Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-05-19 - بوقت: 12:56

ابن الوقت - ڈپٹی نذیر احمد - قسط:28

Comments : 0

خلاصہ فصل - 26
حجتہ الاسلام نے صاحب کلکٹر مسٹر شارپ سے ابن الوقت کی صفائی کرا دی

حجتہ الاسلام جب اپنے ضلع سے چلنے لگا تو اس کو اس بات کا خیال آیا تھا کہ ایسے وقت میرے جانے سے لوگ سمجھیں گے کہ بھائی کی مدد کو آئے ہیں۔بارہ دری محل خریدنے کے لئے انھوں نے لکھا ہے ،نہ اس کے خریدنے کی مجھ میں سکت ہے نہ میں اتنے بڑے مکان میں رہ سکتا ہوں۔اس مکان میں رہنے کو چاہئیے ،امیری ٹھاٹ،میں ساری عمر رہا پردیس۔ادھر کے حکام سے میری ملاقات نہیں۔عجب نہیں کہ کوئی ذریعہ بن جائے اور میری وجہ سے بھائی ابن الوقت کا کام بن جائے۔
حجتہ الاسلام اپنے صاحب کلکٹر سے رخصت ہونے گیا تو کہا کہ میں حج کے بعد بمبئی سے کلکتہ ہو کر یہیں چلا آیا تھا۔اب سیدھا دلّی جاؤں گا اور امکان ہے کہ رخصت وہیں گذاروں۔صاحب کلکٹر کو جب معلوم ہوا کہ دلّی کے حاکم ضلع مسٹر ولیم تھیوڈور شارپ ہیں تو کہا کہ وہ میرے رشتہ دار ہیں۔میری خالہ زاد بہن ان کو بیاہی گئی ہیں۔مگر میم صاحب ان دنوں ولایت میں ہیں۔
یہ کہہ کر صاحب کلکٹر نے شارپ صاحب کے نام چٹھی اور ایک تصویر حجتہ الاسلام کو دی۔چٹھی میں حجتہ الاسلام کے متعلق لکھا تھا کہ میں اس علاقے کے تمام ڈپٹی کلکٹروں میں مسٹر حجتہ الاسلام کو دل سے پسند کرتا ہوں۔ان کی وضع کے آدمی یہاں بہت کم ہیں،یہ اپنی پرانی وضع کو بہت مضبوطی سے پکڑے ہوئی ہیں۔غدر کے دنوں میں یہ عرب میں تھے لیکن نہایت بے باکی کے ساتھ جو کہ ہر سچے مسلمان میں ہوتی ہے۔
غدر کی نسبت حجتہ الاسلام اپنی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ گورنمنٹ انگریزی نے ہندوستانیوں کی بڑی دل شکنی کی۔ویسے اس نے ہندومسلمان کو ایک نظر سے دیکھا اور دونوں قوموں کی حالت کے فرق کو نظر انداز کردیا۔مسلمانوں اور ہندؤوں کا مقابلہ کرتے ہوئے حجتہ الاسلام کا خیال ہے کہ مسلمان تازہ تازہ حکومت کرکے آئے ہیں جب کہ ہندؤوں کی حکومت کا زمانۂ بہت قدیم ہے۔
حجتہ الاسلام اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ بظاہر انصاف کی رو سے ہندو مسلمانوں کے جملہ حقوق برابر سمجھے جائیں۔لیکن غور سے دیکھا جائے تو مسلمان اس ملک کے اصل باشندے نہیں ہیں وہ بظاہر باہر سے آئے ہیں اور یہاں بس گئے۔ذرائع معاش میں ان دنوں نوکری معزز سمجھی جاتی تھی وہی اختیار کی۔زوالِ سلطنت کے بعد معاش کا یہ ذریعہ بھی ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔جب ک ہندو دوسرے تمام ذرائع پر قبضہ کئے ہوئے ہیں اور پھر نوکری میں آدھے کے دعویدار ۔
حجتہ الاسلام ہندؤوں پر اپنی قوم کو اس وجہ سے بھی ترجیح دیتے ہیں کہ مذہب اسلام ’سلف ریسپکٹ‘(Self respect)سکھاتا ے۔مسلمان اس میں انسانیت کی توہین سمجھتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس کے کلّے پر طمانچہ مارے تو عیسائی کی طرح دوسرا کلّہ بھی اس کے سامنے کردے کہ لے اور مار۔مسلمان سوائے ایک خدا کے(جس کو انسان نہیں دیکھ سکتا)کسی چیز کی عبادت نہیں کرتا۔
حجتہ الاسلام کے بیان کے مطابق اسلام خودداری ، سادگی اور صبر کا مجموعہ ہے۔جب کہ ہندو بندر،سانپ،گائے،بیل،تلسی،آگ،پانی،پتھر،چاند،سورج ہر چیز کے آگے ماتھاٹیکنے کو تیار ہے۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ آدمی سب میں ادنیٰ درجہ کی مخلوق ہے۔
ویسے ان تمام باتوں کے باوجود حجتہ الاسلام کے خیالات گورنمنٹ انگریزی کے ساتھ نہایت خیر خواہانہ ہیں اور مجھ کو یقین ہے کہ اگر 1857ء کے غدر میں ان اضلاع کی طرف ہوتے تو اپنے بھائی ابن الوقت کے برابر یا ان سے بھی بڑھ کر سرکاری خیرخواہی کا کوئی نمایاں کام کرتے۔ انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے عرب میں اسلامی سلطنت کا نمونہ دیکھا ہے ۔یہ ملک نہایت تباہی کی حالت میں ہے اور افسوس ہے کہ جس جگہ مسلمانوں کی سلطنت ہو اس کا یہ حال ہو کہ ہر سال بلا ناغہ لاکھوں مسلمان جاتے ہیں نہ امن ہے نہ آسائش صرف دوسرے ملکوں کی امداد پر وہاں کے لوگوں کی گذر بسر ہوتی ہے۔
یہ چٹھی مسٹر شارپ کے پاس جمعہ کی شام کو پہنچی۔ حجتہ الاسلام نے وقت ملاقات طے کیا اور مسٹر شارپ سے ملنے پہنچے۔انھوں نے حجتہ الاسلام کو اخلاق سے بٹھایا اور کہا کہ وکٹر صاحب نے چٹھی میں آپ کو ایسے تفصیلی حالات لکھے ہیں کہ آپ سے اجنبی بن کر نہیں مل سکتا۔صاحب کی رائے آپ کی نسبت بہت عمدہ ہے اور آپ اس کے مستحق ہیں۔
تب مسٹر شارپ کو معلوم ہوا کہ ڈپٹی ابن الوقت، حجتہ الاسلام کی بی بی کے پھوپھی زاد بھائی ہیں اور یہ بھی معلوم ہواکہ حجتہ الاسلام ،ابن الوقت کے ہاں نہیں بلکہ شہر میں کسی اور جگہ ٹھیرے ہیں تو انھوں نے پوچھا کہ ابن الوقت نے انگریزی وضع اختیار کرنے میں کیا فائدہ سمجھا؟
حجتہ الاسلام نے جواب دیا کہ جن دنوں ابن الوقت کالج میں پڑھتے تھے تب ہی سے ان کا انگریزیت کی طرف جھکاؤ تھا۔ان دنوں نیچرل فلاسفی،اسٹرانومی کی کتابیں انگریزی سے ترجمہ ہو کر نئی نئی جاری ہوئی تھیں تو زمین کی گولائی ،اس کی گردش،اس کی کشش اور نظام شمسی کے بارے میں تعجب ہوتا تھا لیکن ابن الوقت کہتا کہ انگریزی اصول غلط ہو ہی نہیں سکتے۔
اب غدر میں نوبل صاحب کا ساتھ زیاد ہ ہوا تو انگریزیت پر یقین اور پختہ ہوتا گیا۔مفاد و مطلب نہ پہلے تھا نہ اب ہے۔مسٹر شارپ کو حجتہ الاسلام کی رائے صحیح معلوم ہوئی، لیکن لوگ کہتے ہیں کہ بڑائی کے مارے یہ وضع اختیار کی۔
حجتہ الاسلام نے کہا کہ بڑائی تو خدا کی ہے۔مگر خدا نے آپ لوگوں کو دنیاوی بڑائی دی ہے، آپ کی چیزوں میں بڑائی کی شان ہے۔یہاں تک کہ آپ لوگوں کا لباس جو پہنے گا لوگوں کی نظر میں بڑا کھائی دے گا۔مگر اتنا عرض کردوں کہ شیخی،غرور،تکبّر،خود پسندی یہ باتیں بھائی ابن الوقت کو چھو کر نہیں گئیں۔میں ان کے ساتھ بچپن سے کھیلا ہوں،پڑھا ہوں، رہا ہوں۔اگر یہ خیال کیا جائے کہ نوکری اور زمینداری کی وجہ سے ان میں شیخی آگئی ہے توغدر سے پہلے بھی وہ گرے پڑے نہ تھے۔
نواب معشوق محل بیگم کی سرکار میں تمام سیاہ سفید کے مختارِ کل تھے اور خاندانی عزت اور وقار میں اس وقت بھی اہم شہریوں میں گنے جاتے تھے۔کیا ان کے پاس متعدد نوکر نہ تھے؟متعدد سواریاں نہ تھیں؟متعدد حویلیاں نہ تھیں؟چار پانچ بنگلوں کی قیمت کی تو ان کی بارہ دری کھڑی ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ تنخواہ بھاری نہ تھی۔مگر انعام واکرام ملا کر ایسی شان سے رہتا تھا کہ کچھ نہ پوچھو۔غرض شیخی کا الزام تو ان پر غلط ہے۔
ہاں!خودداری کہئے تو ایک بات بھی ہے۔خودداری کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جس درجے کا ہو،اپنے حساب سے اسی درجے کا معیار رکھے۔کسی کو خدا نے سواری کی توفیق دی ہے تو ضرورت کے وقت سواری سے کام لے اور پھر ہم ٹھیرے اس ملک کے باشندے۔ رشتے، دوستی، قوم، مذہب طرح طرح کے تعلقات ہمارے رعایا کے ساتھ ہیں۔لہذکام کرنے میں جو آزادی انگریزوں کو حاصل ہے ہم کو خواب میں بھی میسّر نہیں۔بھائی ابن الوقت پر ایک مشکل یہ آپڑی کہ ان کو اپنے ہی شہر میں کام کرنا پڑا اور کام بھی بغاوت کی تحقیقات کا۔انھوں نے غیر جانب داری کی خاطر یا خودداری کے طور پر ملنے جلنے میں کمی کی ہوگی۔جس کو لوگوں نے شیخی سے تعبیر کرلیا۔
مسٹر شارپ نے اپنی اور ابن الوقت کی دریا گنج پر ملاقات کا واقعہ بیان کیا۔ حجتہ الاسلام نے سن کر کہا کہ گستاخی معاف،اگر دریا گنج کے نکّڑ پر بھائی ابن الوقت کی جگہ آپ یا وکٹر صاحب مجھ کو اچانک مل گئے ہوتے تو میں بھی وہی کرتا جو بھائی ابن الوقت نے کیا۔
شارپ نے کہا کہ ہم آپ کی نسبت ایسا شبہ نہ کرتے کیونکہ آپ ہندوستانی ہیں اور ہندوستانی وضع رکھتے ہیں لیکن آپ کے بھائی ابن الوقت ہندوستانی ہو کر صاحب لوگ بننا چاہتے ہیں۔کیونکہ یہ لباس ہمارا قومی لباس ہے۔اگر کوئی ہندوستانی ہمارے جیسے کپڑے پہنے تو ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری نقل کرتا ہے یا پھر اس کے دل میں ہماری برابری کا دعویٰ ہے، اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟
یہ ساری تدبیر انگریزوں کو ذلیل کرنے اور ان کی حکومت کو کمزور کرنے کی ہے۔ہم اپنی رعایا کو جسے ہم نے بزور تلوار زیر کیا ہے کیوں اپنی برابری کرنے دیں گے؟کل ایک چپراسی یا قلی ہماری نقل کرے گا۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم سلطنت چھوڑ کر ولایت چلے جائیں! چونکہ میں حاکم ضلع ہوں اس لئے میرا فرض ہے کہ حکومت انگریزی کے مقابل کسی کو سر نہ اٹھانے دوں۔
حجتہ الاسلام نے جواب دیا کہ ابھی تک میری، بھائی ابن الوقت سے تبدیلی وضع کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔تبدیلِ وضع کے بعد ساری دنیا نے اس شخص کو بے دین کہا؟کرسٹان کہا اور اب تک کہے جاتے ہیں۔رسوئی کا کوئی درجہ باقی نہیں رہا۔لوگ تو ہم لوگوں کے ساتھ ملنے سے بھی کتراتے ہیں۔میرے لڑکے کی نسبت کا ایک جگہ پیام تھا۔ان کو بھی دل سے منظور تھا۔آخر جواب دے دیا کہ تمھارے ہاں ایک لڑکی کی شادی کرکے ہم کو سارے شہر میں بدنام ہونا پڑے گا۔
اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہم لوگوں کی کس قدر بے عزتی ہو رہی ہے؟بھائی ابن الوقت کی والدہ ان کو چھوٹا سا چھوڑ کر مر گئی تھیں ان کی پھوپھی نے یعنی میری ساس نے ان کو پالا۔ان کی تبدیلِ وضع سے پھوپھی کے دل پر جو صدمہ گذرا وہ ناقابل بیان ہے۔لیکن جب شارپ نے یہ سنا کہ ابن الوقت پر دس ہزار سے کچھ زیادہ ہی قرضہ ہے اور یہ کہ وہ اپنی بارہ دری بیچنے کو ہیں تو کہنے لگا کہ ہم تو سنتے تھے،ابن الوقت نے بیگم صاحبہ کی ساری دولت سمیٹ لی ہے اور تحقیقاتِ بغاوت میں بھی بہت کچھ کمایا ہے۔
اس پر حجتہ الاسلام نے صراحت کی کہ کیا آپ کی عقل اس بات کو قبول کرتی ہے کہ جس کے پاس دولت ہو وہ بھلا مہاجنوں کا بیاج بھرے اور ایسے مکان کو بیچنا چاہے جو اس کے بزرگوں کی یادگار ہے؟ غرض بھائی ابن الوقت کے بارے میں آپ کو جتنی خبریں پہنچیں،ان میں ذرّہ برابر سچائی نہیں۔
شارپ نے پوچھا کہ پھر ابن الوقت صاحب اس قدر بدنام کیوں ہیں؟
حجتہ الاسلام نے جواب دیا کہ ہم لوگوں میں اس طرح کا حسد ہے کہ ایک دوسرے کو کھائے جاتا ہے۔جب کسی قوم کو زوال آتا ہے تو حالت بگڑنے سے پہلے قوم بگڑ جاتی ہے۔ہندوستانیوں کے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کیا قصور ہوگا کہ ان میں کا یک شخص غدر کی تمام آفتوں سے محفوظ رہا کیونکہ غدر لوگوں کے حق میں عذاب تھا۔سرکار نے ابن الوقت کی خیر خواہی کی،قدر کی۔بڑی سے بڑی خدمت دی، جاگیر تک عطا کی۔
شارپ نے اپنا وہی پرانا راگ الاپا کہ کچھ بھی ہو میرے پلّے نہیں پڑتا کہ کوئی ہندوستانی انگریزوں کی نقل کر۔ حجتہ الاسلام نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ مجھے بھی بہت خراب معلوم ہوتا ہے۔آپ بنگال کی طرف نہ گئے وہاں کے لوگ تو نقل کے علاوہ چڑاتے بھی ہیں۔انگریزی پڑھ پڑھ کر وہ لوگ ایسے بے باک ہوگئے کہ کسی حاکم کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتے۔اخباروں میں گورنمنٹ کی مذمت،ناولوں کے ذریعہ اور تھیٹروں کے ذریعہ مذاق اڑائیں۔میرے نزدیک انگریزی تعلیم کا یہ نتیجہ تو ایک نہ ایک دن ضرور ہونا ہے۔گورنمنٹ کا گنگا جمنی یعنی کسی قدرانگریزی اور کسی قدر ایشیائی جس کے لئے’’یوریشین‘‘کا لفظ نہایت مناسب ہے باقی رہتا نظر نہیں آتا۔
جس قدر ہندوستانیوں کو سہولت مل رہی ہے وہ ضرور خواہش کریں گے کہ ہوم گورنمنٹ اور انڈین گورنمنٹ دونوں کا ایک رنگ ہو۔یعنی ولایت میں جو حقوق آپ لوگوں کے تسلیم کئے گئے ہیں وہی حقوق اس ملک میں ہندوستانیوں کے تسلیم کئے جائیں۔
شارپ نے کہا کہ وجہ معقول ہے کیونکہ1857ء کے غدر سے ہندوستانیوں نے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔ حجتہ الاسلام نے کہا کہ غدر سے رعایا کا کیا تعلق؟غدر تو برپا کیا آپ کی فوج نے، رعایا کیوں فوج کی ذمہ دار ہونے لگی؟رعایا کے معنی ہیں ریاستوں کے رئیس،تجارت پیشہ لوگ وغیرہ۔تمام رعایا کو بھلا باغی کون ٹھیرا سکتا ہے؟
بغاوت خاص خاص لوگوں نے کی خاص خاص مقامات میں۔شارپ نے کہا کہ خیر وہ غدر تو گزر گیا، گورنمنٹ پہلے سے زیادہ مطمئن ہے۔مگر آپ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ بغاوت کا مادّہ دلوں میں موجود ہے اور یہ ایک نہ ایک دن اپنا رنگ لائے گا۔
حجتہ الاسلام نے کہا کہ یہ بات نہیں۔امن و آسائش،آزادی،انصاف،جان و مال،مذہب، فلاح و بہبود جو انگریزی عملداری میں ہے اسے ہم سب سمجھتے ہیں۔شارپ نے پوچھا کہ پھر آپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ لوگ برٹش گورنمنٹ سے خوش نہیں؟
حجتہ الاسلام نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں گنتی کے چند آدمی پولیٹکل باتیں سوچنے سمجھنے کی لیاقت رکھتے ہیں جنھوں نے سرکاری کالجوں میں تعلیم پائی ،پولیٹکل خیالات اس زمانے کی جدید تعلیم کے نتیجے ہیں۔جس کو آپ نیشنلٹی یا قومیت کہتے ہیں۔نہ ہندوستان میں اب ہے نہ آئندہ اس کے قائم ہونے کی امید ہے۔نہ سارے ہندوستان کا ایک مذہب ہوگا نہ یہاں کے باشندے ایک قوم بنیں گے۔
نئے تعلیم یافتہ یہی لوگ اخباروں میں لیکچروں میں اکثرجلی کٹی کہتے رہتے ہیں اور پھر غدر میں کمپنی(ایسٹ انڈیا کمپنی)سے پیچھا چھوٹا اور حکومت ملکہ برطانیہ کے ہاتھ میں آگئی۔کمپنی والے تو سوداگر تھے جو دولت جمع کرتے رہے۔ان کو بادشاہ کی طرح رعایا کا خیال کیوں ہونے لگا؟
اس پر شارپ نے کہا کہ بعض ہندوسانیوں کے دماغ میں اگر یہ خبط سماجائے کہ صرف ٹوٹی پھوٹی انگریزی پڑھ لینے سے ہم بھی انگریزوں کی طرح کے آدمی ہیں اور یہ کہ ہمارے اختیارات اور حقوق انہی کے جیسے ہونے چاہئیں تو صاف بات ہے کہ یہ لوگ یوروپین کی طرح کے آدمی ہرگز نہیں ہیں۔ان میں محنت نہیں،جرأت نہیں،سچ کی تلاش نہیں،ایک دلی نہیں۔
حجتہ الاسلام نے کہا کہ آپ کا فرمانا بالکل درست ہے۔مگر لوگوں میں انگریزیت چلی آتی ہے اور گورنمنٹ بھی آہستہ آہستہ ہندوستانیوں کو اختیارات دیتی جاتی ہے۔
شارپ نے سامنے میز پر ٹائم پیس کو دیکھا ، حجتہ الاسلام نے کہا کہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں آج میں نے آپ کا بہت سا قیمتی وقت لیا۔شارپ نے جواباً کہا کہ مجھ کو آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی اور جیسا کہ وکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ آپ معلومات رکھنے والے اور عمدہ رائے کے آدمی ہیں۔میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اپنے بھائی ابن الوقت صاحب کے باری میں بالکل سچّی خبردی ورنہ مجھ کو لوگوں نے ان سے بہت ہی بدظن کردیا تھا۔
حجتہ الاسلام نے ہمت کرکے ابن الوقت کی تائید میں کہا کہ میری درخواست ہے کہ آپ بھائی ابن الوقت کی طرف سے دل صاف کرلیجئے۔شارپ نے جواب دیا کہ میں نے تمام بدگمانی کو دل سے نکال دیا۔مجھے افسوس ہے کہ مجھ سے ان کے بارے میں غلطی ہوئی مگر آپ نے جو حالات بیان کئے ان سے میری رائے بالکل بدل گئی۔آج ہی ڈپٹی صاحب کو ان کے کام پر لگا دوں گا۔ حجتہ الاسلام نے پھر کہا کہ ابن الوقت کو اگر شکایت ہے تو اس بات کی کہ آپ نے ان کو صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا، ورنہ یہاں تک نوبت نہ آتی۔
شارپ نے کہا کہ انھوں نے وضع ایسی اختیار کی ہے کہ کوئی انگریزان کے ساتھ دوستانہ برتاؤ نہیں کرسکتا۔ حجتہ الاسلام بولے کہ آپ کو ان سے خانگی طور پر ملنے یا نہ ملنے کا اختیار ہے مگر ان کی عزت و وقار کی حفاظت کے لئے آپ سے درخواست کرتا ہوں ۔ شارپ نے وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس بات کا خیال رکھیں گے۔
چنانچہ اس دن شارپ صاحب نے تحقیقات بغاوت کے تمام مقدمات سب ابن الوقت کے محکمے کو واپس کردئیے۔تحریری حکم میں دلجوئی کے الفاظ جن سے ایک طرح کی معذرت بھی ظاہر ہوتی تھی لکھوا دئیے اور ابن الوقت کے نام ایک چٹھی الگ لکھی کہ آپ کے بھائی حجتہ الاسلام سے میں نے جو حالات سنے ، میرے سارے شکوک دور ہو گئے۔میں آپ سے غلطی کی معافی چاہتا ہوں اگر آپ اپنے بھائی حجتہ الاسلام کی سی وضع اختیار کریں جو آپ کی قومی وضع ہے اور جس میں آپ نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ بسر کیا ہے تو مجھ میں اور آپ میں ایسی دوستی قائم ہوگی جس کو میں ساری عمر نباہوں گا۔


Urdu Classic "Ibn-ul-Waqt" by Deputy Nazeer Ahmed - Summary episode-28

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں