Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-14 - بوقت: 17:51

حکومت عدم رواداری سمیت تمام مسائل پر بات چیت کے لئے تیار - وینکیا نائیڈو

Comments : 0
بنگالورو
پی ٹی آئی
حکومت عدم رواداری کے بشمول پارلیمنٹ میں کسی بھی مسئلہ پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔ اگر اپوزیشن رواداری دکھائے اور ایوان کے کام کاج کو چلنے کی اجازت دے مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج یہ بات کہی۔ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ بہار کے انتخابی نتائج کو پارلیمنٹ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ایک فیصلہ کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ عدم رواداری پر بات چیت کرسکتے ہیں۔ آپ کو اپنی رواداری ثابت کرنی ہوگی اور پارلیمنٹ کے کام کاج کو چلنے کی اجازت دینی ہوگی ۔۔اگر آپ رودار ہیں اور پارلیمنٹ کے کام کاج کو چلنے کی اجازت دیتے ہیں تو آپ عدم رواداری پر بات چیت کرسکتے ہیں اور حکومت کو کسی مسئلہ پر بحث میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈو نے یہاں نامہ نگاروں سے یہ بات کہی ۔ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران عدم رواداری کا مسئلہ اٹھائے جانے کے اپوزیشن کے اقدام پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسی بھی مسئلہ پر بات چیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ میڈیا کے مطابق چند افراد اعلان کرچکے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے کام کاج کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ایک ریاست میں ایک پارٹی کے حق میں فیصلہ پارلیمنٹ میں رکاوٹ ڈالنے کا ایک فیصلہ نہیں ہے ۔ اس دوران ایک ایسے وقت جب بی جے پی پارٹی کے4سیئنر قائدین کی ناراضگی کا سامنا کررہی ہے ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج اس رائے کا اظہار کیا کہ انہیں عوام کے سامنے جانے کے بجائے پارٹی کے ایک فورم میں اپنے خیالات پیش کرنا چاہئے تھا۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور نے دعویٰ کیا کہ ملک اور پارٹی کو نریندر مودی کی قیادت کی ضرورت ہے ۔ لیکن کہا کہ بی جے پی ان خیالات اور تشویشات کا نوٹ لے گی ۔ سینئر بی جے پی قائدین لال کرشن اڈوانی،مرلی منوہر جوشی، شانتا کمار اور یشونت سنہا نے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ پر نکتہ چینی کی تھی۔ ایک بیان میں پارٹی کے سینئر قائدین نے کہا تھا کہ پہلے ایک سال میں پارٹی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن اس کے بعد پارٹی ایک مٹھی بھر افراد کے آگے جھک گئی۔ نائیڈو نے کہا کہ ہمارے چند سینئر قائدین نے چند مسائل اٹھائے ہیں۔ یہ بہتر ہوگا کہ اگر یہ مسائل عوام کے آگے اٹھائے جانے کے بجائے پارٹی کے ایک فورم میں اٹھائے جائے لیکن ہنوز ہم ان خیالات اور تشویشات کا نوٹ لیں گے ۔ ہم تمام تشویشات پر غوروخوض کریں گے۔ پارلیمانی بورڈ فیصلہ کرچکی ہے کہ بہار میں شکست کا باعث بننے والے تمام معاملات اور ناکامی کی وجوہات پر غوروخوض کیاجائے گا جو ایک پریکٹیس ہے۔ نائیڈو نے یہ بات کہی اور کہا کہ2009کے بعد بی جے پی نے اس کے مظاہرے کو بہتر بنانے کی کوشش کی تھی۔ مودی نے ثابت کیا ہے کہ وہ پارٹی اور ملک دونوں کے لئے موقع پر کام آنے والے ایک شخص ہیں ۔ مودی کی زیر قیادت مہم کی وجہ سے پارٹی نے پہلی بار لوک سبھا نشستوں کی ایک بھاری تعداد جیتی تھی ۔ عوام نے30سال کے ایک وقفہ کے بعد پارٹی کو قطعی اکثریت دی تھی۔ مرکزی وزیر نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ مودی ہندوستان اور دنیا کے عوام میں ملک کے وقار کو اونچا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ مہاراشٹرا، جھار کھنڈ، جموں و کشمیر اور ہریانہ میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کے لئے مودی کو کریڈیٹ دیتے ہوئے جہاں بی جے پی بر سر اقتدار آئی ہے انہوں نے مرکز میں بر سر اقتدار آنے کے بعد بی جے پی کے مختلف بلدی انتخابات میں اچھے مظاہرے کا بھی حوالہ دیا ۔ چاہے وہ آسام، پنجاب، راجستھان، مدھیہ پردیش، حتی بنگالورو، انڈومان اور لداخ میں ہم نے پڑوسی ریاست کیرالا میں دیدہ زیب کامیابیاں بھی حاصل کی جہاں ہم انتہائی کمزور ہوا کرتے تھے ۔ نائیدو نے کہا کہ انہوں نے انتخابات کے دوران پارٹی اور تنظیم کی مہم میں ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔ بی جے پی2014کے پارلیمانی انتخابات اس وقت ہار گئی تھی جب میں ودرھا، اٹل جی لیڈر تھے۔2009ء میں بھی ہوم یو پی اے ۔IIکے آگے ہارے تھے جب اڈوانی جی لیڈر تھے ۔ ہم کچھ ریاستی اسمبلی انتخابات بھی ہار گئے تھے۔ نائیڈو نے کہا کہ جیت اور ہار ہوا کرتی ہے ۔ہم نے کبھی ان شکستوں کے لئے کسی فرد یا گروپ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا ۔ یہ پارٹی کا کبھی کلچر نہیں رہا کہ پارٹی کے مستقبل کے لئے کسی فرد کو مورد الزام ٹھہرایاجائے ۔ انتخابات میں ایک اجتماعی کوشش کے نتیجہ کے تحت جیت اور ہار ہواکرتی ہے ۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ اڈوانی نے پارٹی کے فروغ اور اس کی توسیع کے لئے گران قدر خدمات انجام دی ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ وہ کانگریس کی زیر قیادت ہندوستان میں تانا شاہی کی سیاست کو تبدیل کرنے میں اہم رول اد ا کیا ہے اور کانگریس اور بی جے پی کے درمیان دو قطبی ایک مقبول شراکت ہوا کرتی تھی۔ وزیر نے کہا کہ بی جے پی کا ہمیشہ پارٹی کے اندر جمہوریت میں ایقان رہا ہے اور یہ کہنا حق بجانب ہوگا کہ اس کی اتفاق رائے کی روایت ختم ہوچکی ہے ۔ مودی کو ملک میں انتہائی مقبول لیڈر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور ملک کو ان کی قیادت کی ضرورت ہے ۔ ہم تمام کو ہمارے وزیر اعظم پر فخر ہے ملک آگے بڑھ رہا ہے ۔ بی جے پی کے ہر ایک ہمدرد یا کارکن کو ملک کو آگے لے جانے میں پارٹی کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں اور ملک کے آگے پیشقدمی میں ان کا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Govt ready to discuss 'intolerance' issue if Oppn shows 'tolerance': Venkaiah Naidu

0 comments:

Post a Comment