Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-04-22 - بوقت: 19:53

ناول خوفناک جزیرہ - سراج انور - قسط - 04

Comments : 0

پچھلی قسط کا خلاصہ :
کبڑا جادوگر رات میں اچانک جان کے خیمے میں داخل ہوا جہاں فیروز بھی موجود تھا۔ اس نے دونوں پر پستول تان کر نقشے کا تقاضا کیا۔ دونوں کے انکار پر اس نے پستول چلانے کی دھمکی دی اور فیروز کی تلاشی لیتے ہوئے اندر کی جیب سے چمڑے کا وہ بٹوہ نکال لیا جس میں جان نے نقشہ چھپا رکھا تھا۔ مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بٹوہ میں نقشہ موجود نہیں تھا۔ کبڑے کو بٹوہ کی تلاشی میں منہمک پاکر فیروز نے کبڑے پر حملہ کر دیا اور جان نے کبڑے کے پستول پر قبضہ کر لیا۔ کبڑے کے خیمے سے ناکام چلے جانے کے بعد فیروز نے جان کو بتایا کہ نقشہ اس نے اپنی پستول کی نال میں چھپا ڈالا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔ اب آپ آگے پڑھئے ۔۔۔

میرا مالک جان یہ سنتے ہی خوشی کے مارے ایک دم اچھل پڑا اور جلدی سے اس نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا ۔ جب اس نے اپنی اس مسرت پر قابو پا لیا تو بولا۔
"لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کبڑا تم سے تمہارا پستول لے کر اپنی جیب میں رکھ لیتا، تب کیا ہوتا اور تم کیا کرتے؟"
"اس صورت میں ہمیں زبردستی اس کی جیب سے وہ پستول نکالنا پڑتا۔ وہ اکیلا تھا اور ہم دو ، کیا ہم مل کر اس پر قابو نہیں پا سکتے تھے ، کم از کم ہمیں اتنا خطرہ تو ضرور مول لینا پڑتا۔"
"ٹھیک کہتے ہو۔ بالکل ٹھیک کہتے ہو ۔" جان نے جوش میں آ کر جواب دیا۔ "لیکن فیروز اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟"
"دیکھئے، میں بتاتا ہوں، نقشہ جب تک کبڑے جادوگر کو نہ ملے تب تک یہ ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوگا ، نقشے کے لالچ میں وہ کم از کم ہمیں مارنا پسند نہیں کرے گا ۔ وہ کوشش یہی کرے گا کہ ہم زندہ رہیں ، دوسری بات یہ کہ ہمیں اب ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا ۔ ہمیں اپنے ساتھیوں پر بھی آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔"
"ہاں یہ ٹھیک ہے، لیکن ہم اب اس نقشے کو کہاں چھپائیں؟"
"اس کی ترکیب بھی میں نے سوچ لی ہے ۔ آپ کے پاس کیا کوئی ایسی روشنائی ہے جو پانی میں بھی ویسی ہی رہتی ہے یعنی اگر اس پر پانی لگ جائے تو پھیلتی نہیں ہے۔"
"ہاں ہاں۔ ہے تو سہی۔" جان نے جلدی سے جواب دیا۔
"بس تو پھر آئیے ، خیمے میں واپس چلتے ہیں اور آدھی رات کے بعد ہم وہ روشنائی ٹارچ اور چند دوسری چیزیں لے کر یہاں واپس آتے ہیں۔"
"ان چیزوں کا تم کیا کرو گے ؟"
"آپ کے خزانے کی حفاظت کا مستقل انتظام۔ ایک ایسا انتظام جس سے آپ کے خزانے کو اب کوئی نہ چرا سکے گا ۔ آئیے اب واپس چلیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کبڑا ہماری غیر حاضری میں وہاں پہنچ جائے ۔"
جان میرا ہاتھ پکڑ کر درخت کی آڑ میں سے نکلا اور پھر ہم دونوں آہستہ آہستہ اپنے خیموں کی طرف روانہ ہوئے ۔ مگر جیسے ہی ہم نے آگے بڑھنے کے لئے قدم اٹھایا۔ یکایک سامنے جھاڑیوں میں ایک کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔ ایک عجیب سی آواز آئی اور ہم دونوں چوکنے ہو کر اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سامنے جھاڑیوں میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگے ۔

جھاڑیاں اب آہستہ آہستہ ہل رہی تھیں۔ رات پہلے ہی اندھیری تھی ، جنگلی جانوروں کی خطرناک آوازوں سے جنگل گونج رہا تھا ۔ کیڑے مکوڑوں کے گھاس میں سرسرانے کی آوازیں بھی صاف سنائی دے رہی تھیں۔ مجھے اب تک اتنے عجیب و غریب اور حیرت ناک واقعات پیش آ چکے تھے کہ شاید کسی نوعمر لڑکے کی زندگی میں پیش نہ آئے ہوں گے ۔ میں ایک حد تک اب بالکل نڈر بن چکا تھا۔ مگر جھاڑیوں کے اس طرح ہلنے سے میرے دل کی دھڑکن پھر تیز ہو گئی ۔ خیال آیا کہ ہو نہ ہو وہی منحوس کبڑا ہوگا ، اپنی چیل جیسی آنکھوں سے اس نے ہمیں خیمے سے باہر آتے ہوئے دیکھ لیا ہوگا اور اب ہمارا تعاقب کرتے کرتے یہاں تک آ گیا ہے، یہ سوچ کر میں نے آہستہ سے جان سے کہا۔
"میرے خیال میں یہ وہی کمبخت ہے۔"
"معلوم تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔"جان نے کنکھیوں سے ہر سمت میں دیکھا۔
"پھر کیا گولی چلا دوں؟"
"خواہ مخواہ، خون بہانے سے کیا فائدہ؟ پہلے یہ تو دیکھ لو کہ وہ کس ارادے سے آیا ہے؟"
"دیکھئے میں اسے للکارتا ہوں۔ اگر اس کا ارادہ خطرناک ہوا تو وہ جھاڑیوں سے باہر ہرگز نہ آئے گا۔" اتنا کہہ کر میں نے زور سے پکار کر کہا:
" سنو چیتن ، اب تم کب تک ان جھاڑیوں میں چھپے رہو گے، بہتر ہوگا کہ باہر آجاؤ۔"
جواب تو کچھ بھی نہ آیا، البتہ جھاڑیاں اور زور سے ہلنے لگیں۔ یہ دیکھ کر اب جان نے اپنی بندوق کا رخ جھاڑیوں کی طرف کرتے ہوئے کہا:
"یوں چھپنے سے کچھ فائدہ نہیں، تم باہر آجاؤ ورنہ میں گولی چلا دوں گا ۔ میں تین تک گنوں گا اس کے بعد بھی اگر تم باہر نہیں آئے تو نتیجہ کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔"
جان نے آہستہ آہستہ ایک سے تین تک گننا شروع کیا اورپھر جیسے ہی اس نے تین کہا، جھاڑیوں کو جنبش ہوئی اور پھر فوراً ہی کوئی چیز پھدک کر ہماری طرف آئی ، ہم دونوں گھبرا کر جلدی سے نیچے جھک گئے ۔ وہ چیز ہمارے سروں پر سے گزرتی ہوئی ہمارے پیچھے جا پڑی۔ ہم نے جلدی سے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گئے، میں نے حیرت سے جان کو اور جان نے مجھے دیکھا۔ مجھے اب یہ حقیقت بیان کرتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ وہ کیا چیز تھی؟ آپ سب جو میری اس داستان کو شوق سے پڑھ رہے ہیں، یقیناً میری حماقت اور بزدلی پر قہقہے لگائیں گے، بیشک لگائیے ، میں آپ سے کوئی بات نہ چھپاؤں گا ، جب میں اپنی بہادری کی داستان یوں مزے لے لے کر آپ کو سنا رہا ہوں تو اپنی بے وقوفیاں بھی ضرور سناؤں گا۔
جس چیز سے ڈر کر ہم دونوں اچانک رک گئے تھے اور جو جھاڑیوں میں سے اچھل کر ہماری طرف آئی تھی، دراصل سفید رنگ کا ایک خرگوش تھا، اسے پھدک پھدک کر جاتے ہوئے دیکھنے لگے۔ بعد میں ہم نے اطمینان کا ایک لمبا سانس لیا، اور پھر احتیاط سے ادھراُدھر دیکھ کر خیموں کی طرف آہستہ آہستہ چلنا شروع کر دیا ۔ چاند تھوڑی دیر کے لئے بادلوں میں سے نکلا اور ہم اس کی روشنی کو غنیمت جان کر جلدی جلدی خیموں کی طرف بڑھنے لگے۔ جان نے اپنے خیمے کا پردہ اٹھا کر اندر دیکھا احتیاطاً اس نے بندوق کی نال بھی سامنے کی طرف کر رکھی تھی ۔ کون جانے کہ وہ کم بخت کبڑا اندر بیٹھا ہوا ہم دونوں کا انتظار کر رہا ہو۔
مگر ہمارا یہ اندیشہ غلط ہی ثابت ہوا، اندر کوئی نہ تھا ، میں نے فوراً ہر طرف نظر دوڑا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ہماری غیر حاضری میں خیمے کے اندر کوئی آیا تو نہیں تھا؟ پھر جلدی ہی مجھے اطمینان ہو گیا کیوں کہ خیمے کی چیزیں جوں کی توں پڑی ہوئی تھیں۔ انہیں کسی نے ایک انچ بھی نہ سرکایا تھا۔
جان تب مجھے چھوڑ کر جلدی سے اپنے سوٹ کیس کی طرف بڑھا۔ اسے کھولنے کے بعد اس نے اس میں سے ایک شیشی نکالی جس میں گہرے اودے رنگ کی روشنائی بھری ہوئی تھی ۔ شیشی میری طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا:
"لو بھئی یہ ہے وہ روشنائی، میں تو امریکہ سے ہی انتظام کر کے چلا تھا۔ بستر بند پر اور دوسرے سامان پر اس روشنائی سے میں نے اپنا نام اور پتہ لکھ دیا تھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ میں ہندوستان جا رہا ہوں اور وہاں بارش بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ بارش میں یہ نام اور پتہ دھل نہ جائے اس لئے میں نے یہ واٹر پروف روشنائی استعمال کی ہے۔ لیکن تم اس کا کیا کرو گے؟"
"شش!" میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشادہ کیا، وہ خاموش تو ہو گیا مگر پھر حیرت سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا، اور جب اسے کوئی بھی آواز سنائی نہ دی تو بولا۔ "کیا وہی کبڑا ہے؟"
" جی نہیں" میں نے آہستہ سے جواب دیا: "لیکن راز کی باتیں ہمیں راز ہی رکھنی چاہئیں، آئیے اب وہیں جنگل میں چلیں، میں آپ کو وہاں سب کچھ بتاؤں گا۔"
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرا مالک جان اب میرا بہت زیادہ اعتبار کرنے لگا تھا ۔ بعض دفعہ تو مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے اس میں عقل بالکل ہی نہیں ہے اس لئے ہر بات میں مجھ سے مشورہ لیا کرتا ہے ، میں ایک معمولی سا نوکر، بھلا مجھ سے مشورہ کرنے اور میرا کہا ماننے کی اسے کیا ضرورت تھی؟

بہرحال ٹارچ، بندوق اور روشنائی ساتھ لے کر ہم دونوں پھر دبے پاؤں خیمے سے باہر نکلے ۔ آسمان پر اب بادل بالکل نہیں تھے ، چاند کی تیز روشنی اب چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی ۔ لمبے لمبے قد آور درخت دیوؤں کی طرح جگہ جگہ کھڑے تھے ۔ پتوں کی سرسراہٹ تیز ہو گئی تھی اور ماحول بڑا بھیانک ہو گیا تھا۔ میں جان کو وہیں چھوڑ کر جلدی سے دوسرے خیموں کی طرف بڑھا۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ جیک اور عبدل بھی اپنے اپنے خیموں میں موجود ہیں یا نہیں؟ مجھے یہ دیکھ کر اطمینان ہو گیا کہ وہ دونوں اپنے خیموں میں گہری نیند سو رہے تھے ، البتہ کبڑے جادوگر کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ کہیں آس پاس ہی موجود ہوگا ، اور اس کی تیز مگر چیل جیسی آنکھیں اب بھی کہیں سے ہماری نگرانی کر رہی ہوں گی ، مگر ہم مجبور تھے ، ہمیں اپنا تو کام کرنا ہی تھا ۔ اس لئے جلدی جلدی ہم دونوں جنگل میں اسی سمت بڑھنے لگے جہاں کچھ دیر پہلے کھڑے ہوئے تھے ۔ ہر ہر قدم ہم چوکنے ہو کر اٹھاتے ۔ ایسا لگتا گویا کبڑا اب آیا اور تب آیا۔ مگر خدا کا شکر ہے ہمیں اس کی ذرا سی بھی آہٹ سنائی نہ دی۔
درخت کے نیچے پہنچنے کے بعد ہم دونوں جلدی سے جھاڑیوں کی اوٹ میں چھپ گئے ۔ یہ کام ہم نے اس لئے کیا تھا کہ اگر کبڑا جادوگر ہمارا پیچھا کرتا ہوا اس طرف آ رہا ہو تو ہمیں پتہ لگ جائے ۔ کوئی پندرہ منٹ تک ہم خاموش بیٹھے رہے۔ جب کسی بھی قسم کی کوئی آواز سنائی نہ دی تو میں نے جان سے کہا: "اب ہم آہستہ سے باتیں کر سکتے ہیں ۔"
"ٹھیک ہے ، مگر تم یہ تو بتاؤ کہ تم کرنا کیا چاہتے ہو؟"
"میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آپ کے خزانے کی حفاظت کا مکمل انتظام کرنا چاہتا ہوں۔ ایسا انتظام کہ پھر کوئی آپ سے نقشہ طلب نہیں کر سکتا۔"
"مگر کس طرح۔۔۔؟" جان نے حیرت سے کہا۔ "ایسا کیسے ہوگا؟"
"آپ پہلے روشنائی اور برش نکال لیجئے ۔"
جان نے میرے کہنے پر اپنی جیب سے روشنائی اور برش نکال لیا، میں نے جلدی سے اپنی قمیض اتار ڈالی اور اپنی کمر کا رخ اس کی طرف کرتے ہوئے بولا۔" اب آپ ٹارچ جلا کر خزانے کا پورا نقشہ میری کمر پر بنا دیجئے۔"
جان کو یہ سن کر اتنی حیرت ہوئی کہ برش اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا ۔ وہ تعجب سے میری شکل دیکھنے لگا، لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں تعریف کی چمک بھی تھی۔ آخر کار وہ بولا۔
"فیروز! آخر تم کون ہو؟ تم روز بروز مجھے حیرت میں ڈالتے جا رہے ہو ۔ تم کوئی معمولی لڑکے نظر نہیں آتے ۔ معمولی لڑکوں کے ذہن میں ایسی باتیں نہیں آیا کرتیں۔"
"آپ تعریف تو بعد میں کیجئے گا مگر پہلے یہ نقشہ میری کمر پر اتار دیجئے۔" میں نے جلدی سے کہا: "دشمن ہم سے زیادہ دور نہیں ہے۔"
جان برش زمین سے اٹھانے کے بعد کچھ دیر تک سوچتا رہا، میں نے اسے تذبذب میں دیکھ کر پوچھا: "کیوں آخر کیا بات ہے ، کیا آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں ہے؟"
"کیسی باتیں کرتے ہو بیٹے؟" جان نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہنا شروع کیا ۔۔۔ "کون ہے جس پر اب مجھے سب سے زیادہ اعتماد ہو ۔ میں تمہیں اب اپنا بیٹا ہی سمجھتا ہوں۔ یہ میں تم سے بار بار کہہ چکا ہوں اور اپنے عزیز لڑکے سے میں نہ تو کوئی بات چھپا سکتا ہوں نہ ہی اس پر شک کر سکتا ہوں۔"
"پھر آخر کیا بات ہے؟" میں نے پوچھا: "آپ سوچ کیا رہے ہیں؟"
"فیروز۔۔۔" جان نے تشویش ناک لہجے میں کہا:
"اس طرح تمہاری زندگی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ دشمن کوشش کریں گے کہ کسی طرح تمہیں ختم کر دیں، اور تمہاری کمر سے یہ نقشہ نقل کر لیں ، میں جان بوجھ کر تمہیں موت کے منہ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔"
"آپ کے ان جذبات کی میں قدر کرتا ہوں ، اور آپ کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں کہ آپ میرا اتنا خیال کرتے ہیں، مگر آپ میرا کہنا مان کر یہ نقشہ میری کمر پر نقل کر ہی دیجئے ، اللہ نے چاہا تو میرا ذرا بھی بال بیکا نہ ہوگا ، آپ کے سوا کسے معلوم ہوگا کہ نقشہ میری کمر پر بنا ہوا ہے؟ ہم اصل نقشہ تلف کر دیں گے۔"
"جیسی تمہاری مرضی" جان نے ہار مانتے ہوئے کہا:
"ہاں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طرح نقشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ "
اتنا کہہ کر اس نے ٹارچ کی روشنی میں جلدی جلدی نقشے کی نقل میری کمر پر بنانی شروع کر دی۔ مجھے گدگدیاں محسوس ہونے لگیں مگر میں دل پر جبر کئے بیٹھا رہا ۔ پندرہ بیس منٹ کے اندر ہی یہ کام ختم ہو گیا ۔ قمیض دوبارہ پہننے کے بعد میں نے ٹارچ اور دوسری چیزیں اٹھائیں اور پھر جان کو ساتھ لے کر خیموں کی طرف چلنا شروع کر دیا۔
احتیاط کے طور پر ہم نے راستے میں ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی ۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر چیتن کہیں آس پاس موجود ہوا تو کہیں ہمارے منہ سے خزانے کی اس نئی حفاظت کے بارے میں کوئی لفظ نہ سن لے۔ کچھ دیر بعد ہم اپنے خیموں کے پاس پہنچ گئے ، جان کو باہر چھوڑ کر میں بلی جیسے پاؤں رکھتا ہوا جیک کے خیمے کے قریب گیا۔ ایک چھوٹے سے سوراخ سے میں نے اندر جھانک کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ آیا جیک بے خبری کی نیند سو رہا ہے یا نہیں؟ کیوں کہ سچ بات یہ ہے کہ مجھے جیک پر ابھی اطمینان نہیں ہوا تھا۔ اچانک میں چونک کر پیچھے ہٹ گیا۔ شاید آپ میری حیرت کا اندازہ نہ کر سکیں گے کہ میں نے کیا چیز دیکھی؟ جلدی سے میں الٹے پاؤں اپنے خیمے کی طرف واپس آیا اور جان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اندر چلنے کے لئے کہا۔
خیمے کا پردہ اٹھا کر جیسے ہی ہم دونوں اندر داخل ہوئے ، ایک نرالی بات ہمارے دیکھنے میں آئی۔ مجھے چونکہ اس کا پہلے ہی سے یقین تھا اس لئے مجھے زیادہ اچنبھا نہیں ہوا ۔ ہاں البتہ جان حیرت کے مارے جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ ہمارے خیمے کا تمام سامان کسی نے الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا ۔ ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے جلدی میں ہمارے پورے سامان کی تلاشی لی ہو۔ میں جانتا تھا کہ یہ کام اس منحوس کبڑے کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔
"دیکھا۔۔۔؟" جان نے مجھ سے کہا" "کیا یہ کسی دشمن کا کام نہیں ہے؟"
"جی ہاں، وہی احمق کبڑا آیا ہوگا۔" میں نے جواب دیا۔
"بجا فرمایا حضور نے ، یہ کام آپ کے اس خادم ہی نے کیا ہے۔" ہمارے پیچھے سے وہی بھیانک آواز آئی، ہم نے پلٹ کر دیکھا تو دروازے میں چیتن کھڑا مسکرا رہا تھا۔ ہاں مگر اس وقت اس کے ہاتھ میں پستول نہیں تھا ۔ ہمیں حیرت سے اپنی طرف تکتے دیکھ کر اس نے پھر طنزیہ لہجے میں کہا۔
"خادم کی اس حرکت سے آپ ضرور خوش ہوئے ہوں گے۔"
"بکواس بند کرو" جان نے غصے سے کہا۔ "دوسروں کی غیر حاضری میں ان کے سامان کی تلاشی لینا کہاں کی شرافت ہے؟"
"شرافت!" کبڑا زور سے ہنسا۔ "میں تو شریف ہی نہیں ہوں اس لئے مجھ میں شرافت کہاں، لیکن میں یہ اطمینان آپ کو ضرور دلا سکتا ہوں کہ میں نے آپ کے سامان میں سے ایک ننھی سے سوئی تک نہیں نکالی، یہ دوسری بات ہے کہ سامان کو اچھی طرح دیکھ ڈالا، کیوں دیکھ ڈالا۔۔۔؟ یہ آپ خود سمجھتے ہوں گے۔ مجھے خزانے کے نقشے کی تلاش ہے ، اور ظاہر ہے کہ وہ نقشہ مجھے اس سامان میں نہیں ملا۔ مجھے اس نقشے کی سخت ضرورت ہے ، میں آپ سے بڑی نرمی سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ وہ نقشہ اب مجھے دے دیجئے۔"
"نقشہ تو تمہیں نہیں مل سکتا۔" میں نے کبڑے کی بےبسی کو دیکھ کر کہنا شروع کیا:
"تمہیں شاید یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ہم دونوں دو مرتبہ اس خیمے سے نکل کر اندر جنگل میں گئے تھے۔"
"یہ مجھے افسوس ہے کہ بعد میں معلوم ہوا، میں نے آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر آپ نہیں ملے، ویسے مجھے یقین ہے کہ آپ دونوں حضرات نقشے کو کہیں دبا آئے ہوں گے۔" چیتن نے کہا۔
"یہ بات نہیں ہے۔" میں نے اچانک اپنا پستول نکال کراس کا رخ کبڑے کی طرف کر کے کہنا شرو ع کیا:
"خزانے کا نقشہ اب بھی ہمارے پاس ہے ، ہم نے یہ سوچا کہ جب تک یہ نقشہ ہمارے پاس رہے گا تم اسے حاصل کرنے کے لئے ہمیں پریشان کرتے رہو گے ، اس لئے ہم نے نقشہ زبانی یاد کر لیا ہے ۔"
"زبانی یاد کر لیا ہے!" کبڑے نے حیرت سے کہا: "زبانی یاد کرنے سے کیا مطلب ۔۔۔! مگر تم نے یہ پستول مجھ پر کیوں تان لیا، جب کہ میں بالکل نہتا ہوں ؟"
میں نے اس کی بات کا جواب دئیے بغیر پھر کہا۔
"نقشے کی ایک ایک بات اور ذرا ذرا سی تفصیل ہم دونوں نے اپنے ذہن میں محفوظ کرلی ہے ، اور اصل نقشہ اب یہیں تمہارے سامنے تلف کر دیتے ہیں۔"
"یعنی۔۔۔۔ یعنی ۔۔۔" کبڑے سے حیرت کے مارے کچھ کہا نہیں گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
"یعنی اسے ابھی دیا سلائی دکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس بات کا حلف اٹھا کر یہ کہتے ہیں کہ نقشے کی نقل کسی دوسرے کاغذ پر ہم نے بالکل نہیں کی۔"
"وہ تو ٹھیک ہے" کبڑے نے کہا: "مگر یہ پستول تو ہٹاؤ۔"
"یہ کیسے ہو سکتا ہے ، نقشہ تمہارے سامنے جلایا جائے گا ، پستول تم پہ یوں تانا گیا ہے کہ کہیں تم جلتے ہوئے نقشے کو حاصل کرنے کے لئے جھپٹ نہ پڑو ، کیا سمجھے؟ ہاں جان صاحب، اب آپ نقشے کو دیا سلائی دکھا دیجئے۔"
جان اب تک خاموش کھڑا حیرت سے میری سب باتیں سن رہا تھا۔ اس نے بھی غالباً میری اس رائے سے اتفاق کیا ہوگا ، اس لئے اس نے نقشہ فوراً جیب سے نکال لیا ، اور ماچس بھی اپنے ہاتھ میں لے لی۔
"حضور جادوگر صاحب، اس نقشے کو آپ بھی خوب غور سے دیکھ لیجئے ۔ کہیں آپ کو حسرت نہ رہ جائے کہ آپ نے نقشہ دیکھا ہی نہیں۔ جان صاحب، نقشہ انہیں دور سے اچھی طرح دکھا دیجئے۔"
جان نے میرے کہنے پر عمل کیا، نقشہ دیکھتے ہی کبڑے نے آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر پستول کا رخ اپنی طرف دیکھ کر پھر رک گیا، جان نے اس عرصے میں نقشے کو آگ لگا دی تھی اور نقشہ اب آہستہ آہستہ جل رہا تھا۔ اس وقت کبڑے کی شکل دیکھنے کے لائق تھی ، اس کا چہرہ بالکل زرد تھا، غصے کے مارے وہ بری طرح کپکپا رہا تھا ۔ اس کا بس نہ چلتا تھا کہ مجھے کچا چبا جائے۔
نقشہ جب اچھی طرح جل چکا تو میں نے کبڑے سے کہا:
"اب اگر آپ چاہیں تو اس راکھ پر جادو کر کے اسے دوبارہ نقشے میں تبدیل کر لیجئے ۔"
"تم۔۔۔۔!" وہ پیر زمین پر پٹخ کر بولا: "تم میرا مذاق اڑاتے ہو، تمہیں اپنی جان کی ذرا بھی پروا نہیں، میں کہتا ہوں پچھتاؤ گے ۔۔۔ بہت پچھتاؤ گے ۔۔۔"


Novel "Khofnak Jazirah" by: Siraj Anwar - episode:04

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں