وزیٹنگ کارڈ یا مستقل تصنیف - مشفق خواجہ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-08-04

وزیٹنگ کارڈ یا مستقل تصنیف - مشفق خواجہ


کہا جاتا ہے کہ علم اور شگفتہ مزاجی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صاحب علم زندہ دل اور شگفتہ مزاج بھی ہو کیونکہ جب کسی کے پاس علم آتا ہے تو اپنی خشکی اور سنجیدگی بھی ساتھ لاتا ہے۔ علم کے آتے ہی زندہ دلی اور شگفتہ مزاجی کو رخصت ہونا پڑتا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو علم رخصت کی اجازت طلب کر لیتا ہے۔
لیکن مظفر علی سید کا شمار مستثنیات میں ہے۔ وہ بیک وقت صاحب علم بھی ہیں اور زندہ دل و شگفتہ مزاج بھی۔ ان کی شگفتہ مزاجی ایسی ہے کہ بات سے بات پیدا کرتے ہیں، خود مسکراتے ہیں، دوسروں کو مسکرانے کا موقع دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ رقیق القلبی کا اظہار بھی مسکرا کر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا یہ واقعہ خاصا مشہور ہے کہ ایک شاعر دوست کی بیاض گم ہو گئی۔ اس میں بیشتر کلام غیر مطبوعہ تھا۔ سب دوستوں نے ان شاعر صاحب سے ہمدردی کا اظہار کیا تو سید صاحب کہنے لگے:
"مجھے تو اس شخص سے ہمدردی ہے ، یہ بیاض جس کے ہاتھ لگے گی۔"

سید صاحب کے علم کا یہ حال ہے کہ قدیم سے قدیم اور جدید سے جدید ادب پر ان کی نظر ایسی گہری ہے جیسے بعض لوگ اپنی خوبیوں اور دوسروں کی خامیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ صرف اردو ادب کے نہیں ، عالمی ادب کے عالم ہیں۔ انہیں معلوم رہتا ہے کہ کس زبان میں کیا کچھ لکھا جا رہا ہے اور کس ملک میں کون کون سے ادبی رجحانات غالب ہیں۔ نئی سے نئی اور پرانی سے پرانی کتابیں ان کی نظر سے گزرتی ہیں۔
پرانی کتابیں عموماً وہی ہوتی ہیں جو دیمک کی نگاہ التفات سے بچ جاتی ہیں۔ ویسے سید صاحب نئے پرانے کے جھگڑے میں نہیں پڑتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادب نیا ہوتا ہے نہ پرانا۔ اچھا ادب پرانا بھی ہو تو ہر عہد میں نیا معلوم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کی بہت سی کتابوں اور مصنفوں کے بارے میں وہ یہ رائے رکھتے ہیں کہ یہ اپنے زمانے سے کئی سو سال بعد منظر عام پر آئے ہیں۔
مختصر یہ کہ سید صاحب کے پاس اتنا علم ہے کہ اگر وہ اسے خیرات بھی کر دیں تو ان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ کیونکہ جن لوگوں کو وہ اپنا علم خیرات کریں گے وہ دوسرے دن واپس کر جائیں گے کیونکہ ایسا ثقیل علم ان کے کسی کام کا نہ ہوگا۔

سید صاحب کی دوسری خوبی ان کا انکسار ہے۔ اب تک وہ ایک سو سے زیادہ علمی و ادبی مقالے لکھ چکے ہیں۔ لیکن کوئی مجموعہ نہیں چھپوایا۔ ہم نے ان سے بارہا کہا کہ آپ کی پانچ چھ تنقیدی و تحقیقی کتابیں بآسانی شائع ہو سکتی ہیں۔ آپ اس طرف توجہ کیوں نہیں کرتے؟
وہ ہمیشہ ٹال گئے۔ ایک مرتبہ ہم نے بہت اصرار کیا تو فرمایا:
"میں اپنے مقالوں کو اس لائق نہیں سمجھتا کہ انہیں کتابی صورت میں شائع کرایا جائے۔"
ہم نے عرض کیا: "جب آپ انہیں فرداً فرداً چھپوا چکے ہیں تو کتابی صورت میں شائع کرانے میں کیا قباحت ہے؟"
کہنے لگے: "آدمی کو غلطی پر نادم ہونا چاہئے، اس کو دہرانا نہیں چاہئے۔"

اصولاً اس منطق کے سامنے ہمیں خاموش ہو جانا چاہئے تھا ، لیکن ہم سے خاموش نہ رہا جاسکا۔ عرض کیا:
"ہم نے اب تک جو کچھ سیکھا ہے وہ دوسروں کی غلطیوں ہی سے سیکھا ہے۔ اگر آپ کے مقالے کتابی صورت میں چھپیں گے تو ہم ان سے بہت کچھ سیکھیں گے۔"
اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہہ کر ہمیں خاموش کر دیا:
"دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ دوسروں کی درست باتوں سے بھی سیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ورنہ آدمی سیکھتا کچھ نہیں ، غلط نامہ بن کر رہ جاتا ہے۔"

بہرحال سید صاحب نے کتاب نہ چھپوانے کی تلافی یوں کر دی ہے کہ وہ اپنا وزیٹنگ کارڈ باقاعدگی سے چھپواتے رہتے ہیں، اور ہر ملاقاتی کو پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں اس کارڈ کے آٹھ دس ایڈیشن شائع ہو کر ہاتھوں ہاتھ تقسیم ہو چکے ہیں۔ سید صاحب اگر کتابیں چھپواتے تو ان کا زیادہ سے زیادہ ایک ایڈیشن چھپتا اور وہ بھی ناشر کے گودام میں پڑا رہتا، کیونکہ علمی کتابیں گودام ہی کی رونق بڑھانے کے لئے چھاپی جاتی ہیں۔

سید صاحب سے ہماری ملاقات زیادہ پرانی نہیں ہے۔ اس سال کے شروع میں وہ ایک ثقافتی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کراچی آئے تو ملاقات ہوئی۔ اس سے پہلے ہم ان سے غائبانہ عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے کچھ مضامین پڑھ رکھے تھے اور انیس ناگی کی یہ رائے سن رکھی تھی کہ:
"سید صاحب کا تعلق نقادوں کے ہتھوڑا گروپ سے ہے"
مطلب یہ کہ وہ تنقید میں لگی لپٹی نہیں رکھتے ، جس بات کو وہ درست سمجھتے ہیں ، اس کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے بہت سے ادیب ان سے ناخوش ہیں ، حد تو یہ ہے کہ انہوں نے احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا جیسے محترم ادیبوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک مرتبہ طاہر مسعود نے ان سے انٹرویو لیتے ہوئے پوچھا کہ ان دونوں ادیبوں کے درمیان جو اختلافات ہیں ، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
کہنے لگے: "یہ اختلافات نہیں ہیں ، نورا کشتی ہے۔"
سید صاحب کی اس بات سے ان لوگوں کو بے حد تکلیف ہوئی جو مذکورہ دونوں محترم ادیبوں کے باہم اختلافات کو خلوص پر مبنی سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے بعض لوگ "نورا کشتی" کی اصطلاح سے واقف نہ ہوں ، ان کی آگاہی کے لئے عرض ہے کہ یہ دکھاوے کی کشتی ہوتی ہے۔ پہلوان پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ کوئی جیتے گا نہ ہارے گا۔ مقابلہ برابر رہے گا۔

سید صاحب کی حق گوئی و بے باکی کبھی کبھی دل آزاری کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ کراچی میں ایک شاعر ہیں جو پبلسٹی کے اس حد تک شائق ہیں کہ اخباروں میں اپنے فرضی انٹرویو بھی چھپوا دیتے ہیں، یعنی اپنے آپ کو ایک بڑا شاعر تصور کر کے اپنا انٹرویو خود لیتے ہیں۔ یہ صاحب اپنا شعری مجموعہ لے کر سید صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک مضمون لکھنے کی فرمائش کی۔
سید صاحب انہیں ٹالنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن یہ حضرت اپنے موقف پر قائم رہے اور یہ دلیل پیش کی کہ آپ میر کو پسند کرتے ہیں، میرے کلام میں بھی آپ کو میر کا رنگ ملے گا۔ سید صاحب بھلا میر کی شان میں گستاخی کہاں برداشت کر سکتے تھے۔ فرمایا:
"میر صاحب اتنے بدرنگ نہیں تھے کہ ان کی تقلید کی جا سکے۔"
موصوف نے کہا: "آپ ایک مرتبہ میرا کلام پڑھ لیجئے ، پھر کوئی رائے قائم کیجئے۔" سید صاحب نے جواب دیا: "میں نے آپ کی دو چار غزلیں اور دوچار نظمیں ابھی آپ کے سامنے پڑھی ہیں۔ سارا کلام پڑھنا مناسب نہ ہوگا۔ اتنا کافی ہے کہ آپ نے اس کلام کے لکھنے میں ساری زندگی ضائع کر دی، کوئی دوسرا اسے پڑھنے میں دو چار دن بھی کیوں ضائع کرے۔"
یہ سن کر وہ صاحب اتنے ناراض ہوئے کہ اپنا مجموعہ کلام بھی اٹھا کر لے گئے، حالانکہ کچھ دیر پہلے انہوں نے بڑی عقیدت سے سید صاحب کا نام لکھ کر انہیں پیش کیا تھا۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ آج سے تقریباً تیس برس پہلے سید صاحب نے "نقاد کی داستانِ مصیبت" کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا ، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ نقاد کا ایک ہی مصرف رہ گیا ہے کہ وہ ادیبوں کی فرمائش پر ان کے بارے میں مضامین لکھتا رہے۔ اس مضمون میں انہوں نے کئی ایسے واقعات بیان کئے تھے جو انہیں پیش آئے تھے۔ ہر موقع پر سید صاحب
ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
کے مصداق ادیبوں کی فرمائش پوری کرنے سے بچتے رہے۔ لیکن ناصر کاظمی کے سامنے وہ بے دست و پا ہو گئے۔ سید صاحب سے ناصر کاظمی کی بہت دوستی تھی۔ ناصر نے ان سے اپنے مجموعہ کلام "برگ نے" کا دیباچہ لکھنے کے لئے کہا۔ سید صاحب نے اسے سمجھایا کہ تمہارے دیوان کو کسی دوسرے کے دیباچے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم ایک توانا شاعر ہو۔ دیباچے تو وہ لکھواتے ہیں جو کمزور شاعری کرتے ہیں۔
ناصر نے کہا: "ٹھیک ہے تم دیباچے میں میرے بارے میں کچھ نہ لکھو، شاعری کی ماہیت کے بارے میں چند صفحے لکھ دو"۔
یہ فرمائش ایسی تھی کہ سید صاحب انکار نہ کر سکے اور انہوں نے "اعتبارِ نغمہ" کے عنوان سے چند صفحوں کا دیباچہ لکھ دیا۔ کتاب چھپ کر آئی تو دیباچے پر مظفر علی سید کی بجائے خود ناصر کاظمی کا نام چھپا ہوا تھا ، سید صاحب کو بڑی حیرت ہوئی۔ انہوں نے ناصر سے اس "سبو کتاب" کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا: "مجھے اپنے اوپر پورا پورا اعتماد ہے اس لئے مجھے اپنے دیوان پر کسی دوسرے کے نام سے دیباچہ چھاپنے کی ضرورت نہیں۔"

اختر الایمان کے بارے میں مظفر علی سید بڑی اچھی رائے رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جدید اردو شاعری صرف فیض اور راشد تک محدود نہیں ، بلکہ ایک تیسری آواز بھی ہے، جو فیض اور راشد کی آوازوں سے الگ پہچانی جا سکتی ہے ، اور یہ اختر الایمان کی آواز ہے۔
پچھلے دنوں اختر الایمان کراچی تشریف لائے، تو انجمن ترقی اردو نے ان کے اعزاز میں ایک جلسہ منعقد کیا اور سید صاحب کو مضمون پڑھنے کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ انہوں نے ایک بہت اچھا مضمون جلسے میں پڑھا، جس میں انہوں نے اختر الایمان کی شاعری کے اوصاف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ۔۔۔
"اختر الایمان کی شاعری کا کھردرا پن بعض اوقات الفاظ کی بندش یا شعری آہنگ میں لڑکھڑاہٹ پیدا کر دیتا ہے۔ یوں تو بڑے سے بڑا شاعر کبھی نہ کبھی کوئی فنی لغزش کر بیٹھتا ہے ، لیکن اختر الایمان کی بعض نظموں میں سامنے کی لڑکھڑاہٹ کھلنے لگتی ہیں۔ شاید یہ خرابی مکالمت کا لہجہ برقرار رکھنے کی کوشش میں ہوئی ہو، لیکن حادثہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر مکالمت کے لہجے میں رخنہ پیدا ہو جاتا ہے۔"

اختر الایمان کو یہ بات پسند نہ آئی اور انہوں نے برسر جلسہ سید صاحب کے اعتراض کو رد کر دیا۔ جلسے میں مضمون پڑھنے سے پہلے سید صاحب خوش تھے کہ وہ اپنے عہد کے ایک اہم شاعر کی موجودگی میں اس کے فن کا تنقیدی جائزہ پیش کریں گے لیکن اختر الایمان کا رد عمل جاننے کے بعد انہوں نے کہا:
شاعر کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو وہ اپنی تعریف کے علاوہ کچھ اور سننا پسند نہیں کرتا۔ بڑے سرکاری عہدیداروں اور وزیروں کی طرح وہ صرف سپاسنامہ سننا چاہتا ہے۔ لہٰذا اب سید صاحب اپنے مضمون کو "اختر الایمان کی خدمت میں ایک تنقیدی سپاسنامہ" کے عنوان سے شائع کرا رہے ہیں۔

سید صاحب کے بارے میں ہم نے اتنا کچھ لکھ دیا اور یہ بتایا ہی نہیں کہ اس کا سبب کیا ہے۔ چند روز ہوئے سید صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ پریشان نظر آ رہے تھے ہم نے وجہ معلوم کی تو فرمایا:
"اردو کے خلاف اگر کوئی ذرا سی بات کہہ دے تو آپ لوگ اخبارات میں بیان جاری کرتے ہیں، احتجاجی جلسے کرتے ہیں، جلوس نکالتے یہں، لیکن اب انگریزی زبان پر برا وقت آیا ہے تو آپ لوگ خاموش ہیں۔"
ہم نے عرض کیا:" یہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں، اردو کے مقابلے پر ہمارے ملک میں انگریزی کو بہت اونچا مقام حاصل ہے۔ عملاً ہماری سرکاری و قومی زبان انگریزی ہے۔ اردو کا تو صرف نام بدنام ہے۔ ایسی صورت میں انگریزی پر برا وقت کیسے آ سکتا ہے۔"
اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا:
"برا وقت آ چکا ہے کیونکہ انتظار حسین نے انگریزی میں کالم نگاری شروع کر دی ہے۔"
(7/ ستمبر 1989ء)

ماخوذ از کتاب:
سن تو سہی (مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں)
مرتبین : ڈاکٹر انور سدید ، خواجہ عبدالرحمن طارق

Visiting Card or a permanent Author. Column: Mushfiq Khwaja [khama-bagosh].

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں