اردو: دنیا کی بڑی زبان مگر عہدِ اے آئی میں کمزور کیوں؟
اردو زبان کے محبان کی اکثریت دو انتہاؤں پر رہتی بستی ہے۔
ایک وہ: جس کا کہنا/ماننا ہے کہ آج کل کون اردو پڑھتا ہے؟ یا اردو کی نئی نسل کہاں ہے؟
دوسرے وہ: جس کا دعویٰ ہے کہ دنیا کی مشہور و مقبول زبانوں میں اردو فلاں فلاں درجے پر قائم ہے الحمدللہ ماشاءاللہ
دوسری انتہا والے ہر چند ماہ کے دوران "اقوام متحدہ" کا غلغلہ مچاتے ہیں کہ اس نے اپنا پیغام اردو میں بھی جاری کیا ہے۔ سو ان کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ:
اقوام متحدہ کی صرف چھ سرکاری (آفیشل) زبانیں ہیں: عربی، چینی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ہسپانوی۔ اردو اقوام متحدہ کی ساتویں یا آٹھویں سرکاری/عالمی زبان نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی اپنی سرکاری ویب سائٹ بھی یہی چھ زبانیں واضح طور پر درج کرتی ہے۔
یہ کہنا: "اردو اقوام متحدہ کی آٹھویں بڑی/عالمی زبان بن گئی ہے" ۔۔۔ درست نہیں ہے۔ اقوام متحدہ زبانوں کو اس طرح ساتویں، آٹھویں وغیرہ کا سرکاری درجہ نہیں دیتا۔ زیادہ درست بات اس طرح کہی/لکھی جا سکتی ہے: "اقوام متحدہ کی چھ سرکاری زبانوں میں اردو شامل نہیں، تاہم اقوام متحدہ اپنی عالمی ابلاغی سرگرمیوں میں اردو کو اہم زبانوں میں شمار کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کے بعض اہم پیغامات، جن میں نئے سال کا پیغام بھی شامل ہے، اردو میں جاری کرتا ہے"۔
اور ایک اہم تصحیح: سال 2026ء کا سالِ نو پیغام صرف "سات عالمی زبانوں کے ساتھ آٹھویں زبان اردو" میں نہیں تھا۔ اقوام متحدہ کے صفحے پر سرکاری زبانوں کے علاوہ جرمن، ہندی، سواحلی، پرتگالی اور اردو سمیت متعدد اضافی زبانوں کے نسخے موجود ہیں۔ اس لیے اس واقعے سے اردو کا کوئی باقاعدہ "آٹھواں مقام" اخذ کرنا گمراہ کن ہوگا۔
البتہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ: "اردو دنیا کی آٹھویں بڑی زبان ہے"۔ یہ اقوام متحدہ کے سرکاری زبان کے درجے سے قطعاً مختلف معاملہ ہے۔ ویسے دعویٰ کسی قسم کا ہو، وہ کسی مستند و معتبر دلیل کا تقاضا کرتا ہے۔ کوئی مدعی ہو تو اسے چاہیے کہ دلیل کے ساتھ سامنے آئے۔
اردو۔۔۔ دنیا کی ایک بڑی ادبی، صحافتی اور تہذیبی زبان ہونے کے باوجود "آرٹیفیشل انٹیلی جنس" اور "نیچرل لینگویج پراسیسنگ" (NLP) کے تناظر میں اب بھی کم وسائل کی زبان (Low-Resource Language) سمجھی جاتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اردو میں مواد کم ہے۔ لاکھوں کتابیں، اخبارات، رسائل، تحقیقی مقالات اور ویب صفحات اردو میں موجود ہیں۔ لیکن ان کا بڑا حصہ یا تو صرف چھپے ہوئے نسخوں میں ہے، یا اسکین شدہ تصویروں کی صورت میں، یا ایسے غیر معیاری فارمیٹس میں جو براہِ راست مشینوں کو سمجھ نہیں آتے۔ اس کے برعکس انگریزی کے لیے اربوں الفاظ پر مشتمل صاف ستھری، ترتیب شدہ اور لیبل لگی فائلیں دستیاب ہیں۔ اردو میں موجود ڈیٹا بیسز نہ صرف تعداد میں کم ہیں بلکہ اکثر بکھرے ہوئے، نقل شدہ، یا لائسنسنگ کے اعتبار سے غیر واضح ہوتے ہیں۔ اسی لیے محض یہ کہنا کہ "انٹرنیٹ پر اردو مواد بہت زیادہ ہے" کافی نہیں۔ جدید ذہین مشینوں کو کچا متن نہیں بلکہ صاف، معیاری، متنوع اور قانونی طور پر قابلِ استعمال ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔
مسئلہ صرف ڈیٹا کی مقدار تک محدود نہیں بلکہ اردو کی لسانی اور رسم الخط کی پیچیدگیاں بھی اہم ہیں۔ اردو کا فارسی-عربی رسم الخط، حروف کی مختلف شکلیں، اعراب، ہمزہ، اور لفظوں کے درمیان فاصلے کا غیر مستقل استعمال مشینوں کے لیے ٹوکنائز (tokenize) کرنا (یعنی الفاظ کو الگ الگ پہچاننا) مشکل بنا دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اردو کی صرف ایک شکل نہیں: ہندوستان اور پاکستان کی معیاری اردو، علاقائی استعمال، ادبی زبان، صحافتی انداز، عام بول چال، سوشل میڈیا کی زبان اور "رومن اردو" سب اپنی الگ الگ مشکلات و مسائل رکھتے ہیں۔ رومن اردو میں تو املا (اسپیلنگ) کا کوئی مستحکم معیار ہی نہیں ہے۔ ایک ہی لفظ کئی مختلف طریقوں سے لکھا جا سکتا ہے اور انگریزی-اردو کو ملا کر لکھنا عام ہے۔ سال 2025 کی اے۔سی۔ایل تحقیق نے اسی بنا پر رومن اردو کو شدید طور پر کم نمائندگی والا (underrepresented) قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس شعبے میں مخصوص معلومات کی بازیافت کا ڈیٹا سیٹ (dedicated information-retrieval dataset) تک موجود نہیں تھا۔
ان تمام کمیوں کا براہِ راست اثر موجودہ اے۔آئی مشینی نظاموں پر پڑتا ہے۔ بڑے کثیر اللسانی ماڈل (multilingual models) اردو لکھ تو لیتے ہیں۔۔۔ لیکن گرامر، محاورے، تہذیبی سیاق، دقیق ترجمہ، حقیقت کی جانچ (فیکٹ چیکنگ) اور طویل متن کی معنوی تفہیم میں اب بھی کمزوریاں سامنے آتی ہیں۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے محض مزید اردو متن انٹرنیٹ پر ڈالنا کافی نہیں ہوگا۔ بلکہ ضرورت ایک منظم "اردو لسانی ڈیٹا کا بنیادی ڈھانچہ" (اردو لینگویج ڈیٹا انفرا اسٹرکچر) قائم کرنے کی ہے، جس میں کروڑوں الفاظ کا کاپی رائٹ سے پاک مجموعہ (کارپس)، مختلف شعبوں کی نمائندگی، اعلیٰ معیار کے متوازی مجموعے (parallel corpora)، لفظ کی قسم کی نشاندہی والا ڈیٹا (POS-tagged corpora)، ناموں اور اصطلاحات کا ڈیٹا بیس (named-entity datasets)، لفظی ساخت کی لغت (morphological lexicons)، جملوں کا ساختی تجزیہ (dependency treebanks)، بولی سے تحریر کا ڈیٹا (speech-to-text corpora)، اور انسانی ماہرین سے جانچے ہوئے معیاری پیمانے (evaluation benchmarks) شامل ہوں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ اردو کم وسائل کی زبان اس لیے نہیں کہ اردو کے پاس مواد کم ہے۔ اردو کم وسائل کی زبان اس لیے ہے کہ اس کے علمی و تہذیبی سرمائے کا بڑا حصہ ابھی تک مشین کے لیے قابلِ فہم لسانی ڈیٹا میں تبدیل نہیں ہوا۔ جس دن یہ کام جامعات، اردو اداروں، ناشرین، اخبارات اور کمپیوٹیشنل لسانیات (computational linguists) کے ماہرین کے اشتراک سے ہوگا، اردو کو کم وسائل کی زبان سے اچھی طرح وسائل سے مالا مال ڈیجیٹل زبان بنانے کی حقیقی بنیاد پڑ جائے گی۔
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
Urdu: One of the World's Largest Languages But Struggling in the Age of Artificial Intelligence and Natural Language Processing


گفتگو میں شامل ہوں