اردو کتابوں کی اسکیننگ - ایک دیرینہ خواب کی تکمیل میں مزید پیش رفت
Scanning of Urdu books and uploading on scribd.com by Rashid Ashraf... راشد اشرف کی جانب سے اردو کتابوں کی اسکیننگ
اخبارات ، خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا پاکستان کے ، یا انٹرنیٹ کی دنیا ہو ، اکثر راشد اشرف صاحب کے نام نامی سے جگمگایا کرتے ہیں۔ ویسے تو راشد صاحب کیمیکل انجینئر ہیں اور ماشاءاللہ نوجوان نسل کے نمائندے بھی ، مگر فی الوقت اردو ادب کی جو خدمت دلجمعی اور سنجیدگی کے ساتھ وہ کر رہے ہیں اور اردو ادب کے لاکھوں صفحات کو ای-بک میں منتقل کرنے کا جو قیمتی اور بےلوث فریضہ انجام دے رہے ہیں ، اس کی "شہرت" ضروری بھی ہے اور اردو والوں کے لیے فائدہ مند بھی۔
تعمیر نیوز بیورو (ٹی۔این۔بی) ، برادرم راشد اشرف کا شکرگزار ہے کہ اپنے اس اہم کاز کا ایک مفصل جائزہ انہوں نے مضمون کی شکل میں عنایت فرمایا۔
تعمیر نیوز پر راشد اشرف کے مضامین
راشد اشرف - فیس بک پروفائل
راشد اشرف ویب سائیٹ : وادئ اردو
راشد اشرف ای-کتب : scribd.com/zest70pk
دیکھو یہ میرے خواب تھے، دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا
صاحبو!راقم الحروف پرانی کتابوں کی اسکیننگ گزشتہ تین برسوں سے کررہا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں۔اس عرصے میں پاک و بھارت کی مختلف جامعات سے وابستہ درجنوں طلبہ نے رابطہ کیا ، بہتیروں کی طلب فوری طور پر اپنے چھوٹے سے کتب خانے سے یا چند اہل دانش کے تعاون سے پوری کی گئی۔آپ میں سے اکثر احباب ان ’’اہل دانش‘‘ کے ناموں سے بخوبی ہیں ، ان میں سب کے سب وسیع القب اور وسیع المشرب لوگ ہیں۔(خدا کا شکر ہے کہ ’’وسیع المشروب‘‘ نہیں ہیں)۔ کئی طلبہ کو اسکین شدہ کتابوں کے موجودہ ذخیرے سے مطلوبہ کتب فراہم کی گئیں۔ایک محتاط اندازے (جو راقم کا اپنا ہی ہے)کے مطابق راقم السطور پونے دو لاکھ اوراق اسکین کرچکا ہے۔ یہ تما م ذخیرہ scribd.com پر موجود ہے۔ان تمام کتابوں کو تادم تحریر دنیا بھر میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ دیکھ چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ادب الاطفال سے متعلق چند کتابیں کھام گاؤں کے برادرم محمد انیس الدین اور کینیڈا میں قیام پذیر برادرم محمد فرحان نے بھی اسکین کرکے بھیجیں ہیں۔ دو برس قبل علی گڑھ میں قیام پذیرراقم کے دیرینہ کرم فرما پروفیسر اطہر صدیقی نے اپنے کتب خانے سے کم و بیش چالیس خودنوشتیں اسکیننگ کے لیے فراہم کی تھیں۔
راقم کی اسکین کردہ کتا بوں کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:
| نمبر شمار | موضوع | اسکین شدہ کتابوں کی تعداد |
|---|---|---|
| 1 | ادب الاطفال۔سنہ چالیس۔ پچاس تا ستر کی دہائی میں شائع ہوئے ناول | 310 |
| 2 | پاک بھارت کی خودنوشتیں مع زندانی ادب | 113 |
| 3 | سفرنامے اور رپورتاژ | 20 |
| 4 | شخصی خاکے و تذکرے | 38 |
| 5 | تحقیقی مقالے(مختلف ذرائع سے حاصل کیے گئے) | 24 |
| 6 | ادب الاطفال پر کتابیں اور مقالے | 5 |
| 7 | متفرق موضوعات (کالم، تحقیق، تاریخ، وفیات، تصوف، جناب ابن صفی، اکرم الہ آبادی،مسعود جاوید،اظہار اثر، مشفق خواجہ کی کتابوں کے سرورق، فلمی موضوع پر کتابوں کے سرورق اے حمید ،محمد خالد اختر ، عبادت بریلوی کی کتابوں کے سرورق مع یادگار تصاویر، ڈائجسٹوں سے چند یادگار کہانیاں تین حصوں میں، بلونت سنگھ کی تحریریں، قیسی رام پوری کے تقسیم سے قبل شائع ہوئے افسانے وغیرہ) | 55 |
| 8 | خطوط کے مجموعے | 5 |
| 9 | پرانی کتابوں کے اتوار بازار کی کتابوں کے سرورق وغیرہ | 27 |
| 10 | رسائل و جرائد سے منتخب کردہ اوراق | 33 |
| - | کل تعداد | 630 |
کتابوں کی اسکیننگ اور انٹرنیٹ پر ان کتب کی دستیابی (uploading) ایک ایسا طریقہ ہے جس کی مدد سے کتابوں کو ایک طویل عرصے تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر ان کی "آخری آرام گاہ" پرانی کتابوں کے اتوار بازار وں ہی میں بنتی ہے ۔ اسی سوچ کے پیش نظر ڈاکٹر معین الدین عقیل نے اپنا کتب خانہ جاپان کی کیوتو یونیورسٹی کو سونپ دیا جہاں ان کی ستائیس ہزار کتابوں کی اسکیننگ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔ ڈاکٹر نے اپنے اس فیصلے کے جواز میں 2012 ء میں ایک کتابچہ شائع کیا تھا جس میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں:
حمیدالدین شاہد کا کتب خانہ دکنیات کے لحاظ سے اہم تھا۔ڈاکٹر سہیل بخاری، ڈاکٹر شوکت سبزواری، ڈاکٹریاض الحسن ، ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری جیسے متعدد نام ہیں جن کے کتب خانے کبھی شہرت اور اہمیت رکھتے تھے لیکن اب ان کے نام و نشان بھی نہیں۔ان میں سے مرزا علی اظہر برلاس اور ڈاکٹر ریاض الحسن اور دیگر کئی افراد نے اپنے کتب خانے اور قیمتی نوادرات و مخطوطات مشفق خواجہ کی نذر کردیے تھے۔ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہانپوری صاحب نے اپنا کتب خانہ ایک دارالعلوم کے کتب خانے کو دے دیا۔لیکن دیگر ذاتی کتب خانوں کا اب وجود نہیں رہا۔ایسے بیشتر کتب خانے کراچی ہی نہیں لاہور بلکہ ہر شہر میں کباڑیوں اور ردی فروشوں یا فٹ پاتھوں پر فروخت ہوئے۔اب ان کا نام و نشان نہیں۔ آج ہمارے اکابر میں کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے کتب خانے بہت وقیع سمجھے جاتے ہیں۔ان کے علاوہ سحر انصاری صاحب یالاہور میں محمد عالم مختار حق، افضل حق قرشی ، اکرام چغتائی، ڈاکٹر تحسین فراقی اور اقبال مجددی صاحبان وغیرہ کے کتب خانے بھی ایک مثال ہیں۔لیکن ان سب کا مستقبل کیاہے؟
یہ سوال ہر ایک کے لیے، جس جس کے پاس ذاتی کتب خانہ موجود ہے، اذیت ناک ہے۔زیادہ سے زیادہ وہ یہ سوچتے ہیں کہ ان کے بعد ان کا کتب خانہ کسی لائبریری کو دے دیاجائے گا یا لائبریری میں پہنچ جائے گا۔لیکن کراچی یونیورسٹی ، ہمدرد یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی میں کئی ذاتی کتب خانے جمع ہوئے لیکن ان کا کیاحشر ہوا؟ یہ عبرت ناک ہے۔کراچی یونیورسٹی میں احسن مارہروی، مولوی بشیر الدین احمد،ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اور دیگر متعدد اکابر و مشاہیرکے کتب خانے بھی آئے لیکن منوں مٹی تلے دبے ہوئے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں۔بعض ذخائر ابھی تک بوریوں میں بند پڑے ہیں اور یوں ہی تباہ ہورہے ہیں، کوئی نہیں جو انھیں کھولنے اور ترتیب دینے تک کا سوچے، ان کی حفاظت اور دیکھ بھال اور انھیں ترتیب دینا اور قابلِ استفادہ رکھنا تو دور کی بات ہے۔ یونیورسٹیوں کے خود اپنے ذخائر اب انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ہیں اور تباہ ہوچکے ہیں اور جو بچ گئے ہیں ان کا مستقبل بھی مختلف نہیں۔ جس طرح ہم اور ہمارا معاشرہ، ہماری اقدار، ہماری روایات ہر چیز تباہی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے اورذمے داروں میں کوئی نہیں جو اس تباہی کو روکنے کے لیے کوشاں یا مستعد ہو۔اسی طرح لائبریریاں بھی اور خاص طور پر جامعات کی لائبریریاں اپنے اربابِ اقتدار کی بے نیازی اور نااہلی کے سبب تباہی اور کس مپرسی کا شکار ہیں۔
بظاہر اقبال کا یہ شعر بطور ضرب المثل بھی ہمارے دلوں کو چھوتارہتاہے:
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ
لیکن یورپ وامریکہ کا وہ کون سا کتب خانہ ہے جس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکیں کہ وہاں کتابیں کس مپرسی کی حالت میں برباد ہورہی ہیں؟ یقیناًان کتابوں پر قوم و ملت کا زیادہ حق ہے لیکن اگر وہ یہیں رہتیں تو کیا اب تک وہ باقی رہتیں؟ ہندوستان میں مسلم عہد حکومت کے کتنے ہی بے مثال اور عالی شان کتب خانوں کے ذکر سے ہماری علمی تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ان کی کتابوں کی فہرستیں بھی مرتب ہوئی تھیں لیکن وہ فہرستیں تک اب یہاں موجود نہیں وہ بھی یورپ ہی کے کتب خانوں کی زینت ہیں!یوں دیکھیں توعلمی حوالے سے مغرب کے جو احسانات ہم پر ہیں، میں تو اسے بھی ان کے سامراجی اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک ایسا اقدام بھی سمجھتاہوں کہ جس کی وجہ سے ہماری علمی و تہذیبی فضیلتیں ایک ثبوت اور حقیقت کے طور پروہاں محفوظ ہیں اور خود ہمارے استفادے کے لیے بھی موجود ہیں اور ہم ان سے حسبِ استطاعت فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔اگر وہ سب کچھ، جو مغربی کتب خانوں میں آج محفوظ ہے،وہاں محفوظ نہ رہتا تویہاں ہمارے عبرت ناک اور نہ رُکنے والے زوال کے باعث وہ سب بھی ضائع ہوچکاہوتا۔آج یہ بھی ہمارا دورِ زوال ہی ہے کہ ہم اپنے معاشرے اور اپنی اقدار کو محفوظ رکھنے کے لیے رمق بھر بھی کوشش نہیں کررہے۔ ان ساٹھ پینسٹھ سالوں میں ہم نے ادارے بنائے نہیں، جو موجود تھے یا اگر کچھ بن بھی گئے تھے تو ہم نے انھیں بربادی کی حد تک پہنچادیاہے۔ماضی تو ایک طرف جب ہمارا حال بھی تیز تر زوال کا شکار ہے اور ہمارے نظام میں اب کوئی ایسی امید افزا صورت نظر نہیں آتی کہ ہم اپنی حالت کو سنبھالا دے سکیں اور اس مزید زوال کو ، جو ہمارا مقدر لگ رہاہے، روک بھی سکیں۔
یہ تو ہوئیں چند ابتدائی باتیں، کچھ تمہید ، کچھ دل کے پھپھولے۔
مگر سچ پوچھئے تو کچھ عرصے سے راقم کی ہمت جواب دے گئی ہے۔ 650 کتابوں کی اسکیننگ ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ یہ اپنا خراج طلب کرتا ہے۔ مشفق خواجہ لائبریری میں ایک برس سے کتابوں کی اسکیننگ پر مامور ایک دوست کے بقول "شام کو جب گھر واپس جاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ میری گردن اور کمر پر گویا کسی نے سیمنٹ کا لیپ کر دیا ہے۔"
کچھ عرصہ قبل فرزند قابل اجمیر ی جناب ظفر قابل کا فون آیا۔ کہنے لگے کہ میں اپنے والد سے متعلق چند اہم کتابیں اور ان کے ہاتھ کا تحریر کردہ مسودہ "دیدۂبیدار" (1958ء) بھیج رہا ہوں۔ان کے الفاظ یہ تھے:
"چونکہ آپ کتابوں کی اسکیننگ کرتے ہیں لہذا ان کو بھی انٹرنیٹ پر محفوظ کردیجئے۔میرے دل کا بائی پاس آپریشن ہونے والا ہے، ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ آپ کی زندگی کو خطرہ ہے، زندہ بچنے کا امکان کم ہے لہذا یہ امانت آپ کو بھیج رہا ہوں۔"قابل اجمیری مرحوم کی کتابیں اور مسودہ جب میرے پاس پہنچے تو انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ایک ایسا قیمتی اثاثہ جسے لوگ سینے سے لگا کر رکھتے ہیں مگر شاید ظفر صاحب کو اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ انٹرنیٹ پر اسے محفوظ کردینا ہی ان حالات میں سب سے مناسب ہے۔ (الحمد اللہ کہ ظفر قابل اجمیری صاحب کی سرجری کامیاب رہی اور وہ رو بہ صحت ہیں)۔
راقم الحروف اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ مزید کام کیسے کیا جائے ۔ کیا سبیل ہو۔
پھر یوں ہوا کہ اللہ تعالی نے ایک مہربان کو بھیج دیا۔ یہ نوجوان بیرون ملک سے آئے،راقم کے غریب خانے پر ملاقات کو تشریف لائے ،کہا کہ ایک عرصے سے "بزم قلم" پر آپ کے اسکیننگ کے کام کو دیکھ رہا ہوں۔خواہش ہے کہ اسے وسعت دی جائے۔اس سلسلے میں مالی تعاون کی پیشکش کی۔طے پایا کہ کسی ایسے شخص کی خدمات حاصل کی جائے گی جو مناسب معاوضے پر ماہانہ بنیادوں پر اسکیننگ کا کام کرسکے۔طے ہوا کہ ایک ماہ
میں کم و بیش15 کتابیں (فی الحال صرف نثری کتابیں)اسکین کی جائیں گی جن کی اسکیننگ کی لاگت وہ ماہانہ بنیادوں پر راقم کو ارسال کیا کریں گے۔
تمام معاملات طے پاجانے کے بعدہمارے ممدوح نے ابتدائی طور پر ایک معقول رقم اس کام کے لیے فراہم کردی۔
اس سلسلے میں بھی حیرت انگیز پیش رفت ہوئی اور دو ہفتے قبل ایک ایسا نوجوان مل گیا جو بخوشی اس کام پر تیار ہوگیا۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل سے درخواست کی گئی کہ اپنے باقی ماندہ کتب خانے سے متفرق موضوعات (تحقیق، خودنوشت، وفیات، سفرنامہ وغیرہ) پر مبنی 20 کتابیں عنایت کردیں ۔۔۔آپ نے بخوشی حامی بھرلی، اٹلانٹس پبلی کیشنز کے جناب فاروق احمد نے کتابیں فراہم کرنے کا کہا،راقم نے اپنے کتب خانے سے 50 کتابیں علاحدہ کیں، سید معراج جامی صاحب نے اپنے کتب خانے سے 12 اہم ہندوستانی کتب فراہم کیں۔ HP کا ایک مناسب سا 'جواں سال' اسکینر خریدا گیا اور مذکورہ نوجوان کو فراہم کردیا گیا۔ابتدائی طور پر قابل اجمیری کے دو مسودات اور چند کتابیں اسکیننگ کے لیے دے دی گئیں۔
دو ہی ہفتے قبل اسکیننگ کا آغاز ہوگیا اور ان دنوں بھی روزانہ کی بنیادوں پر یہ کام جاری ہے۔
اب تک اسکین کی گئی کتابوں/مسودوں کے نام یہ ہیں:
- دریچوں میں رکھے چراغ ۔ رام لعل
- عطریات و تنقیحات ۔ قابل اجمیری
- دیدۂ بیدار ۔ قابل اجمیری
- یادوں کی پرچھائیاں ۔ خاکے، تحقیقی مضامین ۔ رحمت امروہوی، دہلی
- مشرقی پاکستان کی کہانیاں ۔ ابصار عبدالعلی
- نقد بجنوری از ڈاکٹر حدیقہ بیگم (بھارت)
- میرا جی شخصیت اور فن،سیمنار میں پڑھے گئے مقالوں کا مجموعہ(بھارت)
- ن میم راشد شخصیت اور فن از مغنی تبسم (بھارت)
- غالب شکن اور یگانہ از ڈاکٹر نجیب جمال
- آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ
- سوالات و خیالات از پروفیسر کرار حسین
- یادِ یارِ مہرباں ( زیڈ اے بخاری پر خاکے اور مضامین)
- کیا صورتیں ہوں گی(موسیقی پر مضامین)
- آئینہ خانے میں ،خاکے از اسلوب احمد انصاری
اسکرائبڈ ڈاٹ کام (scribd.com )پر گرچہ راقم الحروف کے نام سے ایک علاحدہ ویب صفحہ موجود ہے جہاں تمام کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں اور جس تک گوگل پر راقم کا مکمل نام یعنی rashid ashraf لکھ کر بہ آسانی پہنچا جاسکتا ہے مگر راقم کا یہ خیال ہے کہ ریختہ ڈاٹ کام کی طرز پر ایک علاحدہ ویب سائٹ اسی مقصد کے لیے تخلیق کی جائے جہاں پہلے سے اسکین شدہ کتابیں جن کی تعداد 650 ہے مع ان کے کتابوں کے جو زیر موضوع اسکیننگ کے منصوبے کے تحت اسکین ہوتی جائیں گی۔
ہند میں "ریختہ ڈاٹ کام "نامی معروف سائٹ بڑے پیمانے پر کام کررہی ہے، اس کے لیے علاحدہ عملہ رکھا گیا ہے جبکہ راقم سمجھتا ہے کہ ایک ایسی سادہ سی،قابلِ انتظام ویب سائٹ بھی ہمارے ارادے کی تکمیل کے لیے فی الحال مناسب ہوگی۔ ریختہ ایک ادارے کا نام ہے جبکہ راقم نے انفرادی سطح پر جو کچھ ہوسکا، حسب مقدور و استطاعت کیا ۔کسی فردِ واحد کا کام کبھی بھی کسی ادارے کے ہم پلہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو چراغ سے چراغ جلنے والی بات ہے، لوگ آتے جائیں اور قافلہ نہ سہی ،پان سات افراد کی ایک ٹیم ہی بن جائے تب بھی غنیمت۔
بہرکیف، اس کے لیے راقم نے چند احباب سے مدد کی درخواست کی ہے۔ سرفہرست ہمارے عزیز دوست اور مربی جناب محمد حنیف صاحب ہیں جو ابن صفی ڈاٹ انفو کے نگران کار ہیں۔ ویب سائٹ بن جانے کی صورت میں ایک سے زائد لوگوں کو اس کے انتظامی حقوق یا administrative rights دے دیے جائیں گے تاکہ کسی ایک شخص پر مکمل انحصار نہ کیا جا سکے ۔
ویب سائٹ پر کتابیں ورق بہ ورق امیج فائل (image file) کی شکل میں دستیاب ہوں گی جنہیں پڑھا اور ہر صفحے کا پرنٹ آؤٹ لیا جاسکے گا۔ مکمل کتاب کی ڈاؤن لوڈنگ کے اختیارات دینے میں کچھ قباحتیں ہیں۔ ادب الاطفال کے معاملے میں ایسا ہی کچھ راقم کے ساتھ ہوا جب ایک مہربان نے ایک معروف سلسلے کی تیرہ کتابوں کو ڈاؤن لوڈ کیا اور پھر انٹرنیٹ ہی پر فی کتاب تین سو روپے کا اشتہار آویزاں کردیا۔ مذکورہ اشتہار کو دیکھ کر ہم نے جگر کو پیٹنے کا ارادہ کیا مگر چونکہ اس میں بھی سراسر اپنا ہی گھاٹا ہی تھا لہذا ارادہ ترک کرنا پڑا۔
امکان ہے ویب سائٹ کو بنانے اور اس کا domain name حاصل کرنے کے لیے شاید وہ مرحلہ آئے کہ' فیس بک ' احباب سے تعاون کی درخواست کی جائے۔
متفرق اہم نثری موضوعات پر کتابیں فراہم کرسکیں تو اچھا ہو۔ کتاب نئی نہ ہو۔ کسی مرحوم یا آنجہانی ادارے کی کتابیں فراہم کرنے میں کوئی قبا حت نہیں ہے۔ کتابیں احتیاط سے اسکیننگ کے بعد واپس کردی جائیں گی۔ اس سلسلے میں زیر نظر مضمون کے آخر میں راقم کا ای میل پتہ درج ہے نیز گوگل سرچ انجن پر راقم کا مکمل نام لکھ کر بھی بہ ٓاسانی فیس بک یا ٹوئیٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
جو حضرات مائل بہ تعاون ہونے کا ارادہ کریں ان کے لیے کتب کے انتخاب میں آسانی کے خاطر ایک excel فائل منسلک کی جا رہی ہے(ڈاؤن لوڈ لنک) جس میں راقم کی تادم تحریر اسکین شدہ کتابوں (جن کی تفصیل اوپر درج کی گئی ہے) کے نام شامل ہیں۔
یہ مکمل فہرست 'تعمیر نیوز' پر بھی یہاں آن لائن ملاحظہ کی جا سکتی ہے :
اسکربڈ [scribd.com] پر اپلوڈ شدہ راشد اشرف کی کتب
(ٹی۔این۔بی)
چند ماہ قبل دہلی میں ہوئے جشن ریختہ میں ہمارے یہاں سے جناب ضیاء محی الدین نے شرکت کی تھی۔ وہ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ :
"جس طرح ریختہ نے اردو کتابوں کی اسکیننگ کی ہے اور انہیں عوام کے استفادے کے لیے پیش کیا ہے بالکل اسی طرز پر ہمارے یہاں پاکستان میں بھی کام ہونا چاہیے۔ میں واپس جا کر اپنے لوگوں کو شرم دلاؤں گا اس جانب بھی توجہ کریں۔"
ضیاء صاحب کے علم میں شاید یہ بات نہیں کہ مشفق خواجہ مرحوم کا بے مثال کتب خانہ بھی تین برس سے کیٹلاگنگ (cataloging) اور اب اسکیننگ کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ادھر ڈاکٹر معین الدین عقیل کے کتب خانے کی ستائیس ہزار کتابوں کی روزانہ کی بنیاد پر جاپان میں آٹھ افراد اسکیننگ میں مصروف ہیں۔ انجمن ترقی اردو کراچی(پاکستان) کی انتظامیہ بھی انہی خطوط پر سوچ رہی ہے۔ پاکستان میں دینی کتابوں کو بھی اسکین کرنے کا کام جاری ہے۔ (جس کا ایک بڑا آن لائن مرکز کتاب و سنت لائبریری بھی ہے)
مذکورہ بالا معاملے میں راقم کے' بخت' میں جو درج تھا وہ ہوگیا،اب وہ بھر پایا، اک وقفہ لیا ہے اور اب دم لے کر آگے چلیں گے ۔۔۔۔۔۔۔مگر اس میں ہمیشہ کی طرح کچھ پرخلوص لوگ شامل ہوگئے ہیں، یہی باعث طمانیت ہے، یہی اصل کمائی ہے
بحمد اللہ ! تُو ہے جس کا ہم دم
کہاں اس قلب میں گنجائشِ غم؟
**
متعلقہ روابط:
- کمیاب کتابوں کو برقیاتی دنیا سے ہم آہنگ کرنے والے محقق - راشد اشرف کے شب و روز
- راشد اشرف - اردو دنیا کا ایک دمکتا ستارہ
![]() |
| راشد اشرف |
Scanning of Urdu books by Rashid Ashraf. Article: Rashid Ashraf



6 تبصرے
نہ صرف راشد اشرف صاحب کے مضمون کے لیے بلکہ دیگر مضامین کے لنکس کے لیے بھی
تمام اہم لِنکس شامل کرنے سے مضمون کی افادیت دوبالا ہو گئی ہے
تعمیر نیوز کا شکریہ
اور راشد اشرف صاحب کے لیے خراجِ تحسین اور دعائیں
وصی بختیاری عمری
دریچوں میں رکھے چراغ، شخصی خاکے، رام لعل، مصنف نے لکھنو سے شائع کی -1991
مشرقی پاکستان کی کہانیاں، ابصار عبدالعلی، فیروز سنز-1971
بدن کا دوزخ، جبار توقیر، فیروز سنز-1971
یادوں کی پرچھائیاں، سوانحی مضامین، رحمت امروہوی، مکتبہ جامعہ دہلی-1986
عطریات و تنقیحات، قابل اجمیری
دیدہ بیدار، قلمی مسودہ، قابل اجمیری-1958
ڈاکٹر سالازار، اکرم الہ آبادی کا پہلا ناول، پاکٹ بک سیریز دہلی-1957
نقد بجنوری، ڈاکٹر عبدالرحمان بنجوری پر پی ایچ ڈی کا مقالہ۔ ڈاکٹر حدیقہ بیگم، مکتبہ جامعہ دہلی-1984
سوالات و خیالات، پروفیسر کرار حسین، فضلی سنز کراچی-1999
کیا صورتیں ہوں گی، موسیقی پر کمیاب مضامین، پروفیسر شہباز علی، راول پنڈی-2012
یاد یار مہرباں، زیڈ اے بخاری پر مضامین، مرزا ظفر الحسن، مکتبہ اسلوب کراچی-1983
ن م راشد فن اور شخصیت، مغنی تبسم -شہریار، مارڈرن پبلشنگ ہاؤس دہلی-1990
آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ، ڈاکٹر نصیر احمد خان، اردو اکادمی دہلی-1993
غالب شکن اور یگانہ، ڈاکٹر نجیب جمال، کاروان ادب لاہور-1990
میرا- شخصیت اور فن، سیمنار میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ، ثروت خان، ایجوکیشنل…
بیگمات بھوپال، مولانا وہاج الدین چشتی، کراچی-1981
دیار ادب، سفرنامہ، لاہور سے لکھنو و بھوپال، شاد قدوائی، لاہور-1957
قلعہ معلی کی جھلکیاں، عرش تیموری، دہلی-1937
موت سے پہلے، ناول، عزیز احمد، انشا پریس دہلی-1945
خروشیف کیا چاہتا ہے، انٹرویو، خواجہ احمد عباس، دہلی-1960
نثر ریاض خیر آبادی، خودنوشت، خطوط وغیرہ، عقیل احمد جعفری، نفیس اکیڈمی دکن-1945
خیابان غالب، نادم سیتا پوری، مدینہ پبلشگ کمپنی کراچی-1970
ایک کالا گوروں کے دیس میں، سفرنامہ، عرش تیموری، کراچی-1962
عکس و شخص، شخصی خاکے، عنوان چشتی، ادارہ عارض دہلی-1968
میرے خوابوں کی سرزمین مشرقی پاکستان، سفرنامہ، صہبا لکھنوی، کمتبہ افکار کراچی-1963
کفر و ایماں، شاعری، ہری چند اختر، ست پال دہلی-1960
آئسا ڈورا ڈنکن، خودنوشت، مترجم:فارغ بخاری، آئینہ ادب لاہور-1961
رام لعل کے نام خطوط، مرتبہ: خورشید ملک، بیکن بکس ملتان-2003
اردو سفرنامے میں جنس نگاری کا رجحان-1947 کے بعد،ذوالفقار علی احسن، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی-2008
ن میم راشد-ایک مطالعہ، جمیل جالبی، مکتبہ اسلوب کراچی-1986
ملفوظات مولانا ابو الکلام آزاد، مرتبہ: محمد…
سخن در سخن، مشفق خواجہ کالم، کراچی-2004
سخن ہائے ناگفتنی، مشفق خواجہ کالم، کراچی-2004
خامہ بگوش ایک مطالعہ، وحید الرحمن خان، کراچی-2004
مشفق نامے، مکتوبات مشفق خواجہ بنام محمد عالم مختار حق، اردو اکیڈمی پاکستان لاہور-2006
اکابر صحافت، گوشہ مشفق خواجہ،جامعہ کراچی-2005
قومی زبان،ماہنامہ، مشفق خواجہ نمبر-فروری 2005
قومی زبان،ماہنامہ، بیاد مشفق خواجہ -مارچ 2005
جوش اور خامہ بگوش، جوش سے متعلق کالم، فضلی سنز کراچی
مکالمہ نمبر 15-جولائی 2005 تا جون 2006-گوشہ مشفق خواجہ
غالب، جریدہ، گوشہ مشفق خواجہ-2013
پروفیسر رشید احمد صدیقی اپنے مضامین کے آئینے میں، پروفیسر معین الدین دردائی، کراچی-1979
قند، ممتاز شیریں نمبر-جنوری-فروری 1974
یادیں ہماریاں، خودنوشت، عطا اللہ ہاشمی، کراچی-1985
شاہد احمد دہلوی حالات و آثار-مقالہ پی ایچ ڈی-ڈاکٹر سید محمد عارف-انمجن ترقی اردو-2000
پطرس کے خطوط، مکتبہ اردو ادب لاہور
کاروان خیال، تراجم، فیروز سنز لاہور، فیروز سنز-1952
انتخاب کلام آغآ حشر کاشمیری، مرتبہ آغآ جمیل کشمیری، اتر پردیش اردو اکادمی-1991
زبان و لغت، ڈاکٹر ابو محمد سح…