Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-17 - بوقت: 16:06

اللہ اور خدا - واٹس اپ گروپ مکالمہ

Comments : 0
Allah-the-only-God
سعودی عرب سے قائم کردہ علمی و ادبی واٹس اپ گروپ "ہندوستانی بزم اردو" کا ایک مکالمہ۔

غوث ارسلان :
شمس الرحمن فاروقی اپنی کتاب "لغاتِ روزمرہ" میں "خداحافظ یا اللہ حافظ" کے زیر عنوان لکھتے ہیں ۔۔۔
کچھ عرصے سے پاکستان میں "خدا حافظ" کی جگہ "اللہ حافظ" بولا اور لکھا جانے لگا ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی بعض اہل ہند بھی اس راہ پر چل نکلے ہیں۔ اس تبدیلی کی مصلحت سمجھ میں نہیں آتی۔ الواداعی سلام کے معنوں میں "اللہ حافظ" اردو کا روزمرہ نہیں۔ "خدا حافظ" اردو کا روزمرہ ہے، بہادر شاہ ظفر:
ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ :: بت کدے کا بتو خدا حافظ
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی اردو بورڈ، پاکستان کے ضخیم "اردو لغت، تاریخی اصول پر" میں "اللہ حافظ" بطور الوادعی سلام درج نہیں ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ "اللہ" تو عربی ہے اور "خدا" فارسی، اس لیے "خدا حافظ" کہنا درست نہیں۔ اول تو یہ عربی فارسی کی دلیل بے معنی ہے، کیونکہ ہم اردو سے بحث کر رہے ہیں، اور اردو میں بحث کر رہے ہیں۔ اردو اپنی جگہ پر مستقل زبان ہے، وہ کسی غیر زبان کی پابند کیوں ٹھہرائی جائے؟ دوسری بات یہ کہ اگر "اللہ" کو عربی اور "خدا" کو فارسی ہونے کی بنا پر یکجا کرنا غلط ہے تو پھر اردو کے ان گنت فقرے غلط قرار دینے ہوں گے۔
مثلاً "خدائے تعالیٰ" ، "خدائے عز و جل"، "خدائے واحد"، "خدا رکھے"، "خدا واسطے کا بیر"، وغیرہ ظاہر ہے کہ یہ سب فقرے صحیح اور فصیح ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ "خدا حافظ" بالکل صحیح اور مروج ہے۔
"اللہ حافظ" غلط نہیں، لیکن غیر ضروری اور ایجاد بندہ ہے۔ یہ اس لیے بھی غیر ضروری ہے کہ اسے اکثر برے معنی میں بولتے ہیں، مثلاً:
ان کی کارکردگی اس قدر بگڑ چکی ہے کہ اس کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
آپ کو گھر کی خبر ہے نہ دفتر کی، آپ کا بس اللہ حافظ ہے۔
بس میاں یہ بیل منڈھے چڑھ چکی، اللہ حافظ ہے۔

میر غضنفر علی :
ہم لوگ لایعنی بحث و مباحث میں اس قدر مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہر مروجہ الفاظ میں، ہر شاعر کے اشعار میں، مذہب پر جنگ تصور کرتے ہیں اسکے سیاق و سباق کو پس پشت ڈال کر۔ عربی میں مشرک بھی اللہ ہی کہتے ہیں۔ کئی عسائی عربی ہیں جنکے نام عبداللہ ہیں۔ اللہ، خدا، بھگوان، ایشور، یزداں، گاڈ کچھ بھی کہیں اصل بات یہ ہے کہ کہنے والے کا تصور خدا اور نیت کیا ہے؟ جس سے خدائے برتر ہی بہتر واقف ہے۔ آیا کہ کہنے والے کا تصور خدا مشرکانہ ہے یا موحدانہ؟
ندا فاضلی اور حبیب جالب کے اشعار پر بھی اسی طرح کے تبصرے پڑھنے میں آئے۔ میرے خیال میں انکے اشعار میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ واللہ عالم۔

غوث ارسلان:
بحث اللہ یا خدا کی نہیں زبان کی ہے۔ پاکستان کو اسلامی تشخص دینے زبان ، آرٹ و کلچر پر کاری ضرب لگائی گئی۔ پہلا نشانہ موسیقی کو بنایا گیا راگوں کے نام اس بنیاد پر تبدیل کردیے گے کہ اسلامی مملکت سے مطابقت نہیں رکھتے، حتی کہ ریڈیو پر بعض راگوں پر امتناع عائد کیا گیا۔ اسلامی تشخص کی برقراری کے لۓ قوالی کو فروغ دیا گیا۔ جہاں تک میری اپنی ناقص معلومات ہیں جنزل ضیاءالحق کے زمانے میں مفادات حاصلہ کے لیے حکومت سے قریب چند افراد نے خدا حافظ کو اللہ حافظ سے بدلنے کا نیک کام انجام دیا۔
جون ایلیا کا ایک شعر ہے
نسبت علم ہے بہت حاکم وقت کو عزیز
اس نے تو کار جہل بھی بے علماء نہیں کیا

میر غضنفر علی :
بالکل درست۔ میرا بھی یہی مطلب تھا۔

غوث ارسلان:
سب سے بڑا المیہ تو پنجابی زبان کا ہے ایک جگہ یہ زبان گرمکھی میں تو دوسرے ملک میں فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے ۔ بنجابی زبان بہت تونگر ہے محققین کی رائے ہے کہ پنجابی اردو کی ماخذ ہے۔

ڈاکٹر عزیر غازی :
میری اپنی ناقص رائے میں یہ بات بالکل غلط ہے کہ اللہ اور دوسری زبانوں کے معبود کے لیے مستعمل الفاظ ہم معنی ہیں۔ دنیا کی تمام زبانوں میں صرف عربی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ لفظ اللہ میں خالص توحید کا عنصر شامل ہے۔ اللہ کا جمع کا صیغہ نہیں ہے "اللہ احد" (دیوی/دیویاں)۔ اللہ کی تانیث نہیں ہے (دیو/دیوی)۔ اللہ کی تصغیر اور تکبیر نہیں ہے (دیو/مہا دیو)۔ دوسری زبانوں کے تمام الفاظ جو معبود کے لیے مستعمل ہیں ان کی جمع بھی ہے اور وہ مونث بھی مستعمل ہیں۔ لفظ اللہ کو کسی بھی معبود کے متبادل کے طور پر یا کسی زبان کے معبود کے ترجمہ کے طور استعمال بالکل غلط ہوگا۔ اللہ کا ترجمہ اللہ ہی ہے، کسی دوسری زبان میں اللہ ہی لکھنا چاہیے۔ گاڈ یا بھگوان نہیں۔ یہ تو تھی لفظ اللہ پر اصولی گفتگو۔ خدا حافظ کا استعمال میری رائے میں غیر مسلموں کے لیے درست ہے کہ اردو مسلم اور غیر مسلم دونوں بولتے ہیں لہذا وہ خدا حافظ بولیں گے (ان کا ایمان اللہ پر نہیں ہوتا) اور مسلمانوں کے لیے توحید کے عقیدہ کی بنیاد پر اللہ حافظ بولنا زیادہ صحیح ہے چاہے وہ عام زود زباں ہو نہ ہو۔

غوث ارسلان:
تو پھر اردو میں جہاں جہاں خدا آیا ہے وہاں اللہ آئے گا یعنی خدا ناخواستہ اللہ ناخواستہ ہو جائے گا۔ حیدرآباد میں فارسی کے استاد ہیں تنویر الدین خدا نمائی وہ تنویرالدین اللہ نمائی ہو جائیں گے۔ زبان کا تعلق مذہب سے نہیں زمین سے یوتا ہے۔ اردو کی خوس قسمتی یا بد قسمتی ہے کہ قدما نے اسے زیادہ معرب و مفرس کیا۔ اس فارمولے پر عمل کیا گیا تو پوری فارسی زبان بدل جائے گی۔

ڈاکٹر عزیر غازی :
آپ خود فیصلہ کریں کہ صحیح کیا ہے اور کیا غلط ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ جو کہا جا رہا ہے وہ معقول اور صحیح ہے یا نہیں یہ نہ دیکھیں کہ کون کہہ رہا ہے۔ اگر میری بات سے آپ کو اختلاف ہے تو ٹھیک ہے میں اپنی رائے کسی پر ٹھونس نہیں رہا ہوں۔ اگر معاشرے میں کوئی بات یا رسم غلط چل پڑی ہے تو غلطی کا علم ہوتے ہی اس کی اصلاح کر لینی چاہیے۔ اعتراض برائے اعتراض ہو تو پھر ان شا اللہ کی جگہ انشا بھگوان یا انشا پربھو بھی بولا جا سکتا ہے۔

غوث ارسلان:
اعتراض یا اختلاف کی بات نہیں یہ ایک لسانی بحث ہے۔ برصغیر میں جید مذہبی علما ہوئے ہیں جنہیں اردو زبان پر عبور تھا جہاں خدا لکھنا تھا وہاں خدا لکھا جہاں اللہ لکھنا تھا وہاں اللہ لکھا۔

مکرم نیاز :
غلطی کون سی؟ جب اس بات پر اتفاق ہے کہ لسانی بنیادوں پر لفظ خدا کا استعمال غلط نہیں، اور "خدا حافظ" کا استعمال بعض مواقع پر درست ہوگا۔۔۔ ونیز انفرادی رائے پر اصرار بھی نہیں، تو پھر "غلطی" کا نہیں بلکہ مختلف مواقع پر "ترجیح" کا معاملہ باور کیا جانا چاہیے۔۔۔

میر غضنفر علی :
اچھا ہوا علامہ اقبال اور اردو بولنے والے جید علماء اس بحث سے بچے رہے۔ انہوں نے لفظ خدا کا استعمال کثرت سے کیا ہے۔ کہنے والا کس نیت سے کہ رہا ہے یا کہا ہے وہ اللہ اور اسکے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس تعلق سے پاکستان اور ہندوستان کی تخصیص بھی شاید درست نہیں۔ اس قماش کے لوگ دونوں اطراف بھی موجود ہیں بلکہ ڈاکٹر ذاکر نائک نے تو اسکو کئی بار موضوع بحث بنایا ہے۔

ڈاکٹر عزیر غازی :
اگر آپ اللہ اور دیگر الفاظ جو معبودوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں کو مترادف سمجھتے ہیں تو آپ ضرور سمجھیں آپ اس میں آزاد ہیں، میں نے تو صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ میں اپنی رائے کسی پر زبر دستی تھوپ نہیں رہا ہوں معقول لگے تو ٹھیک ہے اور نہ لگے تو بھی ٹھیک ہے۔

غوث ارسلان:
اردو زبان کی حد تک ذاکر نائیک کا اعتبار نہیں ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے دہرا معیار اختیار کیا ہے۔ میں نے ان کے دو ویڈیو کلپ پوٹیوب پر دیکھے۔ پہلا کلپ انٹرویو کا تھا اس تعلق سے سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیا کہ وہ ماہر لسانیات نہیں ہیں ۔ دوسرا کلپ ایک عوامی لکچر کا تھا جس میں بے سر و پا دلائل اس موضوع پر بیان کی ہیں اور ان کے پیچھے عوام کی کثیر تعداد جا رہی ہے۔

آرکٹکٹ عبدالرحمن سلیم :
میری رائے میں ہم یہاں اردو زبان کی بات کر رہے ہیں فارسی کی نہیں اور اردو ہمیشہ سے دوسری زبان کے الفاظ اپنے میں سمونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اللہ لفظ کا تعلق روحانی اعتبار سے قلب کی تسکین کا باعث ہے، چاہے لسانیات کے ماہرین مانیں یا نہ مانیں یہ ایک حقیقت ہے۔ اور جہاں ممکن ہو اللہ سے تبدیلی ہو سکتی ہے تو ہونا چاہئے، یہ میری اپنی رائے ہے۔

عطیہ فاطمہ :
فارسی کے بغیر اردو زبان کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آرکٹکٹ عبدالرحمن سلیم :
کوئی فارسی کے بغیر کی بات نہیں کر رہا ہے صرف اللہ اور خدا لفظ کے استعمال کی بات ہو رہی ہے۔ اللہ کے ورد کا تعلق قلب سے ہے اور خدا کا تعلق فارسی زبان اور زیادہ تر اردو ادیبوں کی ضد سے ہے۔

میر غضنفر علی :
اللہ اور خدا دونوں الفاظ صدیوں سے بخوبی استعمال ہو رہے ہیں۔ جس کا جو دل چاہا۔ نہ کبھی کسی نے کوئی فرق محسوس کیا اور نہ کسی نے اعتراض۔ کبھی کبھی تو ایک ہی جملے میں دونوں الفاظ استعمال ہوتے ہیں ، بول چال میں بھی اور لکھنے میں بھی۔ ہاں کوئی لزوم نہیں تھا۔ کبھی کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے ہی رسپانس دیا تھا کہ یہ لایعنی بحث ہے۔

جاوید علی :
جب آپ خدا حافظ کہتے ہیں تو اس سے کیا مقصود ہے ؟؟؟ اللہ ہی ہے نا ؟؟؟ تو پھر اس بحث میں ہم کیوں لگے ہیں ۔ معذرت کے ساتھ ۔
***

The use of Urdu words Allah & Khuda, dialogue on a WhatsApp group.

0 comments:

Post a Comment