ایس آئی آر کیا ہے؟ تلنگانہ میں اویسی اور علما کی ووٹر لسٹ مہم تیز

Owaisi, Muslim Leaders Step Up Awareness Campaign on SIR and Electoral Roll Review
sir-voter-list-awareness-campaign-aimim-owaisi-muslim-leaders

ایس آئی آر کا عمل، این پی آر اور این آر سی کی دوسری شکل

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام شعور بیداری اجلاس میں علماء، مشائخ، معززین، ارکان مقننہ کی شرکت۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، بیرسٹر اسد الدین اویسی و دیگر کے خطابات

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا ہے کہ فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظر ثانی کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بیرسٹر اسد الدین اویسی ایم پی و صدر مجلس نے اس موضوع پر ریسرچ کروایا۔ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مجلس کی جانب سے خصوصی ایپ تیار کروایا۔ یہ ایک بہترین مثال ہے۔ اس طرح کے عمل میں مستقبل کی تصویر ہم دیکھ سکتے ہیں۔ مسلمانان ہند اگر حق رائے دہی سے استفادہ نہیں کریں گے تو حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ امت کے مسائل کی فکر کرنا بہ حیثیت مسلمان اہم ذمہ داری ہے۔ ایمان و عقیدہ کے بعد وجود کا تحفظ ضروری ہے حق رائے دہی کو محفوظ کریں۔ دشمنوں کو اس پر ڈاکہ ڈالنے کا موقع نہ دیں۔ ملک بھر میں ایس آئی آر کا عمل کیا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے حکومت کی بدنیتی کار فرما ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام تنظیموں اور اداروں کے ذمہ دار متحرک ہو جائیں۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنان جو کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ مل کر دیگر تنظیمیں کام کریں۔ علمائے کرام مساجد کے پلیٹ فارم سے خصوصی بیداری عوام میں لائیں۔ مساجد، درگاہوں ، خانقاہوں اور دینی پروگراموں کے ذریعہ لوگوں تک اس کا پیام پہنچایا جائے تاکہ کوئی غافل نہ رہ جائے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے زیر اہتمام آج سٹی کنونشن سنٹر نامپلی میں ایس آئی آر سے متعلق شعور بیداری کے موضوع پر منعقدہ کل جماعتی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس اجلاس میں مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر اور مسالک سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام ، مشائخ عظام، معززین، دینی و ملی تنظیموں کے ذمہ داران شریک تھے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے نگرانی کی۔ جناب اکبر الدین اویسی قائد مجلس مقننہ پارٹی اور مجلسی ارکان مقننہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ سب سے پہلے حضور اکرمؐ نے مردم شماری فرمائی تھی۔ انہوں نے حضرت حذیفہ نامی صحابی کو مردم شماری کی ذمہ داری دی تھی۔ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار تک بتائی جاتی ہے۔ حکمت عملی کے مطابق ملت کی بقاء اور تحفظ کے لئے کبھی دکھاوا بھی کرنا ہوتا ہے۔ کبھی پوشیدہ رہنے کی ہدایت دی گئی۔ ہمیں اس ملک میں اپنے قومی وجود اور لسانی وجود کو بھی منوانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے تمام بڑھ چڑھ کر اس عمل میں حصہ لیں۔


بیرسٹر اسدالدین اویسی ایم پی و صدر مجلس نے اجلاس اور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کا عمل الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ اصل میں یہی این پی آر اور این آرسی کی دوسری شکل ہے۔ حالانکہ این پی آر اور این آرسی ملک کا قانون ہے اور اس پر مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے عمل آوری کی جاتی ہے لیکن الیکشن کمیشن اس پر عمل آوری کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 2002ء میں ووٹرلسٹ کا کام الیکشن کمیشن نے مینول طریقہ سے انجام دیا تھا۔ اس غلطی کو ووٹر کے سر پر ڈالا جا رہا ہے۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مجلس ملک بھر میں واحد جماعت ہے جس نے عوام کی بلالحاظ مذہب و ملت مدد کے لئے ایس آئی آر میاپنگ کے دوران آسانی پیدا کرنے خصوصی ایپ بنایا۔ ملک کی کسی سیاسی جماعت نے یہ کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں تقریباً 27 لاکھ لوگوں کے نام نہیں آئے۔ وہاں کی حکومت نے نام نہ آنے والوں کے راشن کارڈس بھی منسوخ کر دیئے ہیں اور پنشن اسکیم بھی منسوخ کر ڈالی۔ ان میں تقریباً 21 لاکھ سے زائد مسلمان شامل ہیں۔ چیف منسٹر مغربی بنگال نے خود اس کا اعلان کیا ہے۔
ملک میں بعض لوگ اپنے شہریوں کو شہریت سے محروم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ بعض مقامات پر ڈیٹنشن سنٹرس بنائے جارہے ہیں۔ کل ہی چند شہریوں کو بنگلہ دیش میں ڈھکیل دیا گیا۔ بنگلہ دیش کے حکام نے واپس انہیں بھارت میں ڈھکیل دیا۔ اب انہیں ڈیٹنشن سنٹرس میں رکھا گیا ہے۔ صدر مجلس نے کہا کہ فہرست رائے دہندگان پر گہری نظر ثانی کے عمل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کرنا مجلس کا مقصد ہے۔ عوام کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ انہیں بیدار کرنا ہے تاکہ شہری اس کے لئے پوری طرح تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس عمل کے دوران کسی کا نام فہرست سے حذف ہو جاتا ہے تو یہ صرف حق رائے دہی سے محرومی کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ اسے شہریت سے مربوط کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق مرکزی الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے عمل کے دوران حذف شدہ ناموں کی فہرست مجاز محکمہ یعنی وزارت داخلہ کو روانہ کرنا لازم ہے۔ بیرسٹر اویسی نے بتایا کہ ملک کی بعض ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اب تک جہاں ایس آئی آر منعقد ہوا ان میں تقریباً 6.5 کروڑ لوگوں کے نام خارج ہو چکے ہیں۔


یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ کروڑوں شہریوں پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیرسٹر اویسی نے مرکزی الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ، رائے دہندگان کے لئے ایس آئی آر کے عمل میں حصہ لینے کے لئے 12 دستاویزات کی جو فہرست مقرر کی گئی ہے اس میں سے 4 دستاویز تلنگانہ میں کام میں نہیں آتے ان میں پر منٹ ریسیڈنس سرٹیفکیٹ، این آرسی سرٹیفکیٹ اور فیملی رجسٹر شامل ہیں۔ یہ اسناد حکومت کی جانب سے جاری نہیں کئے جاتے ہیں۔ اس لئے بیان کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور راشن کارڈ کو بھی قبول کیا جائے۔ بیرسٹر اویسی نے تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے بھی اپیل کی کہ ریاستی حکومت اس سلسلہ میں مرکزی الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کرے کہ الیکشن کمیشن ریاست کے عوام کو راحت فراہم کرے۔ بیرسٹر اویسی نے بتایا کہ اصل مسئلہ ایس آئی آر کے دوران بے ضابطگی اور تضادات کی فہرست کا بھی ہے جس میں گذشتہ فہرست اور موجودہ فہرست میں ناموں کی ذراسی بھی غلطی کے سبب متعلقہ افراد کے نام تضادات کی فہرست میں شامل کر کے انہیں نوٹسیں دی جارہی ہیں۔
بیرسٹر اویسی نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ظہیر آباد حلقہ میں 2.82 لاکھ جملہ رائے دہندے ہیں اس میں سے 92 تا 96 ہزار کی میا پنگ نہیں ہو سکی۔ 67 فیصد افراد کی میابنگ ممکن ہو سکی۔ ان میں سے تضادات کی فہرست طویل ہے۔ صرف 10 ہزار شہریوں کی صحیح میابنگ ہو سکی ہے۔ دیگر حلقوں سے بھی اسی طرح کی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی غلطی پر رائے دہندوں کو اس کی سزا دی جا رہی ہے۔ صدر مجلس نے کہا کہ تمام رائے دہندے اپنے فارم پر کر کے بی ایل او کے حوالے کریں۔ جو افراد گھر میں موجود نہیں ہیں ان کے بھی فارم بھر کے حوالے کریں۔ عوام میں بڑے پیمانے پر بیداری لانے کے لئے کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ہر تنظیم جماعت اس کام میں حصہ لے تا کہ کسی شہری کا نام خارج نہ ہو جائے۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ اقلیتوں، دلتوں اور غریبوں کے نام خارج ہو جائیں۔ مجلس تلنگانہ میں عوام کی مدد کے ساتھ مہاراشٹرا کی عوام کی مدد کے لئے بھی کارروائی کا آغاز کر چکی ہے۔ مجلس کی جانب سے دہلی اور اتراکھنڈ ریاستوں کے لئے بھی ایپ تیار کر کے ان علاقوں میں عوام کی مدد کے اقدامات کئے جائیں گے۔
بیرسٹر اویسی نے بتایا کہ ایس آئی آر کے عمل کے بعد جب رائے دہندگان کی فہرست کا مسودہ شائع ہوگا اس میں اگر نام نہیں آتے ہیں تو ان کی شمولیت کے لئے وکلاء کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور دیگر ریاستوں میں اس کام میں مصروف ماہر وکلاء کو حیدر آباد لا کر یہاں کے وکلاء اور کارکنوں کی تربیت کی جائے گی تاکہ یہاں پر جو نام خارج ہو گئے انہیں شامل کرنے کے اقدامات کئے جا سکیں۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مجلس کی جانب سے دو ماہ سے مجلس کے تیار کردہ خصوصی ایپ کے ذریعہ میاپنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اعلان کیا کہ زیادہ سے زیادہ عوام کی مدد اور بلالحاظ مذہب و ملت خدمات کی انجام دہی کے لئے مجلس کے تیار کردہ ایپ کے استعمال کی تربیت دار السلام میں فراہم کر کے ایپ ان تربیت یافتہ افراد کو وہ حوالے کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس ضمن میں تنظیمیں اور ادارے اپنے کارکنان کو تربیت کے لئے دار السلام روانہ کریں۔


مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی صدر مدرسہ بورڈ و خطیب جامع مسجد معظم پورہ ملے پلی نے کہا کہ ہمارے پاس قیادت متحرک ہے۔ اس لئے تحریک میں زیادہ لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے خاتون کارکنوں کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیا تا کہ گھر میں موجود خواتین سے رابطہ کر کے زیادہ سے زیادہ کام کیا جاسکے۔
مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ خاموش نے کہا کہ مجلس ہمیشہ سے مسلمانوں کی رہبری کرتے آئی ہے۔ صرف شہر ہی نہیں ریاست کے دیگر مقامات پر بھی ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ عوام کی مدد کی جا رہی ہے۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ امیر امارات ملت اسلامیہ نے کہا کہ بیرسٹر اویسی کی جانب سے اس ضمن میں بہترین رہنمائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد اور مدارس کے ذریعہ بھی لوگوں کی مدد کی جانی چاہئے۔ ارکان اسمبلی اور کارپوریٹرس محلہ جات میں گشت کر کے محلہ واری سطح پر کام کریں تو بہتر ہوگا۔
مولانا مصدق القاسمی صدر سٹی جمیعۃ العلماء نے کہا کہ جمعیت کی جانب سے تقریباً ایک ماہ سے زائد عرصہ سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے۔ مساجد میں اعلانات کے باوجود عوام میں جمود کی کیفیت طاری ہے۔ مولانا مفتی محمود زبیر قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ العلماء نے کہا کہ بیرسٹر اویسی کی وجہ سے یہ تحریک تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ یہاں تک کہ مخالفین بھی اس تحریک کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اضلاع اور دیہاتوں میں لوگ بے چین ہیں۔ اس مسئلہ کو پوری قوت کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔


ڈاکٹر یوسف حامدی نائب صدر مجلس تعمیر ملت نے اپنے کارکنوں کے ساتھ اس عمل میں سرگرم خدمات انجام دینے کی تفصیلات پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد نظام الدین صدر ملی کونسل نے بیرسٹر اویسی کی تحریک پر 25 کارکنوں کو تربیت کے لئے مجلس کے صدر دفتر روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ جناب زاہد ( جماعت اسلامی) نے ہر مسجد میں میاپنگ کرنے والوں کو بٹھانے کی تجویز پیش کی۔ مولانا مفتی حافظ ضیاء الدین نقشبندی صدر مفتی جامعہ نظامیہ نے شرعی نقطہ نظر سے اس کی تشہیر پر زور دیا۔ انہوں نے اس مساعی جمیلہ کی قبولیت کے لئے دعا کی۔ مولانا مفتی محمد انوار احمد قادری کنٹرولر امتحانات جامعہ نظامیہ نے کہا کہ عوام میں بے حسی عروج پر ہے۔ اس کے لئے مساجد ، ذہن سازی کے لئے بہترین ذریعہ ہو سکتے ہیں۔
مولانا شفیق عالم خاں جامعی صدر جمیعہ اہل حدیث نے کہا کہ جمعیت کی جانب سے پہلے ہی مساجد میں اعلان کر دیا گیا ہے۔ مجلس کے اشتراک سے کئی مساجد میں ورکشاپ بھی منعقد کئے گئے۔ انہوں نے جمیعت کے والنٹیرس تربیت کے لئے روانہ کرنے کا اعلان کیا۔ مولانا متین الدین قادری مجاہد رکن تاسیسی کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے کہا کہ مجلسی قیادت دوراندیشی سے کام کر رہی ہے۔ وقت سے پہلے اس کام کے لئے تیار ہے۔ اس لئے گھر گھر کام ہو رہا ہے۔


مولانا سید حسن ابراہیم حسینی قادری سجاد پاشاہ معتمد صدر مجلس علمائے دکن، مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم صدر یونائیٹڈ مسلم فورم ، ڈاکٹر محمد مشتاق رکن کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ ، مولانا سید مسعود حسین مجتہدی صدر مہدویہ اکیڈیمی و رکن مسلم پرسنل لا بورڈ ، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضی پاشاہ قادری (قادری چمن)، مولانا سید غلام صمدانی علی قادری صدر مرکزی انجمن قادریہ، مولانا سید احمد احسینی سعید قادری صدر قادریہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن، مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی خطیب شاہی مسجد باغ عامہ، مفتی معراج الدین علی ابرار ناظم جامعہ انوار الہدی نے بھی خطاب کیا، مجلس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنے کارکنوں کو مجلس کے دفتر میں تربیت حاصل کرنے روانہ کرنے اور عوام کی مدد کرنے کا اعلان کیا۔
مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے بتایا کہ اجلاس میں یہ طئے کیا گیا کہ آنے والے جمعہ کے اجتماعات کے ذریعہ خطباء اور ائمہ عوامی سطح پر ایس آئی آر کے موضوع پر بیداری لانے خطابات کریں گے۔ جو بھی تنظیم آگے آنا چاہتی ہے مجلس کی جانب سے تربیت فراہم کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔ کسی کو بھی ایس آئی آر کی زد میں شکار نہ بننے دینے کی ضرورت ہے۔


مولانا مفتی خلیل احمد امیر جامعہ جامعہ نظامیہ کی دعا پر اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقع پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا۔ نماز ظہر ادا کی گئی۔ ظہرانہ اور پریس کانفرنس کے بعد اجلاس کا اختتام عمل میں آیا۔
اجلاس میں مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ صدر مرکزی مجلس قادریہ، مولانا سید احمد محی الدین قادری نوری شاہ ثانی سجادہ نشین درگاہ حضرت نوری شاہ ، مولانا سید ابوتراب قادری قدیری سجادہ نشین درگاہ ہلکٹہ شریف، مولانا مفتی نثار احمد جامعہ نظامیہ ، مولانا صوفیان علی چشتی سجادہ نشین درگاہ حضرات یوسفین ، مولانا سید ندیم اللہ حسینی سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ راجو قتال ، مولانا مفتی محمد عظیم الدین جنید انصاری ناظم دارالعلوم حیدرآباد، جناب وائی ایم ارشد آرکٹکٹ، جناب بادشاہ محی الدین صدر جامع مسجد شانتی نگر، جناب رفعت اللہ شاہد تبلیغی جماعت، مولانا سید قطب الدین صابری جانشین خانقاہ صابریہ، جناب سید منیر الدین احمد مختار معتمد یونائیٹڈ مسلم فورم، جناب جعفر حسین معراج رکن اسمبلی یا قوت پورہ، جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی کاروان، جناب احمد بن عبداللہ بلعلہ رکن اسمبلی ملک پیٹ، جناب محمد ماجد حسین رکن اسمبلی نامیلی جناب میر ذوالفقار علی رکن اسمبلی چار مینار، جناب محمد مبین رکن اسمبلی بہادر پورہ، جناب مرزا ریاض الحسن آفندی رکن کونسل مجلس، جناب مرزا رحمت بیگ قادری رکن کونسل مجلس، جناب صمد بن عبدات انچارج شعبہ تنظیم مجلس ، سرگرم مجلسی کارکنان جناب حطیم سیٹھ اور جناب یامین خان کے علاوہ علماء و مشائخ و معززین موجود تھے۔
ابتداء میں مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی کی قرآت کلام پاک سے اجلاس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کارروائی چلائی اور خیر مقدمی خطاب کیا۔ مولوی سید جعفر صادق حسینی قادری نے نعت شریف پیش کی۔ جناب سید مشتاق احمد خصوصی مددگار برائے رکن پارلیمنٹ حیدر آباد نے کمپیوٹر کی مدد سے اسکرین پر ایس آئی آر کے طریقہ کار کی مکمل تفصیلات اجلاس کے روبرو پیش کیں۔


Keywords: SIR, voter list review, Asaduddin Owaisi, Muslim leaders, election commission, electoral roll, voter registration, Hyderabad news, AIMIM, Telangana politics, voter awareness, electoral reform, marginalized voters, legal assistance, poll list revision
SIR and Voter List Drive
Owaisi, Muslim Leaders Step Up Awareness Campaign on SIR and Electoral Roll Review