Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-14 - بوقت: 13:16

مودی کے تصور نیا ہندوستان کا جوش پیدا کرنے ریاستوں کو ہدایت

Comments : 0
مودی کے ’’نیا ہندوستان‘‘ تصور کا جوش پیدا کرنے ریاستوں کو ہدایت
نئی دہلی
پی ٹی آئی
یوم آزادی سے قبل مرکز نے ریاستوں کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے اسکولوں میں ایسے پروگرام منعقد کرنے کی ہدایت دی ہے جس سے حب الوطنی کا مزاج پیدا ہو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے نیا ہندوستان تصور کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں مدد ملے تاہم حکومت مغربی بنگال نے اس تجویز کو مسترد کردیا اور باضابطہ طور پر اپنے اسکولوں کو ہدایت دی کہ مرکز کے سرکیولر پر عمل نہ کیاجائے ۔ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاؤڈیکر نے ترنمول کانگریس حکومت کے فیصلہ کو بد بختانہ قرار دیا۔ جاؤڈیکر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے جدو جہد آزادی کے شہیدوں اور نیا ہندوستان تعمیر کرنے کے حق میں حلف برداری سے متعلق ہدایات اسکولس کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ سیکولر ایجنڈا کا حصہ ہیں۔ حب الوطنی کے جذبہ کو فروغ دینے کے لئے وزیر اعظم کے اس نئے تصور کے تئیں ملک بھر میں جوش پیدا کرنے کے سلسلہ میں مرکز کی جانب سے وزارت فروغ انسانی وسائل کے جوائنٹ سکریٹری منیش گارگ کی طرف سے ایک مکتوب ریاستوں کو تحریر کیا گیا جس میں کہا گیا کہ اس یادگار موقع کا ملک بھر میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے اور جوش کو ابھارنے کی معقولیت کے ساتھ جشن منانا پسندیدہ ہے ۔ اس سلسلہ میں ملک کے ہر شہری کو اس مہم میں شامل کرتے ہوئے تحریک پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نیا ہندوستان کا تصور حقیقت میں تبدیل ہو۔ گارگ نے نئے ہندوستان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہندوستان جو غربت ، کرپشن، دہشت گردی، فرقہ پرستی اور ذات پات کی تفریق سے پاک صاف ہو۔ مکتوب میں گارگ نے ریاستوں سے یہ بھی درخواست کی کہ ان پروگراموں کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے۔ یہ پروگرام9اگست تا30اگست کے درمیان منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا اور کہا گیا کہ ان پروگراموں کے تحت سی بی ایس ای سے ملحقہ کے بشمول تمام اسکولوں میں طلبہ کو حب الوطنی کا عہد دلایاجائے ۔ ان کے اندر نیا ہندوستان تعمیر کرنے کا جوش و جذبہ پیدا کیاجائے ۔ اس کے لئے جدوجہد آزادی اور ملک کی ترقی سے متعلق کوئز مقابلے منعقد کئے جاسکتے ہیں اور تصویر کشی کے مقابلے بھی اسی تصور کے تحت رکھے جاسکتے ہیں۔ گارگ نے مزید کہا کہ طلبہ کے لئے کوئز نریندر مودی ایپ یا حکومت کے سرکاری پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کئے جاسکتے ہیں ۔ جاؤڈیکر نے مغربی بنگال کے ریاستی پراجکٹ ڈائرکٹر سرواسکھشا مشن کی جانب سے جاری کردہ میموریل کی ایک نقل بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ یوم آزادی کی تقاریب مرکز کے سرکیولر کے مطابق نہیں منائی جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی حکومت نے اس میمومیں جو زبان استعمال کی ہے وہ حیرت انگیز اور بدبختانہ ہے ۔ میں ان سے بات کروں گا ۔ ہم نے جو تجویز رکھی ہے کوئی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ سیکولر ایجنڈہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس سال اپنے سرکیولر کے ذریعہ تمام اسکولوں ، کالجوں اور دیگر تعلیمی ادارہ جات کو9تا30اگست نئے ہندستان کا عہد دلانے اور سنکلپ پروگرام منعقد کرنے کی تجویز دی ہے ۔ اس کے تحت ملک کو پانچ برائیوں غربت، بد عنوانی، دہشت گردی، فرقہ پرستی اور ذات پات کی تفریق سے آئندہ پانچ برسوں میں پاک کرنے کا بچوں سے عہد لینے کے لئے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان برائیوں سے ملک کو پاک کرنے کا عہد سنکلپ پروگرام میں لیاجائے گا۔ یہ پروگرام شہیدوں کی سمادھی یا اسکول کے احاطہ میں منعقد کئے جائیں گے ۔ جاؤڈیکر نے کہا کہ وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں ہدایت دی ہے کہ اس سال2022ء تک جب کہ ملک ہندوستان چھوڑدو تحریک کے75سال کی تکمیل کا جشن منارہا ہوگا اور نئے ہندوستان کی تعمیر کا عہد لیاجائے ۔ جاؤڈیکر کا دعوی ہے کہ ملک بھر میں طلبا میں اس تعلق سے جوش و خروش پایاجاتا ہے ۔
PM Modi's New India vision, states ordered

یوگی کا مرکزی وزیر صحت کے ساتھ دورہ گورکھپور ہاسپٹل
گورکھپور
پی ٹی آئی
چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ وہ ریاستی حکومت کے زیر اہتمام چلائے جانے والے ہاسپٹل میں ہوئی درجنوں بچوں کی اموات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے ۔ اسی دوران مرکزی حکومت نے85کروڑ روپیوں کے صرفہ سے گورکھپور میں علاقائی میڈیکل سنٹر قائم کرنے کا اعلان کیا، تاکہ امراض اطفال سے متعلق ریسرچ کی جائے۔ ہم نے ریاستی چیف سکریٹری کے تحت ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی قائم کی ہے ، جو بی آر ڈی میڈیکل کالج میں بچوں کے فوت ہونے کی وجوہات اور آکیسجن سپلائی کا پتہ لگائے گی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، چاہے وہ گورکھپور میں ہوں یا کہیں اور ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سزا سے ایک معیار قائم ہوگا اور میں آپ کو اس بات یقین دلاتا ہوں ۔ چیف منسٹر مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ چیف سکریٹری کی زیر قیادت کمیٹی آکیسجن سپلائر کے رول کی بھی جانچ کرے گی اور اپنی رپورٹ اندرون ایک ہفتہ دے گی ۔ اس بات کی اطلاعات تھیں کہ ریاستی حکومت کے زیر اہتمام چلائے جانے والے بی آر ڈی میڈیکل کالج ہاسپٹل میں دو دنوں میں کم سے کم تیس بچے فوت ہوئے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق7اگست تک ہاسپٹل میں کئی ایک بیماریوں کے باعث ساٹھ بچے فوت ہوئے ہیں۔ نڈا نے کہا کہ ایک علاقائی میڈیکل سینٹر گورکھپور میں قائم کیاجائے گا، جو گہرائی سے بچوں کے امراض کے بارے میں ریسرچ کرے گا ۔ انہوں نے یوڈ کی آدتیہ ناتھ کو اس بات کا یقین دلایا کہ آخری پارلیمانی اجلاس کے دوران ایک مکمل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کیاجائے گا۔ یہاں آنے سے پہلے میں نے گورکھپور میں ایک علاقائی طبی ریسرچ سینٹر کے قیام کو منظوری دی ہے ، جسے85کروڑ روپئے کے صرفہ سے قائم کیاجائے گا۔ یہ انسٹی ٹیوٹ بچوں کے انفیکشن اور ان کی امکانی وجوہات سے متعلق ریسرچ کرے گا۔
لکھنؤ سے یو این آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب اتر پردیش کانگریس نے آج گورکھپور ہاسپٹل میں بڑے پیمانے پر شیر خوار بچوں کی اموات کو قتل کا واقعہ قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت صرف ایک ادارے کو نہیں چلا سکتی ہے تو کس طرح سے وہ ریاست کا نظم و نسق چلا ئی گی۔ اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ راج ببر نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ چار دن یعنی10اگست سے70بچوں کا قتل ہوا ہے ۔ ریاستی حکومت اس کی ذمہ دار ہے ، حکومت قاتل ہے اور وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اور کتنے بچوں کو ہلاک کیاجائے گا۔ انہوں نے اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ پر یہاں پریس کانفرنس میں تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ جب ایک چیف منسٹر اپنے آبائی ضلع کے ایک میڈیکل کالج کے معاملات سے نہیں نمٹنے سکتا ہے تو کس طرح سے وہ ریاست میں حکومت چلائی گا انہیں فوری عہدہ سے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔انہوں نے ہر مہلوک بچے کے والدین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ خاطیوں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنا چاہئے۔ ببر نے بتایا کہ کانگریس اس مسئلہ پر ریاست گیر مہم چلائے گی تاہم انہوں نے اس کی شروعات کی تاریخ نہیں بتائی ۔ انہوں نے اس مسئلہ پر غیر جانبدارانہ رپورٹنگ پر میڈیا کی ستائش کریت ہوئے بتایا کہ کون اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ یہ اموات تھے یا قتل کے واقعات۔ انہوں نے بتایاکہ اس وقت حکومت کی پوری توجہ ذبیحہ گاؤ، وندے ماترم گانے پر ہے جب کہ وہاں15اگست کو قومی پرچم کشائی ہوگی ۔ کانگریس کے قائد نے بتایا کہ یوپی اے حکومت نے بی آر ڈی میڈیکل کالج ہاسپٹل کو150کروڑ روپے دئیے تھے اور ساتھ ہی ساتھ سو بستروں پر مشتمل وارڈ بھی تعمیر کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے ہاسپٹل کا دورہ تو کیا تاہم وہ آکسیجن بحران سے واقف نہیں تھے ۔

’’کشمیر میں دہشت گردوں کے قدم اکھڑ گئے ہیں‘‘ : ارون جیٹلی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وادی کشمیر میں آج دہشت گردوں کے قدم اکھڑ گئے ہیں اور وہ عوام کو کئی دہوں تک دہشت زدہ نہیں کرسکتے ۔ وزیر دفاع اورن جیٹلی نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح وادی کشمیر کو مسلح عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دہشت گرد اب شدید دباؤ میں ہیں۔ نوٹ بندی سے پیسہ کی قلت اور نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی( این آئی اے) نے غیر قانونی بیرونی فنڈنگ کے خلاف جو کارروائی کی ہے اس سے جموںو کشمیر میں غیر قانونی سر گرمیوں کی بڑے پیمانہ پر روک تھام میں مدد ملی ہے ۔ ارون جیٹلی ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لے رہے تھے ۔ انہوں نے تاہم ہندوستان اور چین کے درمیان ڈوکلم میں ٹکراؤ پر تبصرہ سے انکار کردیا اور صرف اتنا کہا کہ مسلح افواج پر پورا بھروسہ رکھئے، انہوں نے کہا کہ آج کوئی بھی بڑا عسکریت پسند دہشت گرد سر گرمیان جاری رکھنے اور وادی کو کئی دہوں تک دہشت زدہ کرنے کا خواب نہیں دیکھ سکتا ۔ آج دہشت گردوں کی شلف لائف( عرصہ حیات) گھٹ کر صرف چند ماہ رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں بالخصوص جموں و کشمیر پولیس کی ستائش کروں گا جو دہشت گردوں کے صفائے کے لیے کڑی محنت کررہی ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ ملک کو دو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔

تین طلاق کے خلاف تازہ دخواست سپریم کورٹ میں مسترد
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے تین طلاق نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کی دستوری حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ تازہ درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ پہلے ہی زیر غور ہے ۔ عدالت نے تاہم کہا کہ زیر التوا درخواست میں دیاجانے والا فیصلہ موجودہ درخواست کا بھی نتیجہ ہوگا ۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ہمارا یہ خیال ہے کہ موجودہ درخواست میں جو مسائل اٹھائے گئے ہیں وہ پہلے ہی عدالت ہذا کے روبرو زیر غور ہیں ۔ چنانچہ ایک اور درخواست کو اسی مقصد کے لئے قبول کرنا ہمارے لئے ضرور ی نہیں ہے یہ کہنا بے جا ہے کہ زیر التوادرخواستوں میں جو بھی فیصلہ سنایاجائے گا اس کا اطلاق موجودہ درخواست کے لئے بھی از خود ہوگا ۔ سینئر ایدوکیٹ سومیا چکر بورتی نے استدلال کیا کہ طلاق کی تینوں شکلیں( احسن طلاق ، حسن طلاق اور طلاق بدعت) ظالمانہ اور مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے ۔ایک تحریری حلف نامہ داخل کرتے ہوئے اس نے کہا کہ خلع اور مبارت صرف دوروایتی طریقے ہیں جو خواتین کی جانب سے نکاح کو ختم کرنے کے لئے اختیار کئے جاسکتے ہیں ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ قرآن مجید میں جو مقدس اصول بتائے گئے ہیں ان کے علاوہ بھی مختلف علماء اور مسلم طبقہ کے مسالک کے درمیان متعدد تشریحات اور آرا پائی جاتی ہیں جو اسلام کے عمومی عمل میں یکساں طور پر بنیاد نہیں ہے ۔ چکر بورتی نے یہ بھی کہا کہ طلاق کی تینوں شکلوں میں سے کسی ایک پر بھی یکساں طور پر عمل نہیں کیاجاتا ہے اور نہ ہی اسے یکساں طور پر تسلیم کیاجاتا ہے ۔ چنانچہ اسے اسلام کے بنیادی اصولوں پر قیاس نہیں کیاجاسکتا ۔ چنانچہ طلاق کی تینوں شکلیں نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج دستور کی دفعات15,14اور21کے تحت مسلم خواتین کو دئیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں ۔ یاد رہے کہ پانچ رکنی ایک دستوری بنچ نے مسلمانوں میں طلاق کے طریقہ کار کی دستوری حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی متعدد درخواستوں پر اپنا فیصلہ18مارچ تک ملتوی کیا ہے ۔ قبل ازیں عدالت نے چھ دن تک مسلسل سرگرم سماعت کی جس میں مرکز ، کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ، کل ہند مسلم خواتین پرسنل لا بورڈاور دیگر نے طریقہ کار کے حق میں اور اس کے خلاف اپنے اپنے دلائل پیش کئے ۔

0 comments:

Post a Comment