یولیسس کا اردو ترجمہ: جیمس جوائس، ادب اور فحاشی کی بحث
یولیسس، جیمس جوائس اور اردو ترجمہ۔۔۔؟!
ادب کی تاریخ محض لفظوں کی نہیں، حدیں توڑنے کی روایت بھی ہے۔ اردو میں سعادت حسن منٹو کے افسانے، خاص طور پر 'ٹھنڈا گوشت'، عدالتوں تک جا پہنچے، اور عصمت چغتائی کے 'لحاف' نے سماج کے تہذیبی نقاب کو چیلنج کیا۔ ناول کے میدان میں 'ٹیڑھی لکیر' اور 'راجہ گدھ' نے روایت، اخلاق اور نفسیات کے بیچ الجھے سوالات کو اٹھایا ہے۔ عالمی ادب میں بھی یہی کشمکش نظر آتی ہے: 'یولیسس' اپنے بے باک اسلوب کے باعث کٹہرے میں کھڑا ہوا، 'لیڈی چیٹرلیز لَوور' نے اخلاقی حدود پر بحث چھیڑی، اور 'لولیتا' نے اپنے موضوع سے تہلکہ مچایا۔ مسئلہ اکثر فحاشی نہیں ہوتا، بلکہ وہ سچ ہوتا ہے جسے سماج سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔۔۔ اور ادب، اپنی فطرت کے مطابق، اسی سچ کو بے نقاب کرتا ہے۔
جب گزشتہ دنوں سوشل میڈیا کی اردو فضا میں جیمس جوائس اور اس کے شہرۂ آفاق ناول "یولیسس" کے اردو ترجمے کی ضرورت، اہمیت اور اس کی پیچیدہ دشواریوں پر سنجیدہ گفتگو نے سر اٹھایا، تو یہ بحث محض ادبی حلقوں تک محدود نہ رہی۔ آہستہ آہستہ عام قاری بھی اس مکالمے کا حصہ بننے لگا۔۔۔ کوئی ترجمے کی دشواریوں پر حیران تھا، کوئی اس کے اسلوب کی گرہ کھولنے کو بے تاب۔ یوں ایک مشکل اور بظاہر دور افتادہ ادبی موضوع، اچانک ایک زندہ سوال بن کر ابھرا: کیا واقعی 'یولیسس' کو اردو میں اس کے پورے حسن اور پیچیدگی کے ساتھ منتقل کیا جا سکتا ہے؟
جیمس جوائس کون ہے؟
جیمس جوائس بیسویں صدی کے ان ادیبوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ناول کو باطنی طور پر بدل ڈالا۔ اس نے شعور کی رو، یادداشت اور لمحاتی تجربے کو کہانی کا مرکز بنایا۔ ڈبلن شہر، جوائس کے ہاں صرف شہر نہیں، ایک ذہنی کائنات ہے جس میں انسان اپنی ہی آواز سے الجھتا ہے۔
یولیسس: جیمس جوائس کا مشہور ناول کیوں؟
یہ ناول "یولیسس" دراصل صرف ایک دن (16 جون 1904ء) کی کہانی ہے، مگر اس ایک دن میں انسانی ذہن کی پوری پیچیدگی سمٹ آتی ہے۔ اسے جدید ناول کی معراج سمجھا جاتا ہے۔ اسلوب ایسا کہ قاری کو سیدھا نہیں، ترچھا چلنا پڑتا ہے۔ اشاعت کے وقت فحاشی کے الزامات لگے، کئی ملکوں میں پابندی رہی، مگر وقت کے ساتھ یہی کتاب ادبی جرات کی علامت بن گئی، یعنی وہ جرات جو زبان اور اخلاق دونوں کی حدیں آزماتی ہو۔
ترجمے، مشکلات، اور اردو کا معاملہ؟!
اس ناول کا اب تک تقریباً 25 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے، مگر ہر ترجمہ دراصل ایک نئی تخلیق لگتا ہے۔ مسئلہ صرف الفاظ کا نہیں۔۔۔ جوائس کے ہاں لہجے بدلتے ہیں، محاورے پھسلتے ہیں، اور جملہ کبھی سوچ کے بہاؤ میں ٹوٹ جاتا ہے۔ ثقافتی اشارے۔۔۔ آئرش سیاست، کیتھولک مذہبی فضا، ڈبلن کی گلیاں۔۔۔ یہ تمام ترجمے میں بار بار دیوار بنتے ہیں۔
اردو میں دشواری دوہری ہو جاتی ہے: ایک طرف اردو کی نحوی ساخت نسبتاً باقاعدہ ہے، دوسری طرف جوائس کی بےقاعدگی ہی اس کی طاقت ہے۔ پھر ناول کے صوتی کھیل، لفظی الٹ پھیر، اور شعوری بہاؤ کو اردو میں منتقل کرنا ایسے ہے جیسے پانی کو مٹھی میں تھامنا۔۔۔ کچھ نہ کچھ ضرور رس جاتا ہے۔ اسی لیے اردو مترجم کو زبان سے محض وفاداری نہیں، ایک حد تک بےوفائی بھی کرنی پڑتی ہے تاکہ اصل کی روح کچھ تو زندہ رہ سکے۔
یولیسس: ایک کتاب، ایک مقدمہ، ایک تاریخ؟!
یولیسس پر بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں ایسا طوفان اٹھا کہ 1922 میں امریکا میں اس کی سینکڑوں کاپیاں جلا دی گئیں اور عدالت نے بھی ابتدا میں اسے فحش قرار دیا۔ نیویارک کی اخلاقی تنظیموں نے اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا، حتیٰ کہ ایک تنقیدی مضمون بھی ضبط ہوا۔ برسوں تک اس کی غیرقانونی اشاعت جاری رہی۔ بالآخر 1933 میں مقدمہ "امریکا بنام ایک کتاب بعنوان یولیسس" کے نام سے سامنے آیا، جہاں جج جان وُلسے نے فیصلہ دیا کہ ناول کا مجموعی تاثر فحاشی نہیں بلکہ ادبی صداقت ہے۔ اپیل میں بھی یہی فیصلہ برقرار رہا، اور یوں ایک دہائی پر محیط کشمکش کے بعد یہ ناول امریکا میں باقاعدہ طور پر شائع ہونے لگا۔۔۔ اور ادبی آزادی کے حق میں ایک نظیر بن گیا۔
جسٹس اگسٹس ہینڈ کے مطابق :"ہمارا ایقان ہے کہ منصفانہ فیصلہ اسی وقت ممکن ہے جب یہ معلوم ہو جائے کہ کتاب کے غالب اثرات کس قسم کی نشاندہی کرتے ہیں (یعنی کیا مکمل کتاب پڑھنے پر ایسا تاثر ابھرتا ہے کہ فحاشی و عریانی کا فروغ مقصود و مطلوب ہے ؟) کتاب کے حقیقی موضوع سے قابل اعتراض حصوں کے تعلق کو جانچنے کے لیے عصر حاضر کے معتبر ناقدین کی گواہی لی جائے گی اور اگر کتاب قدیم ہو تو پھر اس پر دیے گئے ماضی کے فیصلوں سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ فحاشی کے خلاف وارنٹ جاری کرنے کے بجائے ادبی شاہکاروں کے بلند مقام کا تعین کیا جا سکے۔"
ناول یولیسس کا ڈبلن اور آج کا ڈبلن؟
جوائس نے جس ڈبلن کو "قید" سمجھ کر لکھا، آج وہی شہر اسے اپنی شناخت کا سب سے بڑا فخر بنا کر پیش کرتا ہے۔ ناول میں ڈبلی شناخت کے بحران سے نبردآزما تھا اور آج کا ڈبلن مختلف و متنوع شناختوں کا امتزاج رکھتا ہے۔ ناول کے ڈبلن میں مذہب اور سیاست کی گرفت واضح طور محسوس ہوتی ہے جبکہ آج کا ڈبلن ثقافتی آزادی اور عالمی اثر رکھتا ہے۔ یولیسس شہر ڈبلن کو محدود ادبی دائرے میں محصور بتاتا ہے جبکہ آج کا ڈبلن عالمی ادبی مرکز (یونیسکو شہرِ ادب) کی حیثیت رکھتا ہے۔
یولیسس کے مطابق ڈبلن ایک جمود زدہ، طبقاتی اور ذہنی انتشار کا شکار شہر تھا، جہاں مذہب، سیاست اور برطانوی اثرات اس طرح باہم گتھے ہوئے تھے کہ عام آدمی بے بسی، بےسکونی اور ٹھہراؤ کی کیفیت میں جکڑا دکھائی دیتا تھا۔ شہر صنعتی اعتبار سے کمزور، مگر سماجی تضادات سے بھرا ہوا تھا یعنی، جارح امراء کے علاقوں کے ساتھ ساتھ غریب مزدور بستیاں بھی۔ ادب میں بھی ایک کشمکش سی تھی: ایک طرف قوم پرستی، دوسری طرف شہری حقیقت۔۔۔ جوائس اسی ٹکراؤ کو اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کرتا ہے۔
آج کا ڈبلن ایک کھلا، کثیرالثقافتی اور عالمی شہر ہے۔ آبادی میں نمایاں حصہ غیر ملکیوں کا ہے، اور ثقافت صرف آئرش نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی ہو چکی ہے۔ ادب اب کسی واحد نظریے کا قیدی نہیں رہا۔۔۔ نئے لکھنے والے (Roddy Doyle، Maeve Binchy وغیرہ) شہری زندگی کو مختلف زاویوں سے بیان کرتے ہیں۔ 'ٹمپل بار' جیسے علاقے آرٹ، موسیقی اور نائٹ کلچر کے مرکز بن چکے ہیں۔ مختصر یہ کہ، صد سالہ عرصے میں جوائس کا "بند شہر" اب ایک "کھلا اسٹیج" بن چکا ہے۔
آج کے ڈبلن میں جیمس جوائس کی موجودگی صرف کتابوں میں نہیں بلکہ شہر میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ نارتھ ارل اسٹریٹ پر جیمس جوائس کا مجسمہ موجود ہے۔ جیمس جوائس کی زندگی اور اس کے فن پر "جیمس جوائس سنٹر" نامی مخصوص مرکز شہر میں موجود ہے۔ "میوزیم آف لٹریچر آئرلینڈ" میں یولیسس کے نایاب نسخوں کی مستقل نمائش ہوتی ہے۔ یولیسس ناول کا آغاز مارٹیلو ٹاور (سینڈی کوو) سے ہوتا ہے اور جسے آج ایک میوزیم کی حیثیت حاصل ہے۔ شہر کے کئی مقامات پر ایسی راہداریاں (Ulysses trail) بنائی گئی ہیں جن پر چلتے ہوئے محسوس ہوگا کہ گویا ناول میں بیان کردہ راستوں پر قاری چلا جا رہا ہو۔ ڈبلن میں ہر سال 16/جون کو "بلومس ڈے (Bloomsday)" منایا جاتا ہے جس کے دوران شہر کے اہم ادبی اور ثقافتی حصے واقعی ایک "زندہ ناول" کا منظر پیش کرتے ہیں، یعنی: لوگ کرداروں جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ناول کے مناظر کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں، اور ان مقامات پر جاتے ہیں جہاں کہانی گھومتی ہے۔
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
James Joyce’s Ulysses, Urdu Translation, and the Debate on Literature and Obscenity


گفتگو میں شامل ہوں