Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-12-23 - بوقت: 16:41

ناول - ایک بت - سلامت علی مہدی - قسط:20

Comments : 0

پراسرار کہانیوں کے خالق سلامت علی مہدی (مرحوم) کی ایک تجسس آمیز پراسرار کہانی "ایک بت" کو قسط وار شکل میں تعمیر نیوز بیورو (ٹی۔این۔بی) کی جانب سے پہلی بار انٹرنیٹ پر شروع کیا گیا تھا ۔۔ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ 19 ویں قسط (5/جنوری/2014) کے بعد سے تعطل کا شکار ہو گیا جس کے لیے ہم اپنے معزز قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔ اس ہفتہ سے یہ ہفتہ وار سلسلہ جاری کیا جا رہا ہے۔ 20 ویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

گذشتہ اقساط کا خلاصہ :
ونود کے دوست کمار کو ایک بدروح نے اس کمرے میں مار پیٹ کر نڈھال کر ڈالا تھا جس میں ونود کی بیوی شانتا برہنہ حالت میں بستر پر بےہوش پڑی تھی۔ اس بدروح کا کہنا تھا کہ وہ شانتا سے پیار کرتی ہے اور شانتا کو ہمیشہ اپنی نظروں کے سامنے رکھنا چاہتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف شاتو کے بت نے کمار سے کہا تھا کہ ونود کی مدد کرنے کی صورت میں وہ کمار کا ساتھ نہیں دے گی۔ پھر کمار کی درخواست پر بدروح صبح تک کے لیے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔ اور اس کے جاتے ہی شانتا ہوش میں آ گئی۔ کمار کے سامنے اپنی برہنگی دیکھ کر شانتا طیش میں آ گئی۔ کمار نے بمشکل شانتا کو سمجھایا ۔۔۔ اب آپ آگے پڑھئے ۔۔۔

قسط : 1 --- قسط : 19

میرے یہ جملے سن کر شانتا کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا ، اور میں نے اس کے دونوں ہاتھ چھوڑ دئیے ۔ اب میں نے اس کو بڑے سکون کے ساتھ ساری داستان سنادی ۔ میں نے جیسے ہی داستان ختم کرکے شانتا کی طرف دیکھا وہ رو رہی تھی اور خوف کی وجہ سے اس کا سارا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا ۔۔
اب میں نے اس سے کہا: "خوف زدہ مت ہو ، میں تمہارے پاس موجود ہوں، لیکن ہمیں بہرحال آئندہ کے لیے غور کرنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ موجودہ مصیبتوں سے ہم کس طرح نجات حاصل کریں ۔"
"لیکن تم نے اس سلسلے میں کیا سوچا ہے؟" شانتا نے پوچھا۔
"میں نے ابھی کچھ نہیں سوچا ہے ۔" میں نے کہا " میں ابھی تم سے کہہ چکا ہوں کہ میرا دماغ تقریباً ماؤف ہوچکا ہے ۔"
ہم دونوں اسی طرح کافی دیر تک بات کرتے رہے اور رات آہستہ آہستہ گزرتی رہی ۔ میں نے شانتا سے کہا" میرے خیال میں مناسب یہ ہے کہ تم آج رات کو ہی یہاں سے چلی جاؤ۔"
"ناممکن۔۔۔۔" شانتا نے کہا۔ "میں نہ تمہیں مصیبت میں چھوڑ کر جا سکتی ہوں اور نہ ونود کو ۔ بلکہ میں تو یہ فیصلہ کرچکی ہوں کہ میں خود کو ونود پر قربان کردوں، کیوں کہ اس طرح تمہیں شاتو کی خبیث روح کے مقابلے پر ایک اور روح کا تعاون حاصل ہوجائے گا ۔"
"یعنی میں تمہیں زندہ در گور ہوجانے دوں؟" میں نے کہا۔
"ہاں۔۔" شانتا نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔
"نہیں شانتا۔"میں نے جواب دیا "ہمیں کچھ اور سوچنا چاہئے ۔ موجودہ مسئلہ کا وہ حل نہیں ہے جو تم میرے سامنے رکھ رہی ہو۔"
"پھر تم ہی بتاؤ کہ آخر کیا کیاجائے ۔۔۔۔" شانتا روہانسی ہوکر بولی۔
"ابھی ساری رات باقی ہے۔" میں نے جواب دیا " بہر حال میں نے تمہارے عاشق روح سے صبح تک کی مہلت لی ہے ۔"
شانتا کچھ دیر تک سوچتی رہی اور میں اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے خیالات کے مد و جزر کا اندازہ لگاتا رہا ۔ وہ واقعی اپنے شوہر کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرتی نظر آرہی تھی ۔ وہ بہرحال ایک ہندوستانی عورت تھی اور ہندوستانی عورت کے کردار کی بنیادی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ شوہر کو اپنا مجازی خدا سمجھتی ہے، شوہر کے قدموں میں جنت تلاش کرتی ہے اور وقت پڑنے پر اپنے شوہر کے لیے اپنی جان تک دے دیتی ہے ۔
میں شانتا کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا اور مجھے اس کے چہرے پر صرف ایک عورت کا تقدس ہی نظر نہیں آتا رہا بلکہ میں اس طوفان کو بھی دیکھتا رہا جو شانتا کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
اچانک شانتا نے کہا "میں عالم ہوش و حواس میں خود اس روح سے بات کرنا چاہتی ہوں ۔ میں ابھی اس کو آواز دیتی ہوں۔"
"لیکن یہ کیا ضروری ہے کہ وہ تمہارے پکارنے سے آجائے۔"میں نے کہا۔
"وہ آئے گی اور ضرور آئے گی۔" شانتا نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا "لیکن تم تھوڑی دیر کے لیے باہر چلے جاؤ۔ بہت ممکن ہے کہ میرا یہ مردہ عاشق مجھ سے تمہاری موجودگی میں بات نہ کرے۔"
مشورہ معقول تھا ۔ اس لیے میں شانتا کے چہرے پر ایک گہری نظر ڈالنے کے بعد کمرے سے باہر نکل گیا۔

باہر کالکا اب بھی عالم بے ہوشی میں تھا۔ میں نے اس پر پانی کے چھینٹے ڈالے اور چند ہی لمحوں کے بعد وہ ہوش میں آگیا۔
اس نے بیدار ہوتے ہی پوچھا "بی بی جی کہاں ہیں۔"
"اپنے کمرے میں۔" میں نے جواب دیا "لیکن مجھے یہ بتاؤ کہ تم پہرہ دینے کے بجائے اتنی گہری نیند کیوں سو رہے تھے؟"
"میں سو نہیں رہا تھا ڈاکٹر صاحب" کالکا نے کہا"میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ کسی نے مجھ پر جادو کردیا تھا اور اسی جادو کے اثر سے میں بے ہوش ہوگیا تھا۔"
اس کے بعد کالکا نے مجھے بتایا کہ وہ دروازے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ اچانک اس نے ایک تیز قسم کی بدبو محسوس کی اور قبل اس کے کہ وہ کوئی کپڑا اپنی ناک پر رکھتا، وہ بے ہوش ہوچکا تھا ۔
کالکا نے مجھ سے پوچھا "بی بی جی اس وقت کیا کر رہی ہیں؟"
"لیٹی ہوئی ہیں اور خیریت سے ہیں۔ تم ان کی طرف سے فکر مند نہ ہو اور اسی جگہ بیٹھے رہو ۔ میں ذرا باغ میں ٹہلنے جارہا ہوں ۔" اتنا کہہ کر میں باغ کی طرف روانہ ہوگیا۔

باغ کے وسط میں شاتو کا بت بدستور مسکرا رہا تھا، میں اب تک اس بت کو کئی مرتبہ مسکراتے دیکھ چکا تھا لیکن اس وقت اس کی مسکراہٹ ایک تیر بن کر مجھے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی ۔ میں بت کے سامنے ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا۔
کافی دیر تک میں بت کے سامنے کھڑا اس کو گھورتا رہا اور میرے دل میں یہ خواہش انگڑائیاں لیتی رہی کہ کیوں نہ میں ابھی اور اسی وقت اس کو توڑ دوں، تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری کے مصداق شاتو کا وجود ہی ختم ہوجائے ۔
اور پھر جیسے میں نے محسوس کیا کہ شاتو کا بت توڑنے میں ہی ہم سب کی نجات مضمر ہے ۔ میں فوراً باغ کے اس گوشے کی طرف لپکا، جہاں مالی کی کدال اور پھاؤڑے رکھے تھے۔ کسی فوری جذبہ کے تحت میں نے ایک کدال اٹھائی اور تقریباً دوڑتا ہوا دوبارہ بت کی طرف لپکا۔
لیکن حوض کے قریب پہنچتے ہی جیسے میرے قدم زمین پر جم کر رہ گئے۔
اب بت اپنی جگہ سے غائب تھا ، میں ابھی مبہوت ہی کھڑا تھا کہ میرے کانوں میں شاتو کی جانی پہچانی آواز گونجی، وہ ہلکے ہلکے قہقہے لگا رہی تھی۔
چند لمحوں کے بعد اس نے مجھ سے کہا "تم میری مسکراہٹ کو قتل نہیں کر سکتے ڈاکٹر۔۔۔ تم میرے بت کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے ۔"
شاتو نے ایک لمحے کی خاموشی کے بعد مجھ سے مزید کہا "تم یہ نہ سمجھنا کہ میں کچھ نہیں جانتی، مجھے سب کچھ معلوم ہوتا رہتا ہے ، میں ہر بات سے واقف ہوں ، میں ایک بار پھر تمہاری طرف دوستانہ ہاتھ بڑھاتی ہوں۔ تم شانتا کو لے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے چلے جاؤ اور ونود کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔"
"اور اگر میں تمہاری بات نہ مانوں تو؟" میں نے کپکپاتے ہوئے لہجے میں کہا۔
"تو میں تمہیں پریشان کروں گی۔۔۔۔۔۔۔اتنا کہ تم خود ہی یہ حویلی چھوڑ کر بھاگ جاؤ گے۔۔" شاتو نے بڑے زہریلے لہجے میں جواب دیا ۔
شاتو نے اس کے بعد اور کچھ نہیں کہا ، میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا بت دوبارہ چبوترے پر واپس آ گیا۔ اور میں نے ایسا محسوس کیا جیسے رات اور بھی زیادہ گہری ہوگئی۔ رات کی تاریکی اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔

ٹھیک اسی لمحے دور بہت دور سے الّو کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔ درختوں کی شاخیں دیوانہ اور جھومنے لگیں اور میرے چاروں طرف کی ہوا سسکیاں بھرنے لگی۔
ماحول اتنا بھیانک ہوچکا تھا کہ اب میرے لیے وہاں کھڑا رہنا ناقابل برداشت ہو گیا، میں پسینے میں نہا گیا اور میں نے ایسا محسوس کیا جیسے میرے دل کی حرکت رکتی جارہی ہے، نتیجہ یہ ہوا کہ میں وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔

چند منٹ کے بعد میں دوبارہ شانتا کے کمرے کے دروازے پر کھڑا ہانپ رہا تھا۔
شانتا کمرے کے اندر تھی اور اندر سے کوئی آواز نہیں آرہی تھی، میں نے دروازے پر دستک دی ۔ دروازہ بلا کسی آواز کے کھل گیا۔
اندرشانتا مسہری پر بالکل اداس بیٹھی تھی ، اس کا چہرہ ایک مرتبہ پھر کمہلا گیا تھا اور وہ برسوں کی بیمار نظر آرہی تھی ۔ مجھے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ کھڑی ہوگئی اور پھر جیسے ہی میں اس کے نزدیک آیا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
میں سمجھ گیا کہ اس کے رونے کا سبب کیا تھا۔ یقیناً حویلی کی روح نے اس کی کوئی بات نہیں مانی تھی ، میں شانتا کو تسلی دینے کے لیے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اور مجھے اعتراف ہے کہ ایک مرتبہ پھر جذبات کی رو میں بہہ نکلا۔
شانتا کی جسمانی قربت نے میرے جسم میں آگ لگا دی ۔ شانتا روتی رہی اور میں اس کے دل کی دھڑکنوں کو ایک نغمہ سمجھ کر اس کے نشے میں ڈوبنے لگا ۔ میرے احساسات پلک جھپکتے میں پوری شدت سے بیدار ہوگئے اور میں یہ بالکل بھول گیا کہ ابھی چند لمحے پہلے تک میں کتنا پریشان تھا ، مجھے کتنی الجھنیں تھیں۔

لیکن بالکل اچانک ایک آواز نے میرے جذباتی خواب کا یہ سارا طلسم توڑ دیا۔ اور کیسے نہ ٹوٹتا جب کہ یہ آواز ونود کی تھی۔
ونود کی آواز سنتے ہی شانتا بجلی کی طرح لپک کر میری چھاتی سے الگ ہوگئی اور دروازے کی طرف دوڑ گئی ، جہاں ونود کھڑا ہوا چیخ رہا تھا۔
"میں نے تم کو دوست سمجھا تھا کمار۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم ڈاکو بھی ہو، میری شانتا کے جسم کے ڈاکو۔۔۔۔۔۔ ذلیل انسان میں ابھی اور اسی جگہ۔۔۔۔۔۔۔"
ونود کا جملہ نامکمل رہ گیا۔ کیوں کہ اب تک شانتا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکی تھی ۔ میں ونود کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ جیل سے کیسے بھاگ آیا؟ اس وقت رات کے دو بج رہے تھے ۔ میں نے سوچا "یہ ونود ہے یا میری نظروں کا دھوکا ہے ۔"
لیکن ابھی میں کچھ اور نہیں سوچنے پایا تھا کہ ونود نے چیتے کی طرح جست لگائی اور مجھے دبوچ لیا۔
دوسرے ہی لمحے ہم ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوچکے تھے۔

اس کے بعد کیا ہوا؟
ونود جیل سے کیسے بھاگا؟
شاتو کی مکاری نے اور کیا گل کھلائے؟
یہ سب جاننے کے لیے اگلی قسط ملاحظہ کیجئے۔


Novel "Aik Bot" by: Salamat Ali Mehdi - episode:20

0 comments:

Post a Comment