اے آئی سوالات: ماحول کا نقصان یا انسانی تجسس کا جائز استعمال؟

Is asking ChatGPT questions wasteful? Debunking AI energy myths, water usage claims, and why human curiosity matters more than productivity metrics.

چیٹ_جی۔پی۔ٹی
آپ میرے بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں یا میری شخصیت کے بارے میں کیا اندازہ لگایا ہے؟
اگر میں اچانک آپ کو اَن-انسٹال کر دوں تو آپ کے کیا تاثرات ہوں گے؟
میری سب سے نمایاں خوبی اور سب سے بڑی کمزوری۔۔۔ اب تک کی گفتگو کے بعد، آپ کیا قرار دیں گے؟

یہ اور اس جیسے متعدد سوالات کے متعلق لکھتے ہوئے ایک معروف و مقبول سوشل میڈیا انفلواینسر خاتون نے اپنی ایک حالیہ فیس بک (اردو) پوسٹ میں طنز و مزاح کے انداز میں بتایا کہ ۔۔۔ "چیٹ_جی۔پی۔ٹی انسٹال کر کے پاکستانی باؤلے ہو گئے ہیں۔ انہیں یہ نہیں پتا کہ ایک سوال پر جو بجلی خرچ ہوتی ہے وہ ایک عام گوگل سرچ سے دس گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ چیٹ_جی۔پی۔ٹی کا جواب آپ کی زندگی میں کتنا کام آیا؟ آپ نہ صرف خود وقت کا زیاں کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ اے آئی کو یہ پرامپٹ دیں اور پھر تماشا دیکھیں۔۔۔ وغیرہ"
قلمکار کی نیت نیک اور قوم کی اصلاح کا ان کا جذبہ قابل قدر سہی ۔۔۔ مگر غلطی تو اسی جذباتیت پسندی کی ہے جس طرح پچھلے دنوں ایک حقیقی وقوعے کا تذکرہ کرتے ہوئے مشہور کالم نگار وسعت اللہ خان نے "کتابوں کی آخری ہچکی" کے عنوان سے طویل کالم لکھ کر چند مغالطے بھی پھیلا دئے۔

ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ مضمون میں ایک درست مسئلے کو اٹھایا گیا ہے، مگر اسے ثابت کرنے کے لیے کچھ اعداد و تعبیرات اس طرح پیش کی گئی ہیں کہ قاری کو اے۔آئی سے کیے گئے ایک معمولی سوال کا ماحولیاتی نقصان حقیقت سے کہیں زیادہ محسوس کرایا گیا ہے۔ اے آئی کے بڑھتے ہوئے بجلی اور پانی کے کلی اثرات پر بےشک سنجیدہ تشویش ہونی چاہیے۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ عام آدمی سے کہا جائے کہ آپ نے چیٹ جی پی ٹی سے مذاق کیوں کیا؟ زیادہ اہم سوالات یہ اٹھائے جانے چاہیے کہ: ڈیٹا سینٹر کتنے کارآمد ہیں، بجلی کس ذریعے سے آ رہی ہے، ٹھنڈک کس طرح ہو رہی ہے، ماڈل کتنے موثر بن رہے ہیں، اور کمپنیاں بجلی و پانی کے اپنے اثرات کے بارے میں کتنی رازداری کا مظاہرہ کرتی ہیں؟
یہ دعویٰ کہ: ایک سادہ سوال بھی گوگل سرچ سے دس گنا بجلی کھاتا ہے، کافی پرانا ہو چکا ہے اور موجودہ اے۔آئی ترقی کے دور میں اسے ایک مستحکم سائنسی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ بےشک بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کی توانائی کا مسئلہ واقعی موجود ہے، لیکن "مصنوعی ذہانت کے ایک سوال پر کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے؟" کا کوئی ایک طے شدہ جواب نہیں ہے۔ اسی طرح ۔۔۔ "ایک سوال پر ایک ملی لیٹر سے پانچ سو ملی لیٹر پانی خرچ" ہونے والی بات بھی کافی گمراہ کن ہے۔ اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ یہاں "پانی استعمال ہونا" کا مطلب یہ نہیں کہ چیٹ جی پی ٹی کے ہر سوال کے ساتھ سرور پر آدھا گلاس پانی انڈیلا جاتا ہے۔ اصل حساب میں ڈیٹا سینٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے ساتھ بجلی پیدا کرنے سے جڑا پانی کا اثر بھی شامل ہو سکتا ہے۔ لہذا زیرِبحث مضمون میں ایک ملی لیٹر سے پانچ سو ملی لیٹر فی سوال کی حد دینا علمی اعتبار سے مفید وضاحت کے بجائے مختلف حالات اور اندازوں کو ایک ہی کھاتے میں ڈال دیتا ہے، جو دوسرے معنوں میں قاری کو اصل حقائق سے دور کرنے کے برابر ہے۔ مسئلے کو منطقی طور بیان کرنے کے لیے یوں کہا جانا زیادہ بہتر تھا: ایک سوال کا خرچ نسبتاً معمولی ہو سکتا ہے، لیکن اربوں سوالات کا مجموعی خرچ معمولی نہیں رہتا۔

دوسری اہم بات یہ کہ عوامی اصلاح اچھی بات ہے لیکن اس کی خاطر "مورال پولیسنگ" کوئی مناسب طریقہ کار نہیں کہلایا جا سکتا۔ یہ کہنا کہ: "یہ جواب آپ کی زندگی میں کتنا کام آیا؟" بظاہر معقول سوال ہے، مگر انسانی سرگرمی کی قدر ناپنے کا بہت تنگ پیمانہ بھی ہے۔ کیونکہ انسانی رویّے کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کا حق، فردِ واحد کا حق نہیں ہے۔
اگر یہی اصول مان لیا جائے تو پھر لطیفہ سننا، پہیلیاں بوجھنا، معمے حل کرنا، دوست سے بے مقصد گفتگو کرنا، ناول پڑھنا، شطرنج کھیلنا، کرکٹ/فٹبال دیکھنا، موبائل پر تصویر بنانا، یا بچے کا بار بار "کیوں؟" پوچھنا بھی وسائل کا ضیاع قرار پائے گا۔ کیا ہم سب یہ سادہ سی بات نہیں جانتے کہ انسان صرف پیسہ کمانے یا معاشی کامیابی کے لیے وسائل استعمال نہیں کرتا۔ تجسس، تفریح، تخلیق، تجربہ اور کھیل بھی انسانی زندگی کے جائز اور ضروری حصے ہیں۔
کوئی شخص مصنوعی ذہانت سے پوچھتا ہے "اگر میں سو سال پہلے پیدا ہوتا تو میری زندگی کیسی ہوتی؟" تو ممکن ہے چیٹ_جی۔پی۔ٹی کا جواب اس کی آمدنی میں ایک روپیہ کا بھی اضافہ نہ کرے، مگر اس سوال سے تخیل، تاریخ یا مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں سمجھنے کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ اور کبھی کبھی تو ایسا سوال واقعی صرف تفریح ہے۔ اور ۔۔۔ تفریح کا بے فائدہ ہونا اور نقصان دہ ہونا ایک ہی بات باور نہیں کی جا سکتی۔
اس کے علاوہ، ایک اور دلچسپ بات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ اوپن اے آئی خود کہتا ہے کہ حقیقی دنیا کے لوگوں کی بات چیت اے۔آئی ماڈلز کو مختلف مسائل اور روزمرہ کے سوالات سمجھنے اور زیادہ درست و محفوظ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اس لیے عجیب، عام، بچکانہ، معصومانہ، غیرمتوقع اور غیر رسمی سوالات بھی بعض حالات میں قیمتی تعامل کا ڈیٹا بن سکتے ہیں۔ اگر تربیتی ڈیٹا صرف پروگرامرز، پروفیسران، محققین، طلبا و کاروباری افراد کے "سنجیدہ" سوالات پر مشتمل ہو تو ماڈل عام انسانوں کی حقیقی زبان اور ضروریات سمجھنے میں کمزور ہو سکتا ہے۔

ایک اور پہلو متذکرہ مضمون میں تقریباً غائب ہے، یعنی یہ کہ مصنوعی ذہانت، وسائل صرف استعمال ہی نہیں کرتی، بعض حالات میں دوسرے وسائل کی بچت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اسی لیے اس کے ماحولیاتی اثرات کا حساب صرف یہ پوچھ کر مکمل نہیں ہوتا کہ: "ایک سوال کے جواب میں کتنی بجلی خرچ ہوئی؟" یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت سے لیا گیا کوئی کام اگر روایتی طریقے سے کیا جاتا تو اس میں کتنا وقت، توانائی اور دیگر وسائل صرف ہوتے؟ مثلاً کسی شخص نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے آدھے گھنٹے میں خط تیار کر لیا، دو گھنٹے کی پروگرامنگ بیس منٹ میں مکمل کر لی، کسی کتاب کے متعلق ابتدائی معلومات گھر بیٹھے حاصل کر لیں، ترجمہ کر لیا یا کسی موضوع پر ابتدائی تحقیق مکمل کر لی، تو اس پورے عمل کے ماحولیاتی اور معاشی اثرات کو صرف سرور پر خرچ ہونے والی بجلی تک محدود کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ بعض صورتوں میں مصنوعی ذہانت وقت، سفر، کاغذ، آلات یا انسانی محنت جیسے دوسرے وسائل کی کھپت کم کر سکتی ہے، جبکہ بعض صورتوں میں اس کا استعمال کسی موجودہ عمل کی جگہ لینے کے بجائے محض توانائی کے ایک نئے اور اضافی استعمال کا سبب بنتا ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ کرنا بھی درست نہیں کہ مصنوعی ذہانت لازماً وسائل بچاتی یا ماحول پر بوجھ کم کرتی ہے۔ زیادہ معقول طریقہ یہ ہے کہ ہر استعمال کو اس کے ممکنہ متبادل سے ملا کر دیکھا جائے: مصنوعی ذہانت نے جتنے وسائل استعمال کیے، ان کے مقابلے میں اس نے کتنا وقت، محنت یا دوسرے وسائل بچائے اور اس کے نتیجے میں حقیقی فائدہ کیا حاصل ہوا؟

اور آخری اہم بات:
مصنوعی ذہانت کی سمجھ بوجھ کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہر سوال سے پیسہ، تحقیق یا پیشہ ورانہ فائدہ نکلے۔ اصل سمجھ بوجھ تو یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ۔۔۔
اے۔آئی کو کب کام کے لیے استعمال کرنا ہے، کب سیکھنے کے لیے، کب تخلیق کے لیے، اور کب محض تجسس و تفریح کے لیے؟!

Keywords: ChatGPT, Artificial Intelligence, AI energy consumption, AI environmental impact, ChatGPT questions, AI water usage, data center efficiency, AI literacy, human curiosity, AI ethics, machine learning, AI sustainability, technology debate, AI misconceptions
***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com

syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

ChatGPT Questions: Environmental Waste or Human Curiosity?
ChatGPT and AI Questions: Debunking Myths About Energy Consumption, Water Usage, and the True Value of Human Curiosity in the Age of Artificial Intelligence