Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-07-12 - بوقت: 23:26

مویشیوں کی خرید و فروخت کا تنازعہ - مرکزی حکومت کو سپریم کورٹ کا دھکا

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے آج کہا کہ مدراس ہائی کورٹ نے مرکز کے اعلامیہ پر روک لگانے جو عبوری ہدایت جاری کی تھی وہ لاگو رہے گی اور پورے ملک کا احاطہ کرے گی۔ مرکز نے ذبیحہ کے لئے مویشی منڈیوں سے جانور وں کی خریدو فروخت ممنوع قرار دی تھی ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جستس ڈی وائی چندر چوڑ پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کے اس بیان کا نوٹ لیا ہے کہ وہ اپنے اعلامیہ پر دوبارہ غور کررہی ہے ۔وہ فریقین کے مختلف اعتراضات اور تجاویز پر غور کرے گی اور ترمیمی اعلامیہ جاری کرے گی۔ بنچ نے کہا کہ مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ کی جاری کردہ عبوری ہدایت لاگو رہے گی اور پورے ملک کا احاطہ کرے گی ۔ بنچ نے آل انڈیا جمعیۃ القریش ایکشن کمیٹی کی درخواست کی یکسوئی کردی جس میں 23مئی کے اعلامیہ کے دستوری جواز کو چیلنج یا گیا تھا ۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل( اے ایس جی) پی ایس نرسمہا نے مرکزکی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اعلامیہ کسی بھی صورت میں اس وقت تک موثر نہیں رہے گا جب تک کہ ریاستی حکومتیں مقامی مویشی منڈیوں کا تعین نہ کردیں۔ مزید براں وزارت ماحولیات و جنگلات اور دیگر حکام اعلامیہ پر مختلف اعتراضات اور تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تازہ ترمیمی اعلامیہ دوبارہ جاری ہوگا۔ اے ایس جی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت فی الحال مدراس ہائی کورٹ کے احکام پر روک نہیں چاہتی ۔
Supreme Court suspends ban on cattle trade for slaughter

نائب صدر جمہوریہ کا الیکشن۔ گوپال کرشن گاندھی، اپوزیشن کے متفقہ امید وار
نئی دہلی
پی ٹی آئی
18اپوزیشن جماعتوں نے مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشنا گاندھی کو نائب صدر کے عہدہ کے لئے اپنا مشترکہ امید وار بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج یہ اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام18جماعتوں نے جن میں جنتادل یو بھی شامل ہے، گاندھی کے نام کو منظوری دی ہے ۔ یاد رہے کہ جنتادل یو صدارتی انتخاب میں این ڈی اے امید وار کی تائید کررہی ہے ۔ صڈر کانگریس نے اپوزیشن قائدین کے ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے کہا کہ18اپوزیشن جماعتوں نے نائب صدر کے انتخاب کے لئے اپنے مشترکہ امید وار کی حیثیت سے گوپال کرشنا گاندھی کو میدان میں اتارنے سے اتفاق کرلیا ہے۔ ہم نے گوپال کرشنا گاندھی سے بھی بات کی اور وہ اپوزیشن کے امید وار بننے کے لئے تیار ہیں۔ اجلاس سے غلام نبی آزاد ، سیتا رام یچوری اور دیرک اوبرین نے سابق گورنر سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کی منظوری حاصل کرلی ۔ نائب صدر کے انتخاب کی اگر نوبت آئے تو وہ اگست کو منعقد ہوں گے ۔ اسی دوران ووٹوں کی گنتی ہوگی ۔ آج کے اجلاس میں گاندھی کا واحد نام تھا جس پر غور کیا گیا۔ اسے ترنمول کانگریس نے پیش کیا جسے تمام اپوزیشن نے منظور کرلیا۔ آزاد نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے لئے امید وار کو چننے کے لئے 17اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک ہوئی تھی لیکن آج کے اجلاس میں18اپوزیشن جماعتوں نے شرکت کی جن میں جنتادل یو بھی شامل ہے ۔ پر نائب صدرج مہوریہ کے انتخابات کے لئے امید واروں کے نام پر غوروخوض کرنے کے لئے اپوزیشن پارٹیو ں کی منگل کو منعقدہ اجلاس میں جنتادل یونائیٹیڈ بھی حصہ لیا۔ جے ڈی یو نے نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں اپوزیشن پارٹیوں کی امید وار میرا کمار کو حمایت نہیں دی ہے ۔ اس کے پیش نظر مینگ میں اس کے شامل ہونے کو اہم مانا جارہا ہے ۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں جن قائدین نے حصہ لیا ان میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ ، کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی ، جے ڈی یو کے شرد یادو بہوجن سماج پارٹی کے ستیش چندر مشرا، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری اور سماجوادی پارٹی کے نریش اگر وال کے علاوہ دیگر قائدین شامل ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا عمل چار جولائی سے شروع ہوچکا ہے اور18جولائی تک جاری رہے گا۔ الیکشن5اگست کو ہوگا ۔اٹھارہ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مہینے میں ایک مرتبہ ملاقات کریں گے تاکہ مختلف اہم مسائل پر بات چیت کی جاسکے اور حکومت سے مقابلے کرنے کے لئے متحد رہتے ہوئے بہتر تال میل پیدا کیاجاسکے ۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کے امید وار کا فیصلہ کرنے کے لئے منعقدہ اجلاس کے بعد یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہم ہر مہینہ ایسی میٹنگس کریں گے ۔

بینکوں کو غیر منظم شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت
وزیر فینانس ارون جیٹلی
نئی دہلی
یو این آئی
ملک میں روزگار کے مواقعوں میں اضافہ کے مقصد سے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج بینکوں سے کہا کہ وہ غیر منظم شعبو ں پر زیادہ توجہ مرکوز کریں۔ نابارڈ کی36ویں یوم تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ ہندوستان کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں منظم شعبہ کے مقابلہ میں زیادہ عوام غیر منظم شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔بینکوں کو چاہئے کہ اس غیر منظم شعبہ پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور ہمعدم توجہ کے شکار افراد کو اپنے مالیاتی شمولیت کے پروگرامس میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ یہ تقریب میں سیلف ہیلپ گروپ( ایس ایچ جی) ۔ بینک لنکیج پروگرام کی سلور جوبلی بھی منائی گئی۔وزیر فینانس نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں نبارڈ کی زیر قیادت اختراعی پروگرا م ایس ایچ جی۔ لنکیج پروگرام میں مزید وسعت آئے گی۔25برسوں کے دوران ایس ایچ جی۔ لنکیج پروگرام ایک عظیم مہم میں تبدیل ہوچکا ہے جس کے تحت ملک بھر میں85لاکھ ایس ایچ جیز اس پروگرام کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اپنی مدد آپ گروپ( ایس ایچ جی) کے ان پروگرامس کے زریعہ تقریباً61,000کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا گیا ۔ اس موقع پر سکریٹری فینانس سرویس انجولی چھیب ڈگل نے کہا کہ حکومت ایس ایچ جی کو اب سوشیل سیکوریٹی اسکیم سے جوڑنے کی کوشش کررہی ہے ۔
رزیرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر سی رنگ راجن نے آج کہا کہ بینکوں کا انضمام جبرا نہیں کیا جانا چاہئے، بلکہ یہ بینکوں کی خواہش کے مطابق ان کی ضرورت کے حساب سے ہونا چاہئے ، ساتھ ہی انہوں نے این پی اے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے درمیانی راستہ نکالنے کی وکالت کی ۔ رنگا راجن نے قومی زرعی اور دیہی ترقیاتی بینک( نابارڈ) کے36ویں یوم تاسیس کے موقع پر یہاں منعقد ایک پروگرام کے بعد بینکوں کے انضمام کے بارے میں نامہ نگاروں سے کہا اس کی پہل بینکوں کی جانب سے ہونی چاہئے، جب انہیں اس کی ضرورت محسوس ہو ، انہیں اس کے لئے مجبور نہیں کیاجانا چاہئے۔ دنیا بھر میں بڑے بینکوں میں چھوٹے بینکوں کا انضمام ہوتا ہے ۔ سماجی ضرورت کے مطابق معیشت میں کچھ بڑے بینک ہوتے ہیں، کچھ چھوٹے بینک، کچھ مقامی بینک بھی ہوتے ہیں۔ یہی مالی نظام کا تنوع ہے۔ زراعی قرضوں کی معافی کے بارے میں انہوں نے کہاکہ ریزروبینک ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ اس سے کسانوں میں قرض نہیں ادا کرنے کی عادت کو فروغ ملتا ہے ۔ اس لئے اس کی ترغیب نہیں دی جانی چاہئے۔ وہیں دوسری طرف کسانوں کی بھی اپنی مجبوری ہوتی ہے ۔

سلیم شیخ نے 50 امر ناتھ یاتریوں کی جان بچائی
سورت
آئی اے این ایس
اسے حاضر دماغی کہئے یا کچھ اور سلیم شیخ غفور نے جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ حملہ کے دوران زائد از پچاس امرناتھ یاتریوں کو یقینی موت سے بچا یا اگرچیکہ انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لئے کرسکے کیونکہ اللہ نے ان کو ہمت و طاقت عطا کی ۔ شیخ غفور نے سورت میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران اس بات کو یاد کیا کہ زائد از پچاس مسافرین کے ساتھ ان کی موت بھی یقینی تھی ۔ یاتریوں کی جس بس پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا اس کے ڈرائیونگ کرنے والے اس مسلمان ڈرائیور نے کہا جس لمحہ میں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی میں ایک پل کے لئے اسٹرینگ وہیل سنبھالے ہوئے نیچے جھک گیا اور اکسلیٹر دبادیا۔ ایسا محسوس ہوا کہ اللہ نے مجھے کافی جسمانی اور ذہنی طاقت عطا کردی ہے اورمیں نے70تا80کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ڈرائیونگ شروع کردی ۔ شیخ نے جن کی زائد از پچاس امرناتھ یاتریوں کو بچانے پر ستائش کی جارہی ہے کہا : ہرش بھائی جو بس میں میرے بازو کی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے ان کو گولی لگی، مسافرین چیخنے چلانے لگے اور مجھ سے بس کو روک دینے کے لئے کہنے لگے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میں اگر ایک منٹ کے لئے بھی بریک لگاتا مجھے یقین تھا کہ بس میں کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا اور بس میں سوار تمام افراد جن میں ، میں بھی شامل ہوں حملہ میں ہلاک ہوجائیں گے ۔ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پیر کی شب ہونے والے اس حملہ میں سات یاتریوں کے ہلاک اور انیس کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کو یاد کیا کہ بس میں سوار ساٹھ یاتریوں میں سے ہر یاتری لارڈ شیوا کے درشن اور سری نگر کے دورہ پر خوش تھا۔ شیخ نے کہا یہ بدبختانہ بات ہے کہ یہ خوشی، غم میں تبدیل ہوگئی ، انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ زائد از پچاس یاتریوں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ۔

0 comments:

Post a Comment