ممتاز سماجی جہدکار ہرش مندر کا قصور کیا ہے؟ - کالم از معصوم مرادآبادی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-09-19

ممتاز سماجی جہدکار ہرش مندر کا قصور کیا ہے؟ - کالم از معصوم مرادآبادی

Centre-turns-on-Social-activist-Harsh-Mander

انسانی حقوق کے ممتاز کارکن ہرش مندر کے ٹھکانوں پر گزشتہ جمعرات کو ای۔ڈی نے چھاپے مارے۔
یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب ہرش مندر دہلی میں موجود نہیں تھے۔ ان کی غیر حاضری میں نہ صرف ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا بلکہ ان کی رضا کار تنظیموں پر بھی نشانہ سادھا گیا۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہرش مندر حکومت کے ناقدین کی صف اوّل میں شامل ہیں اور انھوں نے مظلوموں کی دادرسی کے لیے جو عملی اقدامات کئے ہیں ، وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آئے ہیں۔ ان کا خاص میدان فرقہ وارانہ فسادات میں یتیم ہونے والے بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا ہے تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ اس کام کے لیے انھوں نے دہلی میں دو ادارے بھی قائم کر رکھے ہیں۔ حکومت کو پریشانی یہ ہے کہ ہرش مندر ان بچوں کی پرورش اور تعلیم پر جو پیسہ خرچ کرتے ہیں، وہ کہاں سے آتا ہے اور اس میں کتنا 'گول مال' ہوتا ہے؟
اسی مقصد کے تحت ای ڈی ان کے اداروں کی چھان بین کر رہا ہے اور ان کے خلاف مختلف عنوانات کے تحت کارروائی انجام دے رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اس کام میں ان کا ہاتھ بٹاتی اور ایک نوبل کاز کے لیے کی جا رہی ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ، مگر اس کے برعکس حکومت کی مشینری ان کے حوصلوں کو توڑنے کا کام کر رہی ہے تاکہ وہ عاجز آ کر ان اداروں کو بند کر دیں اور مصیبت کے مارے بچوں کو سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ لیکن ہرش مندر تمام تر مشکلات اور مسلسل ہراسانی کے باوجود ان اداروں کو قائم رکھنے کے لیے تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں اور وہ ظلم کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہیں۔


سبھی جانتے ہیں کہ ہرش مندرگجرات کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر تھے مگر 2002 کی نسل کشی کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ وہ گاندھی کی سرزمین پر آخری درجے کی ظلم و بربریت دیکھ کر چیخ اٹھے تھے۔ انھوں نے بطور احتجاج یہ کہتے ہوئے سرکاری عہدہ سے استعفی دے دیا تھا کہ انھیں خود کو انسان کہتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔
استعفیٰ کے بعد انھوں نے کافی عرصہ ان ریلیف کیمپوں میں گزارا جہاں گجرات نسل کشی کے متاثرین ناگفتہ بہ حالت میں تھے۔ تب ہی سے انھوں نے اپنی زندگی مظلوموں کے لیے وقف کر رکھی ہے اور ان کا دائرہ کار فساد میں یتیم و یسیر ہوجانے والے بچوں کو نئی زندگی دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہر اس معاملے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ، جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے یا کمزور طبقوں پر ظلم ڈھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرش مندر ملک میں مظلوموں کی ایک مضبوط آواز بن گئے ہیں۔ شاید اسی لیے حکومت اور فسطائی طاقتیں ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ ان کے اداروں کے خلاف ای ڈی کی تازہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے۔


ای ڈی نے منی لانڈرنگ کے معاملے میں جنوبی دہلی کے ادھ چینی (Adhchini)، وسنت کنج اور مہرولی علاقوں میں واقع ہرش مندر کے تینوں ٹھکانوں پر ایک ساتھ کارروائی انجام دی۔ ہرش مندر سے وابستہ دو رضاکار تنظیموں کی مالی اور بینکنگ دستاویزوں کی جانچ پہلے سے ہی چل رہی ہے اور اس معاملے میں وہ سرکاری مشینری کے ساتھ پورا تعاون بھی کر رہے ہیں۔
دراصل دہلی پولیس کی معاشی جرائم سے متعلق شاخ ای او ڈبلیو نے گزشتہ فروری میں ان کی این جی او سینٹر فار ایکویٹی اسٹڈیز (سی ایس آئی) کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ ہرش مندر اس ادارے کے سربراہ ہیں اور ای۔ڈی کی تازہ کارروائی اسی معاملے میں کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تحفظ حقوق اطفال کمیشن کے رجسٹرار نے ایک شکایت درج کرائی تھی جس میں ہرش مندر کی طرف سے دہلی میں غریب اور نادار بچوں کے لیے قایم کئے گئے دواداروں 'امید امن گھر' اور 'خوشی رینبو ہوم' پر ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔
اس معاملے میں ہرش مندر کے خلاف تعزایرات ہند کی دفعہ 188 سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ دونوں ہی ادارے ان بچوں کی پناہ گاہ کے طور پر سرگرم ہیں، جو فرقہ وارانہ فسادات یا دیگر مصائب میں یتیم و یسیر ہوئے ہیں۔ ہرش مندر ایسے بچوں کو ان اداروں میں رکھ کر ان کی تعلیم و تربیت اور کھانے پینے کا بندوبست کرتے ہیں۔
لیکن سرکاری ایجنسیوں نے ہرش مندر کا ناطقہ اس طرح بند کر رکھا ہے، گویا وہ کوئی بہت غلط اور خلاف قانون کام انجام دے رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ہراساں کرنے کے لیے ان اداروں پر طرح طرح کی بدعنوانیوں کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ انھیں بدنام کرنے کے لیے ان اداروں میں بچوں کے جنسی استحصال جیسے شرمناک الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ ان اداروں کے مالی وسائل کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے اور انھیں طرح طرح سے پریشان کیا جا رہا ہے۔


سی ای ایس بورڈ نے اس چھاپہ ماری کے بارے میں بیان جاری کر کے کہا ہے کہ:
"ہمارے ادارے کے خلاف کارروائی دراصل انسانی حقوق کے لیے ہرش مندر کی جدوجہد کو خاموش کرنے کی خاطر کی جا رہی ہے۔"
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ۔۔۔
"گزشتہ کئی ماہ سے ہماری تنظیم دہلی پولیس سمیت حکومت کی کئی ایجنسیوں کے نشانے پر ہے۔ سرکاری اداروں سے ہر قسم کے تعاون اور مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود ہمارے خلاف چھاپہ ماری اور تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے ہمارے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہماری پوری ٹیم ہراسانی کا شکار ہے۔ ہم چونکہ غریب ترین اور حاشیہ پر پھینک دئیے گئے لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں، اسی لیے ہمیں یہ سب بھگتنا پڑ رہا ہے۔"


قابل ذکر بات یہ ہے کہ ای ڈی، انکم ٹیکس ، پولیس اور سی بی آئی جیسے محکموں کی کارروائیاں ہرش مندر اور ان کے اداروں تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کے نشانے پر وہ تمام ادارے اور افراد ہیں جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں اور سماج کے کمزور طبقوں خاص طور پر اقلیتوں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ پچھلے دنوں کئی ایسے ڈیجیٹل نیوز پورٹل کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے تھے جو حکومت کو آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔ انھیں خاص طور پر غیر ملکی چندوں کے نام پرنشانہ بنایا جا رہا ہے اور انھیں حق گوئی کی سزا دی جا رہی ہے۔ پچھلے ہفتہ 'نیوزکلک' اور 'نیوز لانڈری' کے دفاتر پر بھی ایسے ہی چھاپے مارے گئے تھے۔
اسی طرح ایک آزاد صحافی رعنا ایوب کے خلاف بھی غازی آباد میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنے والی میڈیا آرگنائزیشن 'دی وائر' اور اس کے سربراہ سدھارتھ وردھا راجن بھی مستقل حکومت کے نشانے پر ہیں۔
غرض یہ کہ ہر وہ شخص جو رات کو رات اور دن کو دن کہنے کی جرات رکھتا ہے ، سرکاری ایجنسیوں کی نگاہ میں سب سے بڑا مجرم ہے۔ اتنا ہی نہیں جو لوگ حکومت کے غیرجمہوری اور غیردستوری کاموں پر تنقید کرتے ہیں ، ان کے خلاف وطن دشمنی اور غداری کی دفعات کے تحت مقدمات قایم کئے جاتے ہیں۔


ہرش مندر کے خلاف حالیہ کارروائی پر ملک کی اہم شخصیات نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ملک کی 565 سرکردہ شخصیات نے جن میں کئی دانشور اورسرکردہ سماجی کارکن شامل ہیں ، اپنے بیان میں ای۔ڈی کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ:
"ای ڈی کی کاروائیوں کا یہ سلسلہ درحقیقت حکومت پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔"
بیان پر دستخط کرنے والوں میں رکن پارلیمان ششی تھرور، منصوبہ بندی کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید، ماہر معاشیات جین ڈریزا، سینئر ایڈووکیٹ اندرا جے سنگھ، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند، خواتین کے حقوق کی کارکن کویتا کرشنن، میدھا پاٹیکر اور بمبئی کے سابق پولیس کمشنر جولیو ربیرو وغیرہ کے نام شامل ہیں۔


سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کب تک ملک میں جمہوری آزادیوں کا گلا گھونٹتی رہے گی اور ان لوگوں کو نشانہ بناتی رہے گی ، جو اس کی عوام بیزار پالیسیوں کے ناقد ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں حکومت کا یہ طرز عمل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔


***
بشکریہ: معصوم مرادآبادی فیس بک ٹائم لائن
masoom.moradabadi[@]gmail.com
موبائل : 09810780563
معصوم مرادآبادی

Activist Harsh Mander’s home, offices raided by Enforcement Directorate - Column: Masoom Moradabadi.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں