ادبی انعامات اور جیوری کی جواب دہی: الزام، ثبوت اور فیصلے کے درمیان

mumbai-urdu-news-mukarram-niyaz-4oct2026

معروف مدیر، ادیب و ناقد اشعر نجمی نے اپنے ایک حالیہ مضمون "ادبی انعامات، جیوری کی جواب دہی اور 'فکری اخلاقیات' کا بحران" (شائع شدہ: ممبئی اردو نیوز، 27/ستمبر 2026ء) میں ایک ایسا سوال اٹھایا ہے جسے محض خالد جاوید، ان کے ناول "نعمت خانہ" یا جے۔سی۔بی انعام کے دفاع و مخالفت تک محدود کر دینا شاید مناسب نہیں ہوگا۔

(1) ایک اہم سوال، جس سے اختلاف نہیں

سوال بنیادی طور پر یہ ہے کہ بڑے ادبی انعامات دینے والے اداروں اور ان کی جیوریوں کی فکری اور اخلاقی جواب دہی کہاں تک ہے؟ کسی کتاب کو خطیر رقم کے ساتھ ایک معتبر ادبی اعزاز ملتا ہے تو اس کا اثر صرف مصنف کی شہرت یا کتاب کی فروخت تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے ترجمے، تنقیدی پذیرائی، تدریسی توجہ اور ادبی قدر و منزلت کے تعین پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اس لیے کسی جیوری کو تنقیدی سوالات سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس حد تک اشعر نجمی کا سوال نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ اگر کسی انعام یافتہ کتاب کے بارے میں، بعد میں واقعی ایسے شواہد سامنے آئیں جن سے غیر منسوب نقل، سرقہ یا کسی دوسرے متن کے غیر معمولی استعمال کا سنجیدہ شبہ پیدا ہوتا ہو تو متعلقہ ادارے اور جیوری سے سوال کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت پڑے تو آزادانہ علمی جانچ کا مطالبہ بھی نامناسب نہیں۔ لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں "تحقیق کا مطالبہ" کرنے سے پہلے "تحقیق کا نتیجہ" بھی صادر کر دیا جائے۔ اشعر نجمی کے مضمون کی بنیادی کمزوری ہمارے نزدیک یہی ہے۔

(2) الزام، شہادت اور فیصلہ: تین الگ مرحلے

اشعر نجمی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خالد جاوید کے پانچ ناولوں میں مختلف مغربی کتابوں، مصنفوں، فلموں اور فکری ماخذ سے مماثلتیں نشان زد کرتے رہے ہیں۔ یہ تقابلی مطالعہ اپنی جگہ قابلِ توجہ ہے اور اس نے ایک مفید ادبی بحث کا دروازہ بھی کھولا ہے۔ لیکن کسی "مماثلت کی دریافت" اور "سرقہ" کے اثبات کے درمیان کئی علمی مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ مماثلت کس نوعیت کی ہے: موضوع کی، پلاٹ کی، کردار کی، فضا کی، استعارے کی، اسلوب کی، کسی مخصوص منظر کی یا عین عبارت کی؟ پھر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ممکنہ ماخذ تک مصنف کی رسائی ثابت یا قرینِ قیاس ہے یا نہیں؟ مماثلت عمومی ادبی روایت سے تعلق رکھتی ہے یا کسی مخصوص متن سے؟ اخذ شدہ عنصر کو نئی تخلیق میں کس حد تک تبدیل کیا گیا؟ اور کیا اصل متن کی کوئی ایسی منفرد تخلیقی ساخت منتقل ہوئی ہے جسے محض اثر، تلمیح یا بین المتونیت (Intertextuality) سے سمجھانا دشوار ہو؟ ان مراحل سے گزرنے کے بعد ہی "سرقہ" ایک قابلِ بحث نتیجہ بن سکتا ہے۔ اشعر نجمی کے استدلال میں اکثر یہی درمیانی فاصلہ بہت تیزی سے طے ہو جاتا ہے، یعنی: مماثلت دریافت ہوئی، ماخذ تجویز ہوا اور پھر "تصوراتی سرقہ"، "فکری ڈکیتی" یا "چربہ" فیصلہ بن گیا۔ یوں جواب دہی کا مقدمہ قائم کرنے سے پہلے جرم کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔

(3) علمی سرقہ اور تخلیقی ادب ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپے جا سکتے

اشعر نجمی اپنے استدلال میں طبیعیات، طب اور معاشیات کی علمی تحقیق کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی نوبل انعام یافتہ تحقیق کا بنیادی نمونہ یا اعداد و شمار کسی دوسرے کے کام کا چربہ ثابت ہوں تو تحقیقی ادارے کارروائی کرتے ہیں۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے، مگر یہاں علمی تحقیق اور تخلیقی ادب کے درمیان ایک بنیادی فرق نظر انداز ہو جاتا ہے۔ تحقیقی مقالے میں کسی دوسرے محقق کا مخصوص خیال، دریافت، اعداد و شمار یا عبارت بلا حوالہ اپنے نام سے پیش کرنا علمی بددیانتی ہے۔ فکشن میں معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔ قصے، اساطیر، کرداروں کے نمونے، موضوعات، بیانیہ ترکیبیں اور سابق متون مسلسل نئی تخلیقات میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نظریے میں بین المتونیت، تلمیح، تخلیقی اخذ (Adaptation)، بازآفرینی، خراجِ تحسین (Homage)، پیروڈی اور سرقہ الگ الگ تصورات ہیں۔ امیتابھ باگچی بھی اسی بنیادی فرق سے اپنی بحث شروع کرتے ہیں۔ (ح:1)
اس فرق کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ فکشن میں سرقہ ممکن نہیں۔ بلکہ مطلب صرف یہ ہے کہ فکشن میں سرقہ ثابت کرنے کے لیے مماثلت سے زیادہ ٹھوس معیار درکار ہے۔ اردو کی حالیہ تنقیدی تاریخ میں اس فرق کی ایک معروف مثال گوپی چند نارنگ کی "ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات" پر عمران شاہد بھنڈر کی تحقیق ہے۔ بھنڈر نے محض فکری یا موضوعاتی مماثلت کا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اصل انگریزی عبارتوں کے مقابل نارنگ کی اردو عبارتیں رکھ کر غیر منسوب ترجمے اور اخذ کی نشان دہی کی۔ بعد میں سی۔ ایم۔ نعیم نے بھی اس مواد کا الگ سے جائزہ لے کر بھنڈر کے بنیادی انکشاف کی تائید کی۔ (ح:2) یوں یہاں دعویٰ، قابلِ موازنہ متنی شہادت اور دوسرے محقق کی آزادانہ جانچ۔۔۔ تین الگ مرحلے دکھائی دیتے ہیں۔

(4) امیتابھ باگچی نے حقیقتاً کیا کہا؟

یہاں اشعر نجمی کے ایک اہم دعوے کو اصل ماخذ کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ امیتابھ باگچی نے خالد جاوید کے ناولوں کے مغربی مآخذ سے متعلق ان کے پیش کردہ دستاویزی شواہد کو اتنا "تفصیلی اور ناقابلِ تردید" تسلیم کیا کہ آدمی دنگ رہ جائے، لیکن پھر اسی "فکری چوری" کو جائز تہذیبی ادھار ثابت کرنے کے لیے والمیکی، تلسی داس اور گریش کرناڈ کا سہارا لیا۔ باگچی کا اصل مضمون پڑھنے پر صورت اس سے مختلف نظر آتی ہے۔ وہ اشعر نجمی کے پیش کردہ حوالوں کی وسعت اور تفصیل کو سراہتے ہیں، ان کی تحقیق کو بصیرت افروز قرار دیتے ہیں اور خالد جاوید کے متون کے بعض دوسرے ادبی و فنی مآخذ سے روابط کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔۔۔ لیکن "ناقابلِ تردید" ان کا لفظ نہیں، نہ وہ ان روابط کو "فکری چوری" کا ثابت شدہ مقدمہ قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ صاف لکھتے ہیں کہ اشعر نجمی کی نشان زدہ مماثلتوں سے وہ اس نتیجے پر قائل نہیں کہ خالد جاوید کی بطور ناول نگار حیثیت منہدم ہو جاتی ہے۔ 'نعمت خانہ' کے معاملے میں بھی وہ مائیکل ٹورنیئر (Michel Tournier) سے تعلق کو "خاصا قریب"، مگر ہیری کریسنگ (Harry Kressing) کے "دی کُک" سے تعلق کو "اتنا قریب نہیں" سمجھتے ہیں۔ (ح:1) اس لیے باگچی کے موقف سے اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے، مگر پہلے اسے اسی حد تک منسوب کرنا چاہیے جس حد تک انہوں نے خود بیان کیا ہے۔
اشعر نجمی کا ایک اصولی امتیاز بہرحال درست ہے: تسلیم شدہ اخذ اور غیر منسوب سرقہ ایک چیز نہیں۔ گریش کرناڈ اگر اپنے ڈرامے کے قدیم ماخذ کی نشان دہی کرتے ہیں تو اسے کسی جدید مصنف کی منفرد تخلیقی ساخت خاموشی سے اختیار کرنے کے مساوی نہیں کہا جا سکتا۔ اصل اختلاف اس اصول پر نہیں بلکہ اس کے اطلاق پر ہے: کیا 'نعمت خانہ' کے بارے میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے کسی مخصوص جدید متن کی منفرد تخلیقی ساخت اس درجے میں اخذ کی کہ ادبی اثر، تخلیقی بازآفرینی یا بین المتونیت (Intertextuality) کی توضیح ناکافی ہو جاتی ہے؟ اسی لیے 'نعمت خانہ' کو زولا اور کریسنگ کا "ہوبہو ساختیاتی چربہ" قرار دینے کے لیے موضوعاتی مماثلتوں سے زیادہ مضبوط تقابلی شہادت درکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشعر نجمی کا چند پیراگراف بعد یہ کہنا مزید جانچ چاہتا ہے کہ: ان کی "دستاویزی اور متنی تنقید" سے یہ "ثابت کر دیا جاتا ہے" کہ 'نعمت خانہ' کا وجودی ڈھانچہ زولا اور کریسنگ کے پیروں پر کھڑا ہے۔ انہوں نے مماثلتیں اور ممکنہ مآخذ یقیناً پیش کیے ہیں۔ سوال ان کی موجودگی کا نہیں بلکہ ان سے اخذ کیے گئے نتیجے کا ہے۔ کسی ناقد کا اپنے شواہد کو "فیصلہ کن" سمجھنا اور انہی شواہد کا آزادانہ تقابلی جانچ میں فیصلہ کن ثابت ہونا دو مختلف علمی مراحل ہیں۔
یہ فرق خود اشعر نجمی کے اگلے مطالبے سے اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ مضمون کے آخر میں وہ تقابلی ادب کے غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی سے "اس سرقے کا آڈٹ" کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر سرقہ پہلے ہی دستاویزی اور متنی طور پر "ثابت" ہو چکا ہے تو غیر جانب دار تحقیقاتی کمیٹی کو آخر کس سوال کا فیصلہ کرنا ہے؟ اور اگر آزادانہ جانچ ابھی مطلوب ہے تو زیادہ محتاط علمی تعبیر یہی ہوگی کہ اشعر نجمی نے سرقے کے حق میں شواہد اور استدلال پیش کیے ہیں، نہ یہ کہ سرقہ حتمی طور پر ثابت ہو چکا ہے۔ اسی مقام پر باگچی کے اختلاف کو اپنی "فکری نااہلی" پر پردہ ڈالنے کی "دانستہ کوشش" کہنا بھی استدلال سے آگے بڑھ کر ان کی نیت کے تعین تک پہنچ جاتا ہے۔ باگچی کے دلائل کی کمزوریاں دکھائی جا سکتی ہیں اور ان کی سابقہ جیوری رکنیت کے باعث ان کے موقف پر سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن "دانستہ پردہ پوشی" ایک الگ دعویٰ ہے، کیونکہ علمی تنقید میں دلیل کی کمزوری دکھانا اور مصنف کی غیر ظاہر شدہ نیت متعین کرنا دو مختلف امور ہیں۔

(5) عالمی نظیریں: کیا وہ واقعی یہی ثابت کرتی ہیں؟

اشعر نجمی نے اپنے مقدمے کی تائید میں یان مارٹل (Yann Martel) کے "لائف آف پائی" (Life of Pi)، ہیلن ڈارول (Helen Darville) کے "دی ہینڈ دیٹ سائنڈ دی پیپر" (The Hand That Signed the Paper) اور ایلکس ہیلی (Alex Haley) کی "روٹس" (Roots) کی مثالیں پیش کی ہیں۔ لیکن ان تینوں واقعات کو الگ الگ دیکھنے پر کچھ زیادہ پیچیدہ تصویر سامنے آتی ہے۔ "لائف آف پائی" کے معاملے میں مارٹل نے برازیلی ادیب مواسیئر اسکلر (Moacyr Scliar) کے ناول "میکس اینڈ دی کیٹس" (Max and the Cats) کے بنیادی تصور سے تحریک پانے کا ذکر خود کتاب میں کیا تھا۔ تنازع ضرور اٹھا، مگر بعد میں اسکلر نے قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دونوں کتابوں کے نمایاں اختلافات بھی سامنے آئے۔ آج بھی بکر پرائز کی سرکاری ویب سائٹ "لائف آف پائی" کو 2002 کا انعام یافتہ ناول درج کرتی ہے۔ (ح:3، ح:4)
"روٹس" کا معاملہ اس سے مختلف اور کہیں زیادہ سنگین تھا۔ ہیرالڈ کورلینڈر (Harold Courlander) نے اپنی کتاب "دی افریقن" (The African) سے متعدد عبارتوں کی مماثلت پیش کی، مقدمہ عدالت پہنچا اور بالآخر مالی تصفیہ ہوا۔ خود ہیلی نے بھی تسلیم کیا کہ کورلینڈر کی کتاب کا کچھ مواد "روٹس" میں پہنچ گیا تھا۔ لیکن قابلِ ذکر حقیقت یہ ہے کہ پلٹزر کی سرکاری فہرست، آج بھی ایلکس ہیلی کا 1977 کا خصوصی اعزاز برقرار رکھتی ہے۔ (ح:5، ح:6)
ہیلن ڈارول/ڈیمیڈینکو کا 1995 کا مائلز فرینکلن قضیہ بھی شدید ادبی تنازع، مصنفہ کی جعلی نسلی شناخت اور سرقے کے الزامات سے وابستہ تھا، مگر اس واقعے کو اس سادہ مفہوم میں پیش کرنا درست نہیں کہ سرقہ ثابت ہوا اور انعام واپس لے لیا گیا۔ البتہ اس تنازع کے بعد مائلز فرینکلن کے ضابطوں میں تخلیق کے اصل ہونے کی واضح شرط شامل ہوئی اور بعد کے ضابطوں میں انعام واپس لینے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ (ح:7) ان مثالوں سے جواب دہی کی ضرورت ضرور ثابت ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ الزام، ادبی تنازع، قانونی کارروائی، ثابت شدہ نقل اور انعام کی منسوخی ایک ہی چیز کے مختلف نام نہیں ہیں۔
ہندوستان میں بھی 2017 میں چیتن بھگت کے ناول "وَن انڈین گرل" پر انویتا باجپئی نے اپنی کہانی سے کرداروں، مقامات اور جذباتی بہاؤ کے اخذ کا الزام لگایا تو بنگلورو کی عدالت نے ابتدائی مرحلے میں کتاب کی فروخت پر عارضی حکمِ امتناع جاری کیا مگر وہ حتمی اثبات نہیں تھا۔ (ح:8) اس کے مقابل ہندوستانی نژاد امریکی ناول نگار کاویا وشواناتھن کے 2006 کے ناول "ہاؤ اوپل مہتا گاٹ کسڈ، گاٹ وائلڈ اینڈ گاٹ اے لائف" (How Opal Mehta Got Kissed, Got Wild and Got a Life) میں میگن میک کیفرتی کے ناولوں سے متعدد قریب بہ لفظ عبارتیں سامنے آئیں۔ مصنفہ وشواناتھن نے الفاظ کے اخذ ہونے کو تسلیم کیا، اگرچہ اسے غیر شعوری بتایا، اور ناشر نے کتاب واپس منگوا لی۔ (ح:9) فکشن کی یہ مثالیں اسی بنیادی فرق کو نمایاں کرتی ہیں: مماثلت کی نشان دہی، قابلِ سماعت الزام اور سرقے کا مضبوط اثبات الگ الگ درجے ہیں۔ اور جتنا بڑا دعویٰ ہو، اتنی ہی واضح اور قابلِ جانچ متنی شہادت درکار ہوتی ہے۔

(6) جے۔سی۔بی جیوری نے آخر دعویٰ کیا کیا تھا؟

اشعر نجمی نے جے۔سی۔بی جیوری کے توصیفی بیانات کو بھی اپنے مقدمے کا اہم حصہ بنایا ہے۔ جیوری نے "نعمت خانہ" کے انگریزی ترجمے "دی پیراڈائز آف فوڈ" (The Paradise of Food) کو کھانے اور باورچی خانے کے وسیلے سے بدن، گھر اور قوم کا ایک شدید اور مسحور کن بیان قرار دیا۔ اے ایس پنیراسیلون نے اسے انسانی امید، یاس، خواہش اور اضطراب سے متعلق تخلیق اور "جدید تمثیل" کہا، جبکہ باگچی نے اسے اردو کی ادبی روایت میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ (ح:10) یہ سب یقیناً بلند توصیفی فیصلے ہیں اور ان پر تنقید ہو سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک منطقی امتیاز ضروری ہے۔ کسی کتاب کو "منفرد"، "اہم ادبی سنگِ میل" یا "جدید تمثیل" کہنا لازماً یہ دعویٰ نہیں کہ اس کے تمام موضوعات، استعارے، فضا، باورچی خانہ، خوراک، تعفن یا جسمانی کراہت کے تصورات انسانی ادب میں پہلی مرتبہ اسی مصنف نے ایجاد کیے ہیں۔ ادبی قدر کا فیصلہ اور تاریخی اولیت کا دعویٰ ایک ہی چیز نہیں کہلایا جا سکتا۔

(7) جواب دہی ضرور ہو، مگر دونوں طرف سے

اشعر نجمی کا یہ اصرار قابلِ قدر ہے کہ ادبی انعامات اور ان کی جیوریاں تنقیدی محاسبے سے بالاتر نہیں۔ کسی بڑے انعام کی مالی قدر، ادارہ جاتی وقار یا بین الاقوامی شہرت اسے سوال سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔ لیکن علمی جواب دہی یک طرفہ اصول بھی نہیں۔ جو معیار جیوری سے مطلوب ہے، وہی معیار الزام عائد کرنے والے ناقد سے بھی مطلوب ہوگا۔ یہاں زبان/اسلوب کا مسئلہ بھی اہم ہو جاتا ہے۔ "اسمگل شدہ جدیدیت"، "مسروقہ مال"، "نااہل سارق"، "فکری ڈکیتی" اور "مغربی فکشن کے مزاروں سے چرایا ہوا کفن" جیسی تراکیب ایک جارحانہ ادبی نثر میں موثر تو ضرور کہلائی جا سکتی ہیں، مگر یہ دلیل یا شہادت کا بدل نہیں ہیں۔ خصوصاً جب آخر میں خود ایک غیر جانب دار تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہو تو ایک بنیادی سوال ناگزیر ہے: اگر تحقیق ابھی ہونی ہے تو "سارق" اور "فکری ڈکیتی" کا فیصلہ پہلے ہی کس بنیاد پر صادر کر دیا گیا ہے؟
تحقیق کا مطالبہ بالکل درست ہے۔ مگر تحقیق اسی وقت تحقیق رہتی ہے جب اس کا نتیجہ پہلے سے لکھا ہوا نہ ہو۔

حوالہ جات:

(ح:1) - Amitabha Bagchi, "Shake off the Aura: Novelist Amitabha Bagchi on Originality and Borrowing in Literary Writing," Scroll.in, 12 September 2026.
(ح:2) - C. M. Naim, "Narang Nama," CM Naim, 17 November 2013؛ نیز اسی مضمون میں عمران شاہد بھنڈر کی گوپی چند نارنگ کی کتاب ''ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات'' سے متعلق تحقیق اور نعیم کے سابقہ مضامین "Plagiarize and Prosper" اور "The Emperor's New Clothes" کا ذکر۔
(ح:3) - Colin Blackstock, "Booker Winner in Plagiarism Row," The Guardian, 8 November 2002.
(ح:4) - The Booker Prizes, "Life of Pi," Winner, The Man Booker Prize 2002.
(ح:5) - Lee Lescaze and Saundra Saperstein, "Bethesda Author Settles 'Roots' Suit for $500,000," The Washington Post, 14 December 1978.
(ح:6) - The Pulitzer Prizes, "Alex Haley - 1977 Special Citations and Awards," for Roots.
(ح:7) - Miles Franklin Literary Award 2024 Guidelines, Perpetual Limited، بالخصوص شرط 3: تمام اندراجات مصنف کا اصل کام ہونا ضروری ہیں؛ خلاف ورزی ثابت ہونے پر انعام واپس لینے اور انعامی رقم کی واپسی کی گنجائش۔ نیز Helen Darville/Demidenko، The Hand That Signed the Paper، Miles Franklin Award 1995 سے متعلق ادبی تنازع۔
(ح:8) - Vikram Gopal, "Chetan Bhagat's Novel One Indian Girl Gets Temporary Injunction for Plagiarism," Hindustan Times, 16 June 2017.
(ح:9) - David A. Fahrenthold, "Publisher Pulls Young Author's Suspect Novel: Bestseller Contained Lines From Another Writer's Books," The Washington Post, 27 April 2006.
(ح:10) - JCB Prize for Literature, "The Paradise of Food," Winner of the JCB Prize for Literature 2022; 2022 Jury: AS Panneerselvan (Chair), Rakhee Balaram, Amitabha Bagchi, J. Devika and Janice Pariat.


Keywords: Ashar Najmi, Khalid Javed, Nemat Khana, The Paradise of Food, JCB Prize for Literature, literary awards, jury accountability, literary plagiarism, plagiarism in fiction, conceptual plagiarism, burden of proof, evidence of plagiarism, Urdu literary criticism, contemporary Urdu fiction, Amitabha Bagchi, JCB Prize jury, intellectual ethics, originality in literature, intertextuality, literary ethics
***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

Literary Awards, Jury Accountability and the Burden of Proof
Literary Awards and Jury Accountability: Plagiarism, Evidence and the Debate over Khalid Javed's Nemat Khana. Critical Analysis: Mukarram Niyaz.