ٹیلیگرام پر پابندی، ہندوستان میں ڈیجیٹل کنٹرول کا نیا رجحان
ہندوستان میں ٹیلیگرام (Telegram) پر عارضی پابندی نے ڈیجیٹل آزادی اور حکومتی اختیارات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جون 2026 میں وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں اس ایپ تک رسائی محدود کر دی، جسے بعد میں عدالت کی منظوری بھی حاصل ہو گئی۔
اس فیصلے کی بنیادی وجہ نیٹ-یو جی 2026 (NEET-UG 2026) امتحان کے پیپر لیک اسکینڈل کو بتایا گیا۔ حکام کے مطابق ٹیلیگرام پر چیٹنگ نیٹ ورکس، پیپر لیک گروپس اور غلط معلومات تیزی سے پھیل رہی تھیں، جس سے لاکھوں طلبہ متاثر ہو رہے تھے۔
حکومت کا کہنا تھا کہ ایپ کی کچھ خصوصیات - جیسے بڑے پبلک چینلز، بوٹس اور فائل شیئرنگ - ان سرگرمیوں کو روکنے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ خاص طور پر میسج ایڈیٹ کرنے کے فیچر کو غلط استعمال کرتے ہوئے پرانے پیغامات میں بعد میں سوالیہ پرچے شامل کیے جا رہے تھے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ان حالات میں حکومت نے مخصوص مواد ہٹانے کے بجائے پورے پلیٹ فارم کو ہی عارضی طور پر بلاک کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ 16 جون کو جاری حکم کے تحت ٹیلیگرام پر 22 جون تک پابندی لگائی گئی، جبکہ میسج ایڈیٹنگ فیچر کو 30 جون تک غیر فعال رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
ٹیلیگرام کمپنی نے اس اقدام کو دہلی ہائی کورٹ (Delhi High Court) میں چیلنج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس سے کروڑوں صارفین کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ تاہم عدالت نے 19 جون کو حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ قدم "کم سے کم نقصان دہ" اقدام ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے، جہاں حکومتیں مخصوص مواد کے بجائے پورے پلیٹ فارم کو بند کرنے کو ایک عام طریقہ بنا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف کاروبار اور صارفین متاثر ہوں گے بلکہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ حد سے زیادہ سنسرشپ اختیار کریں۔
مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستان میں ڈیجیٹل پالیسی اب زیادہ سخت اور منظم ہو رہی ہے، جہاں ریاستی اختیار بتدریج وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں بھی ایسے اقدامات معمول بن جائیں گے، اور اس کا اثر عام صارف کی آزادی پر کہاں تک پڑے گا۔
Telegram Ban in India Raises Concerns Over Platform-Wide Blocking and Digital Freedom

گفتگو میں شامل ہوں