اردو ادب کی زبوں حالی: تحقیق، تدریس اور اداراتی دیانت کے سوالات

Crisis in Urdu Literature: Declining Readership, Higher Education, Research Ethics and Editorial Integrity
urdu-literature-crisis-research-education-editorial-ethics

اردو زبان و ادب کی موجودہ صورتِ حال، ادبی رسائل کی گھٹتی ہوئی اشاعت، اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مسائل اور اداراتی دیانت جیسے اہم موضوعات پر سہ ماہی "مژگاں" کے نائب مدیر امیر حمزہ نے اپنے اداریے میں کئی تلخ سوالات اٹھائے ہیں۔ اردو کے علمی و ادبی حلقوں کو غور و فکر کی دعوت دینے والا یہ اداریہ، اصل ماخذ کے اعتراف کے ساتھ، تعمیرنیوز کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ: اداریہ سہ ماہی 'مژگاں' اپریل تا جون 2026
بعنوان: "تکلیف ہوتی ہے !" از: امیر حمزہ (نائب مدیر)

اردو زبان وادب سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر بات کی جائے تو اس صدی کے آغاز سے ہی اس میں لگاتار کمی آرہی ہے۔ کتابی دنیا اب ویسی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ اشاعت کا ہر معاملہ اب کمزور سے کمزور تر ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی و تفریحی جرائد اردو میں اب ناپید ہوچکے ہیں۔ ڈائجسٹ کی دنیا اب یاد پارینہ بن چکی ہے۔ ادبی رسائل و جرائد میں پرائیویٹ ماہانہ جرائد چند ایک ہی بچے ہیں، دو چار سرکاری ماہانہ رسائل ہزار سے دو ہزار میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ کئی سہ ماہی رسائل اداروں سے اور ذاتی دلچسپی پر نکل رہے ہیں ہر ایک کی تعداد محض سیکڑوں میں ہے۔ دہلی کے ایک مشہور ادارے سے ایک معروف سہ ماہی رسالہ نکلتا ہے لیکن ان کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر آپ رسالہ جاری کروانا چاہیں گے تو وہ صاف منع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آن لائن مطالعہ کرلیجیے (یعنی طباعت کو محدود کردیا گیا ہے )یہ سب باتیں ثابت کرتی ہیں کہ اب عمومی سطح پر مطالعہ کی کمی کس قدر ہوچکی ہے۔ یہی نہیں بلکہ یونی ورسٹی کے طلبا میں بھی اب مطالعہ کا فقدان نظر آرہا ہے۔
کوئی بھی معاملہ کلیت کا نہیں ہوتا بلکہ جس طرح ہر میدان میں چند ایک ہی نمایاں ہوتے ہیںجو اپنی محنت ولگن سے جگہ بنانے میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ ایسے افراد یقینا دس ہی فیصد ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ تدریس سے وابستہ اعلی مناصب پر فائز سبھی مقبول و مستند ہوں، ان میں بھی صرف دس فیصد ایسے ہیں جن کے لکھنے پڑھنے کا مشغلہ جاری و ساری ہے، مرکزی سطح پر ان کی تحریروں کی مقبولیت بھی ہے اور وہ اردو ادب میں باضابطہ اپنی ایک رائے بھی رکھتے ہیں۔ ریسرچ اسکالر س میں بھی دس فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا کام منظر عام پر آتا ہے، وہ اپنی جگہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن حالات کا شکار ہوکر آہستہ آہستہ پڑھنے لکھنے سے بہت دور ہوجاتے ہیں اردو میں گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں۔ سندی ریسرچ سے نکلے ہوئے اکثر افراد سسٹم کا شکار ہوکر راہ بدل لیتے ہیں لیکن ان میں بھی دس فیصد ایسے ہوتے ہیں جو لگاتار اپنی تحریروں سے نئی فکر اور تحقیق سامنے لاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں پوری اردو برادری کو ان دس فیصد کے متعلق فکر کرنا اہم ہوجاتا ہے کہ انہیں بہتر لکھنے پڑھنے کا ماحول فراہم کیا جائے تاکہ ایک بہترین فصل کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے، لیکن افسوس کہ اس میںبھی کریم کے بجائے تلچھٹ کو فوقیت دی جاتی ہے۔
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں نوٹ بندی اور لاک ڈاؤن کے بعد حالات بہت ہی زیادہ بدل چکے ہیں۔ ریسر چ اسکالروں کی سہولیات میں بہت زیادہ کمی آگئی ہے، دوسری دہائی کی ابتدا سے وظائف کے حصول میں آپشن کی کمی کی وجہ سے طلبہ کے لیے اعلی تعلیم حاصل کرنا آسان ہوگیا تھا اب سوائے جونئیر ریسرچ فیلوشپ کے سبھی اسکالرشپ بند ہوچکے ہیں، یسے میں ریسرچ سے دلچسپی رکھنے والوں کے سامنے معاشی پریشانی آن پڑی ہے جس سے اعلی تعلیم کی حصولیابی ایک متوسط طبقے کے لیے مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ جس عمر میں لوگ ریسرچ میں داخلہ لیتے ہے وہ زندگی کا بہت ہی نازک اور اہم موڑ ہوتا ہے،یہ عمر عموماباضابطہ روزگار سے جڑکر نئی زندگی شروع کرنے کی ہوتی ہے اور اسی وقت پانچ سال ریسرچ میں بہتر مستقبل کی امید میں لگاتے ہیں۔
اب حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ کسی بھی زاویے سے راہ آسان ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ اعلی تعلیمی اداروں میں طلبہ کا فقدان ہوچکا ہے، مطلوبہ نشستیں بھی خالی رہ رہی ہیں ضوابط کے خلاف جاکر داخلہ دینے کی کوشش دہلی جیسے شہر میں ہورہی ہے پھر بھی اردو ودیگر زبانوں کے طلبہ نہیں مل رہے ہیں۔وجوہات اور نتائج کے طور پر ہم یہ کہہ کر خود کو تسلی دے لیں گے کہ زبانوں کو جب تک روزگار سے نہیں جوڑا جائے گا تب تک یہی حالت ہوگی۔ لیکن طلبہ کی کمی کا معاملہ صرف روزگار کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس میں ہماری بنیادی غلطی بھی شامل ہے کہ ہم اردو کے لیے کمزور سے کمزور تر اور نکمے لوگوں کو منتخب کرتے رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ جن کے یہاں صرف اردو کی ڈگریاں تھیں، ان کے یہاں نہ اردو تعلیم تھی اور نہ ہی اردو کا شعوروہ سسٹم میں داخل ہوگئے، ایسے میں وہ اردو کے لیے نئی کھیپ کس طرح تیار کرسکتے ہیں۔
تین بنیادی صلاحیتوں پر ملکہ حاصل ہونا کسی بھی زبان داں کے لیے بنیادی شرط ہے۔ پڑھنا، لکھنا اور سمجھنا۔اگر ان تینوں میں مکمل قدرت نہ ہو تو وہ آگے طلبہ میں کیا پیش کریں گے۔ اگر متن کی قرات میں روانی اور صوتی معنوی عنصر شامل نہ ہوتوطلبہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ شاید اردو ایسی ہی اٹک اٹک کر پڑھی جانے والی اور تاثر سے عاری زبان ہے۔ املا میں درستی اور رسم الخط میں خوبصورتی نہ پائی جائے، بورڈ پر ٹیڑھی میڑھی اور غلط املا ہی لکھا جائے تو طلبہ میں بھی وہی عادت ابھرتی ہے پھر ایسے میں آپ زبان سے رغبت کہاں تک دلا سکتے ہیں۔ معنوی بد حالی کا معاملہ ایسا ہے کہ اب محاوراتی زبان کا استعمال کرنا تو دور سمجھنا بھی مشکل ہورہا ہے۔ ہم جب تک کسی بھی لفظ کے برمحل استعمال پر قادر نہیں ہوتے ہیں ایسے میں ہم کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ہم زبان داں ہیں اور لفظوں کے معنوی تاثر سے بھی واقف ہیں۔ جب تک ہم ان تینو ںچیز پر قادر نہیں ہوتے ہیں تب تک استادی کے پیشے سے ہم نسلوں کو برباد کررہے ہیں۔
پرائیویٹ اسکولوں کے پیٹرن نے اعلی درجات میں اردو زبان کی تعلیم کو مکمل طور پر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں میں اردو برائے نمائش پڑھائی جاتی ہے،الا ماشاءاللہ۔ اچھے اسکولوں میں اردو کو اسپیس تک نہیں دیا جاتا ہے، والدین بھی نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اردو پڑھیں۔ وہی بچے جب کالج پہنچتے ہیں تو ان کے لیے اردو کا آپشن بالکل بند ہوجاتا ہے ایسے میں چند ہی بچے ہوتے ہیں جو اردو کا پرچہ اختیار کرتے ہیں۔
ان سب سے پرے اس وقت کی معاشی صورتحال ایسی نہیں رہی کہ اسکولی تعلیم کے بعد چار سال کی ڈگری میں متوسط ادنی طبقہ کے بچے مہنگی فیس کے ساتھ ایک ڈگری کورس کریں۔ آج سے پانچ برس قبل جس کو رس کی فیس دہلی یونی ورسٹی میں پندرہ سے اٹھارہ ہزار تھی آج وہ چالیس ہزار کے قریب ہے۔ ہر یونی ورسٹی میں تعلیم بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہے۔ ایسے میں موہوم مستقبل کے ساتھ اردو کی تعلیم جاری رکھنا عام گھروں سے تعلق رکھنے والے بچوں اور بچیوں کے لیے ایک بوجھ ہی ہے۔ جب کالج کی یہ صورتحال ہوگی تو آگے یونی ورسٹی سطح پر کیا نتیجہ ہوگا آپ سوچ ہی سکتے ہیں۔ مجھے ایک یونی ورسٹی کا علم ہے جہاں پر ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اردو کی تعلیم ہے، وہاں اردو میں صر ف ایک ہی مستقل استاد ہیں باقی دو گیسٹ ٹیچر ہیں۔ اس یونی ورسٹی میں بچوں کو ایم اے میں یہ کہہ کر داخلہ دیا جاتا ہے کہ آپ کی تعلیمی فیس ہم اساتذہ ادا کر یں گے اور وہ اساتذہ ایسا کرتے بھی ہیں تب جاکر پانچ یا چھ بچے ایم اے میں داخل ہوتے ہیں۔ جب کہ اس یونی ورسٹی کی ماضی میں اچھی روایت رہی ہے۔
ہمارے یہاں یہ تنزلی کسی ایک جانب سے نہیں ہورہی ہے بلکہ ہر جانب سے کچھ نہ کچھ ہورہا ہے۔ زبان کی سطح پر کسی طور پر ہم مطمئن ہو بھی سکتے ہیں لیکن جہاں سے علم و دانش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے وہاں سے مصلحت پسندی کے نام پر زبان کے ساتھ ظلم بھی ہونے لگتا ہے۔یونیورسٹیوں میں پرانے مکینوں نے جو شان پیدا کی تھی آج ان یونیورسٹیوں کے شعبہ اردو میں سوائے نشانات کے کچھ بھی قابل ذکر نہیں رہ گیا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ اردو زبان و ادب کی تنقید میں جو خطوط متعین ہونے تھے وہ ہوچکے ہیں اب جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ محض خط پر خط کھینچنے کے مماثل ہے۔ یعنی ادبی اداروں کی حالت ایسی نظرنہیں آتی ہے کہ وہاں سے قابل استناد تحریروں کی اشاعت ہو رہی ہو۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ شاذ و نادر ہی ایسی تحریریں شائع ہورہی ہیں جو بذات خود اپنے وجود پر قائم ہوں۔ عموماً ایسی تحریریں نظر آتی ہیں جس میں ماضی کی تحریروں سے ہی تحریریں آگے بڑھائی جارہی ہیں۔ ایسے میں ہمیں ایک ہی خیال الگ الگ انداز میں بار بار پڑھنے کو ملتا ہے۔ ہاں ایسی تحریریں بھی شائع ہورہی ہیں جس میں ماضی کی بنیاد کو توڑنے کی کوشش کی جاتی ہیں۔ جیسے اکبر و حالی، جوش وفراق، اصغرو جگر اور حسر ت وفانی کو اس دور کے ناقدین نے جس سانچے میں بندکردیا بعد کے دانشور بھی اسی کو دہراتے رہتے ہیں۔ لیکن کیا ایسا ہی ہے ؟کہ پرانے حدود میں ہی انھیں قید کرکے رکھا جائے۔نہیں ! اب ہمیں روایتی نظریات کو متن کی سطح پر اتر کر نئے مباحث قائم کرنے ہوںگے۔یقینا کچھ لوگ ہر زمانے میں ایسے ہوئے ہیں جو پرانی روش سے الگ اپنی راہ کا انتحاب کرتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ویسی تحریریں بہت ہی کم بطور استناد شامل کی جاتی ہیں۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ فاروقی و نارنگ اردو کے دو ستون تھے۔ جبکہ ان کی تنقید و تحقیق سے اختلاف کرنے والے بھی بہت ہوئے ہیں لیکن جن لوگوں نے صحت مند اختلاف کیا ہے ان کا کوئی ذکر بھی نہیں کرتا ہے اور وہی غلط چیزیں رائج ہوجاتی ہیں جو یہ حضرات لکھ کر چلے گئے۔ یہی حال رشید حسن خاں کے ساتھ بھی ہے کہ انھوں نے اردو املا پر جو لکھ دیا اب اسے اصول سمجھ لیا گیا ہے جب کہ ان سے اصولی بحث کرنے والوں کا کہیں ذکر بھی نہیں ہوتا ہے۔ یہ مثالیں صرف بطور مثال ہیں جبکہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ہم ہمیشہ یک جہتی رہتے ہیں دوسری جہت پر لکھنے والوں کو ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے یہاں ایک روایت یہ بھی در آئی ہے کہ جو بڑے نام ہیں ان ہی کی کتابوں سے اقتباسات در ج کیے جاسکتے ہیں۔ اگر کسی نے عمدہ تحقیق کی ہو لیکن اس کو شہرت نصیب نہ ہوا ہو، یا حالات کی ستم ظریفی سے کسی یونی ورسٹی میں استاد نہ بنا ہو تو پھر اس کے استناد میں شک کیا جاتا ہے اور عموما مقالات میں نگراں کی طرف سے اس کی شمولیت کی اجازت نہیں ملتی ہے۔ اِلا یہ کہ اس ادبی ماحول میں ان کی گرفت مضبوط ہو۔
اس حوالے سے گزشتہ دنوں ایک عجیب حادثہ سے دو چار ہوا۔ دہلی کے ایک خود کفیل ادارے کے سہ ماہی رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا۔ اس سے پہلے اس مضمون سے میں بذات خود واقف تھا۔ اس مضمون کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی اس میں ایک مقام پر ایک نوجوان ریسرچ اسکالر کی کتاب بطور حوالہ درج تھی۔ لیکن جب مضمون شائع ہوا تو اس میں نوجوان ریسرچ اسکالر کی کتاب کا ذکر حذف کر کے شائع کیا گیا ہے۔
اس کو اگرچہ ادارتی عمل کہہ کر ٹال دیا جائے گا لیکن حقیقت میں اس کو نام کاٹنا کہتے ہیں۔ آپ جس کو پسند نہیں کرتے ہیں اگر اس کا نام کسی مضمون میں آئے تو ہٹا دو، ایسے میں اگر آپ نئی تحقیقات کو جگہ نہیں دیں گے تو پھر آپ ریسرچ کے دشمن ہیں۔ آپ سبھی جانتے ہیں کہ موجودہ وقت میں بہت ہی مشکل سے چند ہی یا دو چار کتابیں ہی ایسی منظر عام پر آرہی ہیں جو قابل توجہ ہوتی ہیں، اگر ان پر پھی آپ قدغن لگارہے ہیں تو پھر آپ تحقیق میں اپنی مرضی چلارہے ہیں۔ جب کہ تحقیق اور تنقید میں بنیادی فرق یہی ہے کہ آپ تنقید میں اپنی مرضی کے اعتبار سے منزل طے کرسکتے ہیں لیکن تحقیق میں شواہد جدھر لے جائیں منزل ادھر ہی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہم تحقیق سے کسی چیز کو رد کر نا چاہتے ہیں لیکن جب شواہد سے نتیجے تک پہنچتے ہیں تو ہم رد نہیں کر پاتے ہیں بلکہ کلی نہ سہی لیکن جزوی طور پر تسلیم کرہی لیتے ہیں۔
اسی لیے اگر کوئی رسالہ تحقیقی مضامین کو شائع کررہا ہے اور مدیر یا مدیرہ اپنی مرضی سے کسی ثبوت پر قلم چلا دیتے ہیں تو یہ مدیر کی علمیت نہیں بلکہ اس کی جہالت ہوتی ہے۔

Keywords: Urdu Literature, Urdu Language Crisis, Urdu Literary Magazines, Urdu Research, Urdu Higher Education, Urdu Literary Criticism, Research Ethics, Editorial Integrity, Urdu Publishing Industry, Declining Urdu Readership, Urdu University Education, Urdu Research Scholars, Academic Integrity, Urdu Literary Journals, Urdu Language Teaching, Research Funding in India, Urdu Scholarship, Literary Editorial Ethics, Urdu Literary Publications, Mizgaan Urdu Magazine
***
امیر حمزہ
نائب مدیر ، سہ ماہی "مژگاں" ، کولکاتا۔
ameerhamzah033[@]gmail.com
Ameer Hamzah
Ameer Hamzah
امیر حمزہ

The Decline of Urdu Literature and Research
Crisis in Urdu Literature: Declining Readership, Higher Education, Research Ethics and Editorial Integrity