لال قلعہ آزادی تقریر: مسلم مجاہدینِ آزادی کے ذکر سے وزیراعظم کا گریز

A detailed memorandum to PM Modi on the omission of Muslim freedom fighters in his Independence Day speech, backed by historical evidence and sources.
A detailed memorandum to PM Modi on the omission of Muslim freedom fighters in his Independence Day speech, backed by historical evidence and sources

میمورنڈم
محترم جناب نریندر مودی صاحب
وزیر اعظم ہند
بھارت سرکار

مضمون: لال قلعہ سے آپ کے ذریعہ کئے گئے خطاب کے متعلق۔

صدر نگ یہ فضا میرے ہندستاں کی ہے
خوشبو اسی میں دیکھئے سارے جہاں کی ہے

جنت نشاں ہندستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں سبھی قوم کے جیالوں نے اپنی عظیم قربانی پیش کی ہے ، تب کہیں جا کر ملک کو آزادی نصیب ہوئی ہے۔ گویا آزادی ہماری ساجھی وراثت ہے، جس کے ذکر کے بغیر آزادی کی بات بے معنی ہے۔
آج ہم لوگ آزاد ملک کی آزاد فضا میں جو سانس لے رہے ہیں یہ انہیں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کا نتیجہ ہے مگر پندرہ اگست کو لال قلعہ سے وزیر اعظم نریندر مودی جی نے آزادی کی بات کرتے ہوئے سبھی کمیونٹی کے مجاہدین کا نام لیا مگر مسلم مجاہدین آزادی کا کوئی ذکر نہیں کیا، جو افسوسناک ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی جی اگر انڈیا گیٹ کے پاس موجود ( نیشنل وار میموریل ) میں جاکر پڑھ لیتے تو وہاں پر دوسری کمیونٹی کے ساتھ مسلم مجاہدین آزادی کے نام بھی سنہری لفظوں میں لکھے ہوئے مل جاتے۔ سیلولر جیل کی دیواروں پر بھی مسلم مجاہدین آزادی کے نام نمایاں طور پر لکھے ہوئے ہیں۔
سترہ سو ستاون سے لے کر انیس سو سینتالیس تک ملک کی آزادی کا کوئی ایسا دستاویز نہیں ہے جہاں مسلم مجاہدین کا نام لکھا ہوا نہ ہو۔ آپ مسلم کتابوں کو نہیں پڑھنا چاہتے ہیں تو بنکم چند چڑجی کی کتاب ( آنند مٹھ ) کو پڑھ لیجئے جس میں انہوں نے 1773 کے فقیر اینڈ سنیاسی ریبیلین کا ذکر نمایاں طور پر کیا ہے۔ فقیر اینڈ سنیاسی ریبیلین کی قیادت مجنوں شاہ فقیر کر رہے تھے۔ مجنوں شاہ کے دست راست بھوانی پاٹھک تھے۔ اور جب مجنوں شاہ فقیر کا انتقال ہوا تو اس کی قیادت موسی شاہ، چراغ علی اور نور المحمد نے اس تحریک کو اٹھارہ سو تین تک جاری رکھا تھا۔
آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر آنند بھٹا چاریہ نے دو ہزار تیرہ میں لکھی اپنی کتاب ( ریوولٹ آف بنگال 1857 ان انڈین پرسپکٹیو) اور ( سنیاسی اینڈ فقیر ریبیلین ان بنگال) میں لکھا ہے کہ بنگال اور بہار کے گھنے جنگلوں کا سہارا لے کر صوفی ، سنتوں، فقیروں اور سنیاسیوں نے تقریباً پچاس سال تک اس تحریک کو جاری رکھا۔ یہ وہی عہد تھا جب ملک میں قحط سالی تھی لیکن گوداموں میں اناج بھرا ہوتا تھا اور انگریز اسے مہنگے داموں میں بیچ کر بڑا منافع کما رہے تھے۔ فقیر اینڈ سنیاسی تحریک سے وابستہ مجاہدین کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جلوس کی شکل میں جاتے اور انگریزوں کے بنائے ہوئے گودام کو توڑ کر اس میں رکھے ہوئے اناج کو غریب ہندستانیوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔


اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی کا ایک بہت اہم نام دلاور جنگ احمد اللہ شاہ مدراسی کا ہے۔ احمد اللہ شاہ مدارسی ریاست پاوئی کے نواب تھے۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف ملک میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے دہلی ، پٹنہ ، فیض آباد ، کلکتہ اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کیا۔ اس تحریک سے انگریز اس حد تک خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے احمد اللہ شاہ مدراسی کا سر لانے والے کو پچاس ہزار روپیے کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان اس وقت پوری دنیا میں کسی حکومت کے ذریعہ اعلان کیا گیا سب سے بڑا انعام تھا۔


لفٹنٹ ہاؤسن جس کی قیادت میں انگریزی فوج نے دہلی پر قبضہ کیا تھا اس نے 1857 کی تحریک آزادی کو لے کر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ (اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت پر جب ہم نے قابو پا لیا اور دہلی پر حکومت برطانیہ کا دوبارہ قبضہ قائم ہو گیا تو ہمارے پاس لندن سے ٹیلی گرام آیا۔ اس ٹیلی گرام میں لکھا گیا تھا کہ اٹھارہ سو ستاون کی بغاوت دراصل مسلم علماؤں کی بغاوت ہے اور جہاں پر بھی ٹوپی اور داڑھی والوں کو دیکھو، انہیں بغیر کسی مقدمے کے پھانسی پر لٹکا دو)۔ لفٹنٹ باڈسن نے اپنی کتاب (انڈین میوٹنی) میں مزید لکھا ہے کہ (لندن سے جیسا حکم تھا، ہم نکل پڑے اور داڑھی و ٹوپی والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نشانہ بناتے۔ ہم ان سے یہ نہیں پوچھتے تھے کہ تم نے کیا کیا ہے، تمہارا قصور کیا ہے ، ہماری گولیاں صرف ان کا سینہ اور سر تلاش کرتی تھیں)۔


اسی طرح سے کرنل نیل جن کی قیادت میں انگریزی فوج نے الہ آباد ، پٹنہ اور کانپور میں دوبارہ انگریزی تسلط قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس نے اپنی کتاب (انڈین ریبیلین 1857) میں لکھا ہے کہ ( مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے سینکڑوں لوگوں کو بنا کسی مقدمے کے ہی پھانسی دیدی تھی)۔
مشہور مورخ درگاداس بند اپادھیائے جو اس زمانے میں الہ آباد میں مقیم تھے انہوں نے اپنی کتاب (ہسٹری آف انڈین میوٹنی اٹھارہ سو ستاون، اٹھاون) میں لکھا ہے کہ (الہ آباد اور اس کے اطراف میں اٹھارہ سو ستاون کے کئی سالوں تک تلاش کرنے پر بھی ایک درخت دیکھنے کو نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ مرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ یا تو درختوں کی لکڑیاں قبروں میں تختہ بنا کر لگا دی گئی تھیں یا انہیں چتا پر جلا دیا گیا تھا)۔


اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی اور انگریزی مظالم پر لندن سے شائع ہونے والے (ٹائمس) اخبار کے اٹھارہ جنوری اٹھارہ سو ایکسٹھ کے شمارے کے پہلے صفحے پر رسل نامی صحافی کی خبر شائع ہوئی ہے۔ اس خبر میں رسل نامی صحافی نے لکھا ہے کہ:
(انگریز سرکار آزادی کے متوالے علمائے دین کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے ڈر بٹھانا چاہتی تھی۔ اس لئے آزادی کی تحریک کے اول درجے کے علماء کو سور کی چمڑی میں زنده سل کر دفنایا گیا اور کارتوس میں سور کی چربی کے خلاف فتوی دینے والے علما کو زبردستی نہ صرف سور کی غلاظت اور سور کا گوشت کھلایا گیا بلکہ انہیں ذلیل و خوار کر کے پھانسی پر لٹکا دیا گیا)۔
یہ عظیم قربانیاں علمائے دین اور مدارس کے فارغین نے ملک کی آزادی کی خاطر دی تھیں، جنہیں صدی گزرنے کے بعد بھی ہم یاد کر کے کانپ جاتے ہیں۔


اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی کے حوالے سے مسلم مجاہدین آزادی اور علمائے دین کے ناموں کے تفصیلی حوالے سر جیمس آؤٹرم اور اڈورڈ ٹیمس کی کتاب میں بھی ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سر جیمس آؤٹرم اور اڈورڈ ٹیمس نے اپنی کتاب (ریوولٹ آف 1857) میں لکھا ہے کہ: (جن اکیاون ہزار دو سو لوگوں کو اٹھارہ انسٹھ ، ساٹھ اور ایکسٹھ میں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا ان میں صرف علما کی تعداد ستائیس ہزار تھی)۔


ویر ساورکر نے اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی پر اپنی کتاب ( دی انڈین وار آف انڈیپنڈنس) میں لکھا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی تحریک آزادی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ برٹش حکومت کے نمائندوں کے ذریعہ رام اور محمد صاحب کے نام کی بے عزتی کی جاتی تھی۔ ملٹری میں کام کرنے والے فوجیوں کے پروموشن کا واحد راستہ عیسائی دھرم کی قبولیت سے ہو کر گزرتا تھا۔


مودی جی ! آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، کسی ایک کمیونٹی کے نہیں ہیں۔ لال قلعہ سے آزادی کے دن دیا گیا آپ کا بیان شرمناک ہے، جس سے ملک کے ان عظیم سپوتوں کی توہین ہوئی ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ آپ سے یہ غلطی ہوئی ہے یا جان بوجھ کر کی گئی ہے ، اس کے لئے آپ کو دیش سے معافی مانگنا چاہئے۔

Keywords: PM Modi Independence Day speech, Muslim freedom fighters India, Lal Qila address 2026, 1857 revolt Muslim leaders, Indian independence history, freedom struggle omission, Maulana Azad India, Ashfaqullah Khan, Bahadur Shah Zafar, Tipu Sultan legacy, Indian Muslims contribution, national war memorial, colonial history India, historical accuracy PM speech
***
عارف مسعود
رکن اسمبلی ، بھوپال۔

Missing Muslim Freedom Fighters in PM’s Independence Day Speech
A Memorandum to PM Modi on the Omission of Muslim Freedom Fighters in Lal Qila Address