BJP MP from Gujarat held for RTI activist's murder
دہلی کی ایک عدالت نے آج ایک آر ٹی آئی کارکن امیت جیٹھواکے قتل کے سلسلہ میں گرفتار کئے گئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ دینوبھائی بوگھابھائی سولنکی کو احمدآباد منتقل کرنے سی بی آئی کو ٹرانزٹ ریمانڈدے دیا۔امیت جیٹھوانے ایشیائی ببروں کے گڑھ،گیرجنگلات میں غیرقانونی کانکنی کے خلاف ایک مہم شروع کی تھی۔سی بی آئی نے سولنکی کو دورروزہ ریمانڈ میں دینے کا مطالبہ کیاتھاجس پر چیف میٹروپولیٹین مجسٹریٹ لوکیش کمار شرمانے ایجنسی کوسولنکی کو اپنی تحویل میں احمدآباد لے جانے کی اجازت دے دی۔گجرات کے جوناگڑھ شہر کے رکن لوک سبھا سولنکی کو کل شام گرفتار کرلیاگیاتھا۔قبل ازیں کل صبح وہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پوچھ گچھ کا سامناکرنے سی بی آئی کے دفتر پر حاضر ہوئے تھے۔ان سے دن بھر پوچھ گچھ کے بعدسی بی آئی نے یہ قدم اٹھایاتھا۔عدالت نے سی بی آئی کویہ بھی ہدایت دی کہ وہ ملزم کا گجرات کے سرکاری ہاسپٹل میں فوری معائنہ کرائے۔سی بی آئی نے سولنکی کو ٹرانزٹ ریمانڈمیں دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ جولائی2010 میں امیت جیٹھوا کے قتل کی سازش کے سلسلہ میں سولنکی کے خلاف تعزیرات ہندکی دفعہ120Bاور302کے تحت مقدمہ درج کیاگیاہے۔ایجنسی نے الزام عائدکیاکہ وہ اس سازش میں سرگرم طور پر ملوث تھے اور تفتیش کے دوران ان کے جواب اطمینان بخش نہیں تھے اوراس جرم میں ان کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ایجنسی نے کہاکہ انھیں کل احمدآباد میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے روبروپیش کرناہوگا اور وہ اس کیس میں مزید تحقیقات کے لیے سی بی آئی عدالت میں ان کی مزید تحویل کی درخواست پیش کرے گی۔ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی پولیس نے سولنکی کو اس کیس میں کلین چٹ دے دی تھی جس کے بعد گجرات ہائیکورٹ کے احکام پر تحقیقات اس کے حوالے کی گئی تھیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں