Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-21 - بوقت: 16:11

ابن صفی - ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

Comments : 0
ibn-e-safi
1951ء کی ایک سرد شام تھی، بھارت کے ضلع الہ آباد کے ایک گاؤں میں نارا میں چند بے تکلف دوست بیٹھے گفتگو کررہے تھے۔ موضوع تھا " آج کا اردو ادب" اس حوالے سے دوستوں کی عمومی رائے یہ تھی کہ ا رد و ادب فحاشی اپنی ملی اور مذہبی جذباتی شاعری ترنم سے پڑھنے کی بنا پر نوجوانوں میں بڑا مقبول تھا ۔ اسرار ناروی نے شرکائے محفل سے اختلاف کیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے ادیبوں نے اچھا صاف ستھرا اور مقصدیت سے بھرپور ادب معاشرے کو فراہم ہی نہیں کیا، اگر اچھا ادب فراہم کیاجائے تو ہمارا اردو داں طبقہ صرف اسے پسند کرے گا، بلکہ معاشرے میں ایک صحت مند تبدیلی بھی آسکتی ہے۔ اور یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جس نے اسرار ناروی کو ابن صفی بنادیا۔

ابن صفی ایک انتہائی منکسرا لمزاج نیک اور حساس انسن تھے۔ وہ ا پنے والدین کے بے حد فرماںبردار تھے اور نہ صرف ولدین کا بہت زیادہ احترام کرتے بلکہ ان سے بے انتہا محبت بھی کرتے تھے ۔ خالصتاََ مذہبی گھرانے سے تعلق کی بنا پر گھر کا ہر فردصوم و صلوۃ کا پابند تھا۔ انہوں نے ابتداء میں ار دو ادب پر لکھنا شروع کیا تو اس وقت نام نہاد ترقی پسندی ، بائیں بازو کے نظریات، عریانیت ، بے راہ روی اور فحاشی کی یلغار تھی اور ان ہی خرافات پرنت نئے طریقوں سے طبع آزمائی اس دور کے بیش تر قلم کاروں کا نہ صرف فیشن بلکہ روزگار بھی بن چکا تھا۔ اس طرح معاشرے میں تیزی سے بے راہ روی اور فحاشی کا رجحان فروغ پارہا تھا۔ ایسے میں ابن صفی نے تن تنہا اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کا عزم کیا اور اس کے تدارک کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت صاف ستھری اور مقصدیت پر مبنی ناول نگاری کی ابتدا کی۔ انکا مقصد یہ تھا کہ نوجوان نسل کی توجہ ایسے تفریحی اور پاکیزہ ادب کی طرف مبذول کروائی جائے جو منفرد ،دلچسپ اور تجسس آمیز ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں بڑوں کا ادب ، قانون کا احترام اور جرائم سے نفرت کا جذبہ بے دار کرسکے ۔ جسے پڑھ کر نوجوان نسل میں سائنسی علوم اور نئی ایجادات پر غوروفکر کی عادت پروان چڑھے اور اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے جب ان کا پہلا ناول دلیر مجرم مارچ 1952ء میں اردو اور ہندی میں شائع ہوا تو اسے بے حد پذیرائی ملی ۔ اور اس کے بعد پھر ابن صفی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ چونکہ ان کے سامنے ایک مقصد تھا اور انہیں اپنی منزل کا بھی علم تھا، لہذا ساتھی ادیبوں کے طنزیہ نشتر ، راستے کی سنگلاخ چٹانیں اور خاردار رکاوٹیں بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ اور وہ ا پنے ناولز میں برجستگی ، روانی ادب، نفسیات، سماجیات ، تہذیب قانون کی پاسداری، وطن سے محبت ، مذہب سے لگاؤ، محنت میں عظمت کے تصور ، وقت کی قدر ، ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے اور دوسروں سے سیکھنے کی جستجو ، دنیا میں آگے بڑھنے کے جذبے اور دانش و عقل کے پیغامات کے انمول موتی الفاظ کی صورت بکھیرتے چلے گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے 253منفرد ناولز کے تخلیق کار بن کر اردو ادب کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار ٹھہرائے گئے ، مگر افسوس ، نام نہاد و تری پسند ، فحش اور مخرب الاخلاق ادب لکھنے والے ٹولے نے انہیں اور ان کے اس نئے تخلیق ادب کو اردو ادب میں وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ ابن صفی سے پہلے بر صغیر کے اردو اور ہندی کے قارئین ، جاسوسی ناولز کے صرف ان اردو تراجم سے واقف تھے جو تیرتھ رام فیروز پوری نے کیے۔ یہ ناولز جاسوسی اور پر اسرار تحریروں پر مبنی تو تھے لیکن ان میں نہ کوئی مقصدیت تھی اور نہ کوئی پیغام۔

ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد اور والد کا نام صفی اللہ تھا ۔ وہ26جولائی 1928ء کو ضلع الہ آباد کے ایک قصبے نارا میں پیدا ہوئے۔ ابن صفی نے الہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد پہلی ملازمت الہ آباد کے ایک مشہور ماہنامہ نکہت میں کی جس میں تنقیدی ، طنزومزاح پر مبنی مضامین لکھنے کے ساتھ شاعری بھی کیا کرتے تھے ۔1948ء میں "نکہت" میں ان کی پہلی کہانی"فرار" شائع ہوئی ۔ ابتداء میں ابن صفی نے تغزل فرغان،اسرار ناروی اور سنکی سولجر کے قلمی ناموں سے بھی لکھا۔ لیکن1951ء میں جب جاسوسی ادب کی دنیا میں داخل ہوئے تو مستقلاََ ابن صفی کے نام سے لکھنے لگے ۔ اور یہی نام آگے چل کر ان کی پہچان بنا۔1952ء میں انہوں نے الہ آباد سے اپنے رسالے"جاسوسی دنیا" کا اجرا کیا۔ ابھی اس کے چند شمارے ہی آئے تھے کہ انہوں نے پاکستان ہجرت کا فیصلہ کرلیا۔ ا نکے والد بزرگ وار1947ء میں پاکستان جاچکے تھے ، لہذا اگست1952ء میں وہ اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ پاکستان آگئے اور اولین قیام کراچی کے مشہور علاقے لالو کھیت(لیاقت آباد) میں80گز کے مکان میں گیا۔1959میں جب مایل حالات کچھ بہتر ہوئے تو ناظم آباد منتقل ہوگئے ۔ 1957ء میں ابن صفی نے اسرار پبلی کیشنز کے نام سے ایک ادارہ قائم کر کے مشہور ماہ نامے جاسوسی دنیا کا اجراء کیا۔ پاکستان میں ان کا پہلا جاسوسی ناول "ٹھنڈی آگ" 1957 میں شائع ہوا اور پھر اسرار پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ہر ماہ باقاعدگی سے ایک ناول شائع کرنے لگے ۔ ابن صفی کے ناول پاک و ہند میں تو شہرت کی بلندیوں پر تھے ہی جو اردو اور ہندی زبانوں میں ہر ماہ چھپتے تھے ۔ لیکن جب پاکستان میں ناول نگاری شروع کی تو یہاں بھی ایک دھوم مچ گئی ۔ ایک اندازے کے مطابق ہر ماہ ایک ناول تقریبا70ہزار کی تعداد میں چھپتا تھا اور چند روز ہی میں مارکیٹ سے غائب ہوجاتا تھا ۔ ہمیں خود یاد ہے کہ کراچی میں ریگل چوک پر جب ان کا نیا ناول ٹرکوں میں بھر کر آتا تو خریدنے والوں کا تانتا بندھ جاتا۔ سہگل چوک جیسی کشادہ شاہراہ پر بھی ٹریفک جام ہوجایا کرتا تھا۔

ابن صفی بلا شبہ آج بھی اردو کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار ہیں۔ جن کے ناولز کا شمار بر صغیر کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے ناولز میں ہو۔ ان کی تحریر کا جادو اور الفاظ کا سحر ، آج پچاس برس گزر جانے کے باوجود تروتازہ ہے ۔ وہ زبان و بیان کی مہارت، لفظوں پر گرفت کے ساتھ شگفتگی، شائستگی ، پاکیزگی، مقصدیت، ہدف کے حصول کی جستجو اور جدید سائنسی تحقیق سے گتھیوں کو سلجھانے کے فن سے بہ خوبی واقف تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار اردو کے مایہ ناز اور منفرد ناول نگاروں میں ہوتا ہے کہ جن کے ناولز خاندان کے چھوٹے بڑے تمام افراد نہ صرف خصوصی دلچسپی سے پڑھا کرتے تھے بلکہ ہر ماہ نئے ناول کا بے چینی سے انتظار بھی کیا کرتے۔

اردو زبان پر عبور رکھنے والی ایک جرمن اسکالر خاتون ، کرسٹننا اوسٹر بیلڈ بھی ان کے ناولز کی مداح تھیں۔ ایک موقعے پر انہوں نے ابن صفی کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابن صفی کی جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں ، وہ یہ ہے کہ ان کے کردار فریدی اور عمران کسی عورت کی جانب نگاہ بد پھیرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور ابن صفی کے جاسوسی ناولز کی جاسوسی ادب میں اس لحاظ سے انوکھی حیثیت ہے کہ اس میں ایک مشن اور مقصد ہوتا ہے ، اس لئے اسے محض تفریحی ادب نہیں کہاجاسکتا ، ان کے جاسوسی ناولز میں فکر اور ذہنی تربیت کا خصوصی خیال رکھاجاتا ہے ۔

مشہور عالم افسانہ نگار اگاتھا کرسٹی جب پاکستان آئیں تو انہوں نے ابن صفی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اردو تو نہیں آتی لیکن یہاں کے جاسوسی ادب میں ابن صفی کی بے مثال خدمات سے بہ خوبی واقف ہوں ۔
اس طرح مشہور نارویجین اسکالر فن تھیسن بھی ان کے فن کے قدر دانوں میں شامل ہیں۔ اسی طرح عامی شہرت یاتہ ایٹمی سائنس داں ڈاکٹر عبدالقدیر نے ابن صفی پر لکھی جانے والی کتاب" کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" کے مصنف، راشد اشرف کے نام ایک پیغام میں کہاکہ جب ہم بڑا میدان، ناظم آباد میں رہا کرتے تھے تو میں اور میری والدہ ابن صفی کے ناول بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے ۔ انہوںنے ابن صفی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ابن صفی پاکستان کے آرتھر کوئین ڈائیل اور البرٹ گنی دے موپاساں ہیں۔ اگر یہ امریکا یا یورپ میں ہوتے ، تو اربوں ڈالرز کے مالک ہوتے۔

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد ابوالخیر کشفی نے ابن صفی کو یوں خرا ج تحسین پیش کیا کہ میں نے کبھی ابن صفی کے ناولز کو کتابوں کے درمیان چھپا کر نہیں رکھا، ہمارے انٹیکچولز اسے ایک سب اسٹینڈرڈ مواد گردانتے ہیں ، لیکن ان میں سے کوئی بھی ابن صفی کے تخلیقی ذہن کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ ابن صفی کے ناول کیوں پڑھتے ہو تو میں جواب دیتا ہوں کہ ابن صفی ہمارے کئی ناول نگاروں سے بہتر زبان لکھتے ہیں ۔ جب پروفیسر محمد حسن عسکری نے یہ شکایت کہ کہ اردو نثر کا فن زوال پذیر ہے اور کوئی اچھی زبان نہیں لکھ رہا تو میں نے انہیں ابن صفی کی جاسوسی دنیا کا ایک ناول پڑھنے کو دیا اس کے بعد اب وہ ہر ماہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کشفی صاحب ابن صفی کا نیا ناول آگیا؟"

ڈاکٹر سلیم احمد نے اپنی کتاب اردو ادب کی مختصر تاریخ میں تحریر کیا کہ "ابن صفی کے فن کو سراہنے والو ں میں بابائے اردو مولوی عبدالحق پروفیسر مجنوں گورکھپوری، مشہور شاعر امجد اسلام امجد، مشہور کالم نگار حسن نثار، پروفیسر محمد حسن عسکری ، صحافی و ادیب، قاضی اختر جونا گڑھی ،ڈاکٹر عبدالقدیر اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان شامل ہیں، جب کہ پروفیسر جاذب قریشی نے ابن صفی کو اردو سراغ رساں کہانیوں کا "آغا حشر" قرار دیا۔ ان کے فن کے قدر دانوں میں بڑے بلند پایہ شعر و ادیب شامل تھے۔ فیض احمد فیض ، انتظار حسین، زاہدہ حنا، رئیس امروہوی ، جون ایلیا ، عبیدالہ بیگ، کمال احمد رضوی ، رضا علی عابدی ، مشتاق احمد قریشی اور مدیر تکبیر صلاح ادین سمیت علم و ادب سے وابستہ بے شمار نابغہ روزگار ہستیوں ان ک ناول بہت ذو ق و شوق سے مطالعہ کیے ۔ لاہور کے درویش صفت شاعر استاد دامن نے جیل میں ان کا ناول پڑھا اور اس میں درج تکنیک کی مدد سے اپنے جیل کے حجرے کے چوہوں کو اپنا مطیع کرلیا۔ غرض یہ کہ سندھ کے چائے خانوں میں بیٹھنے والے باری ، تربیت کے دوردراز گاؤں کے مزدور لاہور کے اسکول کے اساتذہ ، پشاور کے ٹیکسی ڈرائیور ، فوج کے سپاہی سے فیلڈ مارشل ، اسکول کے طلبہ سے یونیورسٹی کے پروفیسرز حتی کہ90سال کے بوڑھے تک سب ہی ان کی تحریروں کے سحر کے اسیر اور ان کے ناولز کے کرداروں ، فریدی اور عمران کے دیوانے نظر آئے ۔

بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی والدہ بھی ان کے پرستاروں میں شامل تھیں، جیسے ہی ابن صفی کا کوئی نیا ناول آتا، مکتی باہنی کے کارندے ایک اردو پڑھنے والے شخص کو لاتے جو مکتی باہنی کے نرغے میں شیخ مجیب کی ماں کو ابن صفی کا ناول پڑھ کر سناتا ۔ ان کے ناولز کے کرداروں میں کرنل فریدی ، کیپٹن حمید ، عمران، ایکس ٹو، سرسلطان ، قاسم ، صفدر ، تنویز، جوزف، سلیمان، جولیانہ فیٹر والٹر بہت زیادہ مشہور ہوئے ۔

برصغٰر میں لینڈنگ لائبریری کا رواج بھی ابن صفی کی کتابوں ہی کی وجہ سے شروع ہوا ۔1970ء میں انہوں نے آئی ایس آئی کو بھی جاسوسی کے حوالے سے غیر رسمی مشاورت دی۔ نیز پاک، ہند کی کئی یونیورسٹیز میں ان کے ادبی موضوعات پر ایم فل اور پی ایچ ڈیز کا سلسلہ جاری ہے ۔ ابن صفی کے ایک ناول میں UNO کے بارے میں بڑا دلچسپ تبصرہ ہے ۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ "آدمی کی معراج یہ ہے کہ وہ خود ہی اپنے مسائل حل کرلے، UNO کیا ہے: "Useless Nonsense Orgnization"

ان کے چند ناولز کے کچھ جملے پڑھ کر بھی ان کی فہم و فراست اور دانش کا بہ خوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
مثلاً:
"حکومتوں سے سرزد ہونے والے جرائم ، جرائم نہیں ہوتے حکمت عملی کہلاتے ہیں۔ جرم تو وہ ہوتا ہے جو انفرادی حیثیت میں کیاجائے ۔"
"یہاں کی فضاؤں میں ایسا معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا، جو خدا کے وجود سے خالی ہو۔ یہودی خود کو بقیہ قوموں سے برتر سمجھتے ہیں اور ساری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ان ہی کے ذریعے منشیات کی وبا آئی ہے اور وہی اب مایوسی پھیلانے والے لٹریچر پھیلارہے ہیں۔ ایک ایک پرندے کو سنہرے قفس میں بند کر کے دنیا کی نعمتیں اس کے لئے مہیا کردو تو کیا وہ پرندہ تمہیں دعائیں دے گا۔"

ابن صفی نے1953ء میں ام سلمی نامی خاتون سے شادی کی جن سے ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے اپنے سب بچوں کو اعلیٰ تعلیم ک زیور سے آراستہ کیا۔ ان کے ایک بیٹے ڈاکٹر ایثار احمد صفی2005ء میں قضائے الہی سے انتقال کر گئے ۔ دوسرے بیٹے ابرار احمد صفی ،میرین انجینئر ہیں اور امریکا میں رہتے ہیں ۔ تیسرے بیٹے ڈاکٹر احمد صفی ، مینیکل انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کراچی میں مقیم ہیں ۔ 1960ء میں صحت یابی کے بعد انہوں نے پاک و ہند کی تاریخ کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا شہرہ آفاق جاسوسی ناول "عمران سیریز" لکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جاسوسی دنیا کے 35ناول اور عمران سریز کے79ناول قلم بند کردئے.
آخر کار اپنے فن کے بام عروج پر یہ درویش منش ادیب، پاک و ہند کے اردو ادب کے شائقین کو253ء بیش بہا ناولز کاانمول تحفہ دے کر عین اپنی سال گرہ والے روز26جولائی1980ء کو 52سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملا ۔
انہیں ناظم آباد کراچی میں باپوش نگر کے قبرستان میں سپرد خا ک کیا گیا۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے

***
بشکریہ: جنگ سنڈے میگزین، 27/نومبر 2016

Ibn-e-Safi, a genius writer. Article: Mahmood Miya Najami

0 comments:

Post a Comment