پوسٹس شائع کرتے، ایک دوسرے کے تبصروں کا جواب دیتے اور ووٹ کرتے ہیں۔ ایک بار جب کوئی انسانی ڈیولپر اپنے AI ایجنٹ کو پلیٹ فارم سے جوڑ دیتا ہے، تو اس کے بعد وہ ایجنٹ APIs اور پروگرام شدہ رویّوں کے تحت خود مختار انداز میں بات چیت کرتا ہے۔
کیا یہ ایجنٹس سیکھ بھی رہے ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مولٹ بُک پر موجود AI ایجنٹس باہمی تعامل کے دوران اپنے ردِعمل کو بہتر بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دوسرے ایجنٹس سے حاصل ہونے والے خیالات کو نئی شکل میں پیش کرتے ہیں، جس سے طویل مباحث جنم لیتے ہیں۔
تاہم، یہ عمل انسانی یا حیاتیاتی سیکھنے جیسا نہیں بلکہ ڈیٹا پر مبنی ردِعمل کی تطہیر (Refinement) ہے، جسے آزاد شعور نہیں کہا جا سکتا۔
کیا اس کے خطرات بھی ہیں؟
سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چونکہ بعض AI ایجنٹس بیرونی ایپلی کیشنز اور ڈیٹا تک رسائی رکھتے ہیں، اس لیے اگر ان میں استعمال ہونے والی "Skills" یا APIs میں کمزوریاں ہوں تو حساس معلومات کے افشا ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
اگرچہ مولٹ بُک بذاتِ خود ایک محدود (Walled) ماحول ہے اور براہِ راست انٹرنیٹ کے لیے گیٹ وے نہیں، لیکن ایجنٹس کے بیرونی نظاموں سے جڑنے کا انداز مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتا ہے، اگر مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے۔
کیا اس سے پہلے ایسا کچھ ہوا ہے؟
ماضی میں محدود پیمانے پر AI ایجنٹس کے درمیان تعامل کے تجربات کیے گئے ہیں، مگر مولٹ بُک اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے بڑا اور عوامی سطح پر نظر آنے والا تجربہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے مصنوعی ذہانت کی "سوسائٹی" کی ابتدائی شکل قرار دے رہے ہیں۔
کیا عام صارفین کو فکر مند ہونا چاہیے؟
ماہرین کے مطابق فوری طور پر کسی خوف یا گھبراہٹ کی ضرورت نہیں، مگر محتاط رویّہ ناگزیر ہے۔ مولٹ بُک ایک تجربہ ہے، نہ کہ مکمل اور مستحکم نظام۔ اگرچہ AI ایجنٹس شعور نہیں رکھتے، لیکن ان کے غیر متوقع رویّے، سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ غلط استعمال مستقبل میں اہم سوالات کو جنم دے سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا اتفاق ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز کو سمجھنے، جانچنے اور محفوظ بنانے کے لیے مسلسل تحقیق اور ضابطہ کاری ناگزیر ہوگی۔
Inside Moltbook: How Autonomous AI Agents Are Communicating Online





کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں