اردو کتب ڈیٹابیس: نئی مطبوعات کی جامع فہرست کی ضرورت

action call for creating comprehensive India Urdu books database to document new publications, preserve literary heritage for future generations
Urdu Books Database An Urgent Need for Indian Publications

برسوں قبل کی بات ہے۔ زمانۂ طالب علمی (اسکول/کالج) کے دوران والد مرحوم (رؤف خلشؔ) کو راقم نے دیکھا کہ اپنی ایک ڈائری میں نئی شائع ہونے والی کتبِ شاعری کی اجمالی تفصیل بطور فہرست درج کیا کرتے تھے۔ نام کتاب، نام مصنف و ناشر، سن اشاعت، صنف شاعری، مصنف کا علاقہ وغیرہ۔
اس کاز کی اہمیت کا احساس پچھلے دنوں اس وقت ہوا، جب میں نے انڈیا سے شائع ہونے والی حالیہ کتب (افسانوں کے مجموعے) پر ایک تاثراتی مضمون لکھنے کا ارادہ کیا۔ جن مجموعوں کا ذکر کرنا تھا، وہ تو دسترس میں تھے، لیکن میں چاہ رہا تھا کہ رواں سال (2026ء) میں انڈیا سے شائع ہونے والے افسانوں کے تقریباً تمام مجموعوں کا ذکرِ خیر ہو جائے۔
مختلف اے۔آئی ایجنٹس سے مدد لی گئی مگر سبھی نے تھک ہار کر ہاتھ اٹھا دئے۔ تقریباً ہر اے۔آئی ایجنٹ نے کہا کہ:

"آن لائن ذرائع میں ہندوستان سے شائع ہونے والے تمام اردو افسانہ مجموعوں کی جامع فہرست دستیاب نہیں ہے۔"

البتہ، این۔سی۔پی۔یو۔ایل کے رسالہ "اردو دنیا" (شمارہ: جون 2021ء) کے ایک تحقیقی مضمون (بعنوان: اکیسویں صدی میں ہندوستان کا اردو افسانہ) میں شہاب ظفر اعظمی لکھتے ہیں:

"سال 2017 میں معروف ناقد ڈاکٹر نعیم انیس نے اپنی کتاب 'اکیسویں صدی میں اردو افسانہ' میں نئے افسانوی مجموعوں کی جو نامکمل فہرست بنائی ہے اس میں محض سترہ سالوں میں 350 افسانوی مجموعے شمار کروائے گئے ہیں۔ اس تناسب کا خیال رکھا جائے تو دو دہائی میں یہ تعداد تقریباً 500 تک پہنچ جاتی ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ صدی افسانوی ادب کی صدی کے طور پر شناخت قائم کر رہی ہے۔"

اگر ڈاکٹر نعیم انیس کا بیان درست ہے تو یہ بات واضح طور ثابت ہوتی ہے کہ۔۔۔
انڈیا سے شائع ہونے والی فکشن کی کتابیں تعداد میں کم نہیں ہیں بلکہ آن لائن ببلیوگرافی ڈکیومنٹیشن (bibliographic documentation) کمزور ہے!

تو اردو کے محبان، اداروں، تنظیموں، جماعتوں سے مخلصانہ عرض ہے کہ ۔۔۔ آپ کی خدمات (سمینار، کانفرنس، مشاعرے، شخصی تہنیت، کتاب رسم اجراء، ایوارڈ تقاریب وغیرہ وغیرہ) سر آنکھوں پر سہی۔۔۔ مگر عصر حاضر کی جو اصل ضروریات ہیں، ان کی طرف بھی کچھ توجہ دے لیا کیجیے۔ بڑی نوازش، مہربانی، کرم فرمائی ہوگی حضور!
اردو کے موجودہ مسائل اور مستقبل کے لائحہ عمل پر گفتگو اپنی جگہ اہم ہے، لیکن زبانیں صرف تقریروں، قراردادوں اور جذباتی وابستگیوں سے محفوظ نہیں ہوتیں۔ انہیں فہرستوں، آرکائیوز، ڈیٹابیس، ڈیجیٹل متن اور قابلِ تلاش معلومات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
اور ہم تو ٹھہرے عملی اقدامات کی طرف فوراً سے پیشتر توجہ دینے والے۔
لہذا اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے "اردو کتب ڈیٹابیس" کے قیام کی تجویز ہے، جس کا بنیادی مقصد ہندوستان میں شائع ہونے والی نئی اردو کتابوں کی معلومات کو ایک جگہ جمع، مرتب اور محفوظ کرنا ہوگا۔ مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں کی باقاعدہ اور یکجا معلومات حاصل کرنا، ٹیکنالوجی و مواصلاتی ترقی کے آج کے زمانے میں بھی آسان نہیں ہے۔ کچھ کتابوں کا تعارف اخبارات و رسائل میں مل جاتا ہے، کچھ کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آتی ہے اور بہت سی کتابیں محدود حلقوں سے باہر متعارف ہی نہیں ہو پاتیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی مخصوص سال یا مہینے میں ہندوستان سے شائع ہونے والی اردو کتابوں کی ایک جامع، قابلِ تلاش اور مسلسل اپ ڈیٹ ہونے والی فہرست ہمارے پاس موجود نہیں۔
اگر سرکاری، جامعاتی، اکیڈمک یا بڑے نجی ادارے اس نوعیت کے بنیادی دستاویزی کام کی طرف بطور خاص متوجہ نہ ہوں تو ہمارا خیال ہے کہ۔۔۔ زبان و ادب سے وابستگی محض اظہارِ محبت تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ انفرادی سطح پر بھی کسی نہ کسی محبِ اردو کو آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ ڈیجیٹل عہد میں زبان کی خدمت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے علمی و ادبی سرمائے کا منظم ڈیٹا آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جائے۔

اس منصوبے کی خاص بات یہ ہوگی کہ معلومات جمع کرنے کا عمل صرف ویب سائٹ انتظامیہ تک محدود نہیں رہے گا۔ کوئی بھی صارف بغیر لاگ اِن یا اکاؤنٹ بنائے نئی شائع شدہ اردو کتاب کی معلومات جمع کرا سکے گا۔ ایک سادہ فارم کے ذریعے اشاعت کا سال اور مہینہ، کتاب کا زمرہ، کتاب، مصنف اور ناشر کا نام، ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ، شہر اور ضروری اضافی معلومات فراہم کی جا سکیں گی۔ اس طرح مصنفین، ناشرین، قارئین، محققین اور اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس ڈیٹابیس کی تکمیل میں خود اپنا اپنا قلمی حصہ ڈال سکیں گے۔
البتہ صارف کی فراہم کردہ معلومات براہِ راست ڈیٹابیس میں شائع نہیں ہوں گی۔ ویب سائٹ انتظامیہ ضروری جانچ اور تصدیق کے بعد ہی انہیں اردو اور انگریزی میں متعلقہ صفحات پر شامل کرے گی۔ اس طریقۂ کار سے ایک طرف عوامی شمولیت ممکن ہوگی اور دوسری طرف غلط، نامکمل یا غیر مصدقہ معلومات کو روک کر ڈیٹابیس کا اعتبار بھی برقرار رکھا جا سکے گا۔

اس منصوبے کی اصل افادیت اس وقت سامنے آئے گی جب چند برسوں کا مواد جمع ہو جائے گا۔ تب یہ محض کتابوں کی ایک طویل فہرست نہیں بلکہ "اردو کتب کا قابل تلاش ڈیٹا بیس" (Searchable Urdu Books Database) کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی محقق صرف 2026 کی کتابیں دیکھ سکے گا، کوئی کسی مخصوص مہینے کی مطبوعات تلاش کر سکے گا، کوئی صرف فکشن یا تنقید کی کتابیں منتخب کر سکے گا، جبکہ مصنف، شہر یا ریاست کے لحاظ سے بھی نتائج فلٹر کیے جا سکیں گے۔ یوں چند کلکس کے ذریعے مطلوبہ اور تصدیق شدہ ببلیوگرافک معلومات تک رسائی نہ صرف ممکن ہوگی بلکہ موضوعاتی فہرست کو اپنے مطلوبہ فارمیٹ میں ڈاؤن-لوڈ بھی کیا جا سکے گا۔

طویل مدت میں یہی ڈیٹابیس اردو کتابوں کی اشاعتی تاریخ کا ایک قابلِ قدر ڈیجیٹل ریکارڈ بن سکتا ہے۔ اس سے قارئین کو نئی کتابوں تک رسائی، مصنفین اور ناشرین کو اپنی مطبوعات متعارف کرانے، اور طلبہ و محققین کو ادبی و اشاعتی رجحانات کے مطالعے میں مدد ملے گی۔ یہ بھی معلوم کیا جا سکے گا کہ کس دور میں کن موضوعات (افسانہ، ناول، شاعری، تنقید، تحقیق، تاریخ، سماجیات، مذہبیات، سوانح، ترجمہ، ادبِ اطفال) پر زیادہ کتابیں شائع ہوئیں، کن ریاستوں اور شہروں میں اردو اشاعت زیادہ سرگرم رہی اور نئی نسل کے کون سے مصنفین سامنے آئے، وغیرہ وغیرہ۔

تو آپ کا کیا خیال ہے؟ اپنی رائے اور دیگر مفید مشوروں سے نوازیے گا۔ ان شاءاللہ جلد عملی قدم اٹھایا جائے گا۔

Keywords: Urdu books database, Indian Urdu publications, Urdu literature documentation, Urdu bibliographic database, Urdu books India 2026, Urdu publishing industry India, Urdu digital archive, Urdu books searchable database, Urdu literary documentation, Urdu publications tracking system, Urdu books metadata, Indian Urdu writers database
***
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
syed mukarram niyaz
Syed Mukarram Niyaz
سید مکرم نیاز

Urdu Books Database: An Urgent Need for Indian Publications
Building a Comprehensive Urdu Books Database: Documenting India's New Publications for Future Generations