مہاراجہ سر کشن پرشاد کی حیات و خدمات : تعارف کتاب
مہاراجہ سر کشن پرشاد (پیدائش: یکم/جنوری 1864 ، وفات:13/مئی 1940)
سابق نظام شاہی ریاست حیدرآباد (دکن) میں دو بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ پہلی مرتبہ 1901 سے 1912 تک اور دوسری مرتبہ 1926 سے 1937 تک۔
مہاراجہ سر کشن پرشاد کی زندگی کا پھیلاؤ جو اسی (۸۰) سال سے کم نہ تھا ، ان کی تعلیم و تربیت ، پیشکاری ، فوج کی وزارت ، مدار المہامی، خانہ نشینی ، صدراعظمی اور اس کے بعد کے زمانہ میں موصوف کی ہمہ گیر مصروفیتوں ، دلچسپیوں ، ہمدردیوں سے متعلق اہل ملک کے واسطے ایک شاندار انسانیت کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ مہاراجہ کے جیتے جی ہر ایک کو ان تک رسائی حاصل تھی اور ان کے ملنے والے تو ممدوح سے ہر طرح مستفید ہوتے ہی تھے۔ ان کے علاوہ مہاراجہ سے عقیدت رکھنے والے اگر ان سے ملتے بھی نہ تھے تو ان کے وجود کے خیال ہی سے خوش ہوتے تھے۔ یوں تو دکن میں پہلے ہی سے انسانوں کا قحط ہو چلا تھا، مہاراجہ کے انتقال نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا کہ اچھے انسانوں کے شیدا ملک کی حرماں نصیبی کو دیکھ کر سہم گئے کہ ایک اچھا امیر ، سچا انسان ، مفلسوں کا دوست ، یتیموں کا مربی ، وضع داری میں یکتا ، مروت میں یگانہ ، بڑے پایہ کا سخی اور پریمی دنیا سے کیا گیا کہ تہذیب و شائستگی کی انجمن کی شمع گل ہو گئی۔
مہاراجہ کی یادگار قائم کرنے کے سلسلہ میں کئی جلسے ہوئے اور متعدد تحریکیں پیش ہوئیں، بڑے امیروں اور مہاراجہ کے بہی خواہ دولت مندوں نے مروت کے مارے یادگار کے قیام میں دلچسپی کا اظہار کیا اور رقمی وعدے بھی کئے لیکن غفلت ان کے سروں پر سوار رہی یہاں تک کہ ان میں سے بعض خود موت کا شکار ہو گئے۔ سعدی کا یہ شعر نظر کے سامنے آگیا ؎
خیرے کن اے فلاں و غنیمت شمار عمر
زان پیشتر کہ بانگ بر آئد فلان نماند
جبکہ بڑی یادگار مہاراجہ کی شان کے مطابق قائم نہ ہو سکی تو راقم نے مہاراجہ کی سیرت اور ان کی سوانح حیات کو درسی کتب میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں مجھے دو حضرات کی مدد سے کامیابی ملی۔ ایک سید آغا حیدر حسین کہ موصوف نے مخالفتوں کے باوجود میرے ایک مضمون کو داخل نصاب کرا ہی دیا۔ دوسرے بزرگ مرزا محمد بیگ صاحب ناظم اسٹیٹ پیشکاری ہیں، موصوف نے مہاراجہ کی زندگی کے حالات کو طبع کرانے کے لئے وزیر مال مسٹر کرافٹن سے رقمی منظوری حاصل کی اور ایک کمیٹی کا تقرر منظور کرایا جو دیوان بہادر آر وامودو آئنگار ، راجہ نرسنگ راج بہادر عالی، سید علمبر دار ، مرزا محمد بیگ ، رائے مانک پرشاد اور مہدی نواز جنگ پر مشتمل تھی۔ مرزا صاحب موصوف کی دلچسپی اور کوشش نہ ہوتی تو یہ کتاب منظر عام پر نہ آتی۔
مرزا صاحب کے اسٹیٹ سے علحدہ مرنے کے بعد ان کے جانشین رائے مانک پرشاد صاحب نے اس کتاب کی طباعت میں ہر ممکنہ سہولت بہم پہنچائی۔ مولوی حافظ محمد مظہر صاحب جو حیدرآباد کے ایک مشہور علماء کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور دکن کے نظم و نسق کی گزشتہ (۸۰) اسی سالہ تاریخ پر گہرا عبور رکھتے ہیں، مہاراجہ کی زندگی کے حالات اس کثرت سے جمع کئے کہ اس میں بے دریغ تخفیف نہ کی جاتی تو اس کتاب کا حجم دو ہزار صفحے تک پہنچ جاتا۔ اختصار ، کفایت اور خود کمیٹی کے فیصلہ کے لحاظ سے کتاب کی ضخامت کو پانچ سو صفحے اور کمیٹی کے منظورہ عنوان اور ابواب کی حدتک محدود رکھا گیا۔
اس کتاب کی تکمیل میں سید غلام پنجتن صاحب اور مرزا یگانہ نے بھی دلچسپی لی ہے اور مولوی حسن الدین صاحب نے طباعت اور تصحیح کا کام بخوبی انجام دیا ہےـ
فقط
مہدی نواز جنگ
27/ستمبر 1950ء ، حیدرآباد دکن
اصل کتاب یہاں ملاحظہ کیا جا سکتی ہے:
مہاراجہ کشن پرشاد کی زندگی کے حالات - تعارف کتاب
Maharajah Sir Kishen Pershad: Life, Legacy, and Service in Hyderabad

گفتگو میں شامل ہوں