Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-01-23 - بوقت: 15:35

کردار کی خوشبو کا شاعر - فیروز رشید

Comments : 1

feroz rasheed nanded
جس طرح ناندیڑ علاقہ مراٹھواڑہ کا ایک اہم ضلع ہے اسی طرح فیروز رشید بھی ناندیڑ کی ایک اہم جانی مانی شخصیت ہیں۔شخصیت کی یہ شناخت یونہی نہیں ہے، بلکہ اب بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید شہرِ ناندیڑ کا وہ فیروزہ ہے جو ناندیڑ نامی شہر کی انگوٹھی کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا ہے۔
فیروز رشید جتنے وجیہہ ہیں اتنے ہی خوش گلو نظم گو شاعر بھی ہیں۔ آپ کی نظموں کے اولین مجموعۂ کلام کا نام "آدھی رات کے آنسو" بہت ہی پُر کشش اور دامنِ دل کو کھینچنے والا ہے۔
انھوں نے اپنے اس مجموعہ کو اپنے گناہوں کے نام معنون کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خدا کی رحمت کے محتاج ہیں۔ "آدھی رات کے آنسو" کے حوالہ سے یہ انتساب بڑا ہی معنی خیزہے۔ میرے دوست شجاع کامل نے جاوید ناصر کا یہ شعر کبھی سنایا تھا:
اندھیرا ہو توتجھ کو پکاروں یارب
اجالوں میں میری آواز بکھر جاتی ہے
محسوس ہوتا ہے فیروزرشید کا یہ مجموعہ شاید جاوید ناصر کے اسی شعر کا پرتَو ہے۔

ایک اچھی نظم کے لیے معنوی، فکری اور کیفیاتی وحدت کے ساتھ ساتھ دل نشین اندازِ بیان کا بھی ہونا ضروری ہے۔ تبھی اس کے اشعار دل ودماغ پر تا دیر اثر چھوڑتے ہیں۔ نظم کے بیانیہ کی یہ خوبی اور ڈرامائیت قاری کو نظم گو کی فکری جہات کے سانچوں میں ڈھال کرقدم قدم پر اس کے خیال کومجسم کرتے جاتی ہے اور اس کی زندگی کو ایک خوبصورت لَے عطا کرتی ہے۔سودیگر اہم نظم گو شعرا کی طرح فیروز رشید کی نظموں کا بھی یہی حال و احوال ہے۔ ذیل میں فیروز رشیدکی نظموں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مجموعہ کی پہلی نظم "آدھی رات کے آنسو" ہے اور یہی اس مجموعہ کا نام بھی ہے۔ بشمول اس نظم کے نظم 'تحریکِ عمل' اور 'پانی' مسدس کے فارم میں ہیں۔ پورے مجموعہ میں صرف یہی تین نظمیں مسدس کی شکل میں ہیں۔ صرف ایک نظم 'اسلام کی بیٹی جاگ ذرا' مسبع کی ہیئت میں ہے۔ باقی نظمیں عام فارم میں ہیں۔
نظم 'آدھی رات کے آنسو' میں 21/بند ہیں۔21/ویں بند کے بعد عام فارم میں 10/اشعارہیں۔اس طرح پوری نظم میں 73 / اشعار ہیں۔ مجموعہ کی سب سے طویل نظم بھی یہی ہے۔ یہ نظم حمدیہ بھی ہے، دعائیہ بھی ہے اورالتجائیہ بھی ۔ چونکہ فیروز رشید علامہ اقبالؔ اور مولانا حالیؔ سے بہت متاثر ہیں اس لیے آپ کی شاعری پر علامہ اقبالؔ کے فکر و فلسفے اور مولانا حالی کے درس و نصیحت کا اثر صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ نظم کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناسے ہوتی ہے۔ پھرتلمیحی انداز میں اس کی قدرتِ کاملہ و یگانہ کو بیان کیا گیاہے۔پھر اپنی کمزوریوں اور گناہوں کا ذکر ہے۔اس اعتراف کے بعد شاعر اپنے اصل منشاء کی طرف آتا ہے اور امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندیوں اور اخلاقی و اقداری گراوٹوں بلکہ پستیوں کی طرف "تسبیح کے منکے" جیسی نادر تشبیہ کا استعمال کرتے ہوئے اشارہ کرتا ہے:
تسبیح کے منکوں میں کوئی ربط نہیں ہے (ص3،نظم:آدھی رات کے آنسو)
مذکورہ نظم کا ایک غضب کا بند ملاحظہ فرمائیے:
تو چاند کو روشن کرے سورج کو چھپالے
تو پیٹ میں مچھلی کے بھی محبوب کو سنبھالے
تو چاہے تو شعلوں میں بھی اپنوں کو بچالے
تو چاہے تو پھر دار سے عاشق کو اٹھالے
تو چاہے تو طوفان سے کشتی کو نکالے
تو چاہے تو تن جاتے ہیں غاروں پہ بھی جالے

اس بند کے پہلے مصرعہ کو چھوڑ کر باقی تمام مصرعوں میں بالترتیب حضرت یونس ؑ ،حضرت ابراہیمؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت نوح ؑ اور پیارے نبی ؐ کے ساتھ پیش آئے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور تاریخِ اسلام کا ایک بیشتر حصہ ان پانچ مصرعوں میں سمٹ آیا ہے ۔ ان واقعات کو شاعر نے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے نرالے انداز سے تعبیر کیا ہے۔ یہ حیران کن واقعات یا معجزے مخصوص قوموں پر مخصوص اوقات میں واقع ہوئے اور لوگوں کی ایک مخصوص جماعت کو انھیں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اس بند کے پہلے مصرعہ "تو چاند کو روشن کرے سورج کو چھپالے"پر غور فرمائیے کہ اس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو روز واقع ہوتا ہے۔ جس کا شاہد ہر ذی روح اور غیر ذی روح روزِ ازل سے ہے اور روزِ قیامت تک رہے گا۔ شاعر کو اسلام کے درخشاں ماضی سے بے حد لگاؤ ہے۔اور وہ اس بات کا متمنی ہے کہ اسلام کی وہی روشنی اور خوشبو آج کے زمانے میں بھی پھیلے۔اس تعلق سے شاعر کے مطمحِ نظر کو سمجھنے کے لیے بہتر ہوگا کہ ان اشعار کو یکجا کیا جائے جو اس نے اسلام کی خوشبو ،کردار کی خوشبو،گفتار کی خوبی،افکار کی خوبی،اسلام کا پیغام، اسلام کے احکام، شرافت،قیادت،خطابت کے تعلق سے کہے ہیں۔ایک بند کے دو شعر دیکھیے:
اب ہم میں ذخیرہ ہوئی بیکار کی خوبی
حاصل ہی نہیں آج وہ کردار کی خوبی
باقی رہی ہم لوگوں میں گفتار کی خوبی
ہم آج گنوا بیٹھے ہیں افکار کی خوبی
[ص4،5،نظم:آدھی رات کے آنسو]

اسی نظم کے ایک اوربند کے دو شعر دیکھے:
روحوں میں بساتے نہیں اسلام کا پیغام
افسوس ریاکاری کی بیماری ہوئی عام
احکامِ خداوندی سے جیسے نہیں کچھ کام
ہر ایک کو مقصودہے بس دنیا کا آرام
[ص6،نظم:آدھی رات کے آنسو]

دوسرے چیدہ چیدہ اشعار دیکھیے:
سچ بات تو یہ ہے کہ قیادت ہی نہیں ہے
گرمادے دلوں کو وہ قیادت ہی نہیں ہے
[ص6،نظم:آ دھی رات کے آنسو]

اسلام کی خوشبو میں بسا بخش دے کردار
بس اتنی تمنا ہے کرادے ترا دیدار
[ص9،نظم:آ دھی رات کے آنسو]

سچا ہے عشق تیرا تو کردار کو سنوار
باقی نہیں خوشبو،تو کیا پھول،کیا بہار
[ص11،نظم:میں اور میرا ضمیر]

حق کی عکاسی رہے قائم ترے افکار میں
اور ہو اسلام کی خوشبو ترے کردار میں
[ص21،نظم:اپنی موت پر اپنے یٹے کے نام]

دین و دنیا میں اجالوں کے لیے یوں کر لے
اپنے کردار میں اسلام کی خوشبو بھر لے
[ص25،نظم:طمانچہ]

اگر ہر اک پریشانی سے بچنا چاہتا ہے تو
تو لازم ہے ترے کردار میں اسلام کی خوشبو
[ص36،نظم:میں]

تری ہر بات ہو اسلام کے پیغام کی پابند
تری ہر سانس ہو اللہ کے احکام کی پابند
[ص37،نظم:میں]

اس بات سے کیا اورکوئی بات ہے بہتر
اسلام کی تعلیم ہو کردار کا محور
[ص44،نظم: راہِ نجات]

"ابلیس کی رخصتی" وہ نظم ہے جس میں شاعر نے ابلیس کوبدی کا لعنتی مکروہ پیکرکہا ہے۔ جو شہنشاہِ مکر وفریب،بغض و کینہ و سراسر شر ہے۔لیکن اس کی زبانی اس نے یہ کہلوایا کہ انسان خود مکاری،عیاری،چالبازی،فریب،حسد،بغض،کینہ کپٹ،عداوت،سیہ کاری،کالے منصوبوں،جور و ستم،دغا بازی،ضمیر فروشی وغیرہ میں اس درجہ طاق ہوگیا ہے اور آگے نکل گیا ہے کہ شیطانوں کے سردار ابلیس کوبھی کہنا پڑا کہ
ایسے ایسے سُر نکالے اس نے میرے ساز سے
کردیا محروم مجھ کو طاقتِ پرواز سے

پھر اس کواپنے چیلوں کو طنزیہ کہنا پڑا:
فتنہ انگیزی کا اس کی گر مجھے ہوتا گماں
پتلۂ آدم کو فوراً سجدہ کر لیتا میاں

پھر اس نے اپنے چیلوں کو نصیحت کی:
اہتمامِ مکر و کینہ بغض و شر بیکار سب
صحبتِ انسان سے بچنا عقلمندی ہے اب

"ابلیس کی رخصتی"ایک طنزیہ نظم ہے جس میں شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کے کرتوت آج ابلیسی کرتوتوں کو مات دینے لگے ہیں۔جس کا ابلیس کو بھی قلق ہے۔یہ نظم ہمارے سماج اور سماجی رویوں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ لے کر آئی ہے۔
بہت سے شعرا ء و ادیبوں نے اپنے عزیزوں کی موت پر کچھ نہ کچھ لکھا ۔ بیٹے کی موت پر مرزا غالبؔ کا مرثیہ مشہور ہے۔علامہ اقبالؔ نے "آسمان تری لحد پر شبنم افشانی کرے" لکھ کر ماں کی ممتا کو جاودانی عطا کی۔انشاء جی کو عالمِ شباب میں ہی اپنی عمر کے مختصر ہونے کا احساس ہو نے لگا تھا۔لہٰذا انھوں نے انسانی نفسیات کو سامنے رکھتے ہے اس بات کو پیش کیا کہ ہر کوئی اس دنیا میں طویل مدت تک رہنا چاہتا ہے۔اگر کسی سے اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی بطور ادھار مانگا جائے تو وہ اسے کسی قیمت پرنہ دے۔انشاء جی کی نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہوکار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو

لیکن فیروز رشید کی نظم "اپنی موت پر اپنے بیٹے کے نام"اپنی نوعیت کی ایک منفرداحساس و خیال رکھنے والی نظم ہے۔یہ احساس دراصل موت سے پہلے موت کے احساس کا پَرتَوہے ۔یہ نظم اس حقیقت تک رسائی کا نتیجہ ہے جسے ایک دنیا دنیا کی بے ثباتی سے تعبیر کرتی ہے۔باراں دیدہ شاعر نہیں چاہتا ہے کہ اس کی قوم کے بیٹے کچھ کرنے کی عمرگنوا کر کفِ افسوس ملتے رہیں۔اس نظم کا ایک شعر دیکھیے کہ کیسا بدن پر رونگٹھے کھڑے کر دینے والا ہے:
دھوپ کتنی سخت ہے ایسے میں بادل چھٹ گئے
تیرنا مقدر ٹھیرا اور بازو کٹ گئے
پھر اس شعر کے لب و لہجہ کو ،اس کے ٹھیراؤ کو دیکھیے کہ کس قدر سکون ہے اس میں،کس قدر اپنے آپ کو تیار کرنا ہے اس میں،کس قدر رضا ہے اس میں:
عارضی آرام اپنا مختصر کرنا تو ہے
ٹھیرنا کچھ دیر کا ہے پھر سفر کرنا تو ہے
یہ وہ نظم ہے جس میں شاعر نے اپنا کلیجہ نکال کررکھ دیا ہے اور بحیثیت باپ ہر بیٹے کونصیحت کے ساتھ صبر و ہمت کی تلقین کی ہے ۔نیٖزبتا یا کہ موت کیا ہے اور آخرت کا منظرکیسا ہوگا ۔آخرت کا مطالبہ کیا ہے۔اسے دنیا میں رہ کر کرناکیاہے ۔اور بدلے میں اسے آخرت میں کیا ملے گا۔
میری میت دیکھ کر تو بے تحاشہ رو پڑا
حشر میدان کا رونا توہے اس سے بڑا
سارے اعمال اپنے گر تو ٹھیک کر لے گا ابھی
اس جگہ رونے کی نوبت ہی نہ آئے گی کبھی
اور پھر یہ دعائیہ دلی آرزو دیکھیے:
حق کی عکاسی رہے قائم ترے افکار میں
اور ہو اسلام کی خوشبو ترے کردار میں
چونکہ فیروز رشید پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں اس لیے بھی شاید آپ کی نظموں میں تدریسی انداز آگیا ہے۔ اس وجہ سے نظموں کی پیشکش میں آغاز،اظہارِ مدعا(بمترادف گریز)تمہید،اعلان،اظہارِ بیان،عرضِ مطلب ،دعا/نتیجہ وغیرہ سب کچھ قصیدہ کے اجزائے ترکیبی کی طرح موجود ہے۔
آپ اپنی نظموں کے ذریعے خاص طور پر کردار سازی پر زور دیتے ہیں۔نصیحت اور اخلاقی تعلیم پر مشتمل مضامین کو اپنی نظموں میں جگہ دیتے ہیں۔مثال کے طور پر :اسلام کی بیٹی جاگ ذرا،رزقِ حلال ،تربیت،مدرس،جہیز،آدھی رات کے آنسو،اپنی موت پر اپنے بیٹے کے نام وغیرہ۔نظم "مدرس"میں انھوں نے ایک مدرس کی ضرورت،مدرس کا کام،مدرس کی فکر،مدرس کا مقام اور احترامِ مدرس جیسے موضوعات سے گفتگو کی ہے۔نظم "دعائے معلم"کے خاص انداز کے دہ شعر ملاحظہ فرمائیے:
یہ وہ منصب ہے کہ جو ہر ایک کو ملتا نہیں
پھول یہ ایسا ہے جو ہر شاخ پر کھلتا نہیں
اور:
بخش دے صحرائے دل کو میرے تازہ گلستاں
تشنہ ذہنوں کے لیے کر مجھ کو بحرِ بیکراں
جہیز کی لعنت نے کتنے ہنستے کھیلتے گھر اجاڑے،کتنے ارمانوں کو جلایامگر لالچی انسان کا دل نہ پسیجا۔نظم "جہیز"میں شاعر نے غریب ماں اور بیٹی کے اسی حال و احوال کو نظم کے بیانیہ کی ٹیکنک سے کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے کہ دل کانپ کر رہ جاتا ہے۔دو شعر ملاحظہ فرمائیے:
اس حسینہ کو آئے بہت سے پیام
بیچ میں آرہی تھی غریبی کی شام
اور مفلسی ان تقاضوں سے گھبراگئی
اور ماں اپنی بیٹی سے تنگ آگئی
"تین سچ"فیروز رشید کی ایک ایسی واحد نظم ہے جس کو انھوں نے اپنے منفرد اندازسے ہٹ کر کہی ہے۔اس لحاظ سے اس میں ایک کسک سی رہ جاتی ہے۔ سچ کاشیدائی ایک سخی سلطان ہے۔اس نے اپنی رعایا میں اعلان جاری کروایا ہے کہ اپنی ملکیت کے بارے میں سچ سچ بتائیں ورنہ گردن ماری جائے گی۔ایک تاجر دس لاکھ دینار کے بجائے سو دینار ،تین بیٹوں کے بجائے ایک بیٹااور عمر چالیس کے بجائے بیس بتاتا ہے۔تحقیق ہوئی تو سلطان نے کہا جھوٹ کیوں کہا۔اب تیری گردن ماری جائے گی تو تاجر نے اپنی صفائی پیش کی۔یہی صفائی اس نظم کی جان ہے۔شاعر نے نظم میں تاجر کا رول خود ادا کیا ہے۔اور اس کی دلی تمنّا سخی سلطان کے روپ میں اجاگر ہوئی ہے۔عموماً ملکیت میں مال و دولت کو شامل کیا جاتا ہے۔لیکن شاعرِ حسّیت نے یہاں اس میں عمر اور اولاد کو بھی شامل کیا ہے۔
تاجر کی عمر چالیس سال ہے۔لیکن صرف بیس سال ایمانداری اور ایمان کی حالت میں بیتے ۔اس لیے اس نے کہاصرف اسی عمر کا شمار ہوگا۔تین بیٹوں میں سے ایک بیٹا نیک ہے ۔لہٰذا اس نے کہا یہی ایک اولاد کام کی ہے۔دس لاکھ دینار میں سے سو دیناراللہ کی راہ میں خرچ کیے ۔اس لیے صرف وہی دولت باعثِ نجات ہوگی۔اس کے بعد سلطان نے کیا کہا۔شاعرِ ذی وقار نے یہ قاری پر چھوڑ دیاکہ وہ خود اس گتھی کو سلجھا لے۔یہی اس نظم کا کمال ہے۔
فیروز رشید کی ایک نظم کا عنوان ہے:"پانی"۔پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔پانی کی خوبیاں اور اس کے فوائد بے شمار ہیں۔پانی کی اسی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے قرانِ پاک میں 63مرتبہ اس کا ذکر فرمایا ہے اوراس کو کہیں' ' طہو ر ' '، "فرات"اور "مبارک" کہا ہے۔اسی سے زمین سرسبز و شاداب ہے۔زمین کی خوبصورتی اسی کی رہینِ منّت ہے۔یہی سر چشمۂ حیات ہے۔کسان کی آنکھوں کی روشنی،کھیتوں کی زندگی،بدن میں دوڑتا لہو ہو یازیرِ زمیں جواں ہوتا بیج یا نخلستاں سب ہی کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے پانی کے راستے بنائے۔اس نے کسی کویہ وافر مقدار میں دیاہے تو کسی کو اس کے حصول کے لیے بڑی مشقتیں کرنا پڑتی ہیں،مصیبتیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ کبھی کبھی پانی کے حصول کے لیے کیا انسان کیا حیوان سبھی لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔اس کے بنا زندگی دوبھر ہے۔لہٰذا شاعر کہتا ہے کہ پانی کو احتیاط سے استعما ل کرو۔اس کا بے جا استعمال نہ کرو۔اس کی حفاظت کرو۔تاکہ حال اور مستقبل میں پانی کے سنگین مسائل پیدا نہ ہوں۔شاعر نے پانی پردرسی نوعیت کی بڑی خوبصورت نظم کہی ہے۔ فیروز رشید نام ہی غنائی شاعر کا ہے لیکن جانے کیوں اس نظم کا ٹیپ کا شعر اس وصف سے خالی رہ گیا ہے۔اس نظم کا ایک بند ملاحظہ فرمائیے:
پانی بڑی ہی قیمتی دولت ہے بے گماں
پانی سے ہے ہمارے بدن میں لہو رواں
پانی سے بیج ہوتا ہے زیرِ زمیں جواں
پانی اگر ملے تو ہے صحرا بھی گلستاں
پانی کو استعمال کرو احتیاط سے
اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے
یہاں حسن نواب حسن(پٹنہ )کی نظم"پانی اور آنسو "کا ذکر بھی نا مناسب نہ ہوگاجس میں انھوں نے پانی کو رحمت بھی بتایا اور زحمت بھی۔اورپانی اور آنسو کا تقابل کیا کہ آنسو بھی پانی ہے لیکن بیش بہا ۔اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جان مخلوق کی پانی یہ بچاتا بھی ہے
یہی پانی ہے جو ہستی کومٹاتا بھی ہے
یہی پانی ہے کہ جو پیاس بجھاتا بھی ہے
اور یہی پانی کبھی پیاس بڑھاتا بھی ہے
مہرباں ہو تو یہ صحرا کو گلستاں کردے
منھ ذرا موڑے تو ہر کھیت کو ویراں کردے
*
جو مگر آنکھوں کے پیمانہ سے چھلکا پانی
اشکوں کے کوزہ میں ہے جذبوں کا دریا پانی
سارے پانی سے یہی ہوتا ہے مہنگا پانی
پانی یہ کہتا ہے کس کس میں ہے کتناپانی
قطرۂ اشک میں طوفان بھی سیلاب بھی ہے
اس کی تہہ پانا تو کمیاب بھی نایاب بھی ہے
اسی طرح جناب سید ابرار ہمیر پوری(یو.پی.)نے بھی پانی کی گوناگوں صفات اور خوبیوں پر ایک خوبصورت نظم کہی ہے ۔جی چاہتا ہے کہ اس کا بھی ایک بند یہاں پیش کروں۔اس نظم کا مرکزی خیال ہے:"پانی ہی پر تو زندگی کا انحصار ہے"۔
سیراب سبزہ زاریہ صحرا بھی اس سے ہے مغرور و سرفراز یہ دریا بھی اس سے ہے
ہر تخم ماں کی کوکھ میں پلتا بھی اس سے ہے کھیتی بھی اس سے پھولوں کی دنیا بھی اس سے ہے
دہقاں بغیر پانی کے بے اختیار ہے
پانی ہی پر تو زندگی کا انحصار ہے
جس طرح" میسّر "فیروز رشید کا خاص لفظ ہے اور انہی کی زبان سے سننے میں بڑا پیارا لگتاہے۔ اسی طرح آپ کی مکالماتی نظم"شہباز و صف شکن"کو آپ جب سناتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔اور شاعرِ دلنواز کی خوش گلوئی ،نظم کی بیانیہ کی غنائیت سے پُر ٹیکنک نیٖز اس کے مثبت فکری ارتقاکے باعث سامع بار بارآپ کی زباں سے اسے سننا چاہتا۔اور ایک عرصہ تک اس کے سحر میں گرفتار سر دھنتا رہتا ہے۔شہباز اور صف شکن کی زبانی اس نظم کا پہلا بند ملاحظہ کیجیے:

شہباز:
خوش گلو ،غنچہ دہن،روحِ چمن اے صف شکن
ہر طرف رقصاں بہاریں ،خوش ہیں سب زاغ و زغن
باہر از گلشن ہوا ہے کس لیے تو خیمہ زن
مضمحل کیوں ہسید اختر علی
کردار کی خوشبو کا شاعر: فیروز رشید
*
جس طرح ناندیڑ علاقہ مراٹھواڑہ کا ایک اہم ضلع ہے اسی طرح فیروز رشید بھی ناندیڑکی ایک اہم جانی مانی شخصیت ہیں۔شخصیت کی یہ شناخت یونہی نہیں ہے، بلکہ اب بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید شہرِ ناندیڑ کا وہ فیروزہ ہے جو ناندیڑ نامی شہر کی انگوٹھی کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا ہے۔
فیروز رشید جتنے وجیہہ ہیں اتنے ہی خوش گلو نظم گو شاعر بھی ہیں۔ آپ کی نظموں کے اولین مجموعۂ کلام کا نام "آدھی رات کے آنسو" بہت ہی پُر کشش اور دامنِ دل کو کھینچنے والا ہے۔
انھوں نے اپنے اس مجموعہ کو اپنے گناہوں کے نام معنون کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خدا کی رحمت کے محتاج ہیں۔ "آدھی رات کے آنسو" کے حوالہ سے یہ انتساب بڑا ہی معنی خیزہے۔ میرے دوست شجاع کامل نے جاوید ناصر کا یہ شعر کبھی سنایا تھا:
اندھیرا ہو توتجھ کو پکاروں یارب
اجالوں میں میری آواز بکھر جاتی ہے
محسوس ہوتا ہے فیروزرشید کا یہ مجموعہ شاید جاوید ناصر کے اسی شعر کا پرتَو ہے۔

ایک اچھی نظم کے لیے معنوی، فکری اور کیفیاتی وحدت کے ساتھ ساتھ دل نشین اندازِ بیان کا بھی ہونا ضروری ہے۔ تبھی اس کے اشعار دل ودماغ پر تا دیر اثر چھوڑتے ہیں۔ نظم کے بیانیہ کی یہ خوبی اور ڈرامائیت قاری کو نظم گو کی فکری جہات کے سانچوں میں ڈھال کرقدم قدم پر اس کے خیال کومجسم کرتے جاتی ہے اور اس کی زندگی کو ایک خوبصورت لَے عطا کرتی ہے۔سودیگر اہم نظم گو شعرا کی طرح فیروز رشید کی نظموں کا بھی یہی حال و احوال ہے۔ ذیل میں فیروز رشیدکی نظموں کا ایک اجمالی جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مجموعہ کی پہلی نظم "آدھی رات کے آنسو" ہے اور یہی اس مجموعہ کا نام بھی ہے۔ بشمول اس نظم کے نظم 'تحریکِ عمل' اور 'پانی' مسدس کے فارم میں ہیں۔ پورے مجموعہ میں صرف یہی تین نظمیں مسدس کی شکل میں ہیں۔ صرف ایک نظم 'اسلام کی بیٹی جاگ ذرا' مسبع کی ہیئت میں ہے۔ باقی نظمیں عام فارم میں ہیں۔
نظم 'آدھی رات کے آنسو' میں 21/بند ہیں۔21/ویں بند کے بعد عام فارم میں 10/اشعارہیں۔اس طرح پوری نظم میں 73 / اشعار ہیں۔ مجموعہ کی سب سے طویل نظم بھی یہی ہے۔ یہ نظم حمدیہ بھی ہے، دعائیہ بھی ہے اورالتجائیہ بھی ۔ چونکہ فیروز رشید علامہ اقبالؔ اور مولانا حالیؔ سے بہت متاثر ہیں اس لیے آپ کی شاعری پر علامہ اقبالؔ کے فکر و فلسفے اور مولانا حالی کے درس و نصیحت کا اثر صاف طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مذکورہ نظم کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناسے ہوتی ہے۔ پھرتلمیحی انداز میں اس کی قدرتِ کاملہ و یگانہ کو بیان کیا گیاہے۔پھر اپنی کمزوریوں اور گناہوں کا ذکر ہے۔اس اعتراف کے بعد شاعر اپنے اصل منشاء کی طرف آتا ہے اور امتِ مسلمہ کی شیرازہ بندیوں اور اخلاقی و اقداری گراوٹوں بلکہ پستیوں کی طرف "تسبیح کے منکے" جیسی نادر تشبیہ کا استعمال کرتے ہوئے اشارہ کرتا ہے:
تسبیح کے منکوں میں کوئی ربط نہیں ہے (ص3،نظم:آدھی رات کے آنسو)
مذکورہ نظم کا ایک غضب کا بند ملاحظہ فرمائیے:
تو چاند کو روشن کرے سورج کو چھپالے
تو پیٹ میں مچھلی کے بھی محبوب کو سنبھالے
تو چاہے تو شعلوں میں بھی اپنوں کو بچالے
تو چاہے تو پھر دار سے عاشق کو اٹھالے
تو چاہے تو طوفان سے کشتی کو نکالے
تو چاہے تو تن جاتے ہیں غاروں پہ بھی جالے

اس بند کے پہلے مصرعہ کو چھوڑ کر باقی تمام مصرعوں میں بالترتیب حضرت یونس ؑ ،حضرت ابراہیمؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت نوح ؑ اور پیارے نبی ؐ کے ساتھ پیش آئے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اور تاریخِ اسلام کا ایک بیشتر حصہ ان پانچ مصرعوں میں سمٹ آیا ہے ۔ ان واقعات کو شاعر نے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کے نرالے انداز سے تعبیر کیا ہے۔ یہ حیران کن واقعات یا معجزے مخصوص قوموں پر مخصوص اوقات میں واقع ہوئے اور لوگوں کی ایک مخصوص جماعت کو انھیں دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ لیکن اس بند کے پہلے مصرعہ "تو چاند کو روشن کرے سورج کو چھپالے"پر غور فرمائیے کہ اس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو روز واقع ہوتا ہے۔ جس کا شاہد ہر ذی روح اور غیر ذی روح روزِ ازل سے ہے اور روزِ قیامت تک رہے گا۔ شاعر کو اسلام کے درخشاں ماضی سے بے حد لگاؤ ہے۔اور وہ اس بات کا متمنی ہے کہ اسلام کی وہی روشنی اور خوشبو آج کے زمانے میں بھی پھیلے۔اس تعلق سے شاعر کے مطمحِ نظر کو سمجھنے کے لیے بہتر ہوگا کہ ان اشعار کو یکجا کیا جائے جو اس نے اسلام کی خوشبو ،کردار کی خوشبو،گفتار کی خوبی،افکار کی خوبی،اسلام کا پیغام، اسلام کے احکام، شرافت،قیادت،خطابت کے تعلق سے کہے ہیں۔ایک بند کے دو شعر دیکھیے:
اب ہم میں ذخیرہ ہوئی بیکار کی خوبی
حاصل ہی نہیں آج وہ کردار کی خوبی
باقی رہی ہم لوگوں میں گفتار کی خوبی
ہم آج گنوا بیٹھے ہیں افکار کی خوبی
[ص4،5،نظم:آدھی رات کے آنسو]

اسی نظم کے ایک اوربند کے دو شعر دیکھے:
روحوں میں بساتے نہیں اسلام کا پیغام
افسوس ریاکاری کی بیماری ہوئی عام
احکامِ خداوندی سے جیسے نہیں کچھ کام
ہر ایک کو مقصودہے بس دنیا کا آرام
[ص6،نظم:آدھی رات کے آنسو]

دوسرے چیدہ چیدہ اشعار دیکھیے:
سچ بات تو یہ ہے کہ قیادت ہی نہیں ہے
گرمادے دلوں کو وہ قیادت ہی نہیں ہے
[ص6،نظم:آ دھی رات کے آنسو]

اسلام کی خوشبو میں بسا بخش دے کردار
بس اتنی تمنا ہے کرادے ترا دیدار
[ص9،نظم:آ دھی رات کے آنسو]

سچا ہے عشق تیرا تو کردار کو سنوار
باقی نہیں خوشبو،تو کیا پھول،کیا بہار
[ص11،نظم:میں اور میرا ضمیر]

حق کی عکاسی رہے قائم ترے افکار میں
اور ہو اسلام کی خوشبو ترے کردار میں
[ص21،نظم:اپنی موت پر اپنے یٹے کے نام]

دین و دنیا میں اجالوں کے لیے یوں کر لے
اپنے کردار میں اسلام کی خوشبو بھر لے
[ص25،نظم:طمانچہ]

اگر ہر اک پریشانی سے بچنا چاہتا ہے تو
تو لازم ہے ترے کردار میں اسلام کی خوشبو
[ص36،نظم:میں]

تری ہر بات ہو اسلام کے پیغام کی پابند
تری ہر سانس ہو اللہ کے احکام کی پابند
[ص37،نظم:میں]

اس بات سے کیا اورکوئی بات ہے بہتر
اسلام کی تعلیم ہو کردار کا محور
[ص44،نظم: راہِ نجات]

"ابلیس کی رخصتی" وہ نظم ہے جس میں شاعر نے ابلیس کوبدی کا لعنتی مکروہ پیکرکہا ہے۔ جو شہنشاہِ مکر وفریب،بغض و کینہ و سراسر شر ہے۔لیکن اس کی زبانی اس نے یہ کہلوایا کہ انسان خود مکاری،عیاری،چالبازی،فریب،حسد،بغض،کینہ کپٹ،عداوت،سیہ کاری،کالے منصوبوں،جور و ستم،دغا بازی،ضمیر فروشی وغیرہ میں اس درجہ طاق ہوگیا ہے اور آگے نکل گیا ہے کہ شیطانوں کے سردار ابلیس کوبھی کہنا پڑا کہ
ایسے ایسے سُر نکالے اس نے میرے ساز سے
کردیا محروم مجھ کو طاقتِ پرواز سے

پھر اس کواپنے چیلوں کو طنزیہ کہنا پڑا:
فتنہ انگیزی کا اس کی گر مجھے ہوتا گماں
پتلۂ آدم کو فوراً سجدہ کر لیتا میاں

پھر اس نے اپنے چیلوں کو نصیحت کی:
اہتمامِ مکر و کینہ بغض و شر بیکار سب
صحبتِ انسان سے بچنا عقلمندی ہے اب

"ابلیس کی رخصتی" ایک طنزیہ نظم ہے جس میں شاعر نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان کے کرتوت آج ابلیسی کرتوتوں کو مات دینے لگے ہیں۔جس کا ابلیس کو بھی قلق ہے۔یہ نظم ہمارے سماج اور سماجی رویوں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ لے کر آئی ہے۔
بہت سے شعراء و ادیبوں نے اپنے عزیزوں کی موت پر کچھ نہ کچھ لکھا ۔ بیٹے کی موت پر مرزا غالبؔ کا مرثیہ مشہور ہے۔علامہ اقبالؔ نے "آسمان تری لحد پر شبنم افشانی کرے" لکھ کر ماں کی ممتا کو جاودانی عطا کی۔انشاء جی کو عالمِ شباب میں ہی اپنی عمر کے مختصر ہونے کا احساس ہو نے لگا تھا۔لہٰذا انھوں نے انسانی نفسیات کو سامنے رکھتے ہے اس بات کو پیش کیا کہ ہر کوئی اس دنیا میں طویل مدت تک رہنا چاہتا ہے۔اگر کسی سے اس کی زندگی کا ایک لمحہ بھی بطور ادھار مانگا جائے تو وہ اسے کسی قیمت پرنہ دے۔انشاء جی کی نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہوکار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو

لیکن فیروز رشید کی نظم "اپنی موت پر اپنے بیٹے کے نام" اپنی نوعیت کی ایک منفرداحساس و خیال رکھنے والی نظم ہے۔یہ احساس دراصل موت سے پہلے موت کے احساس کا پَرتَوہے ۔یہ نظم اس حقیقت تک رسائی کا نتیجہ ہے جسے ایک دنیا دنیا کی بے ثباتی سے تعبیر کرتی ہے۔باراں دیدہ شاعر نہیں چاہتا ہے کہ اس کی قوم کے بیٹے کچھ کرنے کی عمرگنوا کر کفِ افسوس ملتے رہیں۔اس نظم کا ایک شعر دیکھیے کہ کیسا بدن پر رونگٹھے کھڑے کر دینے والا ہے:
دھوپ کتنی سخت ہے ایسے میں بادل چھٹ گئے
تیرنا مقدر ٹھیرا اور بازو کٹ گئے
پھر اس شعر کے لب و لہجہ کو ،اس کے ٹھیراؤ کو دیکھیے کہ کس قدر سکون ہے اس میں،کس قدر اپنے آپ کو تیار کرنا ہے اس میں،کس قدر رضا ہے اس میں:
عارضی آرام اپنا مختصر کرنا تو ہے
ٹھیرنا کچھ دیر کا ہے پھر سفر کرنا تو ہے
یہ وہ نظم ہے جس میں شاعر نے اپنا کلیجہ نکال کررکھ دیا ہے اور بحیثیت باپ ہر بیٹے کونصیحت کے ساتھ صبر و ہمت کی تلقین کی ہے ۔ نیٖزبتا یا کہ موت کیا ہے اور آخرت کا منظرکیسا ہوگا ۔آخرت کا مطالبہ کیا ہے۔اسے دنیا میں رہ کر کرناکیاہے ۔اور بدلے میں اسے آخرت میں کیا ملے گا۔
میری میت دیکھ کر تو بے تحاشہ رو پڑا
حشر میدان کا رونا توہے اس سے بڑا
سارے اعمال اپنے گر تو ٹھیک کر لے گا ابھی
اس جگہ رونے کی نوبت ہی نہ آئے گی کبھی

اور پھر یہ دعائیہ دلی آرزو دیکھیے:
حق کی عکاسی رہے قائم ترے افکار میں
اور ہو اسلام کی خوشبو ترے کردار میں
چونکہ فیروز رشید پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں اس لیے بھی شاید آپ کی نظموں میں تدریسی انداز آگیا ہے۔ اس وجہ سے نظموں کی پیشکش میں آغاز،اظہارِ مدعا (بمترادف گریز) تمہید،اعلان،اظہارِ بیان،عرضِ مطلب ،دعا/نتیجہ وغیرہ سب کچھ قصیدہ کے اجزائے ترکیبی کی طرح موجود ہے۔
آپ اپنی نظموں کے ذریعے خاص طور پر کردار سازی پر زور دیتے ہیں۔نصیحت اور اخلاقی تعلیم پر مشتمل مضامین کو اپنی نظموں میں جگہ دیتے ہیں۔مثال کے طور پر :اسلام کی بیٹی جاگ ذرا،رزقِ حلال ،تربیت،مدرس،جہیز،آدھی رات کے آنسو،اپنی موت پر اپنے بیٹے کے نام وغیرہ۔نظم "مدرس"میں انھوں نے ایک مدرس کی ضرورت،مدرس کا کام،مدرس کی فکر،مدرس کا مقام اور احترامِ مدرس جیسے موضوعات سے گفتگو کی ہے۔نظم "دعائے معلم"کے خاص انداز کے دہ شعر ملاحظہ فرمائیے:
یہ وہ منصب ہے کہ جو ہر ایک کو ملتا نہیں
پھول یہ ایسا ہے جو ہر شاخ پر کھلتا نہیں
اور:
بخش دے صحرائے دل کو میرے تازہ گلستاں
تشنہ ذہنوں کے لیے کر مجھ کو بحرِ بیکراں

جہیز کی لعنت نے کتنے ہنستے کھیلتے گھر اجاڑے،کتنے ارمانوں کو جلایامگر لالچی انسان کا دل نہ پسیجا۔نظم "جہیز"میں شاعر نے غریب ماں اور بیٹی کے اسی حال و احوال کو نظم کے بیانیہ کی ٹیکنک سے کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے کہ دل کانپ کر رہ جاتا ہے۔دو شعر ملاحظہ فرمائیے:
اس حسینہ کو آئے بہت سے پیام
بیچ میں آرہی تھی غریبی کی شام
اور
مفلسی ان تقاضوں سے گھبرا گئی
اور ماں اپنی بیٹی سے تنگ آگئی

"تین سچ" فیروز رشید کی ایک ایسی واحد نظم ہے جس کو انھوں نے اپنے منفرد اندازسے ہٹ کر کہی ہے۔ اس لحاظ سے اس میں ایک کسک سی رہ جاتی ہے۔ سچ کا شیدائی ایک سخی سلطان ہے۔اس نے اپنی رعایا میں اعلان جاری کروایا ہے کہ اپنی ملکیت کے بارے میں سچ سچ بتائیں ورنہ گردن ماری جائے گی۔ایک تاجر دس لاکھ دینار کے بجائے سو دینار ،تین بیٹوں کے بجائے ایک بیٹااور عمر چالیس کے بجائے بیس بتاتا ہے۔تحقیق ہوئی تو سلطان نے کہا جھوٹ کیوں کہا۔اب تیری گردن ماری جائے گی تو تاجر نے اپنی صفائی پیش کی۔یہی صفائی اس نظم کی جان ہے۔شاعر نے نظم میں تاجر کا رول خود ادا کیا ہے۔اور اس کی دلی تمنّا سخی سلطان کے روپ میں اجاگر ہوئی ہے۔عموماً ملکیت میں مال و دولت کو شامل کیا جاتا ہے۔لیکن شاعرِ حسّیت نے یہاں اس میں عمر اور اولاد کو بھی شامل کیا ہے۔
تاجر کی عمر چالیس سال ہے۔لیکن صرف بیس سال ایمانداری اور ایمان کی حالت میں بیتے ۔اس لیے اس نے کہا صرف اسی عمر کا شمار ہوگا۔ تین بیٹوں میں سے ایک بیٹا نیک ہے ۔لہٰذا اس نے کہا یہی ایک اولاد کام کی ہے۔دس لاکھ دینار میں سے سو دیناراللہ کی راہ میں خرچ کیے ۔اس لیے صرف وہی دولت باعثِ نجات ہوگی۔اس کے بعد سلطان نے کیا کہا۔شاعرِ ذی وقار نے یہ قاری پر چھوڑ دیاکہ وہ خود اس گتھی کو سلجھا لے۔یہی اس نظم کا کمال ہے۔

فیروز رشید کی ایک نظم کا عنوان ہے:"پانی"۔پانی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔پانی کی خوبیاں اور اس کے فوائد بے شمار ہیں۔پانی کی اسی اہمیت اور افادیت کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ نے قرانِ پاک میں 63 مرتبہ اس کا ذکر فرمایا ہے اوراس کو کہیں ' طہو ر'، 'فرات' اور 'مبارک' کہا ہے۔ اسی سے زمین سرسبز و شاداب ہے۔ زمین کی خوبصورتی اسی کی رہینِ منّت ہے۔یہی سر چشمۂ حیات ہے۔ کسان کی آنکھوں کی روشنی،کھیتوں کی زندگی،بدن میں دوڑتا لہو ہو یازیرِ زمیں جواں ہوتا بیج یا نخلستاں سب ہی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے راستے بنائے۔ اس نے کسی کویہ وافر مقدار میں دیاہے تو کسی کو اس کے حصول کے لیے بڑی مشقتیں کرنا پڑتی ہیں،مصیبتیں اٹھانا پڑتی ہیں۔ کبھی کبھی پانی کے حصول کے لیے کیا انسان کیا حیوان سبھی لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔ اس کے بنا زندگی دوبھر ہے۔ لہٰذا شاعر کہتا ہے کہ پانی کو احتیاط سے استعما ل کرو۔اس کا بے جا استعمال نہ کرو۔اس کی حفاظت کرو۔ تاکہ حال اور مستقبل میں پانی کے سنگین مسائل پیدا نہ ہوں۔شاعر نے پانی پردرسی نوعیت کی بڑی خوبصورت نظم کہی ہے۔ فیروز رشید نام ہی غنائی شاعر کا ہے لیکن جانے کیوں اس نظم کا ٹیپ کا شعر اس وصف سے خالی رہ گیا ہے۔اس نظم کا ایک بند ملاحظہ فرمائیے:
پانی بڑی ہی قیمتی دولت ہے بے گماں
پانی سے ہے ہمارے بدن میں لہو رواں
پانی سے بیج ہوتا ہے زیرِ زمیں جواں
پانی اگر ملے تو ہے صحرا بھی گلستاں
پانی کو استعمال کرو احتیاط سے
اور اس کی دیکھ بھال کرو احتیاط سے

یہاں حسن نواب حسن(پٹنہ) کی نظم"پانی اور آنسو " کا ذکر بھی نامناسب نہ ہوگا جس میں انھوں نے پانی کو رحمت بھی بتایا اور زحمت بھی۔ اور پانی اور آنسو کا تقابل کیا کہ آنسو بھی پانی ہے لیکن بیش بہا ۔اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جان مخلوق کی پانی یہ بچاتا بھی ہے
یہی پانی ہے جو ہستی کومٹاتا بھی ہے
یہی پانی ہے کہ جو پیاس بجھاتا بھی ہے
اور یہی پانی کبھی پیاس بڑھاتا بھی ہے
مہرباں ہو تو یہ صحرا کو گلستاں کردے
منھ ذرا موڑے تو ہر کھیت کو ویراں کردے
*
جو مگر آنکھوں کے پیمانہ سے چھلکا پانی
اشکوں کے کوزہ میں ہے جذبوں کا دریا پانی
سارے پانی سے یہی ہوتا ہے مہنگا پانی
پانی یہ کہتا ہے کس کس میں ہے کتناپانی
قطرۂ اشک میں طوفان بھی سیلاب بھی ہے
اس کی تہہ پانا تو کمیاب بھی نایاب بھی ہے

اسی طرح جناب سید ابرار ہمیر پوری(اترپردیش) نے بھی پانی کی گوناگوں صفات اور خوبیوں پر ایک خوبصورت نظم کہی ہے ۔ جی چاہتا ہے کہ اس کا بھی ایک بند یہاں پیش کروں۔ اس نظم کا مرکزی خیال ہے: "پانی ہی پر تو زندگی کا انحصار ہے"۔
سیراب سبزہ زاریہ صحرا بھی اس سے ہے
مغرور و سرفراز یہ دریا بھی اس سے ہے
ہر تخم ماں کی کوکھ میں پلتا بھی اس سے ہے
کھیتی بھی اس سے پھولوں کی دنیا بھی اس سے ہے
دہقاں بغیر پانی کے بے اختیار ہے
پانی ہی پر تو زندگی کا انحصار ہے

جس طرح 'میسّر' فیروز رشید کا خاص لفظ ہے اور انہی کی زبان سے سننے میں بڑا پیارا لگتاہے۔ اسی طرح آپ کی مکالماتی نظم "شہباز و صف شکن" کو آپ جب سناتے ہیں تو ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ اور شاعرِ دلنواز کی خوش گلوئی ،نظم کی بیانیہ کی غنائیت سے پُر ٹیکنک نیٖز اس کے مثبت فکری ارتقاکے باعث سامع بار بارآپ کی زباں سے اسے سننا چاہتا۔ اور ایک عرصہ تک اس کے سحر میں گرفتار سر دھنتا رہتا ہے۔شہباز اور صف شکن کی زبانی اس نظم کا پہلا بند ملاحظہ کیجیے:

شہباز:
خوش گلو ،غنچہ دہن،روحِ چمن اے صف شکن
ہر طرف رقصاں بہاریں ،خوش ہیں سب زاغ و زغن
باہر از گلشن ہوا ہے کس لیے تو خیمہ زن
مضمحل کیوں ہوگئے ہیں بال و پر اے گلبدن

صف شکن:
آ ہ شہبازِ جہاں اے جانِ جاں اے مہر باں
کون سا گل کیسا بلبل اور کہاں کا آشیاں
اب کہاں وہ گلستاں،گلگشت کی سر مستیاں
مست کلیوں کا تبسم،شاخِ گل کی بجلیاں۔۔۔

'صلیبی جال' فیروز رشید کی ایک اہم نظم ہے۔ اس نظم میں مسلم فوج کی عکرہ پرفتح کے اسباب اور صلیبی فوج کی ہزیمت کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔جب صلیبی حکومت کے شعبۂ جاسوسی کاسربراہ ہرمن قید ہو کر سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش ہوا تو اس نے یہ انکشاف کیاکہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے صلیبیوں نے ہر قسم کے جال بچھائے،سارے مکروہ حربے آزمائے لیکن کوئی دامِ فریب میں نہیں آیا۔یہ محض مسلم فوج کے ایک ایک سپاہی کے مضبوط کردار کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا اور عکرہ کو فتح کیا جا سکا۔
فیروز رشید کے لہجہ میں ٹھیراؤ اور سکون ہے۔ اسلوب سیدھا سادہ ہے۔ وہ اپنی بات کو راست اندازمیں پیش کرتے ہیں۔ کہیں سے کوئی مایوسی نہیں جھلکتی ہے۔ ناامیدی نام کو نہیں ہے۔ آپ کی نظمیں امتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے وقف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے ہر فرد میں "اسلام کی خوشبو" رچ بس جائے۔ اور یہ خوشبو اس کے کردار سے قول و عمل سے ظاہر ہو۔تب ہی کہیں اعلیٰ و ارفعٰ کردار کے لوگ پیدا ہونگے اور ایک مہذب معاشرہ وجود میں آئے گا۔لہٰذا آپ کو گفتگوانسانیت کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ سے ہے۔آپ نے اپنی نظموں میں سماج اور معاشرے کی پراگندہ حالی کو مذہب کی آنکھ سے دیکھا ہے۔ان کے مسائل تلاش کیے اور ان کے حل بھی مذہب ہی کی روشنی میں تجویز کیے ہیں۔

اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید کی نظمیں سبق آموز ہیں۔ زندگی کو سنوارنے کا درس دیتی ہیں۔ انھوں نے اسلام کی خوشبو سے اپنے کردار کو سنوارنے کا درس دیا ہے۔ قوم کی زبوں حالی کے اسباب بیان کیے ہیں۔ اور ان کا حل بھی بتایا ہے۔ آپ کی شاعری علامہ اقبالؔ و حالیؔ کی طرح پیامی و اصلاحی ہے۔ لہٰذا اس کے افادی پہلو سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اجمالی طور سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید کی نظمیں مقصدی ہیں۔
گئے ہیں بال و پر اے گلبدن

صف شکن:
آ ہ شہبازِ جہاں اے جانِ جاں اے مہر باں
کون سا گل کیسا بلبل اور کہاں کا آشیاں
اب کہاں وہ گلستاں،گلگشت کی سر مستیاں
مست کلیوں کا تبسم،شاخِ گل کی بجلیاں.....
"صلیبی جال "فیروز رشید کی ایک اہم نظم ہے۔اس نظم میں مسلم فوج کی عکرہ پرفتح کے اسباب اور صلیبی فوج کی ہزیمت کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔جب صلیبی حکومت کے شعبۂ جاسوسی کاسربراہ ہرمن قید ہو کر سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش ہوا تو اس نے یہ انکشاف کیاکہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے صلیبیوں نے ہر قسم کے جال بچھائے،سارے مکروہ حربے آزمائے لیکن کوئی دامِ فریب میں نہیں آیا۔یہ محض مسلم فوج کے ایک ایک سپاہی کے مضبوط کردار کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا اور عکرہ کو فتح کیا جا سکا۔
فیروز رشدکے لہجہ میں ٹھیراؤ اور سکون ہے۔اسلوب سیدھا سادھا ہے۔وہ اپنی بات کو راست اندازمیں پیش کرتے ہیں۔ کہیں سے کوئی مایوسی نہیں جھلکتی ہے۔ناامیدی نام کو نہیں ہے۔آپ کی نظمیں امتِ مسلمہ کی اصلاح کے لیے وقف ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ امت مسلمہ کے ہر فرد میں "اسلام کی خوشبو" رچ بس جائے۔اور یہ خوشبو اس کے کردار سے قول و عمل سے ظاہر ہو۔تب ہی کہیں اعلیٰ و ارفعٰ کردار کے لوگ پیدا ہونگے اور ایک مہذب معاشرہ وجود میں آئے گا۔لہٰذا آپ کو گفتگوانسانیت کے ساتھ ساتھ امتِ مسلمہ سے ہے۔آپ نے اپنی نظموں میں سماج اور معاشرے کی پراگندہ حالی کو مذہب کی آنکھ سے دیکھا ہے۔ان کے مسائل تلاش کیے اور ان کے حل بھی مذہب ہی کی روشنی میں تجویز کیے ہیں۔
اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید کی نظمیں سبق آموز ہیں۔زندگی کو سنوارنے کا درس دیتی ہیں۔انھوں نے اسلام کی خوشبو سے اپنے کردار کو سنوارنے کا درس دیا ہے۔قوم کی زبوں حالی کے اسباب بیان کیے ہیں۔اور ان کا حل بھی بتایا ہے۔ آپ کی شاعری علامہ اقبالؔ و حالیؔ کی طرح پیامی و اصلاحی ہے۔لہٰذا اس کے افادی پہلو سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔اجمالی طور سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیروز رشید کی نظمیں مقصدی ہیں۔

***
سید اختر علی
syed101aa[@]gmail.com

سید اختر علی

Feroze Rasheed, an eminent poet of Nanded. Article by: Syed Akhtar Ali

1 comments:

  1. محترمی و مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب السلام علیکم میں آپ کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے میرے مضمون '' کردار کی خوشبو کا شاعر - فیروز رشید '' کو شائع کیا والسلام آپ کا مخلص سید اختر علی، ناندیڑ

    ReplyDelete