رازداری سے مدد
خواتین خاص طور پر اس معاملے میں حساس ہوتی ہیں جب کوئی عزیز رشتہ دار کوئی اہم بات چھپاتا ہے اور اس کی پیشگی اطلاع نہیں دیتا۔ تب خواتین ناراض ہوتی ہیں اور دلوں میں کدورتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی کی بیٹی کا رشتہ ہوا مگر اس کا پیشگی اعلان نہیں ہوا ۔ تمام معاملات رازداری سے انجام دینے کے بعد اعلان کیا گیا اور رشتہ داروں کو دعوت دی گئی ۔ تب رشتہ دار خواتین ناراض ہوتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہمیں اپنے معاملات سے دور رکھا گیا۔ اسی طرح دیگر معاملات ہین جنہیں انجام پانے تک چھپایاجاتا ہے اور بعد میں اس کا اعلان ہوتا ہے تب رشتہ دار اور اعزہ اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ کوئی اہم معاملہ انجام دینے سے پہلے تمام رشتہ داروں کو پیشگی اطلاع کردی جائے؟
یقیناً نہیں۔
اگر کسی نے کوئی اہم معاملہ چھپایا ہے اور رازداری سے معاملات انجام پاتے رہے اور پھر اس کا اعلان کیا تو کسی کو ناراض ہونے کا حق نہیں بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ خیر و خوبی سے تمام معاملات انجام پا گئے۔
جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے معاملات خیر و خوبی کے ساتھ انجام پاجائیں تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں خفیہ رکھے یہاں تک کہ کام خیر و خوبی سے انجام پا جائیں پھر ان کا اعلان کرے ۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حدیث غور طلب ہے:
اپنی ضروریات کے حصول میں کامیابی کے لئے رازداری سے مدد لو کیونکہ ہر صاحب نعمت رشک و حسدکا نشانہ بنتا ہے ۔
(علامہ البانی نے "السلسلۃ الصحیحہ 493/3" میں اسے صحیح قرار دیا ہے)۔
یعنی انسان کو ہلکے پیٹ کا نہیں ہونا چاہئے کہ اپنے تمام عزائم قبل از وقت لوگوں سے کہتا پھرے، اس طرح وہ حاسدوں کے زہریلے اثرات اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ کوئی اہم معاملہ انجام دینے سے پہلے تمام رشتہ داروں کو پیشگی اطلاع کردی جائے؟
یقیناً نہیں۔
اگر کسی نے کوئی اہم معاملہ چھپایا ہے اور رازداری سے معاملات انجام پاتے رہے اور پھر اس کا اعلان کیا تو کسی کو ناراض ہونے کا حق نہیں بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ خیر و خوبی سے تمام معاملات انجام پا گئے۔
جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے معاملات خیر و خوبی کے ساتھ انجام پاجائیں تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں خفیہ رکھے یہاں تک کہ کام خیر و خوبی سے انجام پا جائیں پھر ان کا اعلان کرے ۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حدیث غور طلب ہے:
استعينوا على قضاء حوائجكم بالكتمان فإن كل ذي نعمة محسود
حضرت ابوھریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:اپنی ضروریات کے حصول میں کامیابی کے لئے رازداری سے مدد لو کیونکہ ہر صاحب نعمت رشک و حسدکا نشانہ بنتا ہے ۔
(علامہ البانی نے "السلسلۃ الصحیحہ 493/3" میں اسے صحیح قرار دیا ہے)۔
یعنی انسان کو ہلکے پیٹ کا نہیں ہونا چاہئے کہ اپنے تمام عزائم قبل از وقت لوگوں سے کہتا پھرے، اس طرح وہ حاسدوں کے زہریلے اثرات اور ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔
Respecting privacy.

1 تبصرہ