امریکہ میں 35 سال سے مقیم خاتون گرفتار، ملک بدری تنازعہ

Indian-Origin Interpreter Meenu Batra Detained by ICE After 35 Years in US Amid Deportation Dispute
indian-origin-woman-ice-detention-us-deportation-case

امریکہ میں 35 سال سے مقیم ہندوستانی نژاد خاتون گرفتار، ملک بدری کا خدشہ

امریکہ میں گزشتہ پینتیس برس سے مقیم ہندوستانی نژاد خاتون مینو بترا کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں نے ریاست ٹیکساس میں حراست میں لے لیا۔ 53 سالہ مینو بترا، جو پیشے کے اعتبار سے ایک مستند قانونی مترجم ہیں، کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک مقدمے کے سلسلے میں وسکونسن جانے کے لیے ہارلنجن انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گزر رہی تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مینو بترا ٹیکساس میں ہندی، پنجابی اور اردو زبانوں کی واحد لائسنس یافتہ قانونی مترجم ہیں اور وہ اکثر جنوبی ایشیائی افراد کی امیگریشن عدالتوں میں معاونت کرتی رہی ہیں۔

بترا نے اپنے بیان میں کہا کہ جن اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا، وہ نہ تو وردی میں تھے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی نمایاں شناختی بیج موجود تھا۔ ان میں سے ایک اہلکار نے ان سے سوال کیا کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں۔ اس پر بترا نے جواب دیا کہ انہیں برسوں پہلے نیو جرسی کے ایک امیگریشن جج کی جانب سے "وتھ ہولڈنگ آف ریموول" کا درجہ دیا گیا تھا اور وہ باقاعدگی سے اپنے ورک آتھرائزیشن کی تجدید کرتی رہی ہیں، جو مزید چار برس کے لیے کارآمد ہے۔

تاہم اہلکار نے ان کے جواب پر یہ کہتے ہوئے ردعمل دیا کہ "اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہمیشہ یہاں رہ سکتی ہیں۔"

بترا نے بتایا کہ انہوں نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے مزاحمت کے بجائے اہلکاروں کے احکامات پر عمل کیا، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کسی بھی قسم کی بات چیت کو گرفتاری سے بچنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔

ان کے وکیل دیپک اہلووالیا، جو کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں امیگریشن قوانین کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، نے ان کی رہائی کے لیے عدالت میں ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کر دی ہے۔

گرفتاری کے بعد مینو بترا کو ہتھکڑیاں لگا کر ICE کے ہارلنجن فیلڈ آفس منتقل کیا گیا، جہاں وہ اپنے پیشہ ورانہ کام کے باعث جانی پہچانی شخصیت تھیں۔ اس کے بعد انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کیا جاتا رہا۔

رپورٹس کے مطابق انہیں تقریباً چوبیس گھنٹے تک بغیر کھانے اور پانی کے مختلف سیلز میں رکھا گیا، پہلے ہارلنجن میں اور پھر ولیسی کاؤنٹی کے ایل ویلے حراستی مرکز میں۔ اپریل کے وسط تک وہ وہیں زیر حراست رہیں اور دسمبر میں ہونے والی سرجری کے بعد انہیں درکار مسلسل طبی سہولتیں بھی میسر نہیں آ سکیں۔

اہم بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ مینو بترا کا سب سے چھوٹا بیٹا حال ہی میں امریکی فوج میں شامل ہوا ہے اور اس نے اپنی والدہ کے لیے پیرول کی درخواست بھی دی ہے۔

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت نے انہیں کبھی یہ واضح طور پر نہیں بتایا کہ انہیں ملک بدر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی دوران ان کے وکلا نے ایک عارضی عدالتی حکم امتناعی کے لیے بھی درخواست دی ہے تاکہ انہیں کسی دوسرے حراستی مرکز میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔

دوسری جانب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مینو بترا کے خلاف سن 2000 میں امیگریشن جج کی جانب سے حتمی ملک بدری کا حکم جاری کیا جا چکا تھا، اور اسی بنیاد پر انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔

بترا کے وکیل دیپک اہلووالیا نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں ایسے کئی معاملات سامنے آ رہے ہیں جہاں افراد کو بغیر پیشگی اطلاع یا قانونی کارروائی کے حراست میں لیا جا رہا ہے، اور بعض اوقات انہیں ایسے ممالک منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

ان کے بقول، "یہ طرز عمل نہ صرف قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ہمارے مؤکل کے بنیادی حقوق کی بھی پامالی ہے، اور ہم اس وقت تک قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک انہیں رہائی نہیں مل جاتی۔"

اہم نکات

• مینو بترا گزشتہ 35 سال سے امریکہ میں مقیم تھیں
• ٹیکساس میں ہندی، پنجابی اور اردو کی لائسنس یافتہ قانونی مترجم ہیں
• ایئرپورٹ پر بغیر وردی اہلکاروں نے حراست میں لیا
• انہیں 24 گھنٹے تک بغیر کھانے اور پانی کے رکھا گیا
• دسمبر کی سرجری کے بعد طبی سہولتوں کی کمی کا سامنا
• بیٹا امریکی فوج میں شامل، ماں کے لیے پیرول درخواست دائر
• وکلا نے رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا
• حکومت کا دعویٰ: 2000 سے ملک بدری کا حکم موجود ہے


Keywords: Meenu Batra ICE detention, Indian origin woman US deportation, ICE Texas arrest case, immigration law US interpreter case, Meenu Batra news, US immigration detention controversy, South Asian interpreter ICE arrest, deportation order US case, immigration rights violation US, Texas Observer ICE report, US immigration legal case, Indian diaspora US issues
Indian-Origin Woman Detained by ICE
Indian-Origin Interpreter Meenu Batra Detained by ICE After 35 Years in US Amid Deportation Dispute