عالمی خلائی ہفتہ 2026: زحل، قطبی روشنیاں اور خلائی سفر کی تیاریاں
زحل کے حلقوں سے زمین کی قطبی روشنیوں تک، خلا کا مشاہدہ ہر روز کوئی نیا سوال سامنے لاتا ہے۔ سرکاری عالمی خلائی ہفتہ 4 تا 10 اکتوبر منایا جاتا ہے؛ اس مناسبت سے #تعمیرنیوز کا 6 تا 10 اکتوبر کا سلسلہ روزانہ 6 منتخب خبریں اور معلومات پیش کرتا ہے۔ آج کی قسط میں آسمانی مناظر کے ساتھ عرب دنیا، ہندوستان اور پاکستان کی خلائی تیاریوں کا ذکر ہے۔ تمام انتخاب اصل صفحات سے تصدیق شدہ ہیں؛ ہر ماخذ کی اشاعتی تاریخ الگ درج ہے۔
1) ناسا: زمین کے گرد قطبی روشنیوں کا مکمل حلقہ
زمین سے قطبی روشنیاں عموماً آسمان میں لہراتے پردوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں، مگر خلا سے ان کا بہت بڑا حلقہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ناسا کی 6 اکتوبر 2026 کی تصویری پیش کش میں یورپی اور چینی مشترکہ خلائی جہاز اسمائل (SMILE) نے بالائے بنفشی روشنی کے ذریعے دن کے وقت ایسا مکمل حلقہ دکھایا ہے۔ جولائی کے اواخر میں ریکارڈ کیے گئے تقریباً 1 گھنٹے کے مناظر بتاتے ہیں کہ یہ روشنیاں مسلسل بدلتی رہتی ہیں۔ مشاہدے کا مقصد سورج سے آنے والے برقی ذرات اور زمین کے مقناطیسی حصار کا تعلق سمجھنا ہے، تاکہ شمسی طوفانوں سے خلانوردوں، خلائی جہازوں اور زمینی بجلی کے نظام کو بچانے میں مدد ملے۔
اصل مضمون لنک
2) نیشنل جیوگرافک: زحل کے حلقے دیکھنے کا اچھا موقع
زحل کو دیکھنے کا موقع صرف ایک رات تک محدود نہیں: نیشنل جیوگرافک کے 1 اکتوبر 2026 کے مضمون کے مطابق، 4 اکتوبر کو زمین، سورج اور زحل کی ایسی ترتیب بنی جس میں زحل زیادہ روشن اور بڑا دکھائی دیتا ہے، اور اس کے آس پاس کے کئی ہفتے بھی مشاہدے کے لیے موزوں رہتے ہیں۔ 2025 میں تقریباً کنارے سے دکھائی دینے کے باعث اوجھل سے لگنے والے حلقے اب دوبارہ نمایاں ہیں۔ زحل خود روشن نقطے کی صورت میں آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، مگر حلقوں کے لیے دوربین چاہیے؛ مضمون میں حالات کے مطابق کم از کم 25 تا 35 گنا بڑھا کر دکھانے کی صلاحیت تجویز کی گئی ہے۔ بہتر منظر کے لیے اسے افق سے بلند ہونے پر دیکھیے۔
اصل مضمون لنک
3) بی بی سی سائنس فوکس: کویت کے صحرا سے ایک حیرت انگیز سحابی کی تصویر
اندھیرے آسمان میں چھپی تفصیل سامنے لانے کے لیے کبھی ایک تصویر کافی نہیں ہوتی۔ بی بی سی سائنس فوکس کی 1 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، علی العبیدلی نے مغربی کویت کے صحرا میں 2 راتوں کے دوران سینکڑوں تصاویر حاصل کرکے انہیں یکجا کیا؛ مجموعی عکس گیری 28 گھنٹوں سے زیادہ رہی۔ شارک جیسی شکل رکھنے والے سحابی کی یہ تصویر سالانہ فلکیاتی عکس نگاری کے مقابلے میں مجموعی فاتح بنی۔ تقریباً 650 نوری سال دور اس منظر کی گہری شکل دراصل گرد اور گیس کے بادلوں سے بنتی ہے، جو پیچھے موجود ستاروں کی روشنی روک دیتے ہیں۔ یوں بظاہر خالی اندھیرا بھی کائنات کے مادّے کی خبر دیتا ہے۔
اصل مضمون لنک
4) عرب دنیا: 7 سیارچوں کی کھوج کے لیے اماراتی تحقیقاتی آلہ
متحدہ عرب امارات کی خبر رساں ایجنسی وام کی 4 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ملک میں تیار اور آزمودہ ایک خلائی تحقیقاتی آلہ پرواز کے لیے تیاری کے مرحلے تک پہنچ گیا ہے۔ اسے ایم بی آر ایکسپلورر (MBR Explorer) کے ساتھ تقریباً 5 ارب کلومیٹر کے سفر پر بھیجنے کا منصوبہ ہے، جس میں 7 سیارچوں کا مطالعہ ہوگا۔ آخری منزل جسٹیشیا پر یہ آلہ مرکزی خلائی جہاز سے الگ ہوکر خودکار طریقے سے سطح پر اترے گا۔ سائنس دان جاننا چاہتے ہیں کہ نظامِ شمسی کی تشکیل کے دوران پانی اور نامیاتی مادّے کیسے پھیلے۔ منصوبے کا آغاز ابھی باقی ہے؛ رپورٹ کے مطابق پرتاب 2028 کی پہلی سہ ماہی میں جاپان سے متوقع ہے۔
اصل خبر لنک
5) ہندوستان: خلانوردوں سے پہلے 3 بغیر عملے کی آزمائشی پروازیں
ہندوستان کے پہلے ملکی انسانی خلائی سفر کی تیاری میں حفاظت بنیادی شرط ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی 5 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، اسرو کے مرکزِ محرکہ کے سربراہ نارائنن اپّو نے بتایا کہ گگن یان منصوبے کے ابتدائی مرحلے کی تقریباً 95 فیصد آزمائشیں مکمل ہو چکی ہیں۔ انسان بھیجنے سے پہلے جی 1، جی 2 اور جی 3 نامی 3 بغیر عملے کی پروازوں سے حفاظتی نظام جانچے جائیں گے۔ کوئمبٹور میں عالمی خلائی ہفتے کی نمائش کے موقع پر بیان کردہ منصوبے کے مطابق، پہلی آزمائش رواں سال کے آخر تک اور انسانی پرواز 2028 کے وسط میں ہدف ہے۔ یہ مجوزہ اوقات ہیں؛ کامیاب آزمائشیں ہی اگلے مرحلے کی راہ کھولیں گی۔
اصل خبر لنک
6) پاکستان: پہلے خلانورد کا کام سائنسی تجربات انجام دینا ہوگا
پاکستانی پائلٹ ذیشان علی اور خرم داؤد چین میں خلائی سفر کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، مگر دونوں میں سے کس کو بھیجا جائے گا، اس کا فیصلہ ابھی رپورٹ میں طے شدہ نہیں۔ ڈان میں شائع رائٹرز کی 28 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، منتخب امیدوار چینی خلائی مرکز تیان گونگ میں پاکستانی سائنسی تجربات انجام دے گا۔ پاکستانی جامعات کی 300 سے زیادہ تجاویز میں سے 4 حیاتیاتی تجربے منتخب کیے گئے ہیں، جن کا تعلق غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہے۔ تربیت میں چینی زبان، خلائی جہاز کے نظام اور بے وزنی سے ہم آہنگی شامل ہے۔ حتمی انتخاب اکتوبر کے وسط یا آخر میں متوقع بتایا گیا تھا؛ یہ خبر سفر کی تیاری کی ہے، روانگی کی تصدیق نہیں۔
اصل خبر لنک
World Space Week 2026: Saturn’s Rings, Auroras and Asian Spaceflight Preparations - October 7 Urdu

گفتگو میں شامل ہوں