ایک خط ، ایک گیت : افسانہ از کرشن چندر

ایک خط، ایک گیت۔ افسانہ از کرشن چندر، ماخوذ از رسالہ: ماہنامہ "بانو" (سالنامہ) نئی دہلی۔ شمارہ: جنوری 1960ء
aik-khat-aik-geet-short-story-krishan-chander

میں نے لفافہ چاک کر کے خط کیا نکالا ، گویا شمشیر بے مہر کو بے نیام کیا۔ صاف انکار۔ بالکل صاف انکار۔۔۔ کہیں پر شبہے کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ آج کل کی لڑکیاں بالکل اسی طرح انکار کرتی ہیں ، جس طرح آج سے دو ہزار برس پہلے کی لڑکیاں انکار کیا کرتی تھیں ، غریبی اور محنت کبھی ساتھ چلے ہیں جو آج چلیں گے ؟
میں نے خط کو بار بار پڑھا اور جب پڑھنے سے بھی نسلی نہ ہوئی تو خط کو سونگھا۔ ظالم نے آج خوشبو بھی نہ لگائی تھی۔ اس سے پہلے کا ہر خط خوشبو میں بسا ہوتا تھا۔ آج تو ڈاکیہ بھی خط کا حلیہ دیکھ کر حیران تھا۔ شاید اسی لئے وہ جلدی سے مجھے خط دے کر بھاگ گیا تھا۔ ممکن ہے اسے کچھ شبہ ہو گیا ہو !
دراصل حماقت میری تھی۔ مجھے بتانا ہی نہ چاہئے تھا کہ میں اس قدر غریب ہوں، میں اس کی دبی دبی سسکیوں، ملتجی نگاہوں اور میٹھی میٹھی باتوں سے دھوکا کھا گیا۔ مجھے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ عورت سب کچھ برداشت کر سکتی ہے، مرد کی بدصورتی ، اس کا بڑھایا ، اس کی بدتمیزی ، جہالت ، کورنگاہی تک اُسے گوارا ہے ، مگر وہ اس کی غریبی برداشت نہیں کر سکتی ! شادی سے پہلے تو کسی حالت میں برداشت نہیں کر سکتی۔
اب میں اس خط کو کیا کروں ؟ یہ میز اس قدر گندی کیوں ہے۔ یہ گلاس ابھی تک اس پر کیوں پڑا ہے ؟ کیلنڈر کا ورق کس نے الٹ دیا ہے؟ سیاہی چوس پر یہ کالے کالے دھبے کیسے ہیں ؟ آسمان گدلا کیوں ہے ؟ فضا میں یہ گھٹن سی کیا ہے ؟


میں نے خط کو اپنی مٹھی میں مسل کر کچل کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ کیلنڈر کو الٹا کر کے زمین پر دے مارا۔ گلاس کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا، سیاہی چوس کو پھاڑ دیا ، اور کتابوں کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر فرش پر پٹخ دیا، اور خود کھڑکی میں کھڑا ہو کر فوری خود کشی کے طریقوں پر غور کرنے لگا۔
سامنے بے کنار سمندر پھیلا ہوا تھا۔
یکایک میں نے سوچا۔ بڑی خطرناک بات ہے۔ مجھے اپنے ذہن کی پٹری کو بدلنا چاہیے۔ میرے مرنے سے تو وہ اور بھی خوش ہوگی۔ اترا اترا کر اپنی سہیلیوں میں میرا ذکر کرے گی۔ اور شادی کے بعد اپنے غریب، مجبور اور دبّو خاوند پر رعب گانٹھے گی۔
نہیں ، میں اسے اس کا موقع نہ دوں گا، ہر گز نہ دوں گا۔ لہذا میں کھڑکی سے پلٹ کر اس کونے میں گیا جہاں گراموفون رکھا تھا۔ جلدی سے جو ریکارڈ بھی سب سے پہلے میرے ہاتھ میں آیا میں نے اسے گراموفون پر چڑھا دیا۔ ریکارڈ پر سوئی رکھ دی اور خود واپس کھڑکی میں کھڑا ہو کر سمندر کی طرف دیکھنے لگا۔
دھیرے دھیرے ریکارڈ بجنے گا، دھیرے دھیرے گیت میرے پاس آیا۔
"ہیلو ؟" گیت نے اک ادائے خاص سے مجھے مخاطب کیا۔
"ہیلو ؟" میں نے ذرا ترش روئی سے اسے جواب دیا۔
"تم کون ہو ؟" گیت نے پوچھا۔
"میں ایک غریب ادیب ہوں " میں نے جواب دیا ، اور اس سے پوچھا:
"تم کون ہو ؟ "
"تم جانتے نہیں ہو مجھے ؟" گیت نے بڑی حیرت سے کہا: "میں لتا کیسکر کا مشہور گیت ہوں"
"آجا رے بلموا " یہ کہتے ہوئے گیت کی لے میں ذرا غرور آ گیا۔
"ہو تو پھر کیا ہوا ؟" میں نے اس کے غرور سے چڑ کر کہا۔
گیت نے فخر سے سینہ تان کے کہا "جانتے نہیں ہو ؟ میں دنیا کا سب سے بڑا گیت ہوں۔ میرے دس لاکھ ریکارڈ فروخت ہو چکے ہیں، پچھلے چھ ماہ میں! تمہاری کتنی کتابیں بکی ہیں، پچھلے چھ ماہ میں ؟"
"صرف تین۔"


گیت بڑی حقارت سے ہنسا اور اس کا نغمہ بلند ہوتا گیا ، جیسے وہ آسمان کو چھو رہا ہو ، اور سمندر کی طرح پھیل رہا ہو، پھر بڑی ادا سے اٹھلاتے ہوئے بولا:
"مجھ سے خوب صورت گیت اس دنیا میں کہیں نہیں ہوگا۔ میرے حسن کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔ میں اتنا بِکا ہوں ، اتنا بِکا ہوں کہ میری رائلٹی سے گیت گانے والی ایک کوٹھی کھڑی کر رہی ہے۔ گیت لکھنے والے نے ایک گاڑی خرید لی ہے ، سنگیت بنانے والے نے اپنی تیسری بیوی کو طلاق دے دی ہے۔۔۔"
میں نے سوئی ریکارڈ پر سے ہٹا دی۔
یکایک کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔
اب وہاں پر کوئی نہ تھا۔
کوئی آواز نہ تھی، کوئی گیت نہ تھا، کوئی نغمہ نہ تھا۔


چند لمحوں کے سکوت کے بعد میں نے پھر سوئی ریکارڈ پر رکھ دی۔
دھیرے دھیرے پھر ریکارڈ بجنے لگا۔ دھیرے دھیرے پھر گیت میرے پاس آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ لنگڑا کے چل رہا ہے۔
"ہیلو۔۔۔" اس نے دھیمے سروں میں کہا۔
"ہیلو!" میں نے جواب دیا اور مونہہ موڑ کر کھڑکی میں کھڑا ہو گیا ، اور سمندر کی لہروں کو دیکھنے لگا۔
"تم نے مجھے بند کیوں کر دیا تھا ؟ "گیت نے محزوں لہجے میں دریافت کیا۔
میں نے کہا "یہ سمندر کا نغمہ تم سنتے ہو ؟ کیا تم اس کی طرح لازوال ہو ؟ "
"نہیں! میں تو صرف تین منٹ تک بج سکتا ہوں ! " گیت نے تاسف سے کہا۔
میں نے گیت سے کہا "جب پہلے دن کائنات نے آنکھ کھولی، تو یہ نغمہ یہاں موجود تھا، آگ میں اور پانی میں اور گردش میں۔۔۔ تین منٹ کے بعد جب تم آنکھ بند کر لو گے تو یہ نغمہ پھر اسی طرح یہاں موجود ہوگا۔۔۔۔ مگر تم نہ ہوگے اور چند برسوں میں وہ کوٹھی بھی نہ ہوگی ، وہ گاڑی بھی نہ ہوگی ، صرف محبت کی آہیں باقی رہ جائیں گی۔۔۔ ذرا سوچو تم کس بات پر اس قدر فخر کرتے ہو ؟"
"تو کیا سمندر کی بیکراں ہستی کے سامنے ایک ذرے کو چمکنے کا کوئی حق نہیں ہے ؟" گیت نے برافروختہ ہو کے پوچھا اور یکایک اس کی آواز میں بادلوں کی سی گھن گرج۔۔۔۔ اور رعد کی چمک شامل ہو گئی !
"کیوں نہیں ہے ! میرے دوست مگر اس قدر اترانے سے بھی کیا فائدہ ؟ تم دس لاکھ بار بِکے ہو، مگر کبھی کبھی ایک گیت ایسا بھی آتا ہے جو ایک بار بھی نہیں بِکتا مگر تم سے زیادہ خوب صورت ہوتا ہے ؟"
"یہ جھوٹ ہے ! کیا تم نے کبھی ایسا گیت دیکھا ہے یا سنا ہے ؟ "
"ہاں ! ایک بار میں نے ایک عورت کے ہونٹوں پر اس گیت کو دیکھا تھا۔ وہ ایک ماں تھی اور بھکارن تھی ، اور سڑک کے کنارے بیٹھی تھی۔ وہ بھوکی تھی اور اس کا بچہ بھوکا تھا۔ اور رات گہری ہو چکی تھی اور روٹی کا ایک ٹکڑا اسے میسر نہیں تھا۔ اور وہ اپنے بھوکے بچے کو لوری سے تھپک تھیک کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی، اس لوری میں کیا نہیں تھا ؟ کائنات کا سارا درد۔ ماں کی ساری مامتا اور انسانی زندگی کی ساری چاہت گھل گھل کر آواز میں تبدیل ہو رہی تھی۔ جیسے ماں اپنے گلے سے نہیں اپنی بے دودھ چھاتیوں سے گا رہی ہو۔ کیا تم نے کبھی کسی گیت کو بچے کے دودھ میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے ؟"
"نہیں !"
"میں نے اُس رات دیکھا تھا، اور سمندر کے کنارے دیکھا تھا۔ اور یکایک ہوا کا طوفان تھم گیا تھا۔ اور سمندر شرم سے خاموش ہو گیا تھا۔ اور ناریل کے لہلہاتے ہوئے شور مچاتے ہوئے مور پنکھ ندامت سے سرنگوں ہو گئے تھے، ساری کائنات چپ چاپ سر جھکائے اس بے کس بھوکی ماں کے قدموں میں کھڑی تھی، جس نے اپنے بھوکے بچے کو دودھ کی ایک بوند پلائے بغیر ایک لوری سے سُلا دیا تھا ، میں نے وہ معجزہ اپنی آنکھ سے دیکھا ہے! اس لوری کی کرب انگیز لَے اب تک میرے کانوں میں گونجتی ہے۔۔۔ اور تم مجھ سے کار کی، کوٹھی کی اور تیسری بیوی کے طلاق کی باتیں کرتے ہو ! "
یکایک میں کھڑکی سے مڑا۔ مگر گیت خاموش ہو چکا تھا۔ ریکارڈ یج کر چپ ہو گیا تھا۔ تین منٹ ختم ہو چکے تھے۔
میں نے پھر ریکارڈ پر سوئی رکھ دی۔۔۔


دھیرے دھیرے ریکارڈ بجنے لگا۔ دھیرے دھیرے وہی گیت میرے پاس آیا ، مگر اب اس میں فخر اور غرور نام کو نہ تھا۔ اب وہ ایک چھوٹا سا میٹھا سا گیت تھا ، دل کا ایک چھوٹا سا درد لیے ہوئے ، ارمان کی ایک ہلکی سی کسک لئے ہوئے ، محبت کے جگنو کی اک ننھی سی روشنی لئے ہوئے۔ اور وہ دھیرے دھیرے میرے دل میں اترنے لگا۔ جیسے زلف رخسار پر اترتی ہے، جیسے چاندنی ساحل پر اترتی ہے، جیسے سیپی سمندر کی تہہ میں اتر جاتی ہے اور مونہہ کھول کر محبت کے پہلے موتی کا انتظار کرتی ہے !


میں سر جھکائے اپنی میز کے پاس چلا گیا۔ ہاتھ بڑھا کر میں نے ردی کی ٹوکری سے اس کے خط کو نکال لیا ، اور اس کی تہیں صاف کرتے ہوئے اسے اپنے کلیجے سے لگا لیا۔


***
ماخوذ از رسالہ: ماہنامہ "بانو" (سالنامہ) نئی دہلی۔ شمارہ: جنوری 1960ء

Aik khat, aik geet. short-story by: Krishan Chander