Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-06 - بوقت: 23:45

دیہاتوں کو برقیانے کا کام جاری

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی کو مطلع کیا گیا کہ ایسے دیہات جہاں ابھی تک ہنو ز برقی نہیں پہنچ سکی ہے ان کو برقیانہ کا کام جاری ہے جب کہ ملک کے18,500برقی کی پہنچ سے باہر دیہاتوں میں سے چھ ہزار دیہاتوں کو برقیانہ کا کام جاری ہے۔ وزیر اعظم جو ایک اجلاس میں اہم انفراسٹرکچر شعبہ بشمول برقی ، کوئلہ، امکنہ ، بندرگاہیں اور ڈیجیٹل انڈیا کا جائزہ لے تھے، کو بتایا گیا کہ شروع کردہ اسکیمات کودرست وقت پر آگے بڑھانے کے لئے بشمول جیو ٹیکنگ جیسے موزوں اور بہترین ٹکنالوجی کے سافٹ ویر کو استعمال کیاجارہا ہے ۔ عہدیداروں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ارونا چل پردیش جیسے دو ر دراز اور ناقابل رسائی علاقوں سے برقی کی سربراہی کے لئے شمسی توانائی کے پیانلس کی تنصیب عمل میں آرہی ہے ۔ اس اجلاس میں سارے ملک میں ایل ای ڈی بلبس کی تقسیم کے کام کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ عہدیداروں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ملک میں سال2022ء تک 175گیگا واٹ برقی قابل تجدید توانائی کے ذریعہ حاصل کرنے کا ہدف تکمیل کے لئے جامع اقدامات کئے جارہے ہیں ۔انہیں بتایا گیا کہ قابل تجدید توانائی حاصل کرنے کے لئے لگائے گئے تنصیبات سے ابھی تک39.5گیگا واٹ برقی حاصل ہورہی ہے ۔ کوئلہ کے شعبہ میں عوامی شعبہ کی کول انڈیا لمٹیڈ نے کوئلہ کی پیداوار میں9.2فیصد اضافہ کیا ہے جو گزشتہ پانچ برسوں کی اوسط پیداوار کے مقابلہ میں تین فیصد زائد ہے ۔ اس دوران وزیر اعظم نے تمام دیہاتوں میں براڈبینڈ کنٹی ویٹی کو فراہم کرنے کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایت دی ۔ مودی کی جانب سے اہم سیاحتی علاقوں میں وائی فائی کی سہولتوں سے متعلق استفسار پر بتایا گیا کہ ابھی تک بارہ ایسے عوامی مقامات ہیں جہاں وائی فائی کی سہولت بہم پہنچائی گئی ہے ۔ بائیں بازو کے شدت پسندوں کے زیر اثر دیہاتوں کو موبائل کی سہولت فراہم کرنے کے معاملہ میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ ان علاقوں میں1,371موبائل ٹاورس کو ابھی تک نصب کیا گیا ہے ۔ مودی نے امکنہ سے متعلق ترقیاتی جائزہ بھی لیا، اور کہا کہ تمام متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ اس اسکیم کو تیزی سے آگے بڑھایاجائے ۔

Power provided to 6,000 un-electrified villages: PM

0 comments:

Post a Comment