Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-17 - بوقت: 23:31

اپوزیشن بدعنوانیوں کی تائید کے لئے متحد - وزیراعظم مودی کی سخت تنقید

Comments : 0
16/دسمبر
کانگریس کے لئے پارٹی ملک سے زیادہ اہم
اندرا گاندھی کو1971ء میں ہی نوٹ منسوخ کرنا چاہئے تھا
اپوزیشن بدعنوانیوں کی تائید کے لئے متحد۔ نوٹ بندی کی مخالفت کرنے پر مودی کی سخت تنقید
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس پریہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ اپنے مفادات کوملک پر ترجیح دیتی ہے، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپوزیشن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ پہلے اپوزیشن جماعتیں اسکامس(گھٹالوں) کے خلا ف پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتی تھیں، اب کانگریس کی زیر قیادت جماعتیں کالے دھن اور کرپشن کو ختم کرنے حکومت کے اقدامات کے خلاف ایسا کررہی ہیں۔ انہوں نے بائیں بازو کو بھی نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ اپنے نظریات پر سمجھوتہ کررہا ہے ۔ انہوںنے نوٹ بندی کے حق میں جیوترے مے باسو اورہر کشن سنگھ سرجیت جیسے آنجہانی کمیونسٹ قائدین کے تبصروں کی یاددہانی کرائی تاکہ کانگریس کے ساتھ دینے پر کمیونسٹوں کو تنقید کا نشانہ بناسکیں۔ نوٹ بندی مسئلہ پر سیای تعطل کے نتیجہ میں پارلیمنٹ کا سرمائی اجل عملاََ ضائع ہوگیا ہے جس کے ساتھ ہی مودی نے حریف جماعتوں کی جانب سے نوٹ بندی کے فیصلہ پر کی جانی والی تنقیدوں کو بے ایمانوں اور بد عنوانوں کو ان کی تائید کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو بھی نشانہ تنقید بنایا جنہوںنے نوٹ بندی کو منظم اور قانونی لوٹ قراردیا تھا۔ مودی نے1991ء میں کئے گئے ان کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کبھی وہ ٹیکس چوروں کے لئے دھمکی آمیز زبان استعمال کرتے تھے لیکن اب ان کی آواز پوری طرح تبدیل ہوچکی ہے ۔ ایسا کیوں؟ کیونکہ انہیں ملک کی نہیں بلکہ پارٹی کی فکر ہے ۔وزیر اعظم نے اپنی بات پر زور دینے سپریم کورٹ کے تبصروں کابھی حوالہ دیا جو اس نے یوپی اے حکومت کی جانب سے کالے دھن کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے بارے میں کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی یا اسے کام نہ کرنے دینے کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔ ا س مرتبیہ یہ کچھ زیادہ وقت کے لئے پیش آئے ہیں لیکن ان میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔ قبل ازیں بڑے گھٹالوں اور رشوت کے خلاف پارلیمنٹ میں ہنگامے ہوتے تھے اور کارروائی میں خلل ڈالا جاتا تھا۔ اپوزیشن متحد ہوجاتی تھی اور دیانتداری کے اصول پر لڑتی تھی۔ اس مرتبہ پہلی بار ایسا ہوا ہے جب سرکاری بنچوں نے کرپشن کے خلا ف قدم اٹھایا ہے اور بیشتر اپوزیشن ارکان بے ایمانوں کی تائید کے لئے متحد ہوگئے ہیں۔ سیاسی اقدار اتنے گھٹ چکے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں کھلم کھلا بے ایمانوں کے حق میں بول رہی ہیں۔ پہلے خفیہ طور پر ایسا کیاجاتا تھا ۔ ان اطلاعات کے دوران کہ بینکوں اور اے ٹی ایمس سے پیسے نکالنے میں پیش آنے والی دشواریوں کے سبب شروع میں اس اقدام کو جو عوامی تائید حاصل تھی وہ گھٹ گئی ہے، مودی نے پارٹی قائدین کو بتایا کہ انہیں ملک کو کرپشن اور کالے دھن سے چھٹکارا دلانے پورے اعتماد کے ساتھ لڑنا ہوگا ۔ انہوں نے ڈیجیٹل لین دین کے لئے حکومت کی مہم کو مقبول بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ لوگ اسے طرز زندگی کے طور پر اپنالیں۔ جولوگ اس طریقہ سے واقف ہیں انہیں اس کا استعمال کرنا چاہئے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ وانچو کمیٹی نے1971ء میں نوٹ بندی کی سفارش کی تھی۔ انہوں نے ایک کتاب کے حوالہ سے کہا کہ اس وقت کے وزیر فینانس وائی بی چوان نے وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے اس تائید کی سفارش کی تھی۔ اندرا گاندھی نے صرف ایک سوا پوچھا تھا کہ کیا کانگریس کو آئندہ کوئی الیکشن نہیں لڑنا ہے ۔ مودی نے تعجب ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بڑا ہے یا پارٹی۔
Modi Blames Opposition for Not Supporting Demonetisation

راہول گاندھی کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات
صنعت کاروں کی طرح کسانوں کے قرضہ جات معاف کردینے کے لئے خواہش
نئی دہلی
آئی اے این ایس
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے کسانوں کا قرض معاف کرنے کی درخواست کی۔ گاندھی زیر قیادت کانگریس وفد نے مودی کے سامنے کسانوں کی خود کشیوں کامسئلہ بھی اٹھایا اور ان سے درخواست کی کہ صنعتکاروں کی طرح کسانوں کا بھی قرض معاف کیاجائے ۔ گاندھی نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھرمیں ہزاروں کسان خود کشی کررہے ہیں۔ پنجاب میں روزانہ ایک کسان خود کشی کررہا ہے۔ ہم نے وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں ملک بھرمیں کسانوں کی حالت زار سے واقف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے کارپوریٹ گھرانوں کا1.40لاکھ کروڑ کا قرض معاف کردیاجائے لہذا ہم نے حکومت سے کسانوں کا قرض بھی معاف کرنے کی درخواست کی۔ یہ وفد سینئر کانگریس قائدین پر مشتمل تھا جن میں پنجاب ریاستی یونٹ کے صدر کیپٹن امریندر سنگھ اور لوک سبھا میں کانگریس قائد ملکار جن کھرگے شامل ہیں۔ گاندھی نے یہ بھی کہا کہ حکومتکی جانب سے گیہوں پر درآمدی ڈیوٹی برخاست کرنے کا فیصلہ کسانوں کے لئے خوفناک جھٹکہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بھی اعتراف کیا کہ کسانوں کی حالت ابتر ہے لیکن کسانوں کو قرض معاف کرنے سے متعلق کوئی تیقن نہیں دیا۔ گاندھی کی مودی سے ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جب پرسوں ہی انہوں نے وزیر اعظم کے بد عنوانی میں شخصی طور پر ملوث ہونے کوبے نقاب کرنے کا عہد کیا تھا۔ یو این آئی کے بموجب پارٹی نائب صدر راہول گاندھی کی زیر قیادت کانگریس قائدین کے ایک وفد نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر کے کسانوں کے مطالبات کی فہرست پیش کی جن میں قرض معافی اور اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس وفد نے جس میں لوک سبھا میں کانگریس قائد ملکار جن کھرگے ، راجیہ سبھا میں قائدا پوزیشن غلام نبی آزاد، راجیہ سبھامیں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما، لوک سبھا میں پارٹی کے چیف وہپ جیوتیرادتیہ سندھیا اور پنجاب پی سی سی کے صدر امریندر سنگھ شامل تھے، پارلیمنٹ اجلاس شروع ہونے سے قبل آج صبح مودی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع ان کے دفتر میں ملاقات کی ۔ چند منٹوں تک چلی وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران کانگریس قائدین نے مودی کو یادداشت حوالے کی جس میں کسانوں کے مطالبات شامل تھے جو گاندھی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنے دورہ اتر پردیش کے دوران اکٹھا کئے تھے ۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس نائب صدر نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ہم نے کسانوں کا قرض معاف کرکے انہیں راحت پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ مودی نے بھی اعتراف کیا کہ صورتحال سنگین ہے ، تاہم کسانوں کو قرض معاف کرنے کے مسئلہ پر وزیر اعظم نے کچھ نہیں کہا، صرف ہماری بات سنی ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیپٹن سنگھ نے کہا کہ ہم نے کسانوں کی خودکشیوں، قرض معافی اور ایم ایس پی کے مسائل پر وزیر اعظم سے ملقات کی۔ وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ گاندھی نے کسانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کل وزیر اعظم سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔

تین طلاق کے سبب مسلم خواتین حق مساوات سے محروم
کیرالا ہائیکورٹ کے جج محمد مشتاق کا تاثر۔ شادی بیاہ کا یکسں قانون تدوین کرنے حکومت کو مشورہ
کوچی
پی ٹی آئی
کیرالا ہائیکورٹ نے آج کہا ہے کہ تین طلاق کی صورت میں ہندوستان میں مسلم خواتین قانون میں موجود مساوات کے حق سے محروم ہورہی ہیں۔ مسلم خواتین کو طلاق کے تین معاملات کو خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے تین طلاق سے متعلق قانون کی تدوین کرنے کی خواہش کی ۔ ان مقدمات میں ایک معاملہ پاسپورٹ میں شریک حیات کا نام تبدیل کرنے کا بھی تھا جبکہ مذکورہ شخص نے تین طلاق کے ذریعہ اس کے نکاح کو ختم کردیا۔ عدالت نے ساٹھ صفحات پر مشتمل اپنے فیصلہ میں کہا کہ یہ پورا معاملہ ریا ست کو چوکس کرتا ہے کہ انصاف مسلم خواتین کے لئے دھوکہ بن گیا ہے ۔ اس کی اصلاح طلاق کے قانون کی تدوین کے ذریعہ ممکن ہے ۔ فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس اے محمد مشتاق نے احساس ظاہر کیا کہ ارکان قانون ساز کا کام ہے کہ وہ قانون سازی کے عمل کے ذریعہ طلاق سے متعلق قانون تدوین کریں۔ عدالت نے اس کے فیصلہ کی نقل وزارت قانون اور لا کمیشن آف انڈیا کوروانہ کرنے عدالت کی رجسٹری کو ہدایت دی ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت قانون کے روبرو عزت ووقار کے وعدہ کے احترام کی پابند ہے اور وہ مذہب کے نام پر مسلم خواتین کو ہونے والے نقصان دہ اثرات پر خاموش تماشائی بنتے ہوئے اپنی ذہ داری سے دامن نہیں چھڑا سکتی ۔ عدالت نے تین طلاق کی تدوین کے لئے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قرآن میں کہیں بھی ایک سانس میں تین طلاق کی بات نہیں کہی گئی ہے ۔ اس کے برخلاف قرآن مجید میں شادی شدہ زندگی میں اختلافات کو حل کرنے کے لئے بہتر طریقہ سے افہام و تفہیم کی ترغیب دی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مصر، عراق اور متحدہ عرب امارات جیسے اسلامی ممالک نے تین طلاق کے تصور کو مکمل طور سے غیر تسلیم شدہ قرار دے دیا ہے ۔ یہ بات باعث تعجب ہے کہ ہندوستان میں مسلم خواتین کو قانون کی نظر میں مساوات سے کس طرح محروم رکھا گیا ۔ عدالت نے کہا کہ مملکت کو ایک اقدام کے طور پر سما کے یکساں قومی کردار کے حصول کے ضمن میں بامعنی اقدام کے لئے کوشش کرنا چاہئے جہاں تک یکساں سول کوڈ کی ضرورت کا معاملہ ہے مختلف سطحوں پر اگرچہ اس پر بحث جاری ہے لیکن مختلف گروپوں میں اتفاق رائے کے فقدان کی وجہ سے یہ ابھی تک سراب بنا ہوا ہے ۔ عدالت نے صاف طور پر کہا کہ ہندوستان میں کم از کم شادی بیاہ کے قوانین کے لئے یکساں سول کوڈ ممکن ہے ۔ فیصلہ میں قرآن مجید کی آیتوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔ جج نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ اس معاملہ کے انتظام کے سلسلہ میں قانون مدون کرنے پر غور کرے۔

نقدی کی قلت وسط جنوری تک ختم ہوجائے گی
7.5فیصد کی شرح نمو کی برقراری کے لئے ڈیجیٹائزیشن انتہائی اہم: امیتابھ کانت
نئی دہلی
پی ٹی آئی
نیتی آیوگ کے سی ای او امیتابھ کانت نے آج کہا کہ اعلیٰ قدر کی کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے بعد نقدی کی قلت جنوری کے وسط تک ختم ہوجائے گی ۔ صنعتی ادارہ فکی نے امیتابھ کانت کے حوالہ سے بتایا کہ اس اقدام کے بعد معیشت میں خلل ناگزیر تھا جو اس لئے اٹھایا گیا کیونکہ ہندوستان دس ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننا چاہتا ہے ۔ امیتابھ کانت ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی صدارت کررہے ہیں جو حکومت نے ان تمام طریقوں کا پتہ چلانے کے لئے تشکیل دی ہے جن کے ذریعہ مختلف شعبوں میں ڈجیٹل ادائیگیوں کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے کیونکہ حکومت کیش لیس معیشت پر کے لئے مہم چلا رہی ہے ۔امیتابھ کانت نے کہا کہ یہ کمیٹی مقررہ مدت میں ایک ایسا فریم ورک قائم اور نافذ کرنے کے لئے کام کررہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ ہندوستان میں80فیصد لین دین صرف ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے ہو۔ بیان کے مطابق انہوں نے زور دے کر کہا کہ 7.5فیصد شرح نمو کی برقراری کے لئے ڈیجیٹائزیشن اہم ہے کیونکہ ہندوستان اعلیٰ سطحی نقد لین دین کے ذریعہ پیدا ہونے والی متوازی معیشت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ واضح رہے کہ ہندوستان دنیا کی ایسی واحد معیشت ہے جہاں ایک بلین بائیو میٹرک اعداد و شمار اور ایک بلین موبائل فوج موجود ہیں۔ ہندوستان ایسا واحد ملک ہے جس کے پاس ڈیجائٹائزیشن انفراسٹر کچر کے لئے تین بنیادیں جن دھن، آدھار اور موبائل موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا تیس کروڑ افراد جن کے پاس موبائل کنکشن نہیں ہیں وہ ڈیجیٹؒ ادائیگیوں کے لئے آدھار اور انگوٹھے کا نشان یاپھر آنکھ کی پتلی استعما ل کرسکتے ہیں ۔ آئندہ چھ تا سات ماہ میں ہر اسمارٹ فون صارف ، انٹرآپریٹنگ سسٹم پر مبنی ڈیوائس کے ذریعہ آدھار کی بنیا پر ادائیگی کرنے کے قابل ہوگا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ہندوستان ڈیجٹائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے اور لین دین پر آنے والی لاگت گھٹ جائے گی۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی مختلف ترغیبی اسکیمات جیسے لگی گراہک یوجنا، ڈیجی دھن ویو پاری یوجنا کو اجاگر کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے سی ای او نے تارین کو تیقن دیا کہ ڈیجٹیائزیشن کی طرف پیشرفت کے دوران ٹیکس عہدیدار انہیں ہراساں نہیں کریں گے اور گزشتہ برسوں کے کھاتوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔

0 comments:

Post a Comment