ہندوستانی مسلمان - مسائل کا ادراک یا مظلومیت کا بیانیہ؟

Indian Muslims and the Politics of Victimhood: Rethinking Identity, Citizenship and Political Discourse
indian-muslims-real-issues-victimhood-narrative

ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے ایک جملہ اب تقریباً تمہیدی فقرے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کہ:
"ملک میں مسلمان اس وقت جن حالات سے گزر رہے ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔"
بظاہر اس جملے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن صحافتی اور تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا و سوچا جائے تو اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے:
کن مسلمانوں کے حالات؟ کس خطے کے؟ کس معاشی طبقے کے؟
اور کس اعتبار سے؟ یعنی۔۔۔ تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، مذہبی آزادی، سماجی تحفظ، معاشی ترقی یا فرقہ وارانہ کشیدگی؟
ہندوستان ایک براعظم نما ملک ہے۔ کشمیر سے کیرالا، اتر پردیش سے تلنگانہ، آسام سے مہاراشٹر اور گجرات سے بنگال تک مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور معاشی صورت حال یکساں نہیں۔ اس لیے پورے ہندوستانی مسلمان کو ایک ہی کیفیت، ایک ہی خوف اور ایک ہی سیاسی تجربے میں بند کر دینا اتنا ہی غیر محتاط رویہ ہے جتنا ان کے حقیقی مسائل سے انکار کر دینا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کے ایک بڑے حصے کو تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا سامنا رہا ہے۔ سنہ 2006 کی مشہور سچر کمیٹی رپورٹ نے اس مسئلے کو سرکاری اعداد و شمار کے ساتھ نمایاں کیا تھا۔ اس رپورٹ میں تعلیم، روزگار، بینک قرض، بنیادی سہولتوں، غربت اور معیارِ زندگی کے ساتھ مختلف ریاستوں کے درمیان تفاوت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔ سچر کمیٹی کی سفارشات میں بھی مسلم برادری کی "نسبتی محرومی" کے علاج کے لیے شمولیاتی ترقی، مساوی مواقع اور قومی دھارے میں موثر شرکت پر زور دیا گیا، نہ کہ مسلمانوں کو ایک مستقل اور یک رنگ مظلوم جماعت تصور کرنے پر۔ اس تاریخی پس منظر کو تسلیم کرنا ضروری ہے، لیکن بیس برس پرانی رپورٹ کو آج کے ہر سیاسی تاثر کی خودکار سند بنا دینا بھی درست نہیں۔ موجودہ صورت حال جاننے کے لیے موجودہ اعداد و شمار، ریاستی تفاوت اور بدلتے ہوئے سماجی اشاریوں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

مثلاً 2025 کے سرکاری پیریاڈک لیبر فورس سروے کے مطابق ملک گیر سطح پر عمومی بے روزگاری کی شرح مسلمانوں میں 3.3 فیصد، ہندوؤں میں 3.0 فیصد اور تمام مذہبی گروہوں کو ملا کر 3.1 فیصد تھی۔ شہری مسلم خواتین میں یہ شرح 6.0 فیصد تھی، جو یقیناً الگ توجہ چاہتی ہے۔ بحوالہ:

اس ایک عدد سے ایسا نتیجہ تو نہیں نکالا جا سکتا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل ختم ہو گئے اور نہ ہی ایسا کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان معاشی اعتبار سے ملک کے باقی شہریوں سے بالکل کٹ چکے ہیں۔ اعداد کا مقصد کسی سیاسی موقف کو ثابت کرنا نہیں بلکہ حقیقت کو اس کی پیچیدگی کے ساتھ سمجھنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی صورت حال پر گفتگو ہو تو "سب کچھ ٹھیک ہے" اور "سب کچھ تباہ ہو چکا ہے" والی دو انتہاؤں کے بیچ ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا کے عہد نے ایک اور مسئلہ پیدا کیا ہے:
جو واقعہ کبھی کسی شہر یا ضلع تک محدود رہتا تھا، اب چند منٹ میں پورے ملک کے موبائل فونوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس فوری ترسیل نے ناانصافی کو چھپانا مشکل بنایا ہے۔ جو یقیناً ایک مثبت تبدیلی ہے، مگر۔۔۔ اسی "تبدیلی" نے مقامی واقعے کو پورے ملک کی مستقل کیفیت سمجھ لینے کا امکان بھی بڑھا دیا ہے۔

یہیں سے ایک دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے موجودہ مسائل پر گفتگو کرنے والے بہت سے اہلِ قلم بجا طور پر اتحاد، سنجیدگی اور باہمی رواداری کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی یہی مطالبہ چند سطروں بعد مسلکی نزاع میں تبدیل ہو جاتا ہے!
کسی مذہبی مقرر نے کسی دوسری جماعت کو گمراہ کہہ دیا، کسی اجتماع میں شرکت کو ناجائز قرار دے دیا یا مشترک مجالس میں خواتین کی شرکت پر حرمت کا سنگین فتویٰ صادر کر دیا تو ایسے بیان کی علمی گرفت ضرور ہونی چاہیے۔ کیونکہ مذہبی منصب کسی شخص کو غیر ذمہ دارانہ گفتگو کا پروانہ نہیں دیتا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قلمکار یا مقررین ایک بنیادی فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے بلکہ اکثر و بیشر جانتے بوجھتے اس "اہم فرق" کو نظرانداز کر جاتے ہیں۔ کیا یہ فرق ہم سب نہیں جانتے کہ:
"ایک شخص کے قول کا محاسبہ اور اس کے پورے مسلک کا محاسبہ ایک ہی چیز نہیں ہے"۔
ہمارے تقریباً ہر مذہبی مکتبِ فکر میں سنجیدہ اہلِ علم بھی موجود ہیں اور ایسے مقرر بھی جن کی شناخت ہی اشتعال انگیز جملوں سے قائم ہوتی ہے۔ اگر ایک دیوبندی کی سخت کلامی تمام دیوبندیوں، ایک بریلوی کی دریدہ دہنی تمام بریلویوں، ایک اہلِ حدیث مقرر کا فتویٰ تمام اہلِ حدیث اور کسی جماعتی کارکن کی متشدد زبان پوری جماعت کے کھاتے میں ڈال دی جائے تو اتحاد کا مطالبہ محض تقریری آرائش بن کر رہ جاتا ہے!!

اس سے بھی عجیب طرزِ استدلال یہ ہے کہ کسی ایک مسلک یا مذہبی گروہ کے چند افراد کی سخت گیری دیکھ کر کہہ دیا جائے کہ:
"اگر انہیں حکومت مل جائے تو معلوم نہیں کیا غضب ڈھائیں۔"
ذرا اس دلیل کو اصول بنا کر دیکھیے۔ ہر مسلک اپنے مخالف مسلک کے سب سے تند مزاج مقرر کو بطور نمونہ پیش کر کے بآسانی ایسا کہہ سکتا ہے۔ ہر جماعت اپنے مخالف گروہ کے چند انتہا پسندانہ اقوال اکٹھے کر کے اس کی مفروضہ حکومت کا خوف ناک نقشہ بنا سکتی ہے۔ پھر جس "مسلم اتحاد" کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے، اس کے لیے جگہ کہاں باقی رہے گی؟!
اتحاد کا مطلب اختلاف ختم کرنا نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں میں فقہی، مسلکی، سیاسی اور تہذیبی اختلافات کل بھی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اصل تہذیبی امتحان یہ ہے کہ اختلاف کو اجتماعی کردار کشی اور مفروضہ سیاسی جرائم تک پہنچنے سے روکا جائے۔

اس بحث کا سب سے زیادہ قابلِ غور پہلو وہ تلخئ زبان ہے جس کے تحت موجودہ سیاسی اقتدار کو مسلمانوں پر خدا کی طرف سے "مسلط" کیا گیا عذاب قرار دے دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کسی جمہوری ملک میں انتخاب کے ذریعے قائم ہونے والی حکومت کو اس طرح خدائی عذاب قرار دینے کا اختیار لاتے کہاں سے ہیں؟
ہندوستانی وزیراعظم کیا صرف مسلمانوں کا وزیراعظم ہوتا/کہلاتا ہے؟ وطنِ عزیز میں قائم مرکزی حکومت تو پورے ہندوستان کی آئینی حکومت ہے۔ اسی طرح اتر پردیش کا وزیراعلیٰ صرف وہاں کے مسلمانوں پر حکومت نہیں کرتا بلکہ متعلقہ ریاست کے تمام شہری اس حکومت کے دائرۂ اقتدار میں آتے ہیں۔ مسلمان کسی حکومت سے ناراض ہو سکتے ہیں، اس کی پالیسیوں کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھ سکتے ہیں، اس کے فیصلوں کی مخالفت کر سکتے ہیں، عدالتوں سے رجوع ہو سکتے ہیں اور اگلے انتخاب میں ایسی ناپسندیدہ حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہی ہندوستانی جمہوریت ہے۔
لیکن اس سیاسی اختلاف سے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ:
اللہ نے مسلمانوں کے اعمال کی سزا کے طور پر فلاں فلاں حکمران کو ان پر "مسلط" کر دیا ہے، محض سیاسی رائے نہیں رہتی، یہ خدا کی منشا کے بارے میں دعویٰ بھی بن جاتا ہے۔ ذرا بتائیے، آخر ہمیں کیسے معلوم ہوا کہ کس انتخابی نتیجے کے پسِ پشت خدا کی یہی مصلحت اور یہی فیصلہ تھا؟

اس طرزِ استدلال کو مزید آگے بڑھائیں تو اس کا کمزور پہلو خود بخود سامنے آ جاتا ہے۔ اگر کسی خاص جماعت یا رہنما کی انتخابی کامیابی مسلمانوں کے لیے خدائی سزا ہے تو جہاں وہ جماعت انتخاب ہار جائے، وہاں کیا اسے مسلمانوں کے لیے خدائی انعام سمجھا جائے؟
اگر ایک ریاست میں وہی جماعت برسراقتدار ہو تو عذاب، اور دوسری ریاست میں دوسری جماعت برسراقتدار آ جائے تو رحمت؟
پھر حکومت بدلتے ہی کیا خدا کا فیصلہ بھی ہمارے اخذ کردہ سیاسی مفہوم کے مطابق بدل جاتا ہے؟ لہذا ثابت ہوا کہ سیاست کو اس پیمانے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ جمہوری حکومتیں ووٹ، سیاسی جماعتوں کی تنظیم، انتخابی حکمتِ عملی، عوامی ترجیحات، معاشی حالات، مقامی مسائل اور بہت سے دیگر زمینی عوامل کے نتیجے میں بنتی ہیں۔ ان عوامل کا تجزیہ کرنے کے بجائے انتخابی نتائج کو مسلمانوں کے گناہوں کی سزا قرار دینا ہمیں سیاسی حقیقت سمجھنے سے کافی دور لے جاتا ہے۔
اس سے ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی سیاسی کمزوریوں، قیادت کی غلطیوں، تعلیمی و معاشی مسائل اور اجتماعی حکمتِ عملی پر غور کرنے کے بجائے ہر ناکامی کی توجیہ تقدیر میں تلاش کرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں کے لیے "غلام" کا لفظ استعمال کرنا جذباتی طور پر جتنا شدید ہے، حقیقت کی وضاحت کے لیے اتنا ہی ناموزوں بھی ہے۔ غلام وہ ہوتا ہے جس کی اپنی آزاد شہری حیثیت بالکل بھی نہ ہو۔ ہندوستانی مسلمان تو ہرگز بھی ایسی حالت میں نہیں ہیں۔ وہ ووٹ دیتے ہیں، انتخابات لڑتے ہیں، عدالت جاتے ہیں، سرکاری ملازمت کرتے ہیں، تجارت کرتے ہیں، اخبارات اور ادارے چلاتے ہیں، اپنی عبادت گاہیں اور تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں اور آئین کی رو سے دوسرے شہریوں کی طرح اپنے حقوق کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں ناانصافی، تعصب یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنا نہیں پڑتا۔ ظلم ہوتا ہے، ناانصافی ہوتی ہے، تعصب برتا جاتا ہے تو ایسے تمام واقعات کو پوری قوت سے سامنے لانا چاہیے۔ حکومت کی غلط پالیسی پر تنقید ہونی چاہیے، ناانصافی کے خلاف قانونی اور سیاسی جدوجہد بھی ہونی چاہیے۔ لیکن ناانصافی کا شکار ہونا اور غلام ہونا ایک ہی بات نہیں۔ دونوں کو ایک بنا دینے سے مسئلہ زیادہ سنگین تو خیر نہیں ہوتا، بس مسئلے کی صحیح شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔

بلکہ "غلامی" کا ایسا تلخ استعارہ، ایک ایسا نقصان بھی کر جاتا ہے جس پر شاید ہم کم غور کرتے ہیں۔ جب کسی قوم کو بار بار بتایا جائے کہ وہ بے اختیار ہے، اس پر دوسروں کو مسلط کر دیا گیا ہے، اس کے حالات اس کے قابو سے باہر ہیں اور اس کی موجودہ سیاسی حیثیت کسی خدائی سزا کا نتیجہ ہے، تو آہستہ آہستہ اجتماعی ذہن میں بے اختیاری کا احساس جگہ بنانے لگتا ہے۔
پھر آدمی یہ سوچنے کے بجائے کہ ہم تعلیم، معیشت، سیاست، صحافت اور سماجی تنظیم کے میدان میں کیا بہتر کر سکتے ہیں، اپنی حالت کی پوری ذمہ داری کسی بیرونی طاقت یا تقدیری فیصلے کے حوالے کر دیتا ہے۔
مظلوم کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی نشان دہی ضروری ہے، لیکن کسی معاشرے کو مسلسل اس کے "مظلوم" ہونے کا احساس دلاتے رہنا اس کی قوتِ عمل کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اپنے حقوق سے محرومی کا شعور انسان کو جدوجہد پر آمادہ کرتا ہے، لیکن اپنی مکمل بے اختیاری کا یقین اسے مایوسی اور انفعالی کیفیت کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔ ان دونوں کیفیتوں میں بڑا فرق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان کے لیے زیادہ موزوں شناخت "غلام" یا مستقل "مظلوم" کی نہیں بلکہ ایک ایسے شہری کی ہے جو اپنے حقوق سے جہاں واقف ہو، وہیں اپنی ذمہ داریوں اور امکانات کا بھی اتنا ہی شعور رکھے۔
ہندوستانی مسلمان کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر، بےشک خاموش نہیں رہنا چاہیے، مگر ہر مشکل کو اپنی بے بسی کا ثبوت بھی نہیں بنانا چاہیے۔
حکومت سے سوال کرنا شہری شعور ہے، حکومت کو خدائی عذاب کہنا تقدیر پسندانہ تعبیر۔ امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانا حق طلبی ہے، اپنے پورے وجود کو غلامی سے تعبیر کرنا خود اپنی شہری حیثیت کو گھٹا دینے کے مترادف ہے۔ شاید ہمارے اجتماعی مکالمے کو اسی باریک مگر بنیادی فرق سے اچھی طرح واقف ہونے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

ہمارے عہد کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے مظلومیت کو بھی ایک طرح کی قابلِ فروخت جذباتی شے بنا دیا ہے۔ پیچیدہ حقائق، ریاستی تفاوت، اعداد و شمار اور تاریخی پس منظر کے مقابلے میں ایک مشتعل جملہ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔۔۔۔
"ہم غلام ہیں"، "ہم پر فلاں مسلط کر دیا گیا ہے" یا "ہماری موجودہ حالت ہمارے فلاں گناہ کی سزا ہے"
۔۔۔ جیسے فقرے فوری جذباتی ردعمل تو پیدا کرتے ہیں، لیکن کسی مسئلے کا حل نہیں بتاتے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی کمزوریاں چھپانے کی ضرورت نہیں۔ تعلیمی پسماندگی ہو تو اس کے اعداد سامنے آنے چاہئیں، روزگار میں کم نمائندگی ہو تو اس کے اسباب تلاش ہونے چاہئیں، امتیازی سلوک ہو تو قانونی اور سیاسی مزاحمت ہونی چاہیے، اور حکومت کی کوئی پالیسی غیر منصفانہ ہو تو اس پر بے خوف تنقید کی جانی چاہیے۔ مگر مسئلے کا ادراک اور مظلومیت کی نفسیات ایک چیز نہیں۔ پہلا انسان کو عمل کی طرف لے جاتا ہے، دوسرا بسا اوقات اسے اپنی بے اختیاری پر یقین دلانے لگتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان کی اصل ضرورت، اپنے آپ کو نہ فاتح سمجھنے کی ہے اور نہ مفتوح جتانے کی۔ نہ ہر کامیابی کو اپنی غیر معمولی قوت کا نتیجہ سمجھنے کی، نہ ہر ناکامی کو کسی دائمی سازش یا خدائی عذاب کا نام دینے کی۔
ہندوستانی مسلمان، ہندوستان کا شہری ہے، اس کی تاریخ کا حصہ ہے، اس کی معیشت، سیاست، تہذیب اور معاشرت میں شریک ہے اور اسی آئینی نظام کے اندر اپنے حقوق، مواقع اور مساوی مقام کے لیے جدوجہد کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس جدوجہد میں حکومتوں کا احتساب بھی ہوگا، اکثریتی تعصبات کی نشان دہی بھی، اپنی قیادت کی ناکامیوں کا جائزہ بھی اور اپنے مذہبی و سماجی حلقوں کی تنگ نظری پر تنقید بھی۔
لیکن اگر ہندوستانی مسلمانوں کو واقعی موجودہ حالات میں اتحاد کی ضرورت ہے تو اس اتحاد کی پہلی شرط یہ ہونی چاہیے کہ:
ہم ایک مولوی کی اشتعال انگیزی کا جواب دوسرے مسلک کی اجتماعی تحقیر سے، ایک سیاسی شکایت کا جواب غلامی کے استعارے سے، اور ایک جمہوری انتخاب کا جواب خدائی عذاب کے غیر ثابت شدہ دعوے سے دینا چھوڑ دیں!
اور شاید ۔۔۔ اپنے مسائل کو سمجھنے کی ابتدا بھی یہیں سے ہوتی ہے:
مظلومیت کے احساس کو مسئلے کا متبادل نہ بنایا جائے، اور مسئلے کے اعتراف کو مظلومیت کی مستقل شناخت نہ بننے دیا جائے!!

Keywords: Indian Muslims, Muslims in India, Indian Muslim community, Indian Muslims current situation, Muslim issues in India, Indian Muslim politics, Muslim political discourse, religious minorities in India, minority rights in India, Indian Muslims and democracy, Muslim unity in India, sectarianism among Muslims, Indian Muslim society, constitutional rights of minorities, Muslim victimhood narrative, political victimhood, Indian democracy, religious freedom in India, Muslim social issues, communal discourse in India
***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

Indian Muslims: Real Issues or a Victimhood Narrative?
Indian Muslims and the Politics of Victimhood: Rethinking Identity, Citizenship and Political Discourse