Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-07-12 - بوقت: 16:13

جنس کا جغرافیہ - قسط:29

Comments : 0

husband-wife-bed-cuddling

کان شہوت کے لئے حساس ہوتے ہیں ۔ زبان سے کان کی لو کو چھیڑنا، سہلانا، یا زبان کی نوک سے کانوں کو گدگدانا، دونوں لبوں کے درمیان پورے کان کو دبانا، رگڑنا یا دانت، ہونٹ اور زبان سے لو کو سہلانا۔ یا کان میں منہ سے آہستہ آہستہ پھونکیں مارنا ، عورت کے لئے شہوت انگیز ہوتا ہے ۔ بعض عورتیں تو ان حرکتوں کی وجہ سے بدمست ہو جاتی ہیں ۔ بعض عورتیں صرف چند لمحوں کے لئے کان پر مختلف قسم کے بوسے برداشت کر سکتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حرکت سے ان کی شہوت میں اضافہ ہوتا ہے لیکن تیز رفتاری سے نہیں۔ عموماً وہ ناز و ادا سے اپنے کان شوہر کے لبوں کی گرفت سے آزاد کرانے کے بعد اپنے لب دلکشی کے ساتھ اس کے سامنے پیش کر دیں گی اور دانش مند شوہر یہ سمجھ لیں گے کہ وہ زیادہ شدت سے بوسہ بازی کی خواہش مند ہیں۔ اس طرح کی عورتوں کی شہوت عموماً دیر میں بیدار ہوتی ہے ۔ جنسی طور پر سست رفتار خواتین کان پر بوسہ بازی سے فوراً ہی متاثر نہیں ہو جاتیں۔ ممکن ہے کہ رد عمل ہونے میں ایک دو منٹ لگ جائیں ۔ فوراً بیدار کرنے کے لئے گہری سانس لے کر کان میں چھوڑنا مفید ہے ۔ ویسے فوری رد عمل کی خواہش مردوں کے لئے قطعاً مناسب نہیں ہے ۔
گردن بھی شہوت کے لئے کافی حساس ہے ۔ گردن کی پشت پر بالکل بیچ کا مقام، نرخرے کے قریب کا مقام اور کندھے، براہ راست گردن تک کا علاقہ، ان سب پر بوسہ بازی سے عموماً شہوت جلد بیدار ہوتی ہے ۔ کان کے نیچے کا مقام سب سے زیادہ شہوت انگیز ہوتا ہے۔ بعض عورتیں چاہتی ہیں کہ متذکرہ مقامات کو لبوں کے درمیان دبایا جائے، رگڑا جائے اور بعض یہ پسند کرتی ہیں کہ زبان سے ان مقامات کو سہلایا جائے ۔ کچھ زیادہ دباؤ پسند کرتی ہیں ۔ تجربوں کے بعد بیوی کی پسند معلوم کر کے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ شانوں کی تمام سطح شہوت انگیز ہو سکتی ہے ۔ زبان سے سہلانا یا ہونٹوں سے رگڑنا مناسب ہے ۔ تجربے کے بعد یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ شانے پر سب سے زیادہ شہوت انگیز مقام کہاں ہے؟

اگر شوہر پیار کے ساتھ سہلائے تو بیوی کے جسم کے ہر حصے میں شہوت بیدار ہو سکتی ہے ، کیونکہ عورت کا سارا جسم جنسی اشتعال سے بھرپور ہے ۔ یہ احساس کہ شوہر نہایت پیار، محبت اور اپنائیت سے اس کے جسم کو سہلا رہا ہے ، عام طور سے عورتوں کے لئے کافی مسرت بخش ہو سکتا ہے اور عورت کے دل میں یہ خواہش چٹکیاں لے سکتی ہے کہ کاش "ان کے" ہاتھ شہوت انگیز مقامات کی جانب زیادہ متوجہ ہوں! ایک سمجھ دار اور حساس شوہر، بیوی کی اس خواہش کو محسوس کرتے ہی شہوت انگیز مقامات کان، رخسار، منہ ، گردن، شانے، پستان، کمر ، ناف ، کولھے ، جانگھیں ، رانیں فرج وغٰیرہ کو مساس سے زیادہ نوازے گا۔

مساس (سہلانا) ایک فن ہے ۔ ایک کامیاب شوہر، بیوی کی پسند سے واقف ہونے کی وجہ سے پہلے کپڑوں پر سے ہی سہلاتا ہے ۔ شہوت میں کچھ اضافہ ہونے پر کپڑوں کی رکاوٹ دور کر دیتا ہے تاکہ زیادہ لذت محسوس ہو۔ اکثر عورتیں یہ چاہتی ہیں کہ ان کے جسم کو آہستہ آہستہ نرمی سے سہلایا جائے۔ جب کہ مرد یہ چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے جسم کو پوری قوت سے سہلایا جائے ۔ یہ بات شوہر کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ مرد اور عورت جنسی معاملات میں ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتے ہیں ۔ ہتھیلی سے سہلانے میں دونوں کو لذت ملتی ہے ، لیکن انگلیوں کے سروں سے سہلا کر عورتوں کو زیادہ محظوظ کیا جا سکتا ہے ۔
جب بیوی کے جسم میں کچھ حرارت پیدا ہوجائے اور اس کی شہوت بیدار ہونے لگے تو اوپری جلد(کھال) نہیں بلکہ پوشیدہ اعصاب شہوت کو مشتعل کرتے ہیں ، اس قسم کے مساس کا ایک طریقہ کار یا (تکنیک) یہ ہے کہ ہاتھ کے انگلیوں کا گچھا بنائے اور بیوی کے جسم کے ان شہوت انگیز مقامات پر جہاں گوشت چربی کم ہو (مثلاً کمر، زیر ناف کا علاقہ وغیرہ) اس گچھے کو رکھ کر انگلیوں کو آگے پیچھے یا دائرے کی شکل میں جہاں تک جلد کھنچ سکے، حرکت دیجئے ۔ اگر فوراً ہی رد عمل ظاہر نہ ہو تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایسے وقت "کئے جاؤ کوشش میرے دوستو" والی نصیحت پر عمل کرنا چاہئے ۔ کم از کم چار پانچ منٹ تک تو کوشش کرنی چاہئے ۔ ہو سکتا ہے کہ تین چار مرتبہ کوشش کے بعد کامیابی ہو، پھر یہ بھی ممکن ہے کہ انگلیوں کا گچھا کمر یا ناف کے نچلے حصے پر رکھتے ہی بیوی کی مستی میں اضافہ ہونے لگے ۔

جن مقامات پر چربی گوشت زیادہ ہو جیسے سرین(چوتڑ) جانگھیں اور بھرے بھرے بازو وغیرہ ان کے لئے مذکورہ بالا ترکیب مناسب نہیں۔ یہاں اور زیادہ دباؤ اور کچھ قوت کی ضرورت ہے۔ اس لئے انگلیوں اور انگوٹھوں میں نرم گوشت کے ایک حصے کو داب دیجئے اور ہاتھ کو ادھر ادھر یا دائرے کی شکل میں حرکت دیجئے ۔ انگلیاں گوشت میں بہت زیادہ گاڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انگلیوں کا کچھ سخت دباؤ کافی ہے تاکہ جلد کے نچلے اعصاب، اپنی نیند سے بیدار ہو کر، شہوت کے پیغامات نشر کر سکیں ۔
ایک ہوشیار اور ماہر شوہر چھیڑ چھاڑ میں اناڑی کی طرح الٹی سیدھی حرکتیں نہیں کرتا اور نہ ہی کولہو کے بیل کی طرح ایک محدود دائرے میں گھومتا ہے بلکہ وہ درجہ بدرجہ، رفتہ رفتہ، آہستہ آہستہ اس طرح آگے بڑھتا ہے کہ بیوی اس کے ہمراہ ہوتی ہے ۔ ایک تجربہ کار سپہ سالار کی طرح اس کا ہر حملہ، ہر حرکت، ہر حکمت عملی سوچی سمجھی ہوتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کب کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔
جب بیوی کی شہوت کسی حد تک بیدار ہو جائے تو اس کی جانگھوں اور چوتڑوں میں مٹھی بھر کر آگ کو اور زیادہ بھڑکایا جا سکتا ہے ۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ چوتڑوں کے کچھ گوشت کو مٹھی بھر کر دبایا، اٹھایا، ہلایا اور چھوڑ دیا جائے ۔ عالم مستی میں بیوی کے کمر کے اوپری حصے پر ہلکے ہلکے مٹھیاں مار کر شہوت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ بعض عورتیں مٹھی کے بجائے یہ پسند کرتی ہیں کہ پستان کے اوپر اور کمر کے اوپرے حصے پر ہتھیلی سے آہستہ آہستہ تھاپ ماری جائے ۔کبھی کبھی محبت بھری یا درد انگیز چٹکیاں کاٹ کر اور بکوٹے بھر کر بیوی کی شہوت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ درد انگیز چٹکیاں، اس وقت زیادہ پسند کی جاتی ہیں، جب شہوت بیدار ہو چکی ہو۔ ویسے چھیڑ چھاڑ کے آغاز میں بھی غیر متوقع درد انگیز چٹکیاں عورت کو مزہ دے جاتی ہیں اور ان کے رد عمل سے مرد کو بھی خوشی محسوس ہوتی ہے ۔

The Geography of sex -episode:29

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں