ہندوستان بمقابلہ برازیل: معاشی سفر میں استحکام
ابتدا ایک جیسی، انجام مختلف: ہندوستان اور برازیل کی معاشی کہانی
سنہ 1991 کی بات ہے، جب ہندوستان ایک شدید مالی بحران کے دہانے پر کھڑا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے تھے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی خطرے میں تھی، اور ملک کو سونے کے ذخائر تک گروی رکھنے پڑے۔ دوسری طرف اسی زمانے میں برازیل کی معیشت ہندوستان کے مقابلے میں کہیں بڑی اور مضبوط دکھائی دیتی تھی۔
مگر تین دہائیوں بعد منظر نامہ یکسر بدل چکا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو کر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ برازیل نسبتاً سست رفتار ترقی کے ساتھ پیچھے رہ گیا ہے۔ جہاں ہندوستان نے اوسطاً تقریباً 6.5 فیصد سالانہ ترقی کی، وہیں برازیل کی رفتار قریب 2.5 فیصد کے آس پاس رہی۔
یہ فرق کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل مدتی پالیسیوں اور تسلسل کا عکس ہے۔
نوے کی دہائی کے آغاز میں دونوں ممالک کو یکساں معاشی چیلنجز درپیش تھے، مگر راستے مختلف ہو گئے۔ ہندوستان نے 1991 میں بڑے معاشی اصلاحات کا آغاز کیا، جس کی قیادت اس وقت کے وزیر خزانہ منموہن سنگھ نے کی۔ تجارتی پابندیاں کم کی گئیں، غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گئے اور صنعتوں کو حکومتی کنٹرول سے آزاد کیا گیا۔
اہم بات یہ رہی کہ یہ اصلاحات وقتی نہیں بلکہ مستقل رہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کے باوجود معاشی سمت برقرار رکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا اور معیشت کو استحکام بخشا۔
اس کے برعکس برازیل میں پالیسیوں کا تسلسل قائم نہ رہ سکا۔ ہر نئی حکومت کے ساتھ معاشی ترجیحات بدلتی رہیں، جس کے باعث صنعت اور سرمایہ کاری کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہا۔
تعلیم کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے راستے جدا ہو گئے۔
ہندوستان نے سائنسی اور تکنیکی تعلیم پر بھرپور توجہ دی، جہاں تقریباً 34 فیصد طلبہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے وابستہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک بڑی فنی افرادی قوت تیار ہوئی، جس نے آئی ٹی اور سافٹ ویئر جیسے شعبوں کو عالمی سطح پر مضبوط کیا۔
دوسری طرف برازیل میں قانون اور انتظامی علوم پر زیادہ زور دیا گیا، جو اگرچہ اہم ہیں، مگر صنعتی اور برآمدی ترقی کے لیے وہی کردار ادا نہیں کر سکے جو تکنیکی شعبوں نے ہندوستان میں کیا۔
1991 کا بحران ہندوستان کے لیے ایک موڑ ثابت ہوا۔ اصلاحات کے ذریعے نہ صرف معیشت کو سہارا ملا بلکہ عالمی منڈیوں کے ساتھ روابط بھی مضبوط ہوئے۔ وقت کے ساتھ یہی تسلسل ہندوستان کو دنیا کی تیز رفتار معیشتوں میں لے آیا۔
دوسری جانب برازیل کی معیشت زیادہ تر اجناس پر انحصار کرتی رہی، جس نے اسے عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا زیادہ شکار بنایا۔
تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے دروازے بند نہیں ہوئے۔
مثال کے طور پر نیلور نسل کے مویشی، جو اصل میں ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں، برازیل میں مزید بہتر بنائے گئے اور اب ان کی جینیاتی خصوصیات دوبارہ ہندوستان کو منتقل کی جا رہی ہیں۔
توانائی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھ رہا ہے:
• ہندوستان برازیل کے ایتھنول ماڈل سے سیکھ رہا ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
• قابل تجدید توانائی، خاص طور پر شمسی اور ہوا سے بجلی کے منصوبوں میں غیر ملکی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس وقت تقریباً 15 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے 2030 تک 20 ارب ڈالر تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اہم شعبے درج ذیل ہیں:
• خوراک
• ادویات
• توانائی
• ٹیکنالوجی
یہ تقابل دراصل مقابلے سے زیادہ ایک سبق ہے۔
ہندوستان کی کامیابی کسی ایک پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس تسلسل کی دین ہے جو دہائیوں تک برقرار رہا۔ جبکہ برازیل کی مثال یہ بتاتی ہے کہ بار بار بدلتی پالیسیاں ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہیں۔
آخرکار، معیشت میں استحکام وقتی فیصلوں سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ چلنے والی پالیسی ہی اصل طاقت بنتی ہے۔
India vs Brazil: How Policy Stability and Reform Helped India Outpace Brazil Over Three Decades

گفتگو میں شامل ہوں