Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-08 - بوقت: 17:57

بی جے پی سے اتحاد والد کی وصیت ہے - محبوبہ مفتی

Comments : 0
سری نگر
پی ٹی آئی
بی جے پی کے ساتھ حکومت کی تشکیل کا اشارہ دیتے ہوئے صدر پی ڈی پی محبوبہ مفتی نے آج کہا کہ زعفرانی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا ان کے مرحوم والد مفتی سعید کا فیصلہ ایک وصیت کی طرح ہے اور ان کے بچوں کو اس سے پورا کرنا ہے چاہے ایسا کرتے ہوئے ان کی تمام عمر کیوں نہ صرف ہوجائے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتھاد کرنے کا ان کے والد کا فیصلہ پتھر کی لکیر ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حکومت کی تشکیل کے لئے بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کی جانب سے اتحاد کے ایجنڈے پر عمل آوری پیشگی شرط ہے ۔ ریاست میں8جنوری سے صدر راج نافذ ہے ۔ پی ڈی پی لیڈر نے کہا کہ میں ایک بات واضح کردینا چاہتی ہوں کہ مفتی سعید نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا اور میں اس کا احترام کرتی ہوں یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل میں ان کی عمر کیوں نہ گزر جائے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت تشکیل دینے کا مفتی سعید کا فیصلہ مرکز کی حکومت ک ساتھ ہاتھ ملانا، جموں و کشمیر کے دعوام کی ،ر یاست کے اتحاد کی برقراری اور امن و ترقی کے لئے تھا۔ تاہم اس فیصلہ کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان طے شدہ اتحاد کے ایجنڈے پر عمل آوری کے ذریعے ریاست کے عوام کو فائدہ پہنچانا تھا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد کا ایجنڈہ مفتی صاحب کے الفاظ کی طرح نہایت اہم ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے والد کے خوابوں کی تکمیل ہوگی تو ایسی صورت میں وہ حکومت تشکیل دیں گی۔ کرسی میرے لئے بلکہ ریاستی عوام کے لئے ضروری ہے ۔ بعد ازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں بی جے پی سے تازہ مطالبات نہیں کررہی ہوں انہوں نے یاددلایا کہ مسائل کی یکسوئی کے لئے بات چیت ہی واحد راستہ ہے اسی کے ذریعہ ریاست اور خطہ میں امن کو یقینی بنایاجاسکتا ہے ۔ یہ گاڑی دو پہیوں پر ہے اگر ایک سے حکومت تشکیل دی جاسکتی ہے تو دوسری ضروریات کی تکمیل کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی یا پی ڈی پی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ریاست کے عوام کا مسئلہ ہے ۔

Alliance with BJP is like father's 'will': Mehbooba

0 comments:

Post a Comment