Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-05-02 - بوقت: 17:10

مابعد جدیدیت اور ہندو توا کے مابین قریبی تعلق - فضیل جعفری

Comments : 0
fuzail-jafri
اردو کے ممتاز جدید نقاد، صحافی، ادیب و شاعر پروفیسر فضیل جعفری بروز منگل 30/اپریل 2018 کو ممبئی میں رحلت کر گئے۔
پروفیسر فضیل جعفری 22/ جولائی 1936 کو الہ آباد کے ایک قصبےمیں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنا تدریسی سفر اورنگ آباد سے شروع کیا اور کوئی دس برس وہاں پڑھایا پھر 1970 میں وہ برہانی کالج (ممبئی) سے وابستہ ہوئے۔ وہ دو بار مشہور روزنامہ انقلاب(ممبئی) کے مدیر بنے اور کچھ مدت وہ بطور ایڈیٹر ہفت روزہ بلٹز (اُردو) سے بھی منسلک رہے۔ موصوف انگریزی کے ایک میگزین "وَن انڈیا ون پیپل" کے ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
ان کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں سے چٹان اور پانی، افسوس حاصل کا، کمان اور زخم، صحرا میں لفظ اور رنگِ شکستہ شامل ہیں۔

ڈاکٹر خالد مبشر (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے سوشل میڈیا پر تعزیتی نوٹ کے بطور لکھا ہے کہ:
فضیل جعفری ایک خود مختار مملکتِ تنقید کا بے تاج بادشاہ تھا۔
سنہ ساٹھ کے بعد جن ادبی آوازوں کی ایک شدید انحرافی لہر نے ایک ہنگامہ خیز صورتِ حال پیدا کر دی تھی، ان میں فاروقی، وارث علوی، باقر مہدی اور فضیل جعفری نمایاں ہیں۔
جدیدیت کے مذکورہ عناصرِ اربعہ میں افتراق کے باوجود مماثلتیں بھی ہیں۔ مثلاً حد درجہ تیکھا، کھردرا، تند اور بے لاگ اظہار ان میں قدرِ مشترک ہے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

ممبئی کے جریدے اردو چینل (شمارہ 26/ستمبر 2007) میں فضیل جعفری سے غضنفر اقبال کا لیا گیا انٹرویو شائع ہوا تھا، اردو چینل کے شکریہ کے ساتھ یہاں پیش خدمت ہے۔

غضنفر اقبال:
آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ یہ نظم کادور ہے؟ کیا اس میں ہم پابند ،آزاد اور نثری نظم کو شامل کرسکتے ہیں؟

فضیل جعفری:
میں نے اپنے جس مضمون میں اس دور کو نظم کا دور کہا ہے اس میں آزاد نظم اور نظم معریٰ دونوں سے مثالیں پیش کردی ہیں۔ ویسے بھی اب مختلف قسم کی نظموں کا روایتی فرق ختم ہوچکا ہے ۔ ہر وہ تحریر جس میں شعری آہنگ ہو وہ نظم ہے۔ مصرعوں کے چھوٹے بڑے ہونے یا ایک ہی نظم میں کئی اوزان کے استعمال سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ میں نے نثری نظم کو شامل نہیں کیا ۔ اردو میں نثری نظم ابھی تک پیر نہیں جما سکی ۔ اب تو بہت سارے نقاد جیسے محمد حسن، قمر رئیس ، سید محمد عقل کے علاوہ متعدد افسانہ نگار بھی نثری نظم لکھ رہے ہیں ۔ یہ صنف غریب کی جورو بن کررہ گئی ہے ۔

غضنفر اقبال:
ہائیکو دوہا، ثلاثی، تروبیتی اور آزاد غزل کون لکھ رہا ہے؟

فضیل جعفری:
وہی لوگ جو بے حد کمتر درجے کی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور ہر صنفِ ادب میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں ۔ اردو شاعری کی پسنجر ٹرین میں بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے یہ شاعر، ان چھوٹی چھوٹی بیساکھیوں کے ذریعے زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان بے چاروں کی کوئی شناخت نہیں بن سکی ۔

غضنفر اقبال:
فضیل جعفری صاحب! یہ بتائیے کہ مابعد جدیدیت کے زیر اثر نظم کا پس منظر ، پیش منظر اور صورتحال کوآپ کیسا محسوس کرتے ہیں ؟ کیا واقعی مابعد جدید نظم دھوم مچا رہی ہے؟

فضیل جعفری:
اردو ہی نہیں مغربی شاعری پر بھی مابعد جدیدیت کوئی اثر نہیں ڈال سکی ۔ اس کا نبیادی تعلق تنقید سے ہے۔ ہمارے یہاں تو مابعد جدید تنقید تک نہیں لکھی گئی ۔ صرف اکا دکا کتابیں اور ڈھیر سارے مضامین ہیں جن کا تعلق ادب کی عملی تنقید سے نہیں محض تھیوری سے ہے ۔ خود مغرب میں مابعد جدیدیت کی سرمایہ دارانہ تحریک کم و بیش دم توڑ چکی ہے۔ مجھے آج تک یہ اطلاع نہیں ملی کہ مابعد جدیدیت کہاں دھوم مچارہی ہے ۔ مجھے اس سلسلے میں اپنی لا علمی بلکہ جہالت کا اعتراف ہے ۔

غضنفر اقبال:
جدیدیت، مابعد جدیدیت ، ساختیات، پس ساختیات کے نظریے اور رجحان کا اثر اردو شعروادب پر پڑا ہے ۔ میں یہ بات جاننا چاہتا ہوں کہ کیا ہم مغربی تحریکیں اور رجحانات کے بغیر ادب نہیں تخلیق کرسکتے ؟

فضیل جعفری:
دو تین چیزیں ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ ایک تو یہ کہ بنیادی طور پر ادب کا مزاج بین الاقوامی ہوتا ہے ۔ دوسرے جیسا کہ عالمی ادبی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ملک ادبی تحریکوں کے سلسلے میں زیادہ زر خیز واقع ہوئے ہیں ۔ ہمیں وجہ تو نہیں معلوم مگر حقیقت یہی ہے ۔ مثال کے طور پر طربیہ اور المیہ دونوں طرح کے ڈراموں کا آغاز یونان میں ہوا ۔ ترقی پسندی ، جدیدیت ، مابعد جدیدیت ، ساختیات، پس ساختیات ، علامت پسندی ، داداازم وغیرہ ساری تحریکیں فرانس میں شروع ہوئیں ۔ وہاں سے برطانیہ اور امریکہ پہنچیں ۔1857ء کے بعد چونکہ ہمارا تعلق عربی فارسی سے ختم اور انگریزی سے بڑھتا گیا اس لئے ہم بھی مغربی ممالک میں ابھرنے والی تحریکوں سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ اس بات کا اطلاق اردو ہی نہیں سبھی زبانوں پر ہوتا ہے ۔ اردو اور ہندی زبانوں میں اس طرح کی دلت تحریک البتہ نہیں ملتی جیسی کہ مراٹھی اور تیلگو میں ملتی ہے۔ دلت تحریک یقینا خالص دیسی تحریک ہے ۔

غضنفر اقبال:
ایسا مانا جاتا ہے کہ مغرب میں سیاسیات ، سماجیات اور نفسیات کے بعض ماہرین کے خیال میں دنیا مابعد جدیدیت کے دور میں داخل ہوگئی ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ مابعدجدیدیت زندگی کے مختلف شعبوں میں داخل ہوچکی ہے؟ یہ کس طرح ممکن ہوا ہے؟

فضیل جعفری:
مغرب میں مابعد جدیدیت کا اثر ہر شعبۂ حیات پر نظر آتا ہے ۔ سیاسیات ، سماجیات اور نفسیات وغیرہ میں1960ء کے بعد جو بھی تبدیلیاں آئی ہیں ، ان کے لئے سہولت کی خاطر مابعد جدیدکی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ مابعد جدیدیت اور ہندو تواHindutvaکے درمیان بھی بڑا قریبی تعلق ہے ۔ یہ ایک علاحدہ اور دلچسپ موضوع ہے جس کی طرف ابھی اردو والے متوجہ نہیں ہوئے ۔ میں انشاء اللہ اس پر لکھوں گا۔

غضنفر اقبال:
بیسیویں صدی میں شاعرات نے جن اسالیب ، تراکیب وغیرہ کا استعمال کیا تھا کیا وہی اسالیب آج کی شاعری میں استعمال ہورہی ہیں؟ کیونکہ آج کی شاعرات کے یہاں موضوعات اور تخلیقی رویوں میں اضافہ ہوا ہے ؟

فضیل جعفری:
اردو کا تعلق ابتداء سے ہی درباری اور جاگیردرانہ نظام سے رہا ہے ۔ اس فیوڈل نظام میں لڑکیوں کے ساتھ خوبصورت کھلونوں والا برتاؤ کیاجاتا تھا ۔ انہیں کسی طرح کی آزادی نہیں تھی ۔ لڑکیوں کا افسانہ لکھنا یا شاعری کرنا آوارگی کے مترادف تھا ۔ اب چونکہ پوری طرح نہ سہی کسی نہ کسی حد تک لڑکیوں پر پابندیاں کم ہوگئی ہیں اور وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں اس لئے شاعرات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں بظاہر اسلامی نظام ہے مگر وہاں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل ہے ۔ کسی زمانے میں وہاں محض ادا جعفری اور زہر ہ نگاہ تھیں ۔ اب کشور ناہید، فہمیدہ ریاض ، پروین شاکر ، شاہدہ حسن ، نکہت حسن اور رشیدہ جہاں جیسی بہت سی شاعرات ہیں۔ پروین شاکر کی زندگی نے وفا نہیں کی ورنہ وہ اور آگے بڑھتیں ۔ ہمارے پاس صرف ایک شفیق فاطمہ شعریٰ ہیں۔ بذات خود وہ بڑی اہم بلکہ "میجر" شاعرہ ہیں، مگر ان کے بعد کوئی اہم شاعرہ نہیں ابھری۔ ہندوستان کا مسلم معاشرہ مذہبی احیاء پسندی کی طرف راغب نظر آتا ہے ۔

ماخوذ از:
اردو چینل (ممبئی)۔ (26/ستمبر 2007)

Close connection between postmodernism & hindutva, Fuzail Jafri.
Interview of Fuzail Jafri by Ghazanfar Iqbal

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں