Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-05-27 - بوقت: 13:29

میں کتھا سناتا ہوں۔ عاتق شاہ - قسط:15

Comments : 0

جناب صدر نے دائیں طرف پہلی صف میں بیٹھے ہوئے سرخ و سفید موٹے صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: نواب صاحب آپ کا کیا خیال ہے؟
نواب صاحب نے اپنے بھاری بھرکم جسم کو کرسی کی پشت سے ہٹا کر آگے کی طرف گھسیٹا ، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو میز پر جما کر سامنے کی طرف جھکے اور اپنی موٹی گردن کو صدر کی طرف گھماتے ہوئے بولے آپ کا خیال، میرا خیال ہے ۔ ابھی میرے قابل احترام دوست نے جو فرمایا اس سے میں صد فیصد اتفاق کرتا ہوں ۔ البتہ اتنی گزارش کروں گا کہ قرار داد کی زب ان کو ذرا سخت کیاجائے ۔ جی ہاں ہم بھیک نہیں مانگتے بلکہ دوسروں کو بھیک دیتے ہیں اور دیتے آئے ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے ۔
اس فقرے پر تالیاں بجیں ۔ نواب صاحب نے اپنی بڑی بڑی نکیلی مونچھوں پر انگلی پھیری اور مسکرا کر ایک اچٹتی ہوئی نظر سامعین پر ڈالی!
سب مسکرا رہے تھے!
مقامی اردو اخبار میں کام کرنے والا ایک ورکنگ جرنلسٹ جو مقابل کی تیسری اور آخری نشست پر بیٹھا ہوا تھا ، اٹھ کر بولا، میں آپ تمام حضرات سے عمر میں چھوٹا ہوں لیکن آپ اور صدر صاحب اجازت دیں تو ایک بات عرض کرنے کی جسارت کروں گا۔
ضرور۔۔۔۔۔۔ضرور۔۔۔۔۔ صدر صاحب کی آواز آئی۔
نواب صاحب نے کہا، فرماؤ میاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرماؤ!!
ورکنگ جرنلسٹ نے کہا، آپ تمام حضرات میری گستاخی کو معاف فرمائیں ، میرا خیال ہے کہ اب تک جتنی باتیں ہوئی ہیں وہ آج کے عصری تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں ، ان پر عمل کرنے سے اردو کو فائدہ پہنچے گا ۔ اور نہ اردو والوں کو۔ اس سے تحریک اور کئی سال پیچھے چلی جائے گی۔ ہمیں احتجاج کے جمہوری طریقے اپنانے ہوں گے۔
مثلاً۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاً!! کوئی آواز یں اٹھیں۔
مثلاً یہ کہ ہمیں سکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دینا ہوگا۔ سرکاری دفتروں میں پکٹنگ کرنی ہوگی ۔ جلوس نکالنے ہوں گے ، زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے ہوں گے ۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔!!
لیکن نہیں۔۔ یہ نہیں ہوگا!
نواب صاحب نے بہت ہی سخت لہجے میں کہا۔ ان کی تائید میں بہت سے حضرات نے آواز میں آواز ملائی!
مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔کیوں نہیں ہوگا؟ ورکنگ جرنلسٹ نے چیخ کر پوچھا۔
اس لئے کہ یہ ہماری گنگا جمنی تہذیب کے خلاف ہے ۔
یہ گنگا جمنی تہذیب کیا ہوتی ہے ؟
افسوس کہ تم اس تہذیب سے واقف نہیں ہو ۔ نواب صاحب نے سوالیہ لہجے میں کہا۔
نہیں، میں واقف نہیں ہوں ، بتائیے یہ کیا ہوتی ہے؟
کمال ہے ۔ نواب صاحب نے ہنس کر ارشاد فرمایا۔ تو پھر تم کیسے جرنلسٹ بن گئے؟ کس نے تمہارا تقرر کیا؟
ورکنگ جرنلسٹ نے چیخ کر کہا، صدر صاحب! آپ انہیں روکئے۔ یہ مجھ پر شخصی حملہ کررہے ہیں ۔ اور انہیں اس بات کا قطعی حق نہیں پہنچتا ورنہ کل کے اخبار میں ان بگڑے ہوئے نواب صاحب کے بارے میں آپ کو میرا نوٹ پڑھنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔
جناب صدر نے دو تین بار میز کو تھتھپایا اور بہ آواز بلند فرمایا۔ حضرات! خاموش رہیے اور میٹنگ کی کارروائی کو آگے بڑھانے میں میری مدد فرمائیے ۔خاموش۔خاموش!!
نواب صاحب نے میز پر ہاتھ سے مکہ بناکر مارتے ہوئے کہا، صدر صاحب! آپ نے خاموش خاموش کی کیا رٹ لگا رکھی ہے ، اس بد تمیز لڑکے سے کہئے کہ وہ ایوان سے چلے جائے، یا مجھ سے معافی مانگے آپ نے سنا نہیںکہ اس نے میری شان میں گستاخی کی ہے ۔
ورکنگ جرنلسٹ نے چیخ کر کہا ، آپ کو مجھ سے معافی مانگنی چاہئے ، آپ نے میری توہین کی ہے ۔ آپ یا صدر صاحب مجھے کیانکالیں گے ۔ میں خود واک آؤٹ کررہا ہوں۔ لیکن اس میٹنگ کا واک آؤٹ کرنے سے پہلے میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ آپ جیسے بگڑے ہوئے نوابوں کی وجہ سے ملک پرتباہی آئی ۔ اردو پر تباہی آئی ، یہ کہہ کر ورکنگ جرنلسٹ میٹنگ سے واک آؤٹ کرگیا۔
اس کے جاتے ہی صدر صاحب نے چائے کے لئے پانچ منٹ کے وقفے کا اعلان کیا!


A bitter truth "Mai Katha Sunata HuN" by Aatiq Shah - episode-15

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں