ادبی انعامات، جیوری کی جوابدہی اور 'فکری اخلاقیات' کا بحران

Literary Awards, Jury Accountability and Intellectual Ethics; Critical Analysis by Ashar Najmi
Literary Awards, Jury Accountability and Intellectual Ethics

عصری ادب کے عالمی اور ملکی منظرنامے پر اگر غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالی جائے، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ 'ادبی عظمت' کا تعین اب محض قارئین کے ذوقِ سلیم یا وقت کی بے رحم کسوٹی پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی ساخت اور تراش خراش کارپوریٹ اداروں کے فنڈز سے چلنے والے ادبی انعامات کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ انعامات محض کسی کتاب پر توجہ مرکوز نہیں کرتے، بلکہ وہ مارکیٹ، میڈیا اور اکادمیائی حلقوں میں اس کے گرد ایک ایسا طلسماتی 'ہالہ' (Aura) کھینچ دیتے ہیں جس کی چکا چوند کتاب کی تمام تر داخلی خامیوں، ساختیاتی نقائص اور یہاں تک کہ اس کی 'تخلیقی اور اخلاقی حیثیت' پر اٹھنے والے بنیادی سوالات کو بھی نگل جاتی ہے۔ لیکن، جب اسی چمک دمک کے نیچے سے 'تصوراتی سرقے' (Conceptual Plagiarism) اور 'تعمیری تصرف' (Architectural Appropriation) کی ہڈیاں جھانکنے لگیں، تو یہ قضیہ محض کسی ایک مصنف کا ذاتی معاملہ نہیں رہتا، بلکہ اس انعام کی ساکھ، اس کی انتخابی شفافیت اور جیوری کے اخلاقی منصب کا ایک سنگین بحران بن جاتا ہے۔
علم و تحقیق اور سائنس کی دنیا میں اعزازات کی ایک واضح اور اٹل اخلاقی ضابطہ بندی ہوتی ہے۔ اگر فزکس، میڈیسن یا معاشیات کے کسی نوبل انعام یافتہ مقالے کی بابت یہ ثابت ہو جائے کہ اس کا بنیادی ماڈل یا ڈیٹا کسی دوسرے کے فکری ریاض کا چربہ تھا، تو بین الاقوامی اکادمیائی ادارے فورا حرکت میں آتے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹیاں بٹھائی جاتی ہیں، پیپرز واپس لیے جاتے ہیں اور بسا اوقات اعزازی ڈگریاں تک منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ صحافت کے سب سے معتبر 'پلٹزر پرائز' کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں فسانہ طرازی اور غیر مصدقہ مواد سامنے آنے پر ایوارڈز واپس لیے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فکشن کے میدان میں یہ اخلاقی جوابدہی صفر کیوں ہو جاتی ہے؟ کیا ادب صرف اس لیے کسی بھی اخلاقی اور حقائق پر مبنی آڈٹ سے بالاتر ہے کہ وہ 'افسانوی فنتاسی' کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے؟ کیا پچیس لاکھ روپے کی خطیر رقم اور ملک کے سب سے بڑے ادبی اعزاز کی مہر لگانے والے ادارے—جیسے 'جے سی بی لٹریری فاؤنڈیشن'—اس بنیادی چھان بین کے فریضے سے یکسر بری الذمہ ہیں کہ جس کتاب کو 'بے مثال اور اوریجنل' کہہ کر مسند پر بٹھایا جا رہا ہے، اس کا تخیلی بلیو پرنٹ درحقیقت کس کا ہے؟

اس بحث کی معنویت اس وقت اور زیادہ دو آتشہ ہو جاتی ہے جب حال ہی میں انگریزی کے معتبر فکری پلیٹ فارم 'اسکرول' (Scroll.in) پر معروف انگریزی ناول نگار امیتابھ باگچی کا ایک طویل مضمون شائع ہوتا ہے۔
باگچی صاحب نے خالد جاوید کے فن پر ہندی جریدے 'سمالوچن' میں شائع ہونے والی میری جراحت کے جواب میں 'ادب میں ادھار اور اوریجنلٹی' پر ایک فلسفیانہ معرکہ آرائی کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس پورے ڈرامے کا سب سے دلکش اور ستم ظریفانہ پہلو یہ ہے کہ امیتابھ باگچی کوئی غیر جانبدار تماشائی نہیں ہیں؛ وہ سنہ 2022 کی اسی جے سی بی جیوری کے باقاعدہ رکن تھے جس نے خالد جاوید کے ناول 'نعمت خانہ' کے انگریزی ترجمے (The Paradise of Food) کو پچیس لاکھ کا یہ انعام بخشا تھا۔ اب ذرا صورتِ حال کی نزاکت دیکھیے:
جب کسی انعام کی جیوری کا ایک باوقار رکن خود پبلک فورم پر آ کر یہ تاویلیں گھڑنے لگے کہ ادب میں ادھار لینا تو تلسی داس اور یسوداس کے زمانے سے جائز رہا ہے اور قارئین کو مصنف کے 'ہالے کو جھٹک دینا چاہیے'، تو یہ سمجھنے کے لیے کسی ارسطو کی ضرورت نہیں رہتی کہ یہاں ذاتی فلسفہ دانی کی آڑ میں دراصل اپنی ہی جیوری کے تاریخی فیصلے پر پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
باگچی صاحب اپنے مضمون میں یہ کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں کہ خالد جاوید کے ناولوں میں عالمی مآخذ—جیسے تھامس برن ہارڈ، ایمیل زولا اور نیل گیمن—کے متوازی جو دستاویزی شواہد پیش کیے گئے ہیں، وہ اتنے تفصیلی اور ناقابلِ تردید ہیں کہ انسان دنگ رہ جائے۔ لیکن اس فکری چوری کو ایک جائز 'تہذیبی ادھار' ثابت کرنے کے لیے وہ والمیکی، تلسی داس اور گریش کرناڈ کے کندھوں کا سہارا لیتے ہیں۔
یہیں پر وہ بنیادی اخلاقی لغزش واقع ہوتی ہے جسے کسی بھی دیانت دارانہ تنقید میں بے نقاب کیا جانا چاہیے۔ تلسی داس نے جب 'رام چرت مانس' لکھی تو انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ رام کی کہانی ان کی اپنی ایجاد ہے؛ انہوں نے خود کو ایک مقدس، طے شدہ روایت کا ادنیٰ خوشہ چین قرار دیا۔ گریش کرناڈ نے جب اپنا ڈراما 'اگنی اور برکھا' لکھا، تو دیباچے میں واضح طور پر مہابھارت کے 'یوکریت' کی کتھا کا حوالہ دیا اور اس قدیم متن کو اپنے ڈرامے کا کھلا سا شراکت دار بنایا۔ جب جیوری کا ایک رکن 'خاموش ساختیاتی چوری' اور 'تسلیم شدہ خراجِ تحسین' (Homage) کے درمیان کی اس خونی لکیر کو مٹا کر دونوں کو ایک ہی پلڑے میں تولنے لگتا ہے، تو وہ دراصل اس ادارہ جاتی ناکامی پر مٹی ڈال رہا ہوتا ہے جو بطورِ جیوری ان سے سرزد ہوئی۔

'نعمت خانہ' کا مقدمہ محض ایک ناول کا مقدمہ نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر کے ادب میں 'اسمگل شدہ جدیدیت' کے ادارہ جاتی گٹھ جوڑ کی بدترین مثال ہے۔ جس ناول کو جیوری نے ایک 'انوکھا ہندوستانی تجربہ' سمجھ کر نوازا، اس کا پورا باطنی ڈھانچہ، باورچی خانے کو اذیت گاہ بنانے کا اسلوب، کھانے اور گوشت کی سڑاند کے ذریعے وجودی کرب کا ابلاغ (Grotesque Realism)، اور اشیاء کی لامتناہی بیزار کن فہرستیں—براہِ راست فرانسیسی فطرت پسند ادیب ایمیل زولا کے 1873 کے شاہکار 'دی بیلی آف پیرس' (The Belly of Paris) اور ہیری کریسنگ کے ناول 'دی کک' (1965) کا ہوبہو ساختیاتی چربہ ہے۔ جب اس ناول کا انگریزی ترجمہ مارکیٹ میں آیا، تو انگریزی داں جیوری نے اس کی مقامی سڑاند کو ایک مابعد الطبیعیاتی معجزہ سمجھ لیا، کیونکہ ترجمے کے لبادے نے اصل مآخذ کے نقوش کو اور زیادہ دھندلا دیا تھا۔ کیا جیوری کے پاس اس بات کی کوئی کسوٹی تھی کہ وہ یہ پرکھ سکے کہ جسے وہ 'خالد جاوید کی اچھوتی جمالیات' کہہ رہے ہیں، وہ دراصل یورپی نیچرلسٹ ادب کا بنا کسٹم ڈیوٹی ادا کیا ہوا مسروقہ مال ہے؟

عالمی ادبی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب کسی بڑے ایوارڈ یافتہ شاہکار پر فکری بددیانتی کا سایہ پڑتا ہے، تو زندہ اور باضمیر قومیں اسے 'ذاتی عناد' کہہ کر مسترد نہیں کرتیں، بلکہ ادارے اور جیوری اپنے فیصلے کا اخلاقی محاسبہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں سال 2002 کے مَین بُکر پرائز (Man Booker Prize) کی مثال بے حد چشم کشا ہے، جب کینیڈین مصنف یان مارٹل (Yann Martel) کے ناول 'لائف آف پائی' (Life of Pi) کو اس اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا۔ ایوارڈ کے کچھ ہی عرصے بعد جب یہ ہوشربا انکشاف سامنے آیا کہ ناول کا بنیادی ڈھانچہ—ایک کشتی میں لڑکے کا خونخوار جانور کے ساتھ پھنس جانا—برازیلی ادیب مواسیئر اسکلر کے 1981 کے ناول 'میکس اینڈ دی کیٹس' کا فکری سرقہ ہے، تو پوری دنیا کے پریس میں بھونچال آ گیا۔ بُکر پرائز کی انتظامیہ اور جیوری کے سامنے کڑے سوالات رکھے گئے۔ یان مارٹل کو عوامی سطح پر باقاعدہ صفائیاں دینی پڑیں اور کتاب کے اگلے تمام ایڈیشنز میں تحریری طور پر برازیلی مصنف کے تخیل کا احسان ماننا پڑا۔

اس سے بھی زیادہ سنگین اور حتمی مثال آسٹریلیا کے سب سے بڑے ادبی اعزاز 'مائلز فرینکلن ایوارڈ' (Miles Franklin Award) کی ہے، جب 1995 میں ہیلن ڈارول (جس نے ڈیمیڈینکو کے فرضی نام سے لکھا تھا) کے ناول کو اس عظیم انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ بعد میں جب یہ ثابت ہوا کہ ناول کے تاریخی ماڈل اور بیانیے کے ٹکڑے دوسری کتابوں سے چرائے گئے تھے، تو آسٹریلیا کے پورے ادبی اور صحافتی حلقے میں زلزلہ آ گیا۔ جیوری کے ارکان کی اہلیت کا تمسخر اڑا اور پوری انتخابی پالیسی پر نظرِ ثانی کی گئی۔ اسی طرح 1977 میں ایلکس ہیلی کے پلٹزر انعام یافتہ ناول 'روٹس' (Roots) پر جب ہیرالڈ کورلیندر کے ناول سے مواد اڑانے کا الزام ثابت ہوا، تو ہیلی کو عدالت سے باہر ساڑھے چھ لاکھ ڈالر کا ہرجانہ بھر کر اپنی جان چھڑانی پڑی۔ ان تمام عالمی نظیروں میں ایک بات مشترک تھی: کسی بھی ادارے نے مصنف کے 'ہالے' کے پیچھے چھپ کر چوری کو 'تخلیقی روایت' کہہ کر چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
لیکن ہندوستان میں، جہاں جے سی بی ایوارڈ پچیس لاکھ کی خطیر رقم کے بل بوتے پر فکشن کے پیمانے طے کرنے کا دعویدار ہے، منظر بالکل الٹا ہے۔ جب ایک دستاویزی اور متنی تنقید کے ذریعے یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ 'نعمت خانہ' کا وجودی ڈھانچہ زولا اور کریسنگ کے پیروں پر کھڑا ہے، تو جے سی بی فاؤنڈیشن، جس کی باگ ڈور میتا کپور جیسی ادبی ڈائریکٹر کے ہاتھوں میں ہے، پراسرار خاموشی کا روزہ رکھ لیتی ہے۔ اور جیوری کے معزز رکن باگچی صاحب پبلک میں آ کر فرماتے ہیں کہ 'کتابیں تو دوسری کتابوں سے ہی نکلتی ہیں'۔ کیا یہ ایک جیوری ممبر کی جانب سے اپنی ہی فکری نااہلی پر پردہ ڈالنے کی دانستہ کوشش نہیں ہے؟
اس تجارتی اور تماشائی میلے کی سب سے المناک اور سیاہ حقیقت صرف یہ نہیں ہے کہ ایک نقال کو مسیحا بنا کر پیش کر دیا گیا، بلکہ اس سے بڑا اخلاقی گناہ یہ سرزد ہوا کہ کسی نااہل سارق کو نوازنے کا مطلب سیدھا کسی لائق، اصیل اور حقدار ادیب کا گلا گھونٹنا ہوتا ہے!
سنہ 2022 کی جے سی بی شارٹ لسٹ کو ذرا پلٹ کر دیکھیے: وہاں ہندی کی ممتاز فکشن نگار گیتانجلی شری کا بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول 'ریت سمادھی' (Tomb of Sand) موجود تھا؛ وہاں بنگلہ ادب کے سب سے مظلوم اور حقیقی حاشیے سے ابھرنے والے تخلیق کار منورنجن بیاپاری کا شاہکار 'ایمان' موجود تھا؛ وہاں کالمپونگ کی مٹی کے دکھ سمیٹنے والے نیپالی مصنف چودین کابیمو کا 'سونگ آف دی سوائل'(Song of the Soil) تھا؛ اور وہاں مغربی گھاٹ کے قبائلیوں کی پکار بننے والی ملیالم ادیبہ شیلا ٹومی کا ناول 'ولی' (Valli) کھڑا تھا۔ ان تمام ہندوستانی زبانوں کے خون پسینے سے لکھے گئے جینوین اور اوریجنل شاہکاروں کو پسِ پشت ڈال کر، جیوری نے جس 'نعمت خانہ' کو تاج پہنایا، وہ دراصل 19ویں صدی کے فرانسیسی نیچرلسٹ ادب کا سستا چربہ تھا۔ جیوری نے ایک درآمد شدہ ڈھانچے کی نمائش پر فریفتہ ہو کر اپنی ہی دیسی زبانوں کے حقیقی تخلیق کاروں کا حق مارا۔ کیا یہ پورے ہندوستانی ادب کے ساتھ ایک ادارہ جاتی خیانت نہیں تھی؟

اس انتخابی فیصلے کا کھوکھلا پن اس وقت چیخ اٹھتا ہے جب ہم اس شام اسٹیج سے جاری کیے گئے جیوری کے بیانات اور تعریفی توصیف ناموں (Citations) کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جیوری کے چیئرمین اے ایس پنیراسیلون نے فاتح کا اعلان کرتے ہوئے وجدانی لہجے میں فرمایا تھا کہ یہ ناول "انسانی امید، یاس، تمنا اور فکر کا ایک جشن ہے اور کارنیوالیسک عناصر سے لیس ایک جدید تمثیل (Modern Fable) ہے"۔ جیوری نے باقاعدہ اعلان کیا کہ یہ ناول "کھانے اور باورچی خانے کے ذریعے معاصر بدن، گھر اور قوم کا ایک ہپناٹائز کر دینے والا بیان ہے"۔ جیوری کی رکن جینس پیریات نے فرمایا کہ "اس نایاب اور خوبصورت کتاب نے ان سطروں کے ساتھ وہ کر دکھایا ہے جو کم ہی لوگ کر پاتے ہیں، میں اسے پڑھ کر مبہوت اور مسحور رہ گئی"۔ اور باگچی صاحب نے خود تحریری طور پر اسے "اردو کی شاندار روایت میں ایک بے نظیر اور تاریخ ساز سنگِ میل" (Singular and Literary Landmark) قرار دیا تھا!
آج جب حقائق کی دھوپ میں یہ عیاں ہو چکا ہے کہ جسے چیئرمین صاحب "جدید تمثیل" کہہ رہے تھے، وہ ایمیل زولا کے پیرس کی گوشت منڈی اور ہیری کریسنگ کے باورچی کا جھوٹا لقمہ تھا؛ جسے جینس پیریات "مبہوت کن تجربہ" کہہ رہی تھیں، وہ برطانوی ڈراما نگار آرنلڈ ویسکر کے 1957 کے ڈرامے 'دی کچن' (The Kitchen) کی باسی کڑھی تھی؛ اور جسے باگچی صاحب "بے نظیر" (Singular) کا تمغہ دے رہے تھے، وہ مغربی فکشن کے مزاروں سے چرایا ہوا کفن تھا—تو کیا یہ جیوری اپنی فکری نادانی کے کٹہرے میں نہیں کھڑی؟ کیا انگریزی کے اتنے نامور لکھاریوں پر مشتمل جیوری عالمی ادب کے ان بنیادی کلاسیکی شاہکاروں سے اتنی بے خبر تھی کہ انہیں ایک درآمد شدہ ڈھانچے میں 'اردو کا نیا جنم' نظر آ گیا؟ یا پھر یہ وہی احساسِ کمتری تھی جو ہندوستانی زبان میں انگریزی کتابوں کے خاکے دیکھ کر مرعوب ہو جاتی ہے؟
یہاں سیدھے اور تیکھے سوالات امیتابھ باگچی، پنیراسیلون، جینس پیریات، جے دیویکا اور راکھی بلرام سے ہیں: کیا آپ کے اندر یہ اخلاقی جرأت ہے کہ آپ اپنے اس فیصلے کا کھلے عام از سرِ نو جائزہ لیں؟ کیا آپ تسلیم کریں گے کہ جس کتاب کو آپ نے "بے نظیر" کہا تھا، وہ دراصل فکری ڈکیتی کی ایک کلاسیک مثال تھی؟ اور اگر آپ اب بھی اسکرول پر چھپ کر یہ بچکانہ حجتیں تراشیں گے کہ تلسی داس نے بھی والمیکی سے لیا تھا، تو آپ نہ صرف تنقید کی حرمت کا تمسخر اڑا رہے ہیں، بلکہ آپ جے سی بی ایوارڈ کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال رہے ہیں۔

یہ سوال جے سی بی لٹریچر فاؤنڈیشن کی لٹریری ڈائریکٹر میتا کپور اور ان کے معزز ٹرسٹیز کے ضمیر پر بھی ایک ہتھوڑا ہے۔ جب ایک انعام یافتہ کتاب پر ناقابلِ تردید متنی اور ساختیاتی شواہد سامنے آ چکے ہیں، تو کیا فاؤنڈیشن کی ذمہ داری محض پچیس لاکھ کا چیک پھینک کر اپنے برانڈ کی تصویریں کھنچوانا ہے؟ کیا فاؤنڈیشن کے آئین میں 'تخلیقی دیانت داری' کی کوئی شق نہیں ہے؟ اگر دنیا بھر میں ادارے تحقیقات کروا سکتے ہیں، تو جے سی بی فاؤنڈیشن نے مصلحت کا کمبل کیوں اوڑھ رکھا ہے؟
اب گیند جے سی بی فاؤنڈیشن، اس کی جیوری اور پورے ہندوستانی ادبی اشرافیہ کے پالے میں ہے: یا تو وہ آگے بڑھ کر تقابلی ادب کے غیر جانبدار ماہرین پر مشتمل ایک باقاعدہ تحقیقاتی کمیٹی (Fact-Finding Committee) بنائیں جو اس سرقے کا آڈٹ کرے، ورنہ پبلک میں یہ تسلیم کر لیں کہ ان کے انعامات کی بنیاد 'تخلیقی سچائی' نہیں، بلکہ 'کارپوریٹ پی آر اور گروہی اندھا پن' ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب وقت کی عدالت فیصلہ سناتی ہے، تو انعام کے سونے کا پانی اتر جاتا ہے اور صرف چوری کا سیاہ داغ باقی رہ جاتا ہے۔

حوالہ جات اور تقابلی مآخذ (References & Bibliography):
۱۔ متنازع متن اور انعام کے سرکاری بیانات (Primary & Award Sources):
• خالد جاوید: نعمت خانہ، عرشیہ پبلیکیشنز، دہلی / بک کارنر، جہلم، 2014۔ (انگریزی ترجمہ: The Paradise of Food، مترجم: باراں فاروقی، جگاڑناٹ بکس، 2022)۔
• جے سی بی پرائز فار لٹریچر (2022): جیوری چیئرمین اے ایس پنیراسیلون، امیتابھ باگچی، جینس پیریات کے باضابطہ توصیف نامے، پریس ریلیز بتاریخ 19 نومبر 2022۔
• امیتابھ باگچی: "Shake off the aura: Novelist Amitabha Bagchi on originality and borrowing in literary writing"، ویب پورٹل اسکرول (Scroll.in)، اشاعت: مارچ 2026۔
• جے سی بی پرائز 2022 شارٹ لسٹ: گیتانجلی شری (ریت سمادھی)، منورنجن بیاپاری (ایمان)، چودین کابیمو (سونگ آف دی سوائل)، شیلا ٹومی (ولی)۔
۲۔ وہ عالمی مآخذ جن کا ساختیاتی تصرف کیا گیا (Alleged Source Texts):
• Émile Zola: The Belly of Paris (Le Ventre de Paris, 1873), Oxford World's Classics, 2007.
• Harry Kressing: The Cook, 1st Edition, Random House, New York, 1965.
• Arnold Wesker: The Kitchen (Play), Jonathan Cape, London, 1957.
۳۔ انعامات اور سرقے کی تاریخی عالمی نظیریں (Global Prize Precedents):
• مین بُکر پرائز (2002) اور یان مارٹل تنازع: Moacyr Scliar کا ناول Max and the Cats (1981) بنام Yann Martel کا ناول Life of Pi (2001)۔
• مائلز فرینکلن ایوارڈ (1995، آسٹریلیا): Helen Darville کا ناول The Hand that Signed the Paper (جعلی شناخت اور غیر معترف شدہ تاریخی مواد کا قضیہ)۔
• پلٹزر پرائز (1977): Harold Courlander کا ناول The African (1967) بنام Alex Haley کی کتاب Roots (عدالتی تصفیہ اور ہرجانہ)۔
۴۔ تنقیدی اور نظریاتی ماڈلز (Theoretical Framework):
• Posner, Richard A.: The Little Book of Plagiarism, Pantheon Books, New York, 2007 (pp. 17, 33).
• Mallon, Thomas: Stolen Words: The Classic Book on Plagiarism, Penguin Books, 2001 (p. 11).
• Hutcheon, Linda: A Theory of Adaptation, Routledge, New York & London, 2006 (pp. 8–9).
• Genette, Gérard: Palimpsests: Literature in the Second Degree, University of Nebraska Press, 1997.
• Bourdieu, Pierre: The Field of Cultural Production, Columbia University Press, New York, 1993 (p. 42).


اشعر نجمی

Keywords: Ashar Najmi, Khalid Javed, Nemat Khana, The Paradise of Food, JCB Prize for Literature, literary awards, jury accountability, intellectual ethics, literary plagiarism, plagiarism in fiction, conceptual plagiarism, Urdu literature, Urdu literary criticism, literary criticism in India, Amitabha Bagchi, JCB Prize jury, originality in literature, intertextuality, literary ethics, contemporary Urdu fiction
Literary Awards, Jury Accountability and Intellectual Ethics
Literary Awards and Jury Accountability: Ashar Najmi on Plagiarism, Intellectual Ethics and Khalid Javed's Nemat Khana.