پارلیمنٹ میں مسلسل رخنہ اندازی باعث تشویش - پرنب مکرجی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-05-25

پارلیمنٹ میں مسلسل رخنہ اندازی باعث تشویش - پرنب مکرجی

قانون سازی کی کارروائی کے بار بار خلل اندازیوں اور اجلاس کے التوا کی بناء پر متاثر ہونے کی شکایت کرتے ہوئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج سیاسی انتظامیہ سے خواہش کی کہ اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ جب پارلیمًٹ کے دونوں ایوانوں اور ریاستی اسمبلیوں اور کونسلوں کی کارروائیوں میں بار بار خلل اندازی کی جاتی ہے اور کسی کارروائی کے بغیر اجلاس ملتوی کردیا جاتا ہے تو مجھے سخت رنج ہوتا ہے۔ ہماچل پردیش ریاستی اسمبلی کی جشن زریں تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہاکہ آج کل مقننہ اداروں کی کارروائی میں ایک نیا لفظ شامل ہوگیا ہے۔ پہلے یہ کاروائیاں مباحث، ناراضگی اور فیصلوں پر مشتمل ہوتی تھی لیکن اب ان میں خلل اندازی بھی شامل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی علم میں پارلیمانی جمہوریت کی کارروائی میں خلل اندازی کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا۔ انہوں نے ان مٹھی بھر افراد کی مذمت کی جو اپنی مرضی مسلط کرنے کیلئے ایسا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایوان کی کارروائی میں بار بار خلل اندازی کی وجہہ سے فینانس بلس پر جو ملک کیلئے انتہائی اہم ہوتے ہیں مناسب مباحث اور تبادلے خیال بھی متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کا صرف 30تا35فیصد حصہ بیک وقت رقم اور فینانس کے مسائل کیلئے وقف کیا جارہا ہے جبکہ مالی اخراجات کئی گناہ زیادہ ہوچکے ہیں اور آئندہ پیچیدگیوں میں بھی ایسا ہی ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے ارکان اور اسمبلیوں کے ارکان کو اخراجات کے جانچ کی فرصت ہی نہیں ہے وہ مطالبات زر پر اور فینانس بل پر بحث کرنے کیلئے وقت نکالنے سے قاصر ہے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے سوال کیا کہ اگر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ارکان ایسا نہیں کرسکتے تو اور کون کرے گا؟ انہوں نے کہاکہ عوام نے اپنے نمائندوں کو فرائض کی ادائیگی اور ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے منتخب کیا ہے۔ اگر میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل نہ کروں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔ صدر جمہوریہ نے قائدین اور سیاسی انتظامیہ سے خواہش کی کہ وہ بار بار خلل اندازی کے مسئلہ پر غور و خوص کریں اور اس کا کوئی حل تلاش کریں۔ پرنب مکرجی نے جو ریاست ہماچل پردیش کے 3روزہ دورہ پر ہیں امید ظاہر کی کہ ہم یہ حل تلاش کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ہندوستانی سیاسی نظام پر یقین واثق ہے۔ ان کے خیال میں یہ عارضی جذبات کی برہمی ہے جو جلد ہی درست کرلی جائے گی۔ صدر جمہوریہ نے بعدازاں باوقار ہندوستانی ادارہ برائے ترقی یافتہ مطالعہ جات میں ٹیگور مرکز کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں انہوں نے کہاکہ ملک اخلاقی انحطاط کے احساس میں مبتلا ہے اس احساس سے باہر نکالنے کیلئے ٹائیگور جیسی شخصیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ میں ایسی مثالی شخصیتیں ضرور ہونی چاہئے کیونکہ وہ غیر یقینی حالات میں اخلاقی کتب نما کا کام انجام دیتی ہیں۔

President Pranab Mukherjee concerned over Parliament disruption

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں