مخنثوں کو تیسری جنس کا درجہ - سپریم کورٹ فیصلہ
سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک تاریخی فیصلے میں مخنثوں کو تیسری جنس کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ جسٹس کے ایس رادھا کرشنن اور جسٹس اے کے سیکری کی ڈویژن بنچ نے ہجڑوں کو تیسری جنس کے زمرے میں رکھنے کے ساتھ ساتھ مرکز اور ریاستی حکومت کو انہیں تعلیمی و طبی سہولت اور بہبودی منصوبوں کا فائدہ پہنچانے کا حکم دیا۔
ڈیویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ مخنثوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ برادری قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت اور تعلیم کے میدان میں تحفظات دئے جائیں اور مختلف بہبودی پروگراموں میں شامل کیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ مخنث بھی اس ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی عام شہریوں کی طرح تمام حقوق حاصل ہیں۔ آئین کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر شہری چاہے وہ کسی بھی ذات ، مذہب یا جنس کا ہو اپنی حیثیت کے مطابق آگے بڑھے۔
قومی جیوڈیشنل سروس اتھاریٹی (این اے ایل سی اے) کی اکتوبر 2012 میں دائر کردہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف زنخوں تک ہی محدود رہے گا اور ہم جنس پرستوں پر اس کا اطلاق ہرگز نہیں ہوگا۔
ڈیویژن بنچ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ مخنثوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ برادری قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت اور تعلیم کے میدان میں تحفظات دئے جائیں اور مختلف بہبودی پروگراموں میں شامل کیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ مخنث بھی اس ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی عام شہریوں کی طرح تمام حقوق حاصل ہیں۔ آئین کے ذریعے یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ ہر شہری چاہے وہ کسی بھی ذات ، مذہب یا جنس کا ہو اپنی حیثیت کے مطابق آگے بڑھے۔
قومی جیوڈیشنل سروس اتھاریٹی (این اے ایل سی اے) کی اکتوبر 2012 میں دائر کردہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف زنخوں تک ہی محدود رہے گا اور ہم جنس پرستوں پر اس کا اطلاق ہرگز نہیں ہوگا۔
Supreme Court recognizes transgenders as 'third gender'

گفتگو میں شامل ہوں