گومتی بک فیسٹیول 2026 : لکھنؤ میں کتاب، ادب اور ثقافت کا نو روزہ میلہ
121 ناشر، تقریباً 250 کتابی اسٹال۔ اردو، ہندی، انگریزی اور اودھی سمیت متعدد زبانوں کی کتابیں - ادبی مذاکرے، مصنفین سے ملاقات، بچوں کے لیے خصوصی "بال منڈپ" اور روزانہ ثقافتی پروگرام
علم و ادب کی تاریخی سرزمین لکھنؤ میں پانچویں گومتی بک فیسٹیول 2026 کا آغاز ہفتہ 12 ستمبر کو لکھنؤ یونیورسٹی میں ہوگیا ہے۔ نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، حکومتِ اترپردیش اور لکھنؤ یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ نو روزہ کتابی و ادبی میلہ 20 ستمبر تک جاری رہے گا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے ناشر، ادیب، مصنف، فن کار اور قارئین اس میلے میں شریک ہو رہے ہیں، جہاں کتابوں کی نمائش و فروخت کے ساتھ ادب، سائنس، ثقافت اور عصری موضوعات پر مذاکرے اور مختلف تخلیقی سرگرمیاں بھی منعقد ہوں گی۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ہاتھوں افتتاح
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ یونیورسٹی میں میلے کے پانچویں ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ تقریب میں یونیورسٹی اور نیشنل بک ٹرسٹ کے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ ریاستی حکومت کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ گومتی بک فیسٹیول گزشتہ چند برسوں میں لکھنؤ کے اہم کتابی و ثقافتی اجتماعات میں اپنی جگہ بنا چکا ہے اور اس بار اسے پہلے سے زیادہ وسیع پیمانے پر منعقد کیا جا رہا ہے۔
میلے کے لیے لکھنؤ یونیورسٹی کے شیواجی اسپورٹس گراؤنڈ میں وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ میلہ روزانہ صبح 11 بجے سے رات 8 بجے تک کھلا رہے گا اور داخلہ مفت ہے۔ منتظمین کا بنیادی مقصد کتابوں کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانے، مطالعے کی عادت کو فروغ دینے اور خصوصاً نوجوان نسل کو کتاب اور ادب سے قریب لانے کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جہاں کتاب محض خرید و فروخت کی شے نہ رہے بلکہ علمی و تہذیبی مکالمے کا وسیلہ بھی بنے۔
121 ناشر اور تقریباً 250 اسٹال
اس سال گومتی بک فیسٹیول میں ملک کے مختلف حصوں سے 121 ناشر تقریباً 250 کتابی اسٹالوں کے ساتھ شریک ہیں۔ ہزاروں کتابوں پر مشتمل اس وسیع نمائش میں ادب سے لے کر تاریخ، فلسفہ، سیاست، سائنس، سماج، ثقافت، بچوں کے ادب، تعلیمی موضوعات اور مقابلہ جاتی امتحانات تک مختلف النوع کتابیں دستیاب ہیں۔
میلے کا ایک اہم پہلو ہندوستان کی کثیر لسانی اشاعتی روایت کی نمائندگی بھی ہے۔ ہندی، انگریزی، اردو اور اودھی سمیت متعدد ہندوستانی زبانوں کی کتابیں یہاں نمائش اور فروخت کے لیے پیش کی جا رہی ہیں۔ لکھنؤ کی اپنی لسانی اور ادبی تاریخ کے تناظر میں اردو اور اودھی کتابوں کی موجودگی خصوصی معنویت رکھتی ہے۔ اس طرح ایک ہی مقام پر مختلف زبانوں کے ادب اور علمی سرمایہ سے واقفیت کا موقع بھی میسر آتا ہے۔
ادبی مذاکرے: ادب سے سائنس اور صحافت تک
گومتی بک فیسٹیول کو صرف کتابی نمائش تک محدود نہیں رکھا گیا ہے۔ نو دن کے دوران مصنفین سے ملاقات، کتابوں کی رونمائی، ادبی گفتگو اور مختلف موضوعاتی مذاکروں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ ان نشستوں کے موضوعات میں خواتین کی شناخت، نوجوانوں کا ادب، ترجمہ، تہذیبی ورثہ، سائنس، روحانیت اور عصری صحافت جیسے متنوع شعبے شامل ہیں۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات کو بھی ان مکالموں میں مدعو کیا گیا ہے۔ ہندوستانی خلا باز گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا 15 ستمبر کو طلبہ سے "زمین سے خلا تک: خوابوں کی اڑان" کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔ اسی روز مصنف شانتنو گپتا کی خصوصی نشست بھی ہوگی۔ 16 ستمبر کو معروف لوک گلوکارہ مالنی اوستھی ہندوستان کے لوک گیتوں پر اظہارِ خیال کریں گی۔ پدم شری ڈاکٹر ودیا وندو سنگھ سمیت ادب، فن اور دیگر شعبوں کی متعدد شخصیات بھی مختلف نشستوں میں شریک ہوں گی۔
بچوں کے لیے نو روزہ "بال منڈپ"
اس میلے کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت بچوں کے لیے مختص "بال منڈپ" ہے، جسے نیشنل بک ٹرسٹ کے بچوں کے ادب کے شعبے، نیشنل سینٹر فار چلڈرنز لٹریچر، کی جانب سے پورے نو دن کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد بچوں کو صرف کتابیں دکھانا نہیں بلکہ کہانی، فن، تخلیقی اظہار اور عملی سرگرمیوں کے ذریعے کتابوں کی دنیا سے وابستہ کرنا ہے۔
بال منڈپ میں مختلف عمر کے بچوں کے لیے کٹھ پتلی تماشا، کہانی گوئی، کمیشی بائی، ویدک ریاضی، ذہنی یکسوئی کی ورک شاپ، مٹی سے فن پارے بنانے، پوسٹر سازی، خوش خطی، مسخاکے (کیریکیچر)، شاعری خوانی، منڈلا آرٹ اور تخلیقی تحریر جیسی سرگرمیاں رکھی گئی ہیں۔ مصوری اور معلوماتی سوال و جواب کے مقابلے بھی ہوں گے۔ بچوں اور طلبہ کے لیے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کے ساتھ خصوصی مکالمہ اس سلسلے کی نمایاں سرگرمیوں میں شامل ہے۔
مشاعرہ، داستان گوئی، کتھک اور لوک فنون
کتاب اور ادبی گفتگو کے ساتھ ہندوستانی ثقافت اور فنونِ لطیفہ کو بھی میلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ روزانہ ہونے والے ثقافتی پروگراموں میں مشاعرہ، داستان گوئی، کتھک، لوک فنون، تھیٹر اور موسیقی شامل ہیں۔ اس طرح کتاب میلے کو روایتی اسٹالوں اور خریداری سے آگے بڑھا کر ادب، زبان، موسیقی اور مظاہراتی فنون کے مشترکہ ثقافتی پلیٹ فارم کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس نوعیت کے پروگرام لکھنؤ کے تہذیبی پس منظر سے بھی مناسبت رکھتے ہیں۔ یہ شہر اردو و ہندی ادب، داستان گوئی، شاعری، موسیقی اور مختلف لوک و کلاسیکی فنون کی طویل روایت رکھتا ہے؛ چنانچہ کتابی میلے میں ان اصناف کی شمولیت کتاب اور زندہ ثقافتی روایت کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کرتی ہے۔
قومی ای-پستکالیہ: مطبوعہ کتاب کے ساتھ برقی کتاب
گومتی بک فیسٹیول میں روایتی مطبوعہ کتاب کے ساتھ بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ زائرین کو راشٹریہ ای-پستکالیہ (قومی ای-پستکالیہ) سے متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہندوستانی زبانوں کی ہزاروں برقی کتابوں تک مفت رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
یہ پہلو موجودہ دور میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ کتابی ثقافت اب صرف مطبوعہ نسخوں تک محدود نہیں رہی۔ ڈیجیٹل کتاب، برقی کتب خانہ اور آن لائن مطالعہ بالخصوص نئی نسل کے لیے کتاب تک رسائی کے نئے راستے پیدا کر رہے ہیں۔ گومتی بک فیسٹیول میں مطبوعہ اور برقی کتاب دونوں کو ایک ہی علمی ماحول میں پیش کرنا اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔
کتاب میلہ کیوں اہم ہے؟
لکھنؤ یونیورسٹی جیسے بڑے علمی ادارے میں اس نوعیت کے میلے کا انعقاد طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ انہیں ایک ہی مقام پر ملک کے مختلف ناشروں، نئی اور پرانی کتابوں، مصنفین اور مختلف ہندوستانی زبانوں کے ادب سے واقف ہونے کا موقع ملتا ہے۔ کتابوں کی خریداری اپنی جگہ، لیکن ایسے میلوں کی اصل علمی اہمیت مصنف، ناشر اور قاری کے درمیان براہِ راست رابطے اور نئے فکری و ادبی مباحث کے امکانات میں بھی پوشیدہ ہے۔
کتابی میلوں کا ایک کم زیرِ بحث پہلو اشاعتی معلومات کا تحفظ بھی ہے۔ مختلف ناشر ایسے میلوں میں اپنی نئی کتابوں کے کیٹلاگ، فہرستیں، بروشر اور دیگر کتابیاتی مواد جاری کرتے ہیں، جو میلہ ختم ہونے کے بعد اکثر منتشر ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے مواد کو منظم انداز میں محفوظ اور ڈیجیٹائز کیا جائے تو مستقبل میں زبان وار کتابیات، نئی مطبوعات کے ڈیٹابیس اور اشاعتی تاریخ مرتب کرنے والے محققین کے لیے یہی مواد ایک اہم بنیادی ماخذ ثابت ہوسکتا ہے۔
اس اعتبار سے گومتی بک فیسٹیول 2026 محض نو دن جاری رہنے والا کتابی بازار نہیں، بلکہ کتاب، زبان، ادب، اشاعت، ڈیجیٹل مطالعے اور ثقافتی مکالمے کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ لکھنؤ جیسے تاریخی ادبی شہر میں اس کا انعقاد اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل عہد میں کتاب کی صورت اور اس تک رسائی کے طریقے ضرور بدل رہے ہیں، لیکن کتاب کے گرد قائم ہونے والی علمی اور تہذیبی سرگرمی کی معنویت بدستور باقی ہے۔
اردو کتابوں اور ناشروں کی قابلِ ذکر موجودگی
لکھنؤ کی اردو زبان و ادب سے تاریخی وابستگی کے پیشِ نظر گومتی بک فیسٹیول میں اردو کتابوں کی موجودگی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ اب تک دستیاب اور تصدیق شدہ معلومات کے مطابق میلے میں اردو سے متعلق کم از کم پانچ اداروں اور ناشروں کی شرکت سامنے آئی ہے، جن میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، عبارت پبلیکیشن، خسرو فاؤنڈیشن، نامک پبلیکیشنز اور میٹرلنک بکس شامل ہیں۔ ان اداروں کے اسٹال اردو قارئین کو نئی اور منتخب مطبوعات سے براہِ راست واقف ہونے اور انہیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
یہ تعداد اردو کی مجموعی شرکت کا حتمی عدد نہیں سمجھی جانی چاہیے، کیونکہ میلے میں شریک تمام 121 ناشروں کی زبان وار تفصیلی فہرست فی الحال دستیاب نہیں۔ ممکن ہے کہ دوسرے کثیر لسانی ناشروں کے اسٹالوں پر بھی اردو کتابیں موجود ہوں یا مزید اردو ناشر شریک ہوں۔ اس لیے فی الحال اتنا کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کم از کم پانچ اردو ناشروں/اداروں کی شرکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
اردو کے نقطۂ نظر سے ایسے کتابی میلوں کی ایک دوسری اہمیت بھی ہے۔ ناشر اپنے اسٹالوں پر نئی کتابوں کے ساتھ عموماً تازہ اشاعتی کیٹلاگ، نئی مطبوعات کی فہرستیں، بروشر اور دیگر کتابیاتی مواد بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ مواد بظاہر عارضی نوعیت کا ہوتا ہے، لیکن سال بہ سال اردو میں شائع ہونے والی نئی کتابوں کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے نہایت قیمتی بنیادی ماخذ بن سکتا ہے۔
خصوصاً 2026 میں ہندوستان سے شائع ہونے والی نئی اردو کتابوں کی منظم فہرست یا ڈیٹابیس تیار کرنے کے تناظر میں گومتی بک فیسٹیول جیسے اجتماعات سے حاصل ہونے والے ناشرانہ کیٹلاگ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کیٹلاگوں کو بروقت اسکین کرکے ڈیجیٹل صورت میں محفوظ کیا جائے تو کتاب کا عنوان، مصنف، ناشر، مقامِ اشاعت، سنِ اشاعت اور دوسری کتابیاتی تفصیلات بعد میں ایک باقاعدہ قابلِ تلاش ریکارڈ کا حصہ بن سکتی ہیں۔ یوں چند روزہ کتاب میلے سے حاصل ہونے والا مواد اردو کی مستقل ڈیجیٹل کتابیات کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
Gomti Book Festival 2026 in Lucknow Showcases Urdu Books, Indian Languages and Literary Events


گفتگو میں شامل ہوں