تانڈور میں انتخابی جلسہ عام سے مجلسی رکن مقننہ اکبرالدین اویسی کا خطاب - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-03-27

تانڈور میں انتخابی جلسہ عام سے مجلسی رکن مقننہ اکبرالدین اویسی کا خطاب

MiM-Akbaruddin-Owaisi-election-compaign-Tandur
آزادی کے 67/سال بعد بھی حقوق سے محروم مسلمانوں کو انصاف تک نہیں ملا ،سیکولرازم کا صداقت نامہ صرف مسلمانوں سے ہی کیوں ! !
دہلی عصمت ریزی کی متاثرہ بہن کی یاد میں موم بتیاں جلائی گئیں لیکن گجرات کی ہزاروں متاثرہ مسلم بہنوں کو حکومت نے نظرانداز کردیا !
* بابری مسجد کی شہادت سیکولرازم کی کمزوری کا سبب !
* ہندوتوا اور بی جے پی کے علمبرداروزیراعظم کی دؤڑ میں شامل نریندر مودی تاریخ سے نابلد
* سنگھ پریوار نے ملک کی ترقی و تعمیر کے لئے کیا دیا ! * چندرابابو نائیڈو دھوکہ بازاور مفاد پرست سیاستداں !
* کے سی آر بھی مسلمانوں کے ووٹ لیکر بی جے پی سے دوستی کرسکتے ہیں !!
تانڈور میں انتخابی جلسہ عام سے مجلسی رکن مقننہ اکبرالدین اویسی کاخطاب

قائد مجلس مقننہ اکبرالدین اویسی نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہیکہ ملک کی آزادی کے 67/سال بعد بھی اس ملک کا مسلمان اپنے جائز حقوق سے محروم ہیں اس طبقہ کو حقو ق تو دور کی بات ہے آج تک مکمل انصاف بھی فراہم نہیں کیا گیا ۔شعلہ بیان مقرر گذشتہ رات یہاں قدیم عیدگاہ میدان میں بلدی انتخابات کے ضمن میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے جس میں ہزاروں افراد کا مجمع شریک تھا
اس جلسہ عام سے اپنے خطاب میں نوجوان مجلسی قائد اکبرالدین اویسی نے کہا کہ ملک کی آزادی سے قبل اور پھر ملک کی آزادی کے بعد بھی ہندوستان کی سرزمین کو مسلمانوں کے خون سے سرخ کیا گیا اورفسادات کا کھیل کھیلتے ہوئے مسلمانوں کی جائدادوں، املاک اور ان کی عصمت و آبرو کو تباہ تاراج کرکے انہیں ریلیف کیمپوں میں گذارہ پر مجبور کیا گیا اور پھر مسلمانوں سے ہی کیوں سیکولرازم کا صداقت نامہ طلب کیا جاتا ہے ! جبکہ اس ملک کو آزادی دلانے لئے ہمارے علماء ،مجاہدین اور اسلاف نے بھی اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور اس ملک کو تہذیب و تمدن سے مالا مال بھی کیا ۔انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت ملک میں سیکولرازم کی کمزوری کا سبب بنی ہے اکبرالدین اویسی نے دہلی عصمت ریزی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک بہن کی عصمت ریزی پر ملک بھر میں موم بتیاں جلاکر خاموش احتجاج تو کیا گیا جو کہ قابل تعریف ہے لیکن 2002ء کے گجرات میں مسلم کش فسادات کے دؤران سینکڑوں مسلم بہنوں کی عصمت ریزی اور ان کے قتل و غارت گری کے کھیل پر حکومت اور سماج کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنی رہے انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہی انصاف کا پیمانہ ہے ! اور جب یہی سوال مجلس اتحادالمسلمین کرتی ہے تو اس کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ممبئی بم دھماکوں، پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ اور حالیہ مظفر نگر فسادات کا تذکرہ کرتے ہوئے اکبرالدین اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ
ممبئی بم دھماکوں کے ملزمین اور پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزاء ملی یہ ٹھیک اور قابل تعریف ہے الیکن ممبئی فسادات میں ملوث، بابری مسجد کی شہادت کے ذمہ داران اور مظفر نگر فسادات کے خاطیوں اور ذمہ داران کو کیوں سزاء نہیں دی گئی ! سوال کیا کہ ملک کی ترقی اور تعمیر کے لئے سنگھ پریوار نے کیا رول ادا کیا ہے ! انہوں نے سیکولر ہندؤوں سے سوال کیا کہ وہ کس بنیاد پر نریندر مودی کو ووٹ دیں گے
جبکہ سنگھ پریوار اور بی جے پی کے پاس صرف ایک نکاتی ایجنڈہ ملک کا اقتداراوراسے ہندو مملکت بنانا ہے اور یہ ہندوتوا جماعتیں ملک کو کمزور کرنے کے در پر ہیں لیکن یہ ناممکن ہے اکبرالدین اویسی نیوزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا اور بی جے پی کا یہ امیدوار تاریخ سے یکسر نابلد ہے اس عظیم الشان انتخابی جلسہ سے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قائد مجلس مقننہ اکبرالدین اویسی نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو دھوکہ باز اور مفاد پرست سیاستداں ہیں جنہوں نے اپنے خسر این ٹی راماراؤ کو دھوکہ دیتے ہوئے اقتدار ہتھیا لیا تھا انہوں مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ نائیڈو مسلمانوں کو رجھانے میں مصروف ہیں اور مستقبل میں وہ بی جے پی کی گود میں جا بیٹھ سکتے ہیں اور بی جے پی کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں اسی طرح انہوں نے ٹی آر ایس کے متعلق بھی شک و شبہ کا اظہار کیا کانگریس اور ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اکبرالدین اویسی نے کہا کہ یہ دونوں جماعتیں خود کو تلنگانہ کی چمپیئین ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں انہوں نے استفسار کیا کہ یہ کیسا تلنگانہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے مماثل ہمیں حقوق حاصل نہیں ہیں ، کوئلہ ، پانی اور دیگر قدرتی وسائل پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہے !قائد مجلس مقننہ اکبرالدین اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی جماعتیں مجلس اتحادالمسلمین کی بڑھتی عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور ہمیں دیگر ریاستوں میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جارہی ۔انہوں نے ٹی آر ایس سے سوال کیا کہ اس نے محبوب نگر سے اپنے اقلیتی طبقہ کے امیدوار سید ابراہیم کواور کانگریس کاماریڈی سے محمد علی شبیر کو کیوں نہیں جتواسکی !! جبکہ مجلس کمزور طبقات کے نمائندوں کی کامیابی کا دم اور خم رکھتی ہے ۔ اس انتخابی جلسہ میں مقامی مجلسی قائدین اور 16/مجلسی بلدی امیدوار بھی شریک تھے ۔

MiM Akbaruddin Owaisi election compaign in Tandur

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں