Zakath foundation seminar on indian muslims
65 برس سے مسلمان ہندوستانی سماج میں باقی سب سے بہت پیچھے چلا گیا ہے اور کوئی اس کا پرسان حال بھی نہیں ہے ۔ اس لئے اب مسلمانوں کو اپنی بنیادی پالیسی میں تبدیلی کرنی ہو گی۔ شیڈولڈ کاسٹ و پسماندہ طبقات کے شانہ بشانہ چلنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں زکوۃ فاونڈیشن آف انڈیا اور آل انڈیا فیڈریشن آف شیڈولڈ کاسٹ کے درمیان معاہدہ ہو گیا ہے ۔ عیسائیوں سے بھی بات ہو گئی ہے ۔ یہ تینوں طبقے مل کر ملک کی 36فیصد آبادی بناتے ہیں ۔ اس فیصلہ کا اعلان آج دہلی کے انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے آڈیٹوریم میں زکوۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹرظفر محمود نے کیا۔ شیڈولڈ کاسٹ فیڈریشن کے سکریٹری ونود کمار اور عیسائیوں کی طرف سے فادر پیکیم سیمویل نے اس مشترکہ عہد کی تائید کی۔ اجلاس میں مسلم دعویداری کی مہم جوئی پر زکوۃ فاونڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید ظفر محمد نے مفصل پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ بتایا کہ کس طرح موجودہ مرکزی حکومت کے آخری بجٹ میں بھی مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کیا گیا ہے ۔ غیر مسلم اور غیر عیسائی والے شیڈولڈ کاسٹ طبقے جو ملک کی آبادی کا 20فیصد ہوتے ہیں ان کیلئے 50ہزار کروڑسے بھی زیادہ رقم مختص کی گئی ہے لیکن مسلمانوں کیلئے جو ملک کی آبادی کی 13.4 فیصد ہیں اور بقول سچر کمیٹی شیڈولڈ کاسٹ سے بھی پیچھے ہیں ان کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آخر مسلمان کب تک تعصب اور ذلت برداشت کریں ۔ مسلم دعویداری کی مہم جوئی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سید ظفر محمود نے ملت سے اپنا حق مانگنے اور مستقبل اور نئی نسل کیلئے ہندوستان کی تعمیر کی اپیل کی۔ انہوں نے سچر کمیٹی اور مشرا کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیا کہ مسلمان کتنی نچلی سطح پر ہیں ۔ ان کو اوپر لانے کیلئے ملت کو ایک ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں