ابن صفی ناولوں کی نقالی : اردو ویکی پیڈیا صفحے کے کچھ دعوے
اردو ویکی پیڈیا کا صفحہ "عمران سیریز کے مصنفین" نہ صرف ادبی تحقیق کے بنیادی اصولوں سے منحرف ہے، بلکہ اس میں "ورلڈ ریکارڈ" اور "غیر قانونی" جیسی اہم اور ٹھوس اصطلاحات کا استعمال بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے کیا گیا ہے۔ جبکہ عالمی ادب میں مقبول کرداروں پر دوسرے مصنفین کی تحریروں کی ایک طویل روایت موجود ہے۔۔۔ جیسے اگاتھا کرسٹی کے ہرکیول پائرو، آرتھر کانن ڈائل کے شرلاک ہومز، یا ایان فلیمنگ کے جیمز بانڈ پر بااجازت سلسلہ وار ناول۔ دوسری طرف ابن صفی کے علی عمران، کرنل فریدی اور کیپٹن حمید جیسے کرداروں پر لکھی گئی کتابوں کو یکمشت "غیر قانونی" قرار دینا قانونی اور ادبی دونوں لحاظ سے غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کاپی رائٹ قانون کی روشنی میں "غیر مجاز" اور "غیر قانونی" میں کیا فرق ہے، اور کیوں ویکی پیڈیا کے متذکرہ صفحے کے دعویٰ کو مستند اشاعتی، کتابیاتی اور قانونی شواہد کی ضرورت ہے؟
سب سے پہلے تو اس صفحہ کا حیرت انگیز دعویٰ "ورلڈ ریکارڈ" کا ہے۔
"یہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے کہ دنیا میں کسی مصنف کی زندگی ہی میں اس کے کرداروں پر اتنے زیادہ لوگوں نے غیر قانونی طور پر لکھا ہو۔"
جبکہ علمی و عملی تحقیق کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے مشہور تخیّلی کرداروں اور ان پر لکھی گئی غیر سرکاری تحریروں (derivative/unauthorized writing) کا تقابلی جائزہ لے کر یہ وضاحت کرنا پہلے ضروری ہے کہ ابن صفی واقعی سب سے آگے ہیں۔
دوسری بات، "غیر قانونی طور پر" کی اصطلاح کا جگہ جگہ بےجا استعمال ہے۔ یاد رہے "غیرقانونی" کوئی معمولی اصطلاح نہیں ہے کہ لکھنے والا اپنی مرضی سے جہاں تہاں استعمال کرتا چلا جائے۔
کسی دوسرے مصنف کے کردار پر لکھنا بذاتِ خود "غیر قانونی" نہیں کہلاتا۔ حقوقِ اشاعت قانون (کاپی رائٹ لا) میں اصل سوال یہ نہیں کیا جاتا کہ: "کیا دوسرے مصنف کا کردار استعمال کیا گیا؟"
بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس استعمال نے کسی ایسے حق کی خلاف ورزی کی یا نہیں جو قانون نے کاپی رائٹ کا حق رکھنے والے مالک کو دیا تھا؟
بطور حوالہ ہندوستان کے کاپی رائٹ ایکٹ 1957 کا 14واں سیکشن ملاحظہ کیجیے۔ اسی طرح پاکستان کے کاپی رائٹ آرڈیننس 1962 کا سیکشن لٹریری ورکس دیکھیے جہاں خلاف ورزی (infringement) کے قانونی ڈھانچے کا باقاعدہ ذکر ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی قانون، برن کنونشن (Berne Convention) کے آرٹیکل 2(3) کے مطابق:
ثانوی تخلیق (جیسے کسی کردار پر نئی کہانی) کو تحفظ تو ملتا ہے، لیکن یہ تحفظ اصل کام کے کاپی رائٹ کو متاثر کیے بغیر ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ "کردار استعمال ہوا"، بلکہ یہ ہوگا کہ کیا اس استعمال نے اصل کاپی رائٹ مالک کے کسی خصوصی قانونی حق کی خلاف ورزی کی؟
"غیر قانونی" ثابت کرنے سے پہلے حقوق کی ملکیت ثابت کرنا ہوگی۔ فرض کیجیے 1965ء میں کسی شخص نے پاکستان میں "علی عمران" کے کردار پر ناول لکھا۔ اسے "غیر قانونی" قرار دینے سے پہلے کم از کم درج ذیل سوالات حل کرنے ہوں گے:
1) اس وقت متعلقہ کاپی رائٹ کس کے پاس تھا؟ ابن صفی کے پاس، ناشر کے پاس، یا کسی اور ادارے کے پاس؟
2) مصنف اور ناشر کے درمیان اشاعتی معاہدہ کیا تھا؟
3) کرداروں کے استعمال کے حقوق کس کے پاس تھے؟
4) کیا دوسرے مصنف/ناشر نے اجازت حاصل کی تھی؟
5) اگر اجازت نہیں تھی تو کیا اس مخصوص استعمال پر اس زمانے کا متعلقہ کاپی رائٹ قانون لاگو ہوتا تھا؟
6) کتاب کس ملک میں لکھی، چھپی اور فروخت ہوئی؟ اس وقت وہاں کون سا کاپی رائٹ ایکٹ نافذ تھا؟
7) استعمال صرف نقل تھا، ترتیبِ نو تھا یا محض کسی کردار/نام کا استعمال کیا گیا؟
ان سوالات کے دستاویزی ثبوتوں کے بغیر "غیر قانونی" اصطلاح ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں رہتی بلکہ ویکی پیڈیا کے کسی مدیر کا قانونی فیصلہ بن جاتا ہے۔ اور یہی بنیادی خامی ہے۔
اس کے علاوہ، دو معروف اصطلاحات "غیر مجاز" اور "غیر قانونی" کا درمیانی فرق بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔ یہ فرق خاص طور پر اہم ہے۔
اگر دستاویزی طور پر اس بات کا پتا چل جائے کہ ابن صفی نے کسی مصنف کو اجازت نہیں دی تھی تو زیادہ محتاط بیان یہ ہو سکتا ہے: "ابن صفی کی اجازت کے بغیر ان کے کرداروں کو استعمال کرتے ہوئے ناول لکھے گئے۔"
یا پھر یوں: "ان کے کرداروں پر غیر مجاز ناول شائع ہوئے۔"
لیکن "غیر مجاز" کا مطلب خود بخود "غیر قانونی" نہیں ہوتا۔ "غیر مجاز" ایک حقیقت پر مبنی دعویٰ ہو سکتا ہے، یعنی کہ: اجازت نہیں لی گئی۔
جبکہ "غیر قانونی" ایک قانونی نتیجہ ہے، یعنی کہ: متعلقہ قانون کے فلاں شق کی خلاف ورزی کی گئی۔
دونوں اصطلاحات میں نمایاں فرق ہے۔
گوگل پر دستیاب معلومات کے مطابق، پاکستانی حقِ اشاعت کے قانون میں، غیر مجاز، ترتیبِ نو وغیرہ کے حوالے سے واقعتاً قانونی دفعات موجود ہیں، حتیٰ کہ شق 66-الف بعض غیر مجاز ترتیب شدہ/ترجمہ شدہ/تبدیل شدہ مجموعوں کی اشاعت کے لیے سزا بھی بیان کرتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ابن صفی کے کرداروں پر لکھی گئی ہر کتاب خود بخود اسی دفعہ کے تحت جرم تھی۔ ہر اشاعت کے حالات اور لاگو ہونے والا قانون کا جائزہ لیے بغیر کسی قسم کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔
آخری بات۔۔۔
کسی معروف ادیب کے تخلیق کردہ کردار کو بعد کے مصنفین کی جانب سے اپنی نئی کہانیوں اور ناولوں میں استعمال کرنا عالمی ادب میں کوئی منفرد یا صرف ابن صفی سے وابستہ رجحان نہیں، بلکہ مقبول کرداروں کی ادبی زندگی کو آگے بڑھانے کی ایک پرانی روایت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کہیں یہ کام حقوق رکھنے والوں کی باقاعدہ اجازت سے ہوا، کہیں حقوق کی مدت ختم ہو جانے کے بعد، اور کہیں اجازت اور حقوق کی حیثیت متنازع رہی۔
مثال کے طور پر اگاتھا کرسٹی کے مشہور جاسوس کردار ہرکیول پائرو کو، اگاتھا کی وفات کے کئی عشروں بعد برطانوی مصنفہ سوفی ہنّا (Sophie Hannah) نے اپنے نئے ناولوں کا مرکزی کردار بنایا؛ ان کا پہلا پائرو ناول "دی مونوگرام مرڈرز" (2014ء) اگاتھا کرسٹی کے خاندان کی باقاعدہ منظوری سے شائع ہوا، جس کے بعد انہوں نے اسی کردار پر مزید ناول لکھے۔
اسی طرح آرتھر کانن ڈائل کے شہرۂ آفاق کردار شرلاک ہومز پر دوسرے مصنفین کی تحریروں کی ایک خاصی وسیع روایت موجود ہے؛ انتھونی ہورووٹز (Anthony Horowitz) کا ناول "دی ہاؤس آف سلک" کانن ڈائل کے ورثا کی باقاعدہ منظوری سے سامنے آیا اور بعد میں انہوں نے "موریارٹی" بھی لکھا، جبکہ کانن ڈائل کے ورثا کی اپنی فہرست میں ہورووٹز کے علاوہ متعدد دوسرے مصنفین کی ہومز سے متعلق نئی کتابیں بھی درج ہیں۔
اس کی ایک اور نہایت واضح مثال جیمز بانڈ ہے: ایان فلیمنگ کی وفات کے بعد کنگزلی ایمس (Kingsley Amis) نے "کرنل سن"، جان گارڈنر (John Gardner) نے بانڈ سلسلے کی سولہ کتابیں، اور بعد کے زمانے میں انتھونی ہورووٹز نے "ٹرگر مورٹس"، "فاریور اینڈ اے ڈے" اور "وِد اے مائنڈ ٹو کِل" لکھے۔ یہ سلسلہ حقوق رکھنے والے ادارے کی نگرانی اور اجازت سے آگے بڑھایا گیا۔
اس لیے محض یہ حقیقت کہ ابن صفی کے تخلیق کردہ علی عمران، کرنل فریدی یا کیپٹن حمید جیسے کرداروں کو دوسرے مصنفین نے اپنی کہانیوں میں برتا، بذاتِ خود نہ عالمی ادب کا کوئی منفرد واقعہ ہے اور نہ اسی بنیاد پر اسے "عالمی ریکارڈ" کہا جا سکتا ہے۔ ابن صفی کے معاملے کا واقعی غیر معمولی اور تحقیق طلب پہلو کچھ اور ہے:
ابن صفی کے کرداروں پر دوسروں کی تحریروں کا سلسلہ صرف ان کی وفات کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ خود ان کی زندگی اور ان کے اپنے ناولوں کی مسلسل اشاعت کے زمانے میں متعدد دوسرے مصنفین اور ناشر بھی انہی کرداروں اور سلسلوں کے نام سے بڑی تعداد میں کتابیں بازار میں لا رہے تھے۔ اگر معتبر اشاعتی، کتابیاتی اور قانونی شواہد سے اس تعداد، زمانی تواتر اور عدمِ اجازت کو ثابت کر دیا جائے تو ابن صفی کا معاملہ عالمی مقبول فکشن کی تاریخ میں واقعی ایک غیر معمولی مثال قرار پا سکتا ہے۔ لیکن ایسی باقاعدہ تقابلی تحقیق کے بغیر اسے "عالمی ریکارڈ" اور ان تمام تحریروں کو بہ یک جنبشِ قلم "غیر قانونی" قرار دینا ایک ثابت شدہ ادبی یا قانونی حقیقت نہیں بلکہ ایک ایسا جذباتی دعویٰ ہے جو اپنے ثبوت/ثبوتوں کا ہنوز منتظر ہے۔
سید مکرم نیاز
مدیر اعزازی ، "تعمیر نیوز" ، حیدرآباد۔
taemeernews[@]gmail.com
![]() |
| Syed Mukarram Niyaz سید مکرم نیاز |
Debunking the Imran Series Wikipedia Page: Copyright Law, Unauthorized Novels, and the Myth of Ibn-e-Safi's World Record in Urdu Spy Fiction


گفتگو میں شامل ہوں