‫نریندر مودی کے پچیس سالہ اقتدار کو درپیش چیلنجز: افتخار گیلانی

Narendra Modi's Political Challenges: Iftikhar Gilani's Analysis
narendra-modi-25-years-power-political-challenges

7 اکتوبر 2001 کی دوپہر جب نریندر دامودرداس مودی نے پہلی بار گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا تھا، تو دہلی کے سیاسی ایوانوں میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شخص آنے والی ایک چوتھائی صدی تک ہندوستانی سیاست کی بساط کو اس طرح الٹ کر رکھ دے گا کہ ریاست، آئین اور سیاست کے تمام تر راستے اس کے محتاج ہو جائیں گے۔
لیکن اقتدار کی یہ پچیس سالہ سلور جوبلی اور چھبیسویں سال میں قدم رکھنے کا یہ مرحلہ کسی فاتحانہ تمکنت یا سیاسی جشن کا سامان بننے کے بجائے، نریندر مودی کی سیاسی زندگی کے سب سے تلخ اور بے رحم بھنور میں تبدیل ہو چکا ہے۔
وہ حکمران جو اپنے ہر بحران کو ہندوتوا اور جارح قوم پرستی کی بھٹی میں جھونک کر کندن بنا لینے کا دعویٰ کرتا تھا، آج تاریخ کے ایسے موڑ پر آن کھڑا ہوا ہے جہاں اس کے روایتی ہتھکنڈے کند ہو چکے ہیں اور پہلی بار اقتدار کے اس سنگلاخ قلعے کو اندر اور باہر سے ایسے طوفان کا سامنا ہے جس کی جھنجھلاہٹ اب خود ان کے چہرے سے عیاں ہے۔
اقتدار کی چوتھائی صدی مکمل ہونے کے اس تاریخی لمحے پر جب میں یادداشت کے اوراق پلٹتا ہوں، تو ذہن کے پردے پر وہ زمانہ گھوم جاتا ہے جب نریندر مودی کا نام دلی کے اقتدار کی راہداریوں میں کوئی گونج نہیں رکھتا تھا۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی ہیڈکوارٹر، 11 اشوکا روڈ کے پچھواڑے ایک چھوٹے سے کمرے کے کوارٹر میں مقیم ایک عام تنظیمی جنرل سکریٹری تھے۔
اس کمرے کا نقشہ آج بھی میری آنکھوں میں جوں کا توں محفوظ ہے۔ ایک کونے میں لوہے کا چھوٹا سا چولہا جہاں وہ خود اپنے لیے چائے ابالتے تھے، دوسرے کونے میں ایک ادنیٰ سا پلنگ اور سامنے کی دیوار کے ساتھ کتابوں کی بھری الماری تھی۔

پارٹی نے کچھ عرصے کے لیے انہیں جموں و کشمیر کا انچارج جنرل سکریٹری بھی مقرر کیا تھا۔ چونکہ میں اُس وقت نئی دہلی میں 'کشمیر ٹائمز' کے بیورو میں کام کر رہا تھا، اس لیے مودی جی کی سیاسی نقل و حرکت میری پیشہ ورانہ بیٹ کا حصہ بن گئی تھی۔ مگر سچ پوچھیں تو ان سے مکالمہ کرنا یا ان کا اعتماد جیتنا کبھی آسان نہیں رہا۔
صحافت کی دنیا میں جب رپورٹر ایک ہی بیٹ کور کرتے ہیں، تو خود بخود ایک غیررسمی گروہ تشکیل پا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے اسکول میں بچے ہوم ورک اور نوٹ بکس بانٹنے کے لیے ایک دوسرے کا سہارا لیتے ہیں۔
نئی دہلی کی سیاسی بیٹ پر بھی آپ کو ایسے رفقاء درکار ہوتے ہیں تاکہ جب آپ کسی خصوصی اسٹوری کے تعاقب میں ہوں، تو پارٹی ترجمان کی معمول کی پریس بریفنگ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔
بی جے پی کو کور کرنے والے ہمارے صحافتی گروپ میں 'دی ہندو' کی نینا ویاس، 'انڈین ایکسپریس' کی پورنیما جوشی، اور صبا نقوی جو شاید اُن دنوں 'انڈیا ٹوڈے' میں تھیں، شامل تھیں۔ یہ وہ بے باک صحافی تھیں، خصوصاً نینا ویاس، جن کے تیکھے اور بے لاگ سوالات سے بی جے پی کے منجھے ہوئے ترجمانوں کے ماتھے پر پسینہ آ جاتا تھا۔
جس دن نریندر مودی بریفنگ کے لیے ڈائس پر بیٹھتے، وہ پریس کانفرنس عموماً تند و تیز بحث و تکرار اور تلخی پر ختم ہوتی اور مودی جی سخت سوالات کی تاب نہ لا کر غصے کے عالم میں واک آؤٹ کر جایا کرتے تھے۔
اُن ہی دنوں میں فری لانسر کے طور پر جرمن ریڈیو 'ڈوئچے ویلے' (ڈی ڈبلیو) کے لیے بھی رپورٹنگ کرتا تھا۔ ریڈیو رپورٹ کے تقاضوں کے تحت مجھے انٹرویو کی ساؤنڈ بائٹس درکار ہوتی تھیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر جب میں بائٹ لینے کے لیے پارٹی آفس کے پچھواڑے مودی جی کے کمرے کی کنڈی کھٹکھٹاتا، تو ان کے پلنگ کے آس پاس کرسیوں پر اکثر دیگر ہم عصر صحافیوں، جیسے کمار راجیش، پی آر رمیش اور کے جی سریش وغیرہ کی منڈلی جمی ہوتی تھی۔ کمرے میں قہقہے گونج رہے ہوتے، لطیفوں کا تبادلہ چل رہا ہوتا تھا۔
لیکن جوں ہی میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا اور مودی سے بائٹ کی درخواست کرتا، لمحوں میں کمرے کی فضا منجمد ہو جاتی تھی۔ ایک ناگوار، سہم جانے والی خاموشی پورے ماحول کو لپیٹ میں لے لیتی تھی۔ جب تک میں اپنا ریکارڈنگ آلہ سیٹ کرتا اور وہ دو چار رسمی جملے بولتے، مودی سمیت وہاں بیٹھے تمام صحافی ایسی بے چینی سے پہلو بدل رہے ہوتے جیسے جلد از جلد وہاں سے فرار ہونا چاہتے ہوں۔
میں آج تک یہ معمہ حل نہیں کر پایا کہ وہ سرد مہری میری کشمیری مسلم شناخت کی وجہ سے تھی، یا وہ مجھے نینا ویاس کے تنقیدی گروہ کا کارندہ گردانتے تھے۔
'کشمیر ٹائمز' کا بیورو رفیع مارگ پر واقع 'انڈین نیوز پیپر سوسائٹی' (آئی این ایس) بلڈنگ میں تھا۔ یہ دو کثیر منزلہ عمارتیں پارلیامنٹ ہاؤس، پریس کلب آف انڈیا، آل انڈیا ریڈیو اور پی ٹی آئی سے محض چند قدم کے فاصلے پر واقع ہیں اور دارالحکومت سے باہر شائع ہونے والے تمام بڑے سو کے قریب اخبارات کے دفاتر اسی بلڈنگ میں ہیں، جن میں 'دی ٹیلی گراف'، 'دی ہندو'، 'دکن ہیرالڈ' وغیرہ بھی شامل ہیں۔
ستمبر 2001 کے آخری ہفتے کی ایک دوپہر تھی، میں فیلڈ اسائنمنٹ نمٹا کر واپس عمارت میں داخل ہوا۔ اتفاق سے لفٹ خراب تھی، چنانچہ میں نے سیڑھیوں کا رخ کیا۔ ابھی دو چار قدم چڑھا ہی تھا کہ دیکھا نریندر مودی سیڑھیاں اتر کر نیچے آ رہے ہیں۔ میں نے محض رسمی شائستگی کے تحت سلام کیا۔ مجھے قطعی توقع نہ تھی کہ وہ میری طرف نظر بھی اٹھائیں گے، مگر حیرت انگیز طور پر وہ رک گئے، میرا ہاتھ تھاما اور میرے کام کاج کی بابت پوچھنے لگے۔
اُس وقت گجرات میں بی جے پی کا سفینہ غرقاب ہونے کے دہانے پر تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کیشوبھائی پٹیل کے خلاف اندرونی بغاوت کا لاوا پک چکا تھا، جبکہ شنکر سنگھ واگھیلا پارٹی توڑ کر پہلے ہی راہیں جدا کر چکے تھے۔ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت باہم دست و گریبان دھڑوں کے درمیان کسی متفقہ چہرے کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ مودی جی نے بھی اس اکھاڑے میں اپنا نام اچھال رکھا تھا، لیکن پارٹی حلقوں میں وہ سب سے بے وزن اور کمزور ترین امیدوار مانے جا رہے تھے۔
میرا گجرات کی صوبائی سیاست سے کوئی براہِ راست واسطہ نہیں تھا، مگر ایک صحافی کے فطری تجسس کے تحت میں نے پوچھ ہی لیا:
'نریندر بھائی! گجرات کا کیا ماحول ہے اور یہ لڑائی کہاں جا کر رکے گی؟' وہ قدم بہ قدم سیڑھیاں اترتے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ چلتا ہوا عمارت سے باہر نکل آیا۔ ہم دونوں رفیع مارگ کے کنارے سنجے کی چائے کے کھوکھے پر آ کر رک گئے۔

سنجے کا یہ کھوکھہ دہلی کے سیاسی صحافیوں کے لیے کسی ادارے سے کم نہ تھا۔ جب اٹل بہاری واجپئی قائدِ حزبِ اختلاف تھے اور پریس کلب کے بالمقابل رہائش پذیر تھے، تو شام کے وقت وہ اکثر اپنے دو چھوٹے کتوں کے ساتھ ٹہلتے ہوئے اسی کھوکھے پر آ رکتے اور وہاں کھڑے صحافیوں کے ساتھ مٹی کے کلہڑ میں چائے پیتے ہوئے بے ساختہ گفتگو کیا کرتے تھے۔
سنجے کے اسی چائے کے اسٹال پر کھڑے ہو کر مودی نے مجھے گجرات کی ذات پات کی پیچیدہ سیاست کا فلسفہ سمجھانا شروع کیا۔ وہ کمالِ حسرت سے کہہ رہے تھے کہ ریاست کو ذات پات کے گھن نے چاٹ لیا ہے اور بی جے پی دہائیوں کی تگ و دو کے بعد بھی کانگریس کے روایتی 'کھام' فارمولے، یعنی کشتریہ، ہریجن (دلت)، آدی واسی اور مسلم اتحاد کی دیوار میں شگاف ڈالنے میں ناکام رہی ہے۔
بی جے پی کا سوشل انجینئرنگ کا تجربہ، جس میں پاٹیدار یعنی پٹیل اور منجھلی ذاتوں، جنہیں او بی سی کہا جاتا ہے، کا اتحاد شامل تھا، اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہا تھا۔
طویل تجزیے کے بعد وہ اچانک اصل مدعے پر آئے۔ انہوں نے رازداری سے کہا کہ وہ جینتا گھوشال، جو اُن دنوں 'آنند بازار پتریکا' (اے بی پی) کے بیورو چیف اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے، سے ملنے آئے تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اپنے دوست گھوشال سے کہوں کہ وہ لال کرشن اڈوانی جی کے گوش گزار کریں کہ گجرات کی باگ ڈور کے لیے مودی بہترین انتخاب ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ گھوشال صاحب سے میری اتنی گہری شناسائی نہ تھی۔ ان دنوں بس علیک سلیک ہی تھی۔ کیونکہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی کہ گھوشال دہلی کے اُن گنے چنے صحافیوں میں شمار ہوتے تھے جن کے لیے اس وقت کے ہندوستان کے طاقتور ترین شخص اڈوانی کے گھر کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے۔ اس لیے کسی وقت خبروں کی تصدیق یا تردید کے لیے ان سے مدد لینی پڑتی تھی۔
اگلے روز جب میں گھوشال صاحب کے دفتر گیا، تو دیکھا کہ 'ٹائمز آف انڈیا' کی سینئر صحافی موہا چٹرجی بھی وہیں براجمان تھیں۔ وہ گھوشال پر اصرار کر رہی تھیں کہ وہ اڈوانی کے پاس مودی کی وکالت کریں، کیونکہ وہ دہلی کے صحافیوں سے واقف ہیں۔ اس لیے اگر وہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ بنتے ہیں، تو وہاں جانا ہوا تو ٹھہرنے وغیرہ کے لیے جگہ تو ملے گی۔ گھوشال ہنس کر کہنے لگے: 'بھلا اڈوانی جی گجرات کے معاملے میں، جہاں کی گاندھی نگر سیٹ سے وہ خود لوک سبھا پہنچتے ہیں، مجھ جیسے ایک بنگالی صحافی کے کہنے پر پارٹی کے اتنے بڑے فیصلے پر مہر کیوں لگائیں گے؟'
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ خود وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپئی مودی سے سخت بیزار تھے۔ ستمبر 2000 میں جب واجپئی سرکاری دورے پر امریکہ گئے تھے، تو مودی نے وہاں پہنچ کر گجراتی تارکینِ وطن کے بڑے بڑے شو اور اجتماعات ترتیب دیے تھے۔ بالکل اسی طرز کے پرشکوہ جلسے جن کے انعقاد کے وہ آج کل عادی ہو چکے ہیں۔
واجپئی تقریب میں تو شریک ہوئے مگر ان کے ماتھے کی تیوری نہ اتری۔ وہ کسی بیرونی ملک میں اس طرح کا شو کرنے کے خلاف تھے۔ دہلی واپسی پر مودی پارٹی دفتر میں واجپئی کے سامنے آنے سے کتراتے تھے۔ ایک دن واجپئی کی نگاہ ان پر پڑ ہی گئی تو انہوں نے اپنے مخصوص دھیمے مگر زہریلے طنز میں پوچھا: 'ارے نریندر! کب سے ہندوستان میں ہو؟ آج کل صرف امریکہ ہی میں ہوتے ہو!'
مرکزی قیادت کی اس بیزاری، واجپئی کے سرد رویے اور گجرات میں کسی غالب ذات کی پشت پناہی نہ ہونے کے باوجود قسمت نے مودی کی یاوری کی۔ درحقیقت کسی بڑی ذات سے تعلق نہ ہونا ہی ان کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔
پاٹیداروں اور کشتریوں کی انا کی جنگ میں ایک ایسا غیرمعروف شخص جو دونوں میں سے کسی دھڑے کا نہیں تھا، دونوں کے لیے قابلِ قبول مصالحتی مہرہ بن گیا۔ کیشوبھائی پٹیل نے بھی غالباً یہ سوچ کر خاموشی سادھ لی کہ یہ محض چند ماہ کا 'اسٹاپ گیپ ارینجمنٹ' ہے، جس کے بعد وہ دوبارہ تخت نشین ہو جائیں گے۔
مگر مودی کے ارادے کہیں زیادہ خونخوار اور دور رس تھے۔ انہوں نے وشو ہندو پریشد کے شعلہ بیان پروین توگڑیا سے اتحاد قائم کیا تھا اور سیاست کو ذات پات کے کھکھیڑ سے نکال کر جارح ہندوتوا کے دہکتے ہوئے میدان میں لا کھڑا کیا۔
پاٹیداروں اور پسماندہ ذاتوں کو مسلم دشمنی کے ایک مشترکہ دھاگے میں پرو کر ایک نیا انتخابی حلقہ تراش لیا گیا جس نے گجرات پر اگلے بارہ سال تک ان کے بلاشرکتِ غیرے راج کی ضمانت فراہم کر دی۔ پھر فروری 2002 کے ریاست گیر مسلم کش فسادات نے مودی کو ایک ایسی پولرائزنگ علامت بنا دیا جسے ہندوتوا کا سپہ سالار مان لیا گیا، اور ستمبر 2002 میں احمد آباد کے اکشر دھام مندر پر حملے نے انتخابی بساط پر ان کے حق میں آخری کیل ٹھونک دی۔

گجرات میں جب انہوں نے اقتدار میں براجمان رہنے کا فارمولہ تیار کر لیا تو پروین توگڑیا اور ان کے دستِ راست گوردھن زڑافیا کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال باہر کر دیا۔
دہلی کے تخت پر 2014 میں براجمان ہونے کے بعد مودی نے پچھلی دہائی میں ہر بحران کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی شاطرانہ مشق جاری رکھی۔ 2016 میں نوٹ بندی کے معاشی خودکش حملے نے کروڑوں گھرانوں کے چولہے بجھا دیے، مگر مودی نے اسے کمال ہوشیاری سے بدعنوانی کے خلاف اور قومی سلامتی کی قربانی کا نام دے کر عوام کے گلے اتار دیا۔ 2019 کے انتخابات سے عین قبل جب بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے باعث ان کا گراف تیزی سے گر رہا تھا، تو پلوامہ کے المیے اور بالاکوٹ پر بمباری نے ایسا طوفان کھڑا کیا کہ سارا ملک جنگی جنون کے نشے میں مبتلا ہو گیا۔
اگرچہ بعد میں جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے اس پورے سانحے کے اندوہناک پہلوؤں اور حکومتی غفلتوں سے پردہ اٹھا کر مودی کے اخلاقی بت کو پاش پاش کر دیا، مگر تب تک وہ الیکشن جیت چکے تھے۔
لیکن جون 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے چوتھائی صدی میں پہلی بار مودی کے اس طلسماتی بت پر کاری ضرب لگائی۔ وارانسی کی اپنی نشست پر جہاں 2019 میں انہوں نے 4 لاکھ 79 ہزار ووٹوں کے فرق سے الیکشن جیتا تھا، 2024 میں صرف 1 لاکھ 52 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیت گئے۔ ابتدائی کئی راؤنڈ میں وہ کانگریس کے ایسے امیدوار، جس کی مہم چلانے بھی کوئی لیڈر نہیں آیا تھا، سے پیچھے چل رہے تھے۔ بی جے پی تن تنہا 62 نشستوں سے محروم ہو کر سادہ اکثریت سے محروم ہو گئی۔
زمینی رپورٹس بتاتی ہیں کہ بی جے پی دو سو سیٹوں کا ہندسہ پار نہیں کر پاتی، اگر درجن بھر سیٹوں پر الیکشن کمیشن کی مدد شامل نہ ہوتی۔ 2024 میں وہ سرحد پار پاکستان کا خوف نہیں بیچ سکے، لہٰذا انہوں نے تاریخ کی غلیظ ترین انتخابی مہم چلاتے ہوئے ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کو نشانہ بنایا، ماؤں بہنوں کے 'منگل سوتر' چھیننے کا خوف دلایا اور اقلیتوں کو 'گھس بیٹھئے' قرار دیا۔ مگر اس بار اندرونی نفرت کا یہ زہر اس طرح کام نہ کر سکا جس طرح 2019 کے جنگی ماحول نے کیا تھا۔
انتخابی دھچکے اور اکثریت سے محرومی کے بعد جب مودی نے دیکھا کہ جمہوری میدان میں زمین تنگ ہو رہی ہے، تو مبینہ طور پر انتخابی فہرستوں میں شاطرانہ رد و بدل اور 'اسپیشل انٹینسیو ریویژن' (ایس آئی آر) اور فارم 6 کے ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومت مخالف ووٹروں کا صفایا کرنے کی سازشیں شروع کی گئیں، جسے آج پورا ملک 'ووٹ چوری' کے نام سے جانتا ہے۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ جہاں پولنگ بوتھ پر شکست نوشتۂ دیوار نظر آئی، وہاں الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹر لسٹوں کا ہی صفایا کر دیا گیا۔ یہی ووٹ چوری اور ادارہ جاتی ڈکیتی وہ چنگاری بنی جس نے آج دہلی کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

سڑکوں پر شروع ہونے والا جنتر منتر کا احتجاج کوئی روایتی سیاسی واویلا نہیں ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر شروع ہونے والی اس مہم کو لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے اب براہِ راست نریندر مودی، امت شاہ اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے گریبان تک پہنچا دیا ہے۔
دہلی کا محاصرہ توڑنے کے لیے جب حکومت نے پچاس سے زائد میٹرو اسٹیشن کو تالے لگائے، دہلی آنے والی ٹرینیں منسوخ کیں اور ہزاروں کی تعداد میں پیرا ملٹری فورسز کے دستے تعینات کیے، تو دنیا نے دیکھا کہ وہ حکومت جو خود کو 56 انچ کے سینے کی علامت کہتی تھی، اپنے ہی دارالحکومت میں قیدی بن چکی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے ایک بار کہا تھا کہ ہندوستانی ریاست ایک بے حس اور طاقتور ہاتھی کی مانند ہے؛ یہ کسی بھی احتجاج یا عوامی چیخ و پکار پر اپنا سارا بھاری بھرکم جسم ڈال کر اتنی دیر تک بیٹھ سکتی ہے جب تک کہ وہ احتجاج خود اپنے بوجھ تلے دم نہ توڑ دے۔
کسان تحریک میں بھی ریاست نے اسی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا تھا، مگر کسانوں کے معاشی گھیراؤ نے بالآخر ہاتھی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن آج جنتر منتر کے سامنے جو قوت صف آرا ہے، ریاست کی پرانی مشینری اس کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہی ہے۔
اس تحریک کی باگ ڈور روایتی اور بوڑھی سیاست کے ہاتھ میں نہیں ہے؛ یہ 'جنریشن زی' (جین زی) کی سرکشی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو امتحانی پرچوں کے اسکینڈلوں، ڈگریوں کے باوجود روزگار کے فقدان اور تباہ حال سرکاری اسکولوں سے تنگ آ کر میدان میں اتری ہے۔
اس نسل کو ای ڈی اور سی بی آئی کی پرانی فائلوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا۔ وہ سوشل میڈیا کے جس اسلوب میں مودی کی تقاریر کا مذاق اڑا رہے ہیں، بی جے پی کا پورا آئی ٹی سیل اور اس کا رائٹ ونگ ایکو سسٹم اس بے باکی کے سامنے گنگ ہو چکا ہے۔

معروف صحافی شیکھر گپتا کے الفاظ میں، مودی کا پچیس سالہ اقتدار جن تین ستونوں پر ایستادہ تھا، یعنی جارح ہندو راشٹر کا بیانیہ، بغیر کسی لیکیج کے براہِ راست فلاحی اسکیموں کی ترسیل، اور چمکتی ہوئی سڑکوں اور ریلوے ٹریکس کا مادی انفراسٹرکچر؛ وہ تینوں بنیادیں ایک ساتھ ڈول رہی ہیں۔
سابق فنانس سکریٹری سبھاش چندر گرگ نے جی ڈی پی کے سرکاری اعداد و شمار کے جھوٹ کو بے نقاب کر کے جو بحث چھیڑی ہے، اس نے نام نہاد معاشی استحکام کا بھرم کھول دیا ہے۔ مہنگائی کی بلند ترین شرح، ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار روپیہ، اسٹاک مارکیٹ میں مڈل کلاس کے کھربوں روپوں کا صفایا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) کا ہندوستان سے انخلا ثابت کر رہا ہے کہ مودی کا معاشی غبارہ پھٹ چکا ہے۔ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے تئیں عوامی بداعتمادی نے اس بحران کو ایک گہرے آئینی المیے میں بدل دیا ہے۔

مگر سب سے زیادہ سنگین دراڑیں خود بی جے پی کے اپنے خیمے اور ناگپور کے دربار میں پڑ چکی ہیں۔ تاریخ کا اصول ہے کہ آمرانہ قیادت کی گرفت اسی وقت تک مضبوط رہتی ہے جب تک وہ فتوحات کی ضمانت دیتی رہے۔
جون 2024 کے بعد سے بی جے پی کے اندر مودی کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے اتحاد نے گنگا کے میدانوں میں بی جے پی کو جو پٹخنی دی ہے، اس نے پارٹی کی ریاستی اکائیوں کو بغاوت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اب دہلی دربار کے طفیلی نہیں رہے۔ انہوں نے رام مندر کے 'چندہ چوری' اسکینڈل کے داغوں سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے ہندوتوا کے کٹر حامیوں اور ناگپور کے سنگھ ہیڈکوارٹر میں اپنی الگ دھاک بٹھا لی ہے۔ ناگپور میں موہن بھاگوت کھلے عام یوگی کی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، جبکہ دہلی کی مرکزی قیادت یوگی کے پر کترنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
حکمران اتحاد کی چھوٹی حلیف پارٹیاں جو کل تک مودی کی دہلیز پر سر بسجود رہتی تھیں، آج کھلے عام تضحیک پر اتر آئی ہیں۔ چراغ پاسوان بہار کے اندر بی جے پی حکومت کے نظم و نسق کا تمسخر اڑا رہے ہیں، تو اوم پرکاش راج بھر وزیرِ اعظم کے ساتھ اپنی اندرونی بات چیت کو میڈیا میں لا کر مرکزی قیادت کو تماشائے اہلِ کرم بنا رہے ہیں۔
کابینہ میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا، وزرا کی اسامیاں خالی ہونے کے باوجود کابینہ میں رد و بدل کی ہمت نہ ہونا، اور پارلیمنٹ کو غیر معینہ مدت تک ملتوی رکھنے کے بعد بھی باضابطہ ختم نہ کر پانا مودی کے اندر کی تاریخی جھجھک اور خوف کا بیّن ثبوت ہے۔

اس پورے ڈرامے میں سب سے گہرا تذبذب راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خیمے میں ہے۔ سنگھ بنیادی طور پر شخصیت پرستی اور 'فردِ واحد' کی لیڈرشپ کے ہمیشہ خلاف رہا ہے۔ مودی نے گزشتہ دس سالوں میں سنگھ کو اس دلیل کے تحت خاموش رکھا کہ وہ سنگھ کے صد سالہ خواب، یعنی دفعہ 370 کی منسوخی، رام مندر کی تعمیر اور ہندوتوا کے نفاذ کو برق رفتاری سے پورا کر رہے ہیں۔
سنگھ نے اپنے تنظیمی اصولوں کا گلا گھونٹ کر مودی کے استبداد کو اس لیے برداشت کیا کہ ان کا نظریاتی ایجنڈا بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہا تھا۔ مگر آج جب مودی عوام کی نگاہوں میں گر رہے ہیں، ووٹ چوری کے الزامات الیکشن کمیشن کے ساتھ سنگھ کی ساکھ کو بھی داغدار کر رہے ہیں، اور بین الاقوامی تنہائی کا شکار معیشت ڈگمگا رہی ہے، تو ناگپور میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے: کیا سنگھ ایک غیرمقبول اور ڈھلتے ہوئے سورج کا بوجھ ہمیشہ اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھے گا؟
سنگھ کے اندر اب مودی کے بعد کے دور کی صف بندی کھل کر شروع ہو چکی ہے۔ امت شاہ نے اگرچہ دہلی پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے ہیں، مگر تنظیمی کیڈر اور عوام میں ان کی ناپسندیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

مہاراشٹر کے دیویندر فڑنویس ہوں یا یوپی کے یوگی آدتیہ ناتھ، متبادل قیادت کے تیور اب مودی کے لیے کسی خفیہ خطرے کے بجائے ایک کھلا چیلنج بن چکے ہیں۔
جب میں رفیع مارگ پر آئی این ایس بلڈنگ کی اُن خاموش سیڑھیوں کو یاد کرتا ہوں جہاں ایک بے چین، کمزور اور سیاسی سہارے کے متلاشی نریندر مودی نے اڈوانی کی سفارش مانگی تھی، تو اقتدار کی بے ثباتی کا فلسفہ دل پر نقش ہو جاتا ہے۔
جس شخص نے گجرات کے خونی فسادات، اقلیت دشمنی اور ذات پات کے شاطرانہ کھیل کے ملبے پر اپنی تاج پوشی کا محل کھڑا کیا تھا، آج 25 سال بعد تاریخ کے ترازو نے انہیں اسی جگہ لا کھڑا کیا ہے۔
سنجے کے کھوکھے پر چائے پیتے ہوئے جس شخص نے اقتدار کی شطرنج بچھائی تھی، آج لوک کلیان مارگ کے شیش محل میں قید وہی مودی اپنی زندگی کی بدترین تنہائی اور بے بسی سے دوچار ہے۔
اقتدار کے پچیس سال تو پورے ہو گئے، مگر چھبیسویں سال کے آغاز پر ہندوستان کی سڑکوں پر مچلتی 'جنریشن زی' کی گونج یہ نوحہ سنا رہی ہے کہ ہاتھی کے پاؤں تلے زمین اب ہمیشہ کے لیے کھسک چکی ہے۔

اس موقع پر چند محترم قارئین کے تبصروں کا جواب دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں، جنہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں 2019 اور 2025 کے واقعات کا ذکر کیوں نہیں کیا۔
عرض یہ ہے کہ میرے مضمون کا بنیادی موضوع مودی کے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے قلعے میں پڑنے والی دراڑیں ہیں، نہ کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی فوجی جھڑپوں کی تاریخ۔
2019 کے واقعات کو ہی لیجیے۔ پاکستان نے ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار کیا، مگر بھارت واپسی پر اسی پائلٹ کو بہادری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ مودی نے ان جھڑپوں کو بھارتی عوام کے سامنے پاکستان کے خلاف ایک عظیم فتح کے طور پر پیش کیا۔ اس بیانیے کو اس قدر کامیابی سے فروخت کیا کہ وہ نہ صرف اپنی ساکھ بچانے میں کامیاب رہے بلکہ اسی سال کے عام انتخابات میں بھی شاندار کامیابی حاصل کر لی۔
2025 میں بھی کم و بیش یہی کہانی دہرائی گئی۔ مودی حکومت نے اپنے عوام کو باور کرایا کہ بھارتی افواج نے پاکستان کے نور خان فضائی اڈے کو تباہ کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے حصے نے بھی اسی بیانیے کو آگے بڑھایا۔
یہ درست ہے کہ ان تصادموں، بالخصوص 2025 کے واقعات، نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ اور اس کی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا۔ لیکن داخلی سیاست کا منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ پاکستان کے ساتھ فوجی جھڑپیں مودی کے لیے سیاسی نقصان کے بجائے فائدے کا سودا ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ان واقعات کو قومی افتخار، عسکری برتری اور اپنی مضبوط قیادت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا اور عوامی حمایت سمیٹنے میں کامیاب رہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی عوام کی ایک بڑی تعداد کو حقائق تک آزادانہ رسائی حاصل نہیں۔ ان کے سامنے وہی تصویر آتی ہے جو حکومت اور اس کے ہم نوا ذرائع ابلاغ دکھانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ 2019 ہو یا 2025، دونوں مواقع پر مودی نے فوجی تصادم کو اپنی سیاسی طاقت اور قومی وقار کے مظاہرے میں بدل دیا۔ ان واقعات نے داخلی سطح پر ان کے طاقتور رہنما ہونے کے تاثر کو مزید تقویت دی۔
لیکن میرا مضمون ان کامیابی سے فروخت کیے گئے بیانیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ اس سیاسی طلسم کے ٹوٹنے کے بارے میں ہے جس نے برسوں سے مودی کو ناقابلِ شکست بنا رکھا تھا۔
مودی کے اس مضبوط قلعے کی بنیادیں دراصل کہاں اور کیسے ہلنا شروع ہوئی ہیں، اس کی نشان دہی معروف صحافی شیکھر گپتا نے کی ہے۔ میں نے اپنے مضمون میں انہی کے مشاہدے کا حوالہ دیا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ مودی نے ماضی کے فوجی تصادم کو کس طرح فتح کے جشن میں بدل دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کون سے واقعات اور عوامل ہیں جنہیں اب مودی اپنی روایتی سیاسی شعبدہ بازی اور بیانیہ سازی کے ذریعے چھپانے یا اپنے حق میں موڑنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے؟
میرے مضمون کا موضوع یہی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور مودی کے سیاسی قلعے میں نمودار ہونے والی دراڑیں ہیں۔

***
افتخار گیلانی (جموں و کشمیر)
with thanks: Iftikhar Gilani's facebook post
Keywords: Narendra Modi, Modi 25 years in power, Iftikhar Gilani, Narendra Modi political journey, Modi government analysis, Bharatiya Janata Party, BJP leadership, RSS and BJP, Indian politics, Hindutva politics, Gujarat politics, NDA coalition government, Indian opposition, electoral roll controversy, voter fraud allegations, youth political protests, political commentary

Narendra Modi's Political Challenges: Iftikhar Gilani's Analysis
Narendra Modi's 25 Years in Power: Iftikhar Gilani on BJP, RSS and Emerging Political Challenges