قلم کا ایک امانت دار - سید منیر نیازی کولکاتا
اخبار کے پیشے میں دو شعبے ہوتے ہیں ایک ٹیبل ورک کرنے والوں سے متعلق ہوتا ہے تو دوسرا فیلڈ ورک کرنے والوں سے۔ عموماً فیلڈ ورک کے لوگ پورے معاشرے میں نہ صرف معروف ہوتے ہیں بلکہ خاصے بااثر و بارُسوخ اور معاملاتِ زندگی میں ٹیبل ورک والوں سے کہیں ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔
ہم نے جس اخبار میں بیس برس سے زائد وقت گزارا وہاں کے لوگ اور وہ زمانہ سب یاد ہے۔ نیاز اعظمی ہمارے سب سے پہلے صحافی دوست تھے، جو اُس اخبار کے عملے میں تنہا M.A. تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ نیاز اعظمی ممبئی کے دونوں بڑے اخبار میں کام کر چکے تھے ، یاد آیا کہ جب ممبئی سے روزنامہ قومی آواز جاری ہوا تو نیاز اعظمی نے وہاں بھی ڈیسک انچارج کے طور پر کام کیا تھا۔جسکے سربراہ خلیل زا ہد، ابھی موجود ہیں۔ نیازاعظمی کی اہلیہ ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوئیں تو نیاز اعظمی نے اُنھیں بہ غرضِ علاج ممبئی بلا لیا اور سیوڑی کے مشہور ٹی بی ہسپتال میں داخل کیا۔ نیازاعظمی چونکہ اخبار میں کام کرتے تھے اور نیوز ایڈیٹر تھے، لہٰذا ان کی ڈیوٹی شام ہی کی ہوتی تھی اور رات 12 بجے سے پہلے انھیں دفتر سے چھٹی نہیں ملتی تھی۔ چونکہ ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کا وقت شام ہی کا ہوتا ہے تو نیاز اعظمی صرف چھٹی والے دن ہی اپنی اہلیہ سے ملنے ہسپتال جاتے تھے۔
ایک دن جب اُنہوں نے تاسف بھرے لہجے میں اپنی اس لاچاری کا ذِکر کیا تو ہمارا دِل بھی بھر آیا ہم دوسرے دن اپنی بیگم کے ساتھ ہسپتال گئے چونکہ ٹی بی کے علاج میں ایک طویل مدت لگتی تھی جہاں تک یاد آتا ہے کہ وہ محترمہ کوئی مہینے بھر سے زائد ، ٹی بی ہسپتال میں زیر علاج رہیں اور جب وہاں سے ڈِسچارج ہوئیں تو باندرہ کی مشہور جھونپڑ پٹی جو بہرام نگر کے نام سے معروف تھی ، ٹی بی کی یہ مریضہ ہسپتال سے سیدھے اسی بہرام نگر کے ایک نہایت معمولی سے جھونپڑے میں منتقل ہوئیں۔
یہاں یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک بڑے اخبار کے نیوز ایڈیٹر نیاز اعظمی کے پاس اپنی بیمار بیوی کیلئے ممبئی جیسے شہر میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں چند دِن اسے رکھ سکیں۔ نیاز اعظمی اس شہرِ غدار میں بیمار ہوئے اور اپنے وطن دیِدار گنج (اعظم گڑھ) چلے گئے، وہاں کب اُن کا انتقال ہوا ؟ ہم اخبار والوں کو بھی پتہ نہیں چلا۔
نیاز اعظمی جیسا کوئی اُردوصحافی ہمارے نزدیک اس وقت کم از کم اس شہر میں تو ایک بھی نہیں ہے۔ ان کے ہاں نیوز سینس نہایت اعلیٰ درجے کا تھا زبان وبیان کا تو جواب ہی نہیں تھا، تھے تو وہ اخبار ہی کے آدمی مگر شعر و ادب کا نفیس ذوق رکھتے تھے۔ یہ باتیں نیاز اعظمی ہی کے ہم منصب اور ہم پیشہ سید منیر نیازی کے انتقال پر یاد آئیں۔ یہ موصوف بھی کلکتے کے ایک بڑے اخبار میں ڈیسک انچارج کے طور پر اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار کر وطن مالوف غازی پور منتقل ہوگئے تھے اور گزشتہ 26/ اگست کو کوئی 80 برس کی عمر میں اللہ کو پیارے بھی ہو گئے۔ کلکتے کے اخبار والوں نے اُن کی خبر چھاپ کر اپنی ذمے داری ادا کر دی اور بس۔۔۔!
ایک اخبارچی کو اور کیا ملتا۔۔۔!!
منیر نیازی سے پہلی بار کلکتے کے سب سے بڑے اُردو اخبار کے دفتر میں ملاقات ہوئی تھی ، وہی روایتی چہرے مُہرے اور ممبئی کی زبان میں کہا جائے تو سوکھے ہوئے چہرے پر حالات کی حزنیہ کہانی لکھی ہوئی تھی۔ ان سے مل کر جب اخبار کے چیف ایڈیٹر کے کیبن پر نظر پڑی (جب کہ ہم چیف ایڈیٹر ہی سے ملنے گئے تھے۔) تو ان حضرت کی رنگین تصویر دیکھی تو کلہّ بھرا ہوا تھا اور سپید رنگ کے لحیم و شحیم شخص کا چہرہ ایسے لگ رہا تھا کہ اگر کوئی منہ نوچ لے تو خون کی دھار، ابھی بہہ نکلے۔ یہ صورت دیکھ کر ایک بار منیر نیازی کے "چہرے" کی طرف دیکھا تو سرخ و سپید چہرے والے سے پھر ملنے کی خواہش دم تو ڑ گئی بلکہ قلب و ذہن میں ایک منفی لہر سی محسوس ہوئی، وہ لہر تو اب نہیں مگر اس کا تاثر اب تک ذہن پر باقی ہے۔
سید منیر نیازی کے انتقال کی خبر کے ساتھ یہ بھی سنا کہ پسماندگان بس "زندگی" گزار رہے ہیں۔ کلکتے کے جس اخبار میں منیر نیازی کام کرتے تھے اس کے اداریے مشہور تھے، منیر نیازی خبر کی ترجمہ نگاری اور ایڈیٹنگ کے ساتھ اداریہ نویسی بھی کرتے تھے اور جب چیف صاحب ، پارلیمان کے ممبر بن گئے تو اِس اخبار کے بیباک اداریے انہی منیر نیازی کے قلم سے نکلتے تھے۔ کلکتے کے تمام اہلِ علم اور باخبر حضرات منیر نیازی کی بوقلمونی اوراُن کی سادہ مزاجی کے سبب ان کی عزت و احترام کرتے تھے۔
مگر اس عزت و احترام سے۔۔۔۔'زندگی کے مسائل'۔۔۔۔تو حل نہیں ہوتے۔۔۔!
سید منیر نیازی ،غازی پور میں اپنی صاف ستھری زندگی کے ساتھ رخصت ہوگئے یہ کم بڑی بات نہیں کہ ان کے صحافتی کردار پر ایک معمولی سا دھبہ تو دور ایک چھینٹا بھی نہیں تھا۔۔۔ یاد آتا ہے کہ جب کلکتے کی چونا گلی میں حکیم حسینی کے گھر منیر نیازی سے آخری ملاقات ہوئی تو اُن سے بہت سی باتیں ہوئی تھیں، ان کا بیان یہاں ممکن نہیں مگر ایک سینئر صحافی کی طرف سے ایک جونئیر اخبارچی کو بڑی بلیغ نصیحت کی تھی انہوں نے۔۔۔۔
"ندیم میاں! قلم ہمارے آپ کے پاس ایک امانت ہے۔ یہ اپنی ذات کا اشتہار لکھنے کیلئے نہیں ہوتا۔۔"
۔۔۔ ایسے ہی قلم کے امین تھے۔۔۔اور منیر بھی۔۔۔ سید منیر نیازی!!
ان کی 'سیدی' ان کے ساتھ کیا آج بھی روشن نہیں ہے؟!
ہم نے جس اخبار میں بیس برس سے زائد وقت گزارا وہاں کے لوگ اور وہ زمانہ سب یاد ہے۔ نیاز اعظمی ہمارے سب سے پہلے صحافی دوست تھے، جو اُس اخبار کے عملے میں تنہا M.A. تھے۔ کلکتہ یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ نیاز اعظمی ممبئی کے دونوں بڑے اخبار میں کام کر چکے تھے ، یاد آیا کہ جب ممبئی سے روزنامہ قومی آواز جاری ہوا تو نیاز اعظمی نے وہاں بھی ڈیسک انچارج کے طور پر کام کیا تھا۔جسکے سربراہ خلیل زا ہد، ابھی موجود ہیں۔ نیازاعظمی کی اہلیہ ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہوئیں تو نیاز اعظمی نے اُنھیں بہ غرضِ علاج ممبئی بلا لیا اور سیوڑی کے مشہور ٹی بی ہسپتال میں داخل کیا۔ نیازاعظمی چونکہ اخبار میں کام کرتے تھے اور نیوز ایڈیٹر تھے، لہٰذا ان کی ڈیوٹی شام ہی کی ہوتی تھی اور رات 12 بجے سے پہلے انھیں دفتر سے چھٹی نہیں ملتی تھی۔ چونکہ ہسپتال میں مریضوں کی عیادت کا وقت شام ہی کا ہوتا ہے تو نیاز اعظمی صرف چھٹی والے دن ہی اپنی اہلیہ سے ملنے ہسپتال جاتے تھے۔
ایک دن جب اُنہوں نے تاسف بھرے لہجے میں اپنی اس لاچاری کا ذِکر کیا تو ہمارا دِل بھی بھر آیا ہم دوسرے دن اپنی بیگم کے ساتھ ہسپتال گئے چونکہ ٹی بی کے علاج میں ایک طویل مدت لگتی تھی جہاں تک یاد آتا ہے کہ وہ محترمہ کوئی مہینے بھر سے زائد ، ٹی بی ہسپتال میں زیر علاج رہیں اور جب وہاں سے ڈِسچارج ہوئیں تو باندرہ کی مشہور جھونپڑ پٹی جو بہرام نگر کے نام سے معروف تھی ، ٹی بی کی یہ مریضہ ہسپتال سے سیدھے اسی بہرام نگر کے ایک نہایت معمولی سے جھونپڑے میں منتقل ہوئیں۔
یہاں یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک بڑے اخبار کے نیوز ایڈیٹر نیاز اعظمی کے پاس اپنی بیمار بیوی کیلئے ممبئی جیسے شہر میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں چند دِن اسے رکھ سکیں۔ نیاز اعظمی اس شہرِ غدار میں بیمار ہوئے اور اپنے وطن دیِدار گنج (اعظم گڑھ) چلے گئے، وہاں کب اُن کا انتقال ہوا ؟ ہم اخبار والوں کو بھی پتہ نہیں چلا۔
نیاز اعظمی جیسا کوئی اُردوصحافی ہمارے نزدیک اس وقت کم از کم اس شہر میں تو ایک بھی نہیں ہے۔ ان کے ہاں نیوز سینس نہایت اعلیٰ درجے کا تھا زبان وبیان کا تو جواب ہی نہیں تھا، تھے تو وہ اخبار ہی کے آدمی مگر شعر و ادب کا نفیس ذوق رکھتے تھے۔ یہ باتیں نیاز اعظمی ہی کے ہم منصب اور ہم پیشہ سید منیر نیازی کے انتقال پر یاد آئیں۔ یہ موصوف بھی کلکتے کے ایک بڑے اخبار میں ڈیسک انچارج کے طور پر اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار کر وطن مالوف غازی پور منتقل ہوگئے تھے اور گزشتہ 26/ اگست کو کوئی 80 برس کی عمر میں اللہ کو پیارے بھی ہو گئے۔ کلکتے کے اخبار والوں نے اُن کی خبر چھاپ کر اپنی ذمے داری ادا کر دی اور بس۔۔۔!
ایک اخبارچی کو اور کیا ملتا۔۔۔!!
منیر نیازی سے پہلی بار کلکتے کے سب سے بڑے اُردو اخبار کے دفتر میں ملاقات ہوئی تھی ، وہی روایتی چہرے مُہرے اور ممبئی کی زبان میں کہا جائے تو سوکھے ہوئے چہرے پر حالات کی حزنیہ کہانی لکھی ہوئی تھی۔ ان سے مل کر جب اخبار کے چیف ایڈیٹر کے کیبن پر نظر پڑی (جب کہ ہم چیف ایڈیٹر ہی سے ملنے گئے تھے۔) تو ان حضرت کی رنگین تصویر دیکھی تو کلہّ بھرا ہوا تھا اور سپید رنگ کے لحیم و شحیم شخص کا چہرہ ایسے لگ رہا تھا کہ اگر کوئی منہ نوچ لے تو خون کی دھار، ابھی بہہ نکلے۔ یہ صورت دیکھ کر ایک بار منیر نیازی کے "چہرے" کی طرف دیکھا تو سرخ و سپید چہرے والے سے پھر ملنے کی خواہش دم تو ڑ گئی بلکہ قلب و ذہن میں ایک منفی لہر سی محسوس ہوئی، وہ لہر تو اب نہیں مگر اس کا تاثر اب تک ذہن پر باقی ہے۔
سید منیر نیازی کے انتقال کی خبر کے ساتھ یہ بھی سنا کہ پسماندگان بس "زندگی" گزار رہے ہیں۔ کلکتے کے جس اخبار میں منیر نیازی کام کرتے تھے اس کے اداریے مشہور تھے، منیر نیازی خبر کی ترجمہ نگاری اور ایڈیٹنگ کے ساتھ اداریہ نویسی بھی کرتے تھے اور جب چیف صاحب ، پارلیمان کے ممبر بن گئے تو اِس اخبار کے بیباک اداریے انہی منیر نیازی کے قلم سے نکلتے تھے۔ کلکتے کے تمام اہلِ علم اور باخبر حضرات منیر نیازی کی بوقلمونی اوراُن کی سادہ مزاجی کے سبب ان کی عزت و احترام کرتے تھے۔
مگر اس عزت و احترام سے۔۔۔۔'زندگی کے مسائل'۔۔۔۔تو حل نہیں ہوتے۔۔۔!
سید منیر نیازی ،غازی پور میں اپنی صاف ستھری زندگی کے ساتھ رخصت ہوگئے یہ کم بڑی بات نہیں کہ ان کے صحافتی کردار پر ایک معمولی سا دھبہ تو دور ایک چھینٹا بھی نہیں تھا۔۔۔ یاد آتا ہے کہ جب کلکتے کی چونا گلی میں حکیم حسینی کے گھر منیر نیازی سے آخری ملاقات ہوئی تو اُن سے بہت سی باتیں ہوئی تھیں، ان کا بیان یہاں ممکن نہیں مگر ایک سینئر صحافی کی طرف سے ایک جونئیر اخبارچی کو بڑی بلیغ نصیحت کی تھی انہوں نے۔۔۔۔
"ندیم میاں! قلم ہمارے آپ کے پاس ایک امانت ہے۔ یہ اپنی ذات کا اشتہار لکھنے کیلئے نہیں ہوتا۔۔"
۔۔۔ ایسے ہی قلم کے امین تھے۔۔۔اور منیر بھی۔۔۔ سید منیر نیازی!!
ان کی 'سیدی' ان کے ساتھ کیا آج بھی روشن نہیں ہے؟!
***
Nadeem Siddiqui
ای-میل : nadeemd57[@]gmail.com
Nadeem Siddiqui
ای-میل : nadeemd57[@]gmail.com
![]() |
| ندیم صدیقی |
Syed Munir Niazi, a trusted journo from Kolkata. Article: Nadeem Siddiqui


2 تبصرے
[اشہر ہاشمی]
کلکتہ میں ایک ٹرانسپورٹر تھا جے جے رام سنگھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لاریاں چلواتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹرانسپورٹ لابی ہر شہر میں پاور فل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلکتہ میں بھی تھی۔ اسے ٹرانسپورٹ ہڑتال کرانی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات 1982 کے بعد کسی وقت کی ہے۔ کیونکہ آزاد ہند کا دفتر 22 ساگر دت لین سے 25 ایڈن ہاسپیٹل روڈ منتقل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جے جے رام سنگھ نے پریس ریلیز بھجوائی ۔۔۔۔۔۔نیازی صاحب کو پوچھتا ہوا اس کا کوئی ہرکارہ آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیازی صاحب کتابت خانہ میں کاتبوں کے ساتھ ماتھا پچی کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر رکا پھر لفافہ چھوڑ کر جانے لگا تب تک نیازیہ صٓحب آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے؟ سنگھ صاحب نے خبر بھیجی ہے۔ نیازی خبر لفافہ سے نکال کر پڑھنے لگے۔ اس نے کہا ::’’ یہ بھی ہے ‘‘۔ کہنے لگے ’’چھوڑ دو ۔اب جاؤ‘‘۔ خبر پرڑھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کی بجائے دائیں طرف رکھ لی اور اسے پیپر ویٹ سے دبا دیا۔ پھر دوسرا لفافہ کھولا۔اس میں پیسے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لپک کر دروازے کی طرف بھاگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیڑھیاں اتر کر لینڈنگ کی…