فلاحی اسکیموں کی ناکامی کے لئے سابقہ حکومت ذمہ دار - تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے سی آر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-08-02

فلاحی اسکیموں کی ناکامی کے لئے سابقہ حکومت ذمہ دار - تلنگانہ وزیر اعلیٰ کے سی آر

حیدرآباد
منصف نیوز بیورو
تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے الزام عائد کیا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں بر سر اقتدار کانگریس حکومت گزشتہ10سالوں کے دوران کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے غریبوں کا معیار زندگی بہتر ہوجاتا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے جو مسلسل 10برس تک برسراقتدار رہی، ریاست میں کوئی معاشی اور سماجی سروے نہیں کرایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آروگیہ شری، سفید راشن کارڈس، فیس ری ایمبرسمنٹ جیسی فلاحی اسکیمیں ناکام ہوگئیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسکیموں کا اعلان کرتے ہوئے غریب خاندانوں کی تفصیلات کو مناسب ڈھنگ سے جمع نہیں کیا ۔یہ سابقہ حکومت کے لئے باعث شرم ہے کہ اس نے غریبوں کے نام پر اسکیمیں متعارف کروائیں اور فائدہ امیروں کو پہنچایا ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی مستحقین ان اسکیموں کے فوائد سے محروم رہ گئے اور حکومت کے مختص کردہ فنڈس اور اثاثے ذاتی فائدوں کے لئے استعمال ہونے لگے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب4محکموں سے تفصیلات طلب کی گئیں تو تمام محکموں نے مختلف ڈیٹا فراہم کیا اور یہی وجہ ہے کہ یکے بعد دیگر ے حکومتوں کے لئے مسائل کھڑے ہوتے گئے اور فلاحی اسکیمیں ناکام ہوگئیں ۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع گھریلو سروے کرایا جائے تاکہ آبادی کا ایک مکمل ڈیٹا حکومت کے پاس دستیاب ہو۔
حیدرآباد انٹر نیشنل کنونشن سینٹر نے’’جامع گھریلو سروے‘‘ پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ علاقہ تلنگانہ میں88لاکھ گھریلو آبادی کے لئے1.7کروڑ راشن کارڈس موجود ہیں جن میں91لاکھ سفید راشن کارڈ ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ایسا ہی معاملہ دیگر فلاحی اسکیموں کا ہے جیسے امکنہ کی اسکیم میں مکانات منظور کئے گئے ، فنڈس جاری کئے گئے لیکن مکانات اور استفادہ کنندگان کا کوئی پتہ نہیں ۔ فیس ری ایمبرسمنٹ کا معاملہ لے لیجئے کئی بوگس کالج موجود ہیں جن کے پاس نہ تو فیکلٹی اور نہ ہی انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ یہ کالج آل انڈیا کونسل فارٹیکنیکل ایجوکیشن کے رہنمایانہ خطوط پر بھی پورے نہیں اترتے لیکن ان کالجوں کو برابر فیس ری ایمبرسمنٹ عمل میں لائی گئی ۔ یہ بھی ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کالجوں کی تنقیح عمل میں لاتی ۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام اہل تلنگانہ طلباء کو فیس ری ایمبرسمنٹ حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت سیما آندھرا طلبہ کی فیس ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء تعلیم کی غرض سے تلنگانہ آتے ہیں اور فیس ری ایمبرسمنٹ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ جس کی تکمیل ممکن نہیں ہے ۔ حکومت آندھرا پردیش کو اپنے طلباء کی فیس ادا کرنی ہوگی ۔ انہوں نے مطلع کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم سے حکومت کو4ہزار کروڑ روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر آندھرا کے طلباء کو فیس ری ایمبرسمنٹ کی گنجائش رکھی گئی تو دیگر ریاستوں کے طلباء بھی جو یہاں تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اس کا تقاضہ کریں گے ۔ کیا یہ ممکن ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جب تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کرتے ہوئے آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی تو تلنگانہ کے خزانوں کے منہ بھرے ہوئے تھے۔ ایک کروڑ ایکر زرعی اراضی موجود تھی لیکن گزشتہ60برسوں کے دوران سیما آندھرا حکمرانوں نے جیج بھر کر تلنگانہ کو لوٹ لیا۔ کے چندر شیکھر راؤ نے مزید کہا کہ تلنگانہ میں12دلت موجود ہیں جن میں شہری علاقوں میں مقیم3لاکھ دلت بھی موجود ہیں ، میری حکومت ان دلتوں کو نہ صرف فی کس3ایکر اراضی فراہم کرے گی بلکہ اس اراضی پر برقی کنکشن کے ساتھ ایک پمپ سیٹ بھی ہوگا ۔ اس سلسلہ میں بینکوں سے کوئی مدد نہیں لی جائے گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دلتوں کے لئے رجسٹریشن چارجس معاف کردئیے جائیں گے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دلتوں کی بھلائی کے پروگرام پر تقریباً2ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔

--

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں