Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-28 - بوقت: 20:52

لوک سبھا میں لوک پال و لوک آیوکت ترمیمی بل منظور

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
لوک سبھا میں لوک پال اور لوک آیوکت(ترمیمی) بل 2016کو بغیر کسی مباحث کے آج منظوری دے دی ۔ جس میں عوامی خدمت گزاروں کو ان کے اثاثہ جات کا اعلان کرنے کے لئے مہلت میں توسیع دی گئی ہے ۔ بل میں موجودہ قانون کی دفعہ44میں ترمیم کی خواہش کی گئی۔ اس دفعہ کے تحت عوامی خدمت گزار ان کے اثاثہ جات ، قرض اور دیگر واجبات کی تفصیلات ان کے خلاف برداری سے اندرون تیس یوم پیش کرنے کے پابند ہیں ۔ ضمنی ایجنڈہ کے تحت بل پیش کرتے ہوئے مملکتی وزیر برائے عملہ و عوامی شکایات ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ قانون کی دفعہ44میں ترمیم کی فی الفورضرورت ہے جب کہ عوامی خدمت گزاروں بشمول این جی اوز کی جانب سے اثاثہ جات کے اعلا ن کی موجودہ مہلت31جولائی ہے ۔ سی پی ایم اور ترنمول کانگریس کے ارکان نے قبل ازیں اطلاع کے بغیر بل پیش کرنے اور مباحث کے بغیر عجلت میں اسے منظور کروانے حکومت کے اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ سی پی ایم کے محمد سلیم اور ترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی نے کہا کہ ہم قانون سازی کے خلاف نہیں ہیں لیکن مباحث کے بغیر عجلت میں اسے منظور کروانے کی کیا وجہ ہے؟ اگر اسے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بغیر بھی لایا گیا ہو تب بھی ارکان کو اس پر اظہار خیال کا موقع دیاجانا چاہئے تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والے وفد کے دباو کے تحت کام کررہی ہے اور بعض این جی اوز اور افراد کو قانون کے دائرہ سے باہر کرنے کی خواہاں ہے ۔ محمد سلیم نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کا نعرہ نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا کا کیا ہوا؟ تاہم وزیر نے وضاحت کی کہ حکومت کرپشن کے خاتمہ کے عہد کی پابند ہے اور وہ موجودہ قانون یا اس کے عزم کو کم گھٹانا نہیں چاہتی۔ کانگریس کے لیڈر ملیکار جن کھرگے نے کہا کہ معاملہ عجلت سے ہم واقف ہیں اور بل کی منظوری کے خلاف بھی نہیں ہیں لیکن ایوان کو مطلع کیاجانا چاہئے تھا کہ آپ قانون میں ترمیم کے خواہاں ہیںیا قانون کے دائرہ سے کسی کو مستثنیٰ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ایوان میں یہ بل ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔

Lok Sabha passes Lokpal and Lokayukta (Amendment) Bill, 2016

0 comments:

Post a Comment