Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-28 - بوقت: 18:53

سفر ہے شرط مسافر --- نواز بہتیرے

Comments : 0
modi-nawaz-meeting
شیفتہ کا برقی پیام "سفر ہے شرط مسافر۔۔۔۔ نواز بہتیرے" پڑھ کر دھیان فورا مودی راجہ کی سفری اور سفیرانہ مصروفیات کی طرف چلا گیا۔۔۔۔ مصرعہ اور وہ بھی میر کا ۔۔۔ اردو ادب میں ادبا و شعرا نےاور خاصکر قدما نے تو کیا کیا کمال کئے ہیں کہ شاہ عالم رنگیلے سے پنڈت نہرو تک، اور واجپائی جی سے مودی راجہ تک ۔۔۔۔۔ ایک مصرعۂ لافانی تیر کی طرح نکلا اور ہر دور میں سینکڑوں شکار کرتا چلا گیا ۔۔۔۔ بجا فرماتے ہیں میر جی کہ۔۔۔۔ بات بنانا مشکل ہے، شعر سبھی یاں کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔فکر بلند سے یاروں کو، ایک ایسی غزل کہہ لانے دو ۔۔۔غزل تو دور کی بات ہے ایک مصرعہ ہی سہی۔۔ ہم نے شیفتہ سے پوچھا حضور اس مصرعہ میں وقفہ کہاں لگتا ہے۔۔۔ سفر ہے شرط مسافر، کے بعد یا سفر ہے شرط، کے بعد۔۔ فرمایا مودی راجہ کے سفر میں آپ چاہے جہاں وقفہ لگا لیجیے۔۔بلکہ جب چاہیں لگا لیجیے ۔۔۔ پوتن صاحب سے ملنے گئے تو "سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے " ہوا۔۔۔۔ اور نواز شریف سے ملنے لاہور پہنچے تو " سفر ہے شرط مسافر، نواز بہتیرے، ہوا"۔۔۔۔۔۔۔فرمایا۔۔۔۔ راجہ جی سفر میں چاہے جو گل کھلا لیں لیکن ملک میں آئی خزاں کا سد باب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔۔متزلزل معیشت کی ماری غریب عوام اب یہی کہتی ہے کہ ۔۔۔۔ سوچ تو دل میں لقب ساقی کا ہے زیبا تجھے؟ انجمن پیاسی ہے اور پیمانہ بے صہبا ترا ۔۔۔ بلکہ راجہ جی کے اپنے سیاسی گھر میں اب آگ لگی ہوئی ہے، اور وہی پتے ہوا دے رہے ہیں جن پر تکیہ تھا۔۔۔۔۔۔راجہ کے دیوان صاحب خود اپنے پیادوں سے ہی گھائل ہیں۔۔۔۔زخم بھی ایسا کہ کبھی اسی بد عنوانی کے کاری زخم سے کانگریس کا جگر چھلنی ہوا تھا اور وہ تاب نہ لا کر تخت سے گر پڑی تھی۔۔۔۔ دربار میں پھر ایک عرصہ تک دعوت سخن معطل رہی تھی۔۔۔۔ بلکہ سرکار کا تو یہ عالم تھا کہ بات کرنے کو ترستی تھی زباں انکی۔۔ اب یہی حال موجودہ سرکار کا ہے جو کہہ رہی ہے یہ کیسا دستور زباں بندی ہے۔۔۔یہ سب بھول جاتےہیں کہ جمہوریت اسی "جگاڑ" کا نام ہے ۔۔۔۔۔۔۔تقریبا دو سال سے یہ سرکار سفر میں ہے اور چلتے پھرتے سو رہی ہے۔۔ اور اس سونے پہ سہاگہ انکی لے پالک جماعتیں، جن میں اکثر جمہوریت اور آزادی کو بہ معنی غنڈہ گردی لیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

کانگریس کی پاکستان کے ساتھ دل لگی پر راجہ جی کی جماعت کو بہت اعتراض ہوا کرتا تھا اور انکے لے پالک اس دل لگی کی سزا ہندوستان کے مسلمانوں کو دیتے تھے۔۔۔۔۔ خیر یہ سزا تو سدا کے لئے ہے ورنہ کیا وجہ کہ گجرات کے زخم بھولنے پر مسلمان کو مجبور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔کوئی ازالہ، کوئی معافی، کوئی دلگیری، کوی دلداری ، کوئی یقین دہا نی کچھ تو ہو ۔۔۔۔ترقی، رواداری، امن و آشتی ، گنگا جمنی تہذیب وغیرہ وغیرہ کے نام پر ہی سہی ۔۔۔۔۔ پاکستان اور دبئی کے سفر کے بعد ہی سہی ۔۔راجہ جی ایسی بھی کیا مجبوری کے مسلمانان ہند سے اتنی بے رخی بلکہ بغض و عناد ، اور غیر ملکی مسلمانوں سے اسقدر اپنائیت ۔۔۔امریکی خود تو ایسا نہیں کرتے۔۔۔۔پتہ نہیں دوسروں سے کیوں کرواتے ہیں ۔۔۔وہ تو صرف شیعہ سنی کا فایدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔ مرزائی اور جھوٹی نبوت کے دعویداروں کو انہوں نے اب تک دعوت سخن نہیں دی ہے ۔۔۔ جبکہ راجہ جی وہاں تک جا پہنچے جہاں تک کوئی دوسرا نہیں پہنچا ۔۔۔۔۔۔پھر راجہ جی کی پارٹی کے وہ لے پالک ۔۔۔۔ مسلمانان ہند کی یادداشت کے زخم بھرنے بھی نہیں لگتے ہیں کہ دادری اور نہ جانے کیسے کیسے واقعات روز ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔اور یہ سب مودی راجہ کی حکومت میں انکی جماعت کے کارندوں کے ہاتھوں ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لعن طعن مغلظات کا سلسلہ جاری ہے سو الگ۔۔۔جھوٹے کورٹ کیسیس میں آج بھی مسلمانوں کو پھنسایا جاتا ہے ۔۔۔انکے بنیادی حقوق آج بھی پامال ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ سارے حقائق اڑوس پڑوس میں شیوخ و ارباب اور دیگر مسلمان مقتدر اعلی سے پوشیدہ تو نہیں ۔۔۔اب کیا کیجیے گا ۔۔ فرمایا، میلوں میں اکثر موت کے کنویں کا کھیل دکھایا جاتا ہے ۔۔۔ تماشہ بین مبہوت ہو کر دیکھتے ہیں کہ کیسے کرتب باز جسم کو آگ لگا کر آگ میں کود جاتا ہے ۔۔اور پھر بچ کرباہر نکل جاتا ہے ۔۔۔۔لیکن تماشا بین یہ نہیں جانتے کہ اکثر اس خطرناک کھیل میں کرتب باز جھلس جاتا ہے ۔۔کبھی کبھی تو انجام بہت برا ہوتا ہے ۔۔۔

فرمایا، مسلمان بھی اب کہاں پابند عہد و پیمان رہا ہے ۔۔۔۔ دل لگی میں مسلمان اپنے فرائض منصبی ہی بھول گیا ہے۔۔۔۔۔۔رب کی ہزار سالہ بے شمار رحمتوں اور عنائیتوں کے باوجود مسلمان اس خطہ کے لوگوں کو ان کا فطری بنیادی حق دلانے میں ناکام رہا۔۔۔ وہ پیام حق، حق کے ساتھ نہیں پہنچا سکا ۔۔جو ابھی تک پہنچنا باقی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کو بھی مودی راجہ کی حکمت عملی سے کچھ سیکھ لینا چاہیے کہ بقول شاد۔۔۔۔ ایک خموشی میں گلو تم نے نکالے سب کام۔۔۔غمزہ آیا نہ کرشمہ نہ تمہیں ناز آیا ۔۔۔۔ بلکہ مسلمانان عالم کا تو اب یہ شیوا ٹہرا کہ حکمت عملی جو آقائے نامدار کی سنت اور خلفائے راشدین کا عصا ہوا کرتی تھی اور رب کی خوشنودی انکا مقصد حیات ۔۔۔۔۔ مسلمانوں میں اب یہ سب ناپید ہے۔۔۔۔۔۔بگاڑ ان سے، عداوت آسماں سے، دشمنی دل سے ۔۔۔۔۔بنے پھر بات کیونکر یوں لکھا ہو جب مقدر میں ۔۔۔ یہ سوچ سوچ کر مسلمان خاموش بلکہ خوش ہو بیٹھا ہے ۔۔

فرمایا، الغرض مدعا یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ لاہور اور کابل کے سفر کو روس کے سفر سے یکجا کر راجہ جی نے اچھا کیا ہے اپنے حق میں ۔۔ ویسے مودی راجہ اکثر سفر میں رہے۔۔اور۔۔۔انہیں کیا خبر کے گھر میں بہار آئی ہے یا خزاں۔۔۔۔۔ ایک خزاں تو انکے اپنے اندر کے موسم میں بھی ہمیشہ کے لئے بس گئی ہوگی۔۔۔ ایک باد صرصر گجرات سے کیا چلی تھی کہ راجہ جی چاہے قیام کر رہے یا سفر میں رہے، اس خزاں سے پیچھا نہ چھڑاسکے ، اور نہ ہی چھڑانے کی کبھی کوشش کی۔۔۔ چاہتے تو ایک نخل تمنّا کی آبیاری کر سکتے تھے جو ایک دو سال میں ہرا بھرا ہو کر انکے اندر موسم بہار کا موجب بنتا ۔۔۔۔لیکن نہیں ضد پر اڑے ہیں۔۔۔۔اب چمن میں گل کہاں کھل سکتے ہیں۔۔۔۔۔قسمت سے جو کھلے تھے وہ بھی اب مرجھانے لگے ہیں۔۔۔۔۔راجہ جی کچھ استاد آتش سے ہی سیکھ لے لیتے کہ۔۔۔۔کسی صورت سے نہیں جاں کو قرار اے آتش ۔۔۔۔۔تپشِ دل مجھے لاچار لئے پھرتی ہے۔۔۔۔۔۔خیر راجہ جی نے دشت تو دشت صحرا بھی نہ چھوڑے ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پتہ نہیں کس سکون کی تلاش میں ہیں راجہ جی۔۔۔۔ انکے اتالیق بھی اب گھبرائے ہوئے ہیں کہ راجہ جی جام ہی نہ چھلکا دیں۔۔۔روس میں قدم لڑکھڑائے بھی تھے قومی گیت پر۔۔۔۔ اب پتہ نہیں ۔۔۔۔ بد مستی یا خر مستی میں تو نہیں البتہ روسیوں کا معاملہ ہی ایسا ہے کہ اچھے اچھے حکمراں اور مقتدر اعلی انکے سامنے اپنے مقاصد بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر کابل میں تو مودی راجہ یونہی داد لینے جا پہنچے تھے۔۔ البتہ لاہور کا نام نہاد "سرپرائیز ویزٹ" روس امریکه اور چین کی شطرنجی بلکہ اقوام متحدہ کے لئے "ست رنگی" چال کا حصہ نظر آیا، اور جسے میڈیا نے چٹخارے لے کردکھایا، چھپایا اور چھپایا بھی۔۔۔ روس اور امریکہ کا کیا ہے۔۔۔ جسے چاہے یقین دلو ادیا۔۔۔۔۔راجہ جی کو دلا دیا کہ اقوام متحدہ میں ہندوستان کی دائمی نشست کے لئے وہ حامی بھریں گے۔۔۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ اگر کوئی تیسرا چوتھا شطرنجی انکار کر ویٹو کا استعمال کریگا تو انکی حمایت ڈھاک کے تین پات ثابت ہوگی ۔۔۔راجہ جی نے بھی سوچا پھر کہاں وہ اختیار و اعتبار ۔۔۔ تاریخ یونہی رقم کر لی جا ئے۔۔۔۔۔۔۔
ویسے ان شطرنجیوں کا ایک اور کرشمہ بھی دیکھنے ملا ۔۔۔۔۔ یہاں سونیا جی اور وہاں نواز۔ صاحب دونوں نے پتہ نہیں کیسے اپنے اپنے حواریوں کو بہ یک وقت یہ احکام دیا کہ مودی راجہ کے متعلق اول فول نہ بکا جا ئے۔۔۔البتہ یہ نہیں بتایا کہ کب تک اول فول نہیں بکنا ہے۔۔۔۔ اور پھر کب شروع کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔کہتے ہیں تہذیب جدیدہ میں عشق و دل لگی کے یہ وہ مراحل ہیں جب عشاق ویزٹ، گفٹ، اور دل سے دل لگا لگا کر، ایک ہی سواری پر سوار ہو کر، قربت کا یہ احساس دلاتے ہیں کہ۔۔ اب ڈر کاہے کا۔۔۔۔۔ جو کچھ بھی سامنے نکل کر آئے گا وہ جمہوریت میں غیر قانونی نہیں ہوگا!۔۔۔
کمال ہے پوتن صاحب نے مودی راجہ کو کابل اور پاکستان جانے کیسے دیا ۔۔۔۔اب پتہ نہیں بلیٹ ٹرین کی طرح روسی ہیلی کاپٹر کا کیا ہوگا ۔۔۔ ریلائینس ڈیفینس کو ہیلی کاپٹر کی ڈیل ملنی ہے ۔۔ کیجری وال بھلا خموش کب بیٹھیں گے۔۔۔الله ان کا بھلا کرے کیونکہ وہ خود تو اپنا کرنے سے رہے ۔۔۔۔۔چلیے مادام ششما سوراج کو اپنے میر کارواں سے وہ شکوہ نہیں ہے جو انہوں نے من موہن جی سے کیا تھا کہ ۔۔۔۔یہ بتا کہ کارواں کیوں لٹا ۔۔۔اور یہ بھی کہ تیری رہبری کا سوال ہے۔۔۔لیکن اب تو وہ "انا القیس" کا نعرہ لگا کر پارٹی میں راجہ جی سے تجدید وفا کر بیٹھی ہیں۔۔۔۔ کیوں نہ ہو، بی جے پی میں جفاؤں کا موسم سر گرم جو ہے۔۔۔۔۔
یوپی کا الکشن قریب ہے اور شدت پسند زعفرانی پارٹیوں کے بقول بھگوان رام چندر جی ہزاروں سال سے آج بھی بے گھر ہیں۔۔۔۔لیکن افسوس کہ انہیں اس بات کا احساس بلکل نہیں ہے کہ انہیں بے گھر خود انکے ماننے والوں نے کیا ہے۔۔۔معیشت میں اسقدر تنزلی کبھی دیکھنے نہیں ملی۔۔۔۔۔اب لوگ باگ دوسروں کے گھروں پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بینک کے قرضہ سے بھی اب گھر کہاں بنتے ہیں ۔۔۔۔۔پراپرٹی کا بازار مندا پڑا ہے ۔۔۔۔۔لیکن آج تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ گپتا اور چانکیہ سلطنتیں اور ہندوستان کی چھوٹی بڑی سینکڑوں ریاستیں جو تاریخ کے اوراق میں کبھی اکھنڈتا نہیں دکھا سکی ، وہ ماضی میں ایودھیا میں ایک عالیشان رام مندر کیوں نہیں بنا سکی، اور نہ ہی انکے نام کا کوئی میلہ یا یاترا ہندوستان کی تاریخ میں موریہ اور گپتا سلطنتوں سے ثابت ہے۔۔انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ رام چندر جی ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔یہاں تک کہ چانکیہ کوٹلیہ کو بھی نہیں جس نے سام دھام دنڈ بھید کی سیاست کو ہندوستان کی تاریخ میں متعارف کرایا تھا اور جسے بی جے پی اور آر آر ایس ملکر نافذ کررہے ہیں ۔۔۔۔

اب ان تمام مسائل میں مسلمانوں کا کیا قصور ہے۔۔۔۔۔ صرف اتنا ہی نا کہ ہر دور میں انہوں نے غدار پیدا کیے ہیں، جو آج بھی سیاسی پارٹیوں میں زبان لٹکائے نظر آتےہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کانگریس کے پاس بھی ایسے غدار تھے جو اپنی پارٹی کے بچاؤ میں خوب بولے تھے۔۔۔۔۔ اور بی جے پی کے پاس بھی ہیں جو خوب بول رہے ہیں۔۔فرمایا ، حضور انگریز جاتے جاتے بہت کچھ چھوڑ گئے۔۔جس میں ایک یہ بھی ہے کہ کیسے گدھوں اور گھوڑوں کی نسل سے خچر پیدا کرنا اور ان سے وہ وونوں کام لینا جو گھوڑے اور گدھے کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن اہل برصغیر ایک قدم آگے جا کر خچروں سے تیسرا کام بھی لیتے ہیں ۔۔۔ الله تعالی اہل بر صغیر پر رحم کرے ۔۔

***
Zubair Hasan Shaikh (Mumbai).
zubair.ezeesoft[@]gmail.com

The surprise meet of two political stalwarts. Article: Zubair H Shaikh

0 comments:

Post a Comment